شیعہ سنی بریلوی دیوبندی اہل حدیث اور تمام فرقوں میں ایک ایک گروہ کو میدان میں اتاریں - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

شیعہ سنی بریلوی دیوبندی اہل حدیث اور تمام فرقوں میں ایک ایک گروہ کو میدان میں اتاریں

شیعہ سنی بریلوی دیوبندی اہل حدیث اور تمام فرقوں میں ایک ایک گروہ کو میدان میں اتاریں اخبار: نوشتہ دیوار

شیعہ سنی بریلوی دیوبندی اہل حدیث اور تمام فرقوں میں ایک ایک گروہ کو میدان میں اتاریں

وما کان المؤمنون لینفروا کافة فلولا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون (التوبہ : آیت122)

اور مؤمنوں کیلئے نہیں کہ سب نکلیں اگر ہر فرقے میں سے چند افراد نکلیں ان میں ایک گروہ تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف لوٹیںہوسکتا ہے کہ وہ بچیں

شیعہ سنی میں جھگڑا بہت پرانا ہے۔ حنفی اور جمہور میں بھی بڑا پرانا جھگڑا ہے۔ شافعی، مالکی اور حنبلی کے مقابلے میں حنفی بالکل تنہا ہوتے تھے۔ محدثین اور حنفیوں میں بھی بہت پرانا جھگڑا تھا اور اہل حدیث و مقلدین کا بھی جھگڑا ہے۔ بریلوی دیوبندی کا بھی جھگڑا ہے اور دیوبندی اور جماعت اسلامی کا بھی جھگڑا چل رہاہے۔ دیوبندیوں اور پنج پیریوں کا بھی جھگڑا ہے۔ مفتی منیر شاکر اور دیوبندیوں میں بھی جھگڑے کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔
انجینئرمحمد علی مرزا اور مفتی منیر شاکردونوں نے خطے میں بڑا کہرام برپا کیا ہے۔ ہم نے دونوں جگہ حاضری دی لیکن مرزا نے مایوس کیا اور مفتی منیر سے بات حوصلہ افزاء رہی۔ قرآن و سنت پر سب کا اتفاق ہے اسلئے کہ پنج وقتہ نماز سے خلافت تک کے سارے احکام میں قرآن بنیاد اور سنت تعمیر نو کا ذریعہ ہے۔
احادیث میں قرآن واہلبیت کا ذکر ملتا ہے لیکن امت اس بات پر متفق نہیں کہ اہل بیت سے کیا مراد ہے؟۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ اہل بیت کا ذکرنبی ۖ کی ازواج کیلئے کیا گیا مگر حدیث میں علی ، حسن، حسین اور فاطمہ کیلئے وضاحت ہے کہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا کہ ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ان سے رجس (گند) کو دور کردے”۔ قرآن وسنت میں اس گند سے کیا مراد ہے؟۔ انسان کے اندر دوطرح کی فطرتی کمزوری ہوتی ہے۔ ایک مرد اور عورت کا ایک دوسرے کی طرف جنسی میلان ہے ۔ جنسی میلان میں جائز اور ناجائز کے اندر بڑا فرق ہے۔ میاں بیوی کا ایکدوسرے کی طرف جنسی میلان جائز ہے لیکن جنس مخالف کی طرف جنسی میلان کے باوجود بھی ایک حد سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
الذین یجتنبون کبٰئر الاثم والفواحش الااللمم ان ربک واسع المغفرة ھو اعلم بکم اذا انشاکم من الارض واذا انتم اجنة فی بطون امھٰتکم فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰی (النجم32)
ترجمہ:”اور جو بڑے گناہوں اور فحاشی سے بچتے ہیں مگر … (آگے خالی جگہ ڈیش ڈیش) بیشک تیرا رب مغفرت میں وسیع ہے۔ وہ تمہیں جانتا ہے کہ جب تمہیں زمین سے اگارہاتھا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین تھے۔پس اپنی پاکی بیان مت کرو ، وہ زیادہ جانتا ہے کہ کون تقویٰ رکھتا ہے”۔
اللہ تعالیٰ اپنے لئے کہتا ہے کہ لم یلد ولم یولد ”اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ کسی نے اس کو جنا ہے”۔ انسان مخالف جنس کی طرف رحجان رکھتا ہے۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو مکا مارکر غلطی سے قتل کردیا تو اپنی جان بچانے کیلئے فرعون کا ملک چھوڑ دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ لوگ کنویں پر جانوروں کو پانی پلارہے ہیں اور دوعورتیں کھڑی ہیں تو ان سے پوچھ لیا کہ آپ کیوں کھڑی ہیں۔ انہوں نے اپنا اور اپنے بوڑھے والد کا حال بتایا۔ حضرت موسیٰ نے ان کی مدد کی اور جب وہاں سے وہ چلی گئیں تو موسیٰ نے دعا مانگی۔ رب لما انزلت الیّ من خیرفقیر” اے میرے رب! تو جو مجھے خیر عطا فرما تو میں اس کا محتاج ہوں”۔جوان لڑکیوں کو دیکھ کر ایک جوان کی کونسی خواہش ہوسکتی ہے؟۔ عفت وعصمت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی گھر کی اچھی لڑکی دل کو بھا جائے تو ازخود اس کا اظہار نہ کیا جائے۔ اللہ پر اسکو چھوڑ دیا جائے۔ اللہ نے اس ایک لڑکی کے دل میں بھی ہمدردی اور محبت کا جذبہ ڈال دیا تھا، اپنے والد سے اسکی سفارش کردی کہ اپنے پاس ملازم رکھ لو۔ جب لڑکی کو باپ نے بلانے کیلئے بھیج دیا تو وہ حیاء کیساتھ گئی۔ حضرت موسیٰ سے اس کے پیغمبر باپ نے کہا کہ ”میں ان دونوں میں سے ایک لڑکی کا آپ سے بیاہ کرنا چاہتا ہوں اور اس کے بدلے8سالوں تک یہاں نوکری کرنی پڑے گی اور اگر10سال کرلو تو یہ آپ اپنی طرف سے احسان کروگے”۔ باپ نے دونوں میں سے ایک بیٹی کا نام اسلئے لیا تھا تاکہ جس کے دل میں محبت بیٹھی ہے اس کا راز فا ش نہ ہوجائے اور موسیٰ کی محبت کا بھی راز رہ جائے۔
جب موسیٰ کی بیگم کے ہاں بچہ پیدا ہورہاتھا تو آگ دیکھ کر آپ نے کہا کہ میں اسکی کوئی خبر یا روشن ٹکڑا لے کر آتا ہوں مگر وہاں سے آواز آئی کہ ” بیشک میں اللہ ہوں”۔ شیطان نے کہا کہ مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ میں کیسے اس کو سجدہ کرسکتا ہوں۔ بعض لوگ آگ کی پرستش کرتے ہیں۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے آزمائش کا سامان دنیا میں رکھا ہے۔ ایران کا آتشکدہ کبھی نہیں بجھتا تھا اسلئے کہ اس کی پرستش کی جاتی تھی۔ پھر مسلمانوں نے ان کو شکست دیدی اور آج سعودی عرب اور ایران میں اسلام پر شدید اختلافات کے باوجود صلح واصلاح کی طرف میلانات موجود ہیں۔
قرآن میں ازواج النبی کیلئے اہل بیت کا لفظ استعمال ہوا ۔ جہاں رجس سے مراد جنسی میلان ہے۔ اللہ نے نبی ۖ کی ازواج مطہرات کیلئے امہات المؤمنین کا لقب اتارا ہے۔ اللہ نے منع فرمایا کہ نبی کی ازواج سے کوئی نکاح نہ کرے اسلئے کہ اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے۔ اللہ نے نبی ۖ کو وہ مقام دیا تھاکہ کوئی اس کے قریب تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اللہ نے اعراب کو بدتمیزی سے منع کرنے کیلئے آداب سکھائے کہ حجرات کے پیچھے سے مت پکاریں۔ ان بدتمیز لوگوں سے یہ بعید نہیں تھا کہ وہ نبی ۖ کی ازواج کو رشتہ بھیجنے کی حماقت کرسکتے تھے اسلئے کہ وہ مسلمان تھے لیکن قرآن نے واضح کیا کہ ابھی ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اس وجہ سے اللہ نے نبی ۖ کی ازواج کو پردے کا خاص اہتمام کرنے کا بھی حکم دیا تھا اور ساتھ ساتھ ان کو جنسی میلان کے رحجانات سے بچانے کیلئے بھی ایسے حالات سے گزار دیا کہ وہ کندن بن گئیں۔ اللہ نے ان میں رجس کا مادہ بالکل پاک کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔
دوسری طرف رجس کا معنی حکومت وخلافت کی امانت کیلئے اپنی انتہائی کوشش اور حماقت بھی ہے۔ جب انسان کا مادی جسم زمین سے نہیں اُگا تھا تب بھی عالم ارواح سے اس کا تعلق تھا اور جب اللہ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر بارامانت کو پیش کیا تھا تو سب نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا تھا لیکن انسان نے اس بار امانت کو اٹھالیا اسلئے اللہ نے واضح کیا کہ ”پھر انسان نے اسکو اٹھایا اور وہ بہت ظالم اور جاہل تھا” جب امانت کے بار کو اٹھانے کیلئے اللہ نے انسان کی طرف ظلم وجہل کی نسبت کی ہے تو یہ بھی ایک قسم کا ”رجس” گند ہے۔ اسلئے نبی اکرم ۖ نے علی ، فاطمہ ، حسن و حسین کیلئے دعا فرمائی کہ یہ میرے اہل بیت ہیں ،ان سے رجس (گند) کو دور کردے۔
