پوسٹ تلاش کریں

اسلام کے نام پر مرغن کھانے اور لفافے وصول کرنے والے کچھ تو قربانی دے دیں۔

اسلام کے نام پر مرغن کھانے اور لفافے وصول کرنے والے کچھ تو قربانی دے دیں۔ اخبار: نوشتہ دیوار

اسلام کے نام پر مرغن کھانے اور لفافے وصول کرنے والے کچھ تو قربانی دے دیں۔

جہادِ ہند کے خواہشمند قرآن کی واضح تعلیم کا ایک ائیرکنڈیشنل ہال میں ساتھ نہیں دے سکے تو کیا قتا.ل وجہا.د کیلئے اپنے آپ کو قربان کرنے کیلئے پیش کرنا اتنا آسان ہوگا؟۔ ذرا سوچئے تو سہی

اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نازل کیا اور میزان کو بنایا۔ انسانیت میں میزان کی فطرت موجود ہے اور قرآن ومیزان کی باہمی مطابقت سے آج عالم انسانیت میں بہت بڑا اسلامی انقلاب برپا ہوسکتاہے!

پشاور کانفرنس میں شریک نہ ہوسکنے والے عالم دین پیر طریقت جے یوآئی کے رہنما نے شاہ وزیر کو بتایا کہ شاکری صاحب ایران کا پیسہ خود کھا جاتے ہیں اور ہمیںچند ہزار کا لفافہ تھماتے ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
سنی وشیعہ مکاتبِ فکر حقیقت ہیں۔ محترم قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، مولانا نورالحق قادری ، علامہ عابد حسین شاکری و دیگرحضرات کی جرأت وہمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اس فورم پر شرکت شدت پسندی کے خلاف عدل واعتدال اور شرافت کی دلیل ہے ۔ یہ حضرات پشاوردارالخلافہ خیبرپختونخواہ کی مقدس زمین پر ہدایت کے ستارے ہیںاور انکے دَم سے امن وامان ہے لیکن
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

حسنات الابرار سیئات المقربین ”نیک لوگوں کی اچھائیاں مقربین کی برائیاں ہوتی ہیں”۔ مقرب لوگوں کو مخالفین کیساتھ شریکِ جرم تصورکیاجاتا ہے۔ اس مارا ماری کا علاج یہ نہیں ہے کہ اپنے اورپرائے عقائدونظریات کے جرائم پر پردہ ڈالا جائے بلکہ سب سے پہلے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا جائے اور دوسرے کو بھی اچھے انداز میں آئینہ دکھایا جائے۔ ان کمزوریوں کو اجاگر کرنے کے نتیجے میں نہ صرف اپنی اصلاح ہوگی بلکہ شدت پسندی کا خاتمہ بھی ہوسکے گا۔

میں نے اس کا نفرنس میں دو بنیادی نکات کو اٹھایا۔ ایک قرآن کی حفاظت اور دوسرا ہندو عورت کی گستاخی کے حوالے سے سورۂ نور کے ذریعے سے دنیا میں ازل سے ابد تک مساوات کا ایک اعلیٰ ترین اور سب کیلئے قابل قبول قانون۔ میں نے جو عرض کیا وہ اس شمارے میں وضاحت سے شامل ہے۔ میری تائید کی جگہ بھرپور مخالفت کی فضاء قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقصود سلفی کو چاہیے تھا کہ اعلان کرتا کہ قرآن کی حفاظت کیخلاف اگر احادیث ہیں تو سب سے پہلے ہم اہلحدیث انکے انکار کرنے کااعلان کرتے ہیں۔ ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں تاکہ انکا پوسٹ مارٹم کیا جاتا۔منتظم احسان اللہ محسنی نے ہندو عورت کی مذمت کا اعلان کچھ اس انداز سے کیا کہ گویا میری وجہ سے یہ مجلس شریکِ جرم نہ بن جائے۔ دلیل کی بات کا جواب دلیل سے دینا چاہیے اور جب شیعہ پر اپنی مجالس میں غلط خوف قائم ہو تو وہ ائمہ اہل بیت پر کوئی درست مؤقف نہیں پیش کرسکتے ہیں۔ درویش مسجد کے مولانا نے قرآن کی حفاظت کے مسئلے کو کسی کی ذاتی تحقیق تک قابلِ گرفت نہیں سمجھا لیکن یہ ذاتی تحقیق کا مسئلہ نہیں۔ اس پر درسِ نظامی میں پڑھایا جانے والا قابلِ گرفت نصاب ہے۔ سورۂ نور کے ذریعے پہلے انقلاب آیا تھااور آج بھی طاغوتی نظام کا خاتمہ سورۂ نور کی مساوات کے نظام سے ہوگا لیکن اس کیلئے مردانہ جرأت وہمت اور پرزور انداز میں ابلاغِ عامہ ضروری ہے۔

