پوسٹ تلاش کریں

ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ اور صابرشاہ مدرسے کی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہیں اور مسکان بائیک چلاتی ہے؟

ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ اور صابرشاہ مدرسے کی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہیں اور مسکان بائیک چلاتی ہے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ اور صابرشاہ مدرسے کی تعلیم و تربیت سے آراستہ ہیں اور مسکان بائیک چلاتی ہے؟

پچھلے سال مفتی عزیز الرحمن اور صابر شاہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، حریم شاہ کی ویڈیوز نے بھی تہلکہ مچایا تھا اور یہ دونوں اسلامی مدارس کی تعلیم وتربیت سے بھی آراستہ ہیں۔ صابر شاہ اورحریم شاہ کی ویڈیوز میں بہت فرق بھی تھا اور ایک باریش لڑکے اور ایک لڑکی میں فرق ویسے بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ مسکان بائیک چلاتی ہے اور ایک کالج کی اسٹوڈنٹ ہے۔ بہت سے لوگوں کو مذہب سے اتنی نفرت ہوگئی ہے کہ صابرشاہ کا کردار بھی تمام مدارس ومساجد سے نفرت کا ذریعہ بنارہے ہیں اور مسکان خان کے کردار کو بھی غلط سمجھ رہے ہیں۔ ان کو مذہب سے چڑ ہوگئی ہے۔ حالانکہ مساجد ومدارس نسل در نسل کردار سازی، شائستگی اور تعلیم وتربیت کے سب سے زیادہ بہترین اور سستے ترین ذرائع ہیں۔ آج افغانستان کے دیہاتی علاقوں میں طالبان کی حکومت کی وجہ سے امن وامان قائم ہوا ہے اور عوام خوشحال ہیں۔ البتہ کابل اور شہری علاقوں میں کئی این جی اوز نے جو نوکریاں دی تھیں اس وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔
طالبان کا پہلے رویہ بہت شدت کا رہاہے لیکن اب ان کے بڑے رہنماؤں نے دنیا دیکھ لی ہے،وہ کافی حد تک بدل گئے لیکن بے شعور اور شدت پسند طبقات کی طرف سے شدید جذباتی مخالفت کے خدشات کا بھی سامنا ہے اسلئے وہ بہت مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک طرف مروجہ اسلامی رسم ورواج اور احکام کا معاملہ ہے اور دوسری طرف امیرالمؤمنین ملا عمرؒ کے اقدامات سے انحراف کی بات ہے اور تیسری طرف شیعہ ایرانی حکومت سے مفادات ومراسم کا معاملہ ہے اور چوتھی طرف افغان قومیت اور پاکستان کے مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔ چاروں طرف سے اندرونی اور بیرونی مشکلات کے علاوہ عالمی دنیا کی طرف سے انسانی حقوق اور عورت کے حقوق میں بھی بڑے تضادات کا سامنا ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان کے اکاؤنٹ بھی منجمد کررکھے ہیں اور اسلام کے نام پر سودی بینکاری کی منافقت کے بھی طالبان متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی اپنی حالت افغانستان سے زیادہ خراب اسلئے ہے کہ ایک طرف بے تحاشا سودی قرضے لئے ہیں،دوسری طرف جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی سیاست ہے، تیسری طرف ایک طاقتور ادارے نے اپنا مستقل اقتدار جمایا ہوا ہے اور چوتھی طرف سودی بینکاری اور اسلامی بینکاری میں استحصالی نظام کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ حلالہ کی لعنت کا نام کارِ ثواب رکھ دیا ہے۔ فقہ حنفی میں علامہ بدر الدین عینی اور علامہ ابن ہمام کا بہت بڑا مقام ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ”ہمارے بعض مشائخ نے حلالہ کو لعنت نہیں کارِ ثواب قرار دیاہے“۔
اگر پاکستان اور افغانستان کے علماءِ حق مل بیٹھ کر اسلامی احکام کا درست تجزیہ کریں اور پھر ان کو دنیا کے سامنے پیش کریں تو ان کی تمام مشکلات کا حل نکل سکتا ہے۔ قرآن کریم نے نہ صرف عورت کو اپنے شوہر سے خلع کا حق دیا ہے بلکہ خلع میں بھی مالی تحفظ اس کو فراہم کیا ہے۔ البتہ طلاق میں خلع کے مقابلے میں بہت زیادہ مالی تحفظ فراہم کیا ہے۔ جب عورت کی طرف سے طلاق کا دعویٰ ہو اور دلائل وشواہد سے خلع کا ثبوت مل جائے تو علیحدگی میں مالی حقوق کم ملیں گے مگر پھر بھی ملیں گے ضرور۔ اور اگر طلاق کا ثبوت مل جائے تو عورت کو بہت زیادہ مالی حقوق مل جائیں گے۔ مغرب نے عورت کو علیحدگی کا حق دیا ہے اور مسلمانوں نے عملی طور پر عورت سے خلع کا حق چھین لیا ہے۔ پاکستان کے آئین میں عائلی قوانین کے اندر عورت کو خلع کا حق حاصل ہے۔وفاق المدارس العربیہ کے جنرل سیکرٹری قاری محمد حنیف جالندھری نے جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری کے سامنے اس بات کا اعلان کیا کہ عدالت میں عورت کو خلع کا حق غیر اسلامی ہے اور اس کے خلاف ہم بھرپور تحریک بھی چلائیں گے۔ حالانکہ جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤ ن کراچی کا فتویٰ عدالت کے حق میں ہے۔ آئیے اور دیکھ لیجئے کہ قرآن وسنت کی واضح تعلیمات کے خلاف عورت سے خلع کا حق کیسے چھین لیا گیا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اکوڑہ خٹک میں پڑھتے تھے تو اپنے والد مفتی محمودؒ سے بھی چھپ جاتے تھے اوریہ بات ہمارے استاذمولانا عبدالمنان ناصرنے ہمارے ساتھیوں کو بتائی ہے اور انکے بھائی مولانا عطاء الرحمن درجہ رابعہ میں بنوری ٹاؤن میں فیل ہوگئے تھے اسلئے مدرسہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

اللہ نے اہل کتاب کے کھانوں اور خواتین کو حلال قرار دیا، جس نے ایمان کیساتھ کفر کیا تو اس کا عمل ضائع ہوگیا
یہ کون لوگ ہیں حق کا علم اٹھائے ہوئے
وسائل سے مالامال پختونخواہ کے حالات کیوں ٹھیک نہیں ہوتے؟۔ جو پاکستان کی تقدیرکو بدل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اسد محمود