علی کے دل میں خلافت کے طلب کی حرص ولالچ ہوتی تو پھریہ بڑا گند ہوتا اور پہلے دن سے ہی انصار وقریش اور حضرت علی کے درمیان اس پر بہت بڑا جھگڑا کھڑا ہوجاتا۔ ابوسفیان نے علی کے سامنے حضرت ابوبکر کے ہٹانے کی تجویز رکھی تو اس کو حضرت علی نے مسترد کردیا۔ حضرت حسن کے دل میں بھی کوئی حرص ولالچ نہیں تھی اسلئے امیر معاویہ کے سپرد کردی ،پھر حسین کے دل میں بھی لالچ نہیں تھی لیکن یزید کی نامزدگی غلط لگی اسلئے کوفہ کا سفر کیا لیکن جب کوفہ والوں نے دھوکہ دیا تو پھر واپس مدینہ جانے یا سرحد پر جانے یا یزید سے براہ راست کوئی بات کرنے کا معاملہ رکھا۔ مدینہ سے کوفہ اور کوفہ سے شام جب کوئی جائے تو راستے میں کربلا آتا ہے اسلئے یزید کی طرف سفر کرنے کا معاملہ ثابت ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یزید سے لڑنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ جس کی بادشاہت مستحکم ہوجائے تو اس سے کلمہ حق کہنا ہی اتمام حجت اور افضل جہاد ہوتا ہے۔ یزید ی لشکر کا سپاہ سالار ”حر” بھی حضرت حسین کی صف میں شامل ہوا۔
فرقہ امامیہ یا اثناعشریہ کے باقی ائمہ اہل بیت کیلئے معصوم کا جو عقیدہ رکھا جاتا ہے تو اس کا مطلب ”حکومت کی لالچ ” کے رجس (گند) سے پاک ہونے کی دعا کا ان کے حق میں قبول ہونا ہی مراد لیا جاسکتا ہے اسلئے کہ حسین کے ایک پوتے زید اور حسن کی اولاد نفسہ زکیہ عبداللہ اور ابراہیم وغیرہ نے خلافت کو حاصل کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے ۔ اور اہل تشیع کے ائمہ معصومین نے کوئی کوشش نہیں کی کہ حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ جب مہدی غائب میں دجال اکبر سے لڑنے کی استعداد اور صلاحیت ہے تو بنوعباس، خلافت عثمانیہ اور موجودہ دور کے ایرانی و سعودی حکمرانوں سے بھی حکومت وہ چھین سکتے ہیں لیکن اس کے دل میں لالچ وطلب نہیں ہے۔
اہل تشیع کی مشہور کتابوں میں مہدی کے بعد گیارہ مہدیوں کو حکومت ملنے کا ذکر ہے اور ایک مشہور کتاب ” الصراط السوی فی احوال المھدی” میں درمیانہ زمانے کے مہدی سے مصنف نے مہدی عباسی مراد لیاہے۔ اگر کوئی اور مہدی بھی مراد لیں تو ان کے عقیدے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ علامہ طالب جوہری نے علامات ظہور مہدی میں قیام قائم سے پہلے کئی قیام کرنے والوں کا ذکر کیا ہے جن میں ایک مشرق کے دجال کے مقابلے میں حسن کی اولاد سے حسنی سید کا ذکر کیا ہے۔ سید گیلانی کو بھی ایک روایت کی تشریح ”دعوت حق ” دینے والا شخص قرار دیا۔
اگر تمام فرقوں اور مسالک سے بااعتماد لوگوں اور علماء کرام کو ایک مقام پر جمع کیا جائے ،جس میں قرآنی آیات کی تفسیر سب اتفاق رائے سے کریں پھر امت مسلمہ کے سامنے پیش کردیں تو بہت سارے مخمصے سے امت مسلمہ نکل جائے گی۔ ریاست کی تشکیل سے لیکر معاشرتی معاملات اور عبادات کے مسائل پر اتفاق تک بہت کچھ ہم مشترکہ کاوش سے حاصل کرسکتے ہیں۔
مفتی منیر شاکر کو ہم قائل کرسکتے ہیں کہ پیر سیف الرحمن کے خلفاء کے ہاتھ پر ذکر واذکار کیلئے بیعت کرلے اور پیر سیف الرحمن کے خلفاء کو قائل کرسکتے ہیں کہ مفتی منیر شاکر کی طرز پر وہ قرآن اور توحید کی طرف دعوت وتبلیغ کو عام کریں۔انشاء اللہ
شیطان نے اچھے لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے ، دشمنی اور نفرت کی فضاء قائم کردی ہے لیکن اس کی حیثیت مکڑی کے جالوں سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ سب نبی ۖ کے امتی ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

جھوٹ نے قوم کو اندھا کردیا؟
ہم تمہاری عزتیں ، تمہاری جانیں اور تمہارے مالوں کوبچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو!
قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