اہل تشیع نے اپنے جامعہ شہید پشاور کی ویب سائٹ پر کانفرنس کی مجھ سمیت بہت سی تقاریر کو دینے میں عار محسوس کی۔ علامہ عابد حسین شاکری جرأت کا مظاہرہ کریں اور تمام تقاریر ویب سائٹ پر دیں۔ شیعہ سنی جراتمندانہ تقاریر یا تعصبات کا جائزہ لیںگے تو فرقہ واریت کی آکاس بیل سے اُمت مسلمہ کی جان چھوٹ جائے گی۔ کربلا کے واقعہ میں ویڈیو نہیں تھی لیکن آج ایک نعمت اللہ نے عطاء کی ہے اور اس کا فائدہ اٹھانے کیلئے ہم سب کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔

حضرت علی نے دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا۔ کوفہ میں شیعان علی تھے۔ امام حسین مدینہ میں تھے۔ کوفیوں نے خطوط لکھ کر بلایا تھا، جب حالات بدل گئے توانہوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیٹا عمر سعد لشکرِیزید کا قائدتھا۔ امام حسین نے عمر سعد سے کہا تھا کہ انعام واکرام کے چکر میں شہید کردوگے تواپنی آخرت کیساتھ دنیا میں بھی انعام سے محروم ہوگے۔ جب حسین کو شہید کرکے یزید کے دربار میں امام حسین کے سر کو پیش کیا گیا تو یزید نے انعام کے بجائے ڈانٹا۔ حسین کے سرکویزید نے مخاطب کیا کہ ”اگر آپ میرے مقابل نہ نکلتے تو اس انجام کو نہ پہنچتے ”اور اپنی تلوار سے آپ کے دانت بھی کٹکٹائے۔

تاریخی واقعات پر اتفاق اور تضادات ہیں لیکن کوئی یہ بات سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ اس دور میں مسلمانوں نے اس طرح کھل کر حق کی مخالفت کیسے کی تھی؟۔ آج ایک طرف د.ہشتگردوں کے مظالم اور دوسری طرف شیعہ کی دعوت پر عظمتِ قرآن کانفرنس کے آئینے میں تاریخی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے۔شاعرنے کہا:

جراحات السنان لہا التیام ولایلتام ما جرح اللسان
” تلواروں کے زخم کیلئے مرہم ہوتا ہے مگرزبان کے زخم کا مرہم نہیں ہوتا”۔ اس کانفرنس میں سامعین سے داد وتحسین لے سکتا تھا لیکن نرم ونازک لوگوں کو مشکلات کی گھاٹیوں میں دھکیلنے کیلئے جان بوجھ کراس موضوع کا انتخاب کیا جس سے خرقہ پوشوں میںایمان کا بجھتا دیا جلے۔ انقلابی انسان کو بلبل کے ترانے اور کوئل کے راگ سے زیادہ دلچسپی قومی مفادسے ہوتی ہے جس سے اجتماعی زندگی کا گہرا تعلق ہے۔ عالمی طاقتیں شیعہ سنی کو لڑانے اور نابود کرنے کے چکر میں ہیں اور اس حال میں ہمارے لئے مشکل فیصلے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔ قرآن مردہ ضمیرفرقہ فروشوں کی شجرہ خبیثہ پر اکاس بیل نہیں ڈالتاہے بلکہ دنیا میں شجرہ طیبہ کے پھلدار درخت کے ذریعے انسانوں کو حیاتِ نو فراہم کرتاہے۔

اسلام کو کفار نہیں مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ قرآن کہتاہے کہ دوسروں کے خداؤں کو برا بھلا مت کہو،پھر وہ تمہارے الٰہ برحق کو برا بھلا کہیں گے۔ جب ایک مسلمان نے ایک ہندو عورت کے سامنے اسکے مذہب کی توہین کی تو اس نے جواب میں کہا کہ ” میرا منہ مت کھلواؤ۔6سال کی عمر میں نکاح اور9سال کی عمر میں شادی کی بات جانتی ہوں”۔ جب میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے توہین رسالت کا جذبہ ابھارا گیا تو بھارت میں مسلمانوں نے احتجاج شروع کردیا۔ اس عورت کو حکمران جماعت نے اپنی پارٹی سے نکال دیا، اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ عورت نے کہا کہ اگر اس بات کی سزا سرتن سے جدا ہو توپھر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بھی یہ بات کی اس کو بھی سزا دی جائے۔ مسلمانوں کا احتجاج جاری رہا تو حکومت نے ان کی سخت مار پیٹ کی۔ انکے گھر گرائے اور احتجاج پر قابو پالیا۔ مغرب اور دنیا بھر کے طاقتور ممالک مسلمانوں کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں اور اب حال ہی میں القاعدہ نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں خود .کش. حملوں کا اعلان بھی کردیا ہے اور امریکہ نے اپنے ذرائع سے اس کو کنفرم کیا ہے۔

پتہ نہیں القا.عدہ نے یہ اعلان کیا بھی ہے یا امریکہ اس خطے میں اسلام سے د.ہشت پھیلانے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے چکر میں ہے؟۔ اگر سورۂ نور کی آیات کے احکام کا پیغام دنیا میں عام کردیا جائے تو اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کی جگہ دنیا میں محبت کا دم بھرا جائے گا۔ یہود ونصاریٰ کی ایکدوسرے سے شدید نفرت تھی۔ اسلام آیا تو یہودی خواتین سے نکاح کی اجازت دی گئی جو عیسیٰ پر ولدالزنا اور مریم پر بدکاری کی تہمت لگاتے تھے۔ عیسائی خواتین سے بھی نکاح کی اجازت دی گئی جو حضرت عیسیٰ کو خداکا بیٹا اور حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور تین خداؤں کے قائل تھے۔ اسلام کا دنیا سے شدت پسندی ختم کرنے میں بنیادی کردار رہاہے لیکن مذہبی طبقات اپنی دکانیں چمکانے میں مصروف ہیں۔

رسول اللہۖ کو طائف میں پتھر کھاکر لہولہان ہونے سے اتنی اذیت نہ پہنچی جتنی حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان عظیم لگانے سے پہنچی لیکن اسکے باوجود قرآن نے بہتان لگانے والوں پر80،80کوڑے لگانے کی سزا کا حکم نازل کیا۔ اگر کسی عام جھاڑو کش عورت پر بہتان لگایا جائے تو اس کیلئے یہی سزا کا حکم ہے۔ بہتان سے عورت کو اذیت ملتی ہے ۔80کوڑوں کی سزا علاج ہے۔ کوڑے امیر غریب کیلئے یکساں سزا ہے۔ ہتک عزت کے قانون میں کروڑوں، ا ربوں کے جرمانے لگانا معقول سزا نہیں ہے اسلئے کہ امیر کیلئے زیادہ رقم بڑی سزا نہیں ہے اور غریب کیلئے کم رقم بھی بڑی سزا ہے۔ اگر پاکستان میں آئین کی پاسداری کی جاتی اور امیر غریب کیلئے قرآن کے مطابق اس سزا کو نافذ کردیا جاتا تو طاغوت کا نظام اپنے انجام کو پہنچ جاتا لیکن ہمارے ہاں جب تک عوامی مقبولیت یا ریاستی بیانیہ کی پشت پناہی حاصل نہ ہو تو روایات کے خلاف چلنا غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کانفرنس میں مجھے غلط روئیے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مجھے اس پر گلہ نہیں بلکہ خوشی ہے کہ تاریخی حقائق کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔

کچھ اشعار احادیث صحیحہ کے آئینے اور فرقہ واریت کے ناسور کو واضح کرنے کیلئے لکھ دئیے۔ شیعہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ امام حسین سے ہمارا اکابر طبقہ کیسے انحراف کرسکتا تھا؟۔ اس محفل میں شیعہ کے کردار سے ان کی مجبوری کو واضح کیا گیا ہے جو انکے اکابر سے بھی سرزد ہوئی تھی۔ جب کسی پر مشکل پڑتی ہے تو دوسرے کی مشکل کو سمجھنے میں دیر نہیں لگاتا۔ جبکہ سنی علماء کو بھی آئینہ دکھانا مقصد ہے کہ قرآن اور سورۂ نور کے احکام سے ان کی کتنی ہمدردیاں ہیں؟۔ ان کا ضمیر بتائے گا کہ کیا کرنا چاہیے تھا اور کیا انہوں نے کیا؟۔ مولانا نورالحق قادری نے تقریر شاید اس وجہ سے نہیں کی کہ اگر حق کا ساتھ نہیں دے سکتے تو مخالفین کی صفوں میں بھی شامل نہ ہوں، جن لوگوں نے تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ان کی ہمدردی ہمارے ساتھ تھیں تو وہ بھی لائق تحسین ہیں۔ رسول اللہۖ نے دین کو سمجھ کر اس کی کھل کر ہاتھ، زبان اور دل سے حمایت کرنیوالوں کو السابقون میں شامل فرمایا ہے اور دوسرا درجہ ان لوگوں کا رکھا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس کی زبان سے کھل کر حمایت بھی کی اور تیسرا درجہ ان لوگوں کا رکھا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچانا اور کسی سے دین کی خاطر محبت رکھی اور کسی سے نفرت رکھی لیکن یہ سارے معاملات چھپائے رکھے۔ ان کیلئے بھی خوشخبری ہے۔ محفل میں اکثریت ان لوگوں کی ہی معلوم ہورہی تھی جن میں صدر مجلس علامہ عابد شاکری ،ڈاکٹر قبلہ ایاز ، مولاناسیدالعارفین، مولانامحمد طیب قریشی اور حفیظ الرحمن بھی شامل تھے لیکن دوسری طرف جل بھن کر بیان دینے والے حق کی مخالفت پر کمر بستہ نظر آتے تھے جن میں منتطم مجلس علامہ احسان اللہ محسنی ، درویش مسجد کے مولانا اور علامہ مقصود سلفی کے علاوہ سنا ہے کہ قاری روح اللہ مدنی بھی شامل تھے اور ان لوگوں کو دلیل کیساتھ سامنے آنا چاہیے۔ ہمارا اخبارنوشتۂ دیواران کیلئے حاضر ہے۔

بعض قارئین یہ سمجھتے تھے کہ اخبار میں درسِ نظامی کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جارہاہے لیکن قرآن کے خلاف یہ درست کیسے ہوسکتاہے؟۔ مولوی اکثر اپنی کتابوں کو سمجھ کر علماء نہیں بنتے۔ ہمارے دور کے اساتذہ اللہ والے تھے جو ہماری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ آج حالات بدل گئے۔ مدارس کے علماء وطلبہ کی ایک اچھی خاصی تعداد حقائق کو سمجھ چکی ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ مدارس و مساجد سے اسلامی انقلاب کا آغاز ہوگا۔ کالج و یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبہ بھی شانہ بشانہ ہوں گے۔ ہماری ریاست کا موجودہ ڈھانچہ مکمل ناکام ہوچکا۔ تاہم افراتفری سے ریاست کا موجودہ پسماندہ ڈھانچہ بھی بہت بہتر ہے۔ تمام ریاستی اداروں میں مخلص لوگ موجود ہیں لیکن وہ اندھیرے میں کھڑے ہیں۔ جب اسلام کی درست روشنی پھیل جائے گی تو اندھیرا خود بخود ختم ہوجائے گا۔ کانفرنس کے دن مجھے تھکاوٹ کی وجہ سے جلدی جانا پڑا تھا۔ کانفرنس کے آخر میں اس موضوع پر مزید وضاحت اور غیرت دلائی جاسکتی تھی لیکن تحریر دیکھ کر بھی فضا بدل سکتی ہے۔

اصل معاملہ فرقوں کا نہیں اسلام کی سربلندی کا ہے اور اس کیلئے فرقہ پرستی کو قربان کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ فرقہ پرستی سے فرقہ پرستوں کو روزی روٹی مل جاتی ہے لیکن دنیا کا نظام نہیں بدل سکتا ہے۔ جب اسلام کے ذریعے دنیا کا نظام بدل جائے گا تو عزت والی روزی فرقہ پرستی کے بغیر ہی ملے گی۔

ISI چیف جنرل ظہیرالاسلام نے ریٹائرڈ ہوکر کہا کہ”75سالوں سے ہماری پریکٹس جاری تھی لیکن اچھے حکمران نہیں لاسکے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعد ہم نے تیسری پارٹی کو آزمایا اورPTIسب میں بہتر ین ہے”۔

قومی اسمبلی میں میاں ریاض حسین پیرزادہ نے2020کے بجٹ اجلاس میں جو تاریخی خطاب کیا تھا وہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ سیاستدانوں کو بدنام کیا جاتاہے کہ نوکریاں دی ہیں لیکن اگر ہم نوکریاں بھی نہیں دیںتو اور کیا کرینگے؟۔ دریاؤں کے بیچنے سے لیکر ملک وقوم کوخسارے میں ڈالنے والے فوجی جرنیل ہیں۔ میرے باپ کو گولی ماردی گئی مجھے بھی گولی ماردی جائے گی۔ زمینداروں کو بدنام کرکے ان کی سیاسی بساط لپیٹ دی گئی اور اب وہ جنرل ہیںجو فرنٹ لائن پر لڑکر ترقی کرگئے ہیں لیکن چولستان میں زمینوں اور اس کے پانی پر جنرلوں اور کرنلوں کا راج ہے۔ محافظ تھانیدار بن گئے اور زبردستی سے غریب لوگوں کے ٹریکٹر چھین رہے ہیں اور لوگوں کو ڈنڈے مارے جارہے ہیں، جس سے فوج عزت نہیں کمارہی ، ہمیں اپنے علاقے میں غلام بنا دیا گیا ۔ بجٹ عوام کو دھوکہ دینے کا ڈرامہ ہے۔ کاشتکاری تباہ ہو توملک ترقی نہیں کرسکتا ہے۔

;

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

پاکستان کے ماہرین معیشت دلے سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر دلال بن گئے؟ شاہد علی
ہندو سینیٹر نے سود سے متعلق اللہ کا حکم سناکر حکمران اور علماء کو پانی پانی کردیا؟
جب سُود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو نبی ۖ نے مزارعت کو بھی سُود قرار دے دیا تھا