کیا ملکہ برطانیہ سلطان ظل اللہ فی الارض تھی؟ مولانا بانگِ سحر ہے یا پھر مُرغ کی دُم؟ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

کیا ملکہ برطانیہ سلطان ظل اللہ فی الارض تھی؟ مولانا بانگِ سحر ہے یا پھر مُرغ کی دُم؟

کیا ملکہ برطانیہ سلطان ظل اللہ فی الارض تھی؟ مولانا بانگِ سحر ہے یا پھر مُرغ کی دُم؟ اخبار: نوشتہ دیوار

کیا ملکہ برطانیہ سلطان ظل اللہ فی الارض تھی؟ مولانا بانگِ سحر ہے یا پھر مُرغ کی دُم؟

22جنوری1901ملکہ برطانیہ الیگزینڈریا وکٹوریہ کی وفات پر حکیم اُالامت حضرت علامہ سر محمد اقبال کی مرثیہ خوانی
اے ہند تیرے سر سے اٹھا سایہ خدا
اِک غمگسار تیرے مکینوں کی تھی گئی
ہلتا ہے جس سے عرش یہ رونا اُسی کا ہے
زینت تھی جس سے تجھ کو جنازہ اُسی کا ہے
صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا؟
دیتے ہیں نام ماہِ محرم کا ہم تجھے
میت اٹھی ہے شاہ کی تعظیم کیلئے
اقبال اُڑ کے خاک سرِ رہگزار ہو

اقبال نے کہا: ” دیوبند سے حسین احمد کہتا ہے کہ قوم مذہب نہیں وطن سے ہے۔ یہ کیا بولہبی ہے؟”۔اور ملکہ برطانیہ کوسایۂ خدا کہا ۔ اللہ نے فرمایا کہ ”یہود ونصاریٰ کو اپنا ولی نہ بناؤ”۔ ولی سے ولایت و اختیارمراد ہے۔ ولی سے دوست مراد نہیں کیونکہ اہل کتاب کی خواتین کو بیوی بناسکتے ہیں۔بیٹی کا باپ اسکا دوست نہیں ولی ہے۔جس کی اجازت کے بغیر نکاح باطل ہے۔ مدارس کے طلباء اپنے اساتذہ کو مولانا کہتے ہیں۔ نبیۖ نے فرمایا” میں جسکا مولیٰ علی اسکا مولیٰ ہے”۔ کورٹ میرج اور باپ کی اجازت سے نکاح میں فرق ہے اوراغواء کا معاملہ جدا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:جس نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کرلیا اس پراللہ ، جبریل اور فرشتوں کی لعنتیںہوں۔

مولانا بانگِ سحر ہے یا پھر مُرغ کی دُم؟
نبی ۖ نے فرمایا : السلطان ظل اللہ فی الارض من اھان سلطان اللہ فقد اھان اللہ ”بادشاہ زمین میں اللہ کا سایہ ہے ،جس نے اللہ کے بادشاہ کی توہین کی، اس نے اللہ کی توہین کی”۔ مغل کے بادشاہ سبھی ظلِ الٰہی تھے۔ انگریز کا قبضہ، سلطلنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو جمعہ کی نماز کیلئے ایک شرط خلیفہ یا اسکے نائب کی موجود گی تھی۔ پھر حیلہ نکالا کہ خلیفہ کے بغیر جمعہ پڑھا جائے۔ احتیاط سے ظہر کے فرائض کی جگہ چار سنتیں پڑھی جائیں تاکہ اگر جمعہ نہ ہو تو متبادل چار رکعت ہوں۔ملکہ برطانیہ کو خدا کا سایہ قرار دینے کی جگہ خلیفہ مقرر کرتے۔
شاہ و لی اللہ نے ” فک النظام ” کا نعرہ لگایا تو انگریز کا اقتدار نہ تھا بلکہ قرآن وسنت سے ہٹ کر باطل فقہی مسائل تھے۔ تقلید نہیں شاہ ولی اللہ کے فک النظام پر علماء دیوبند عمل کرتے تو اسلامی نظام نافذ ہوتا۔ مولانا کے معنی ”ہمارا مولا” ہے۔ شیخ الہند مالٹا کی جیل میں تھے۔ شاگرد نے لکھا کہ ”شیخ الہندنے کہاکہ امت کی اصلاح نہ ہوگی، خراسان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مہدی آئیگا جو اپنی روحانی قوت سے دنیا کے حالات کو بدل دیگا”۔ (امداد المشتاق:مولانا اشرف علی تھانوی ) مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ” یہ اپنے استاذ شیخ الہند کی بات نہیں مانتے کہ لایعنی مسائل چھوڑ کر قرآن کی طرف رجوع کریںجب مہدی آئیگا تو یہ مخالفین کی صف میں ہونگے”۔سب علماء ”مولانا ” ہیں۔ مولانا طارق جمیل نے حدیث کے مطابق علی کو ” مولا” کہا تو ہم مسلک علماء نے فتوے لگادئیے۔ غائب شوہر کیلئے حنفی مسلک میں80سال کا انتظار عورت کی بغاوت سے مالکی مسلک4سال میں بدل دیا اور شیعہ نے ہزار سال سے زیادہ امام کا انتظار کیا نہ آئے تو خمینی کو امام بنادیا۔ غور کریں کہ ملکہ الزبتھ دوم کئی ممالک کی بادشاہ اور ان کیلئے سایہ خدا تھی تو مسلمان امام کا تقرر کریں۔ نبیۖ نے امیرمعاویہ کیلئے ہادی ومہدی کی دعا کی مگر خلافت راشدہ میں شمار نہ ہوا۔ عمر بن عبدالعزیز پر مہدی و خلافت راشدہ کا اطلاق تھا۔ خلفاء راشدین مہدی تھے۔انصار ومہاجرین کا اختلاف تھا اور زیادہ شدت کا اختلاف شیعہ سنی اور سنیوں میں آپس کا ہے۔ بقول علامہ اقبال
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق جو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرے
خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو مولانا احمد رضا خان بریلوی نے فتویٰ دیا کہ امام کا قریشی ہونا ضروری ہے۔ خلافت عثمانیہ شرعی خلافت نہیں تھی۔ جب انصار نے اپنا خلیفہ نامزد کرنا چاہا تو حضرت ابوبکر و عمر نے کہا کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ خلیفہ قریش میں سے ہوگا۔ جب سے اہل سنت کا اجماع تھا کہ غیر قریشی خلیفہ نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی بنے تو وہ قانونی ہوگا شرعی نہ ہوگا۔ ملا عمر امیر المؤمنین بنے تو اُستاذ مولانا فضل محمد جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے لکھا کہ ”مُلا عمر ہوتک قبیلے سے ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ قریشی ہو اور جنکے پاس شجرہ ہے ہوسکتا ہے وہ قریشی نہ ہوں”۔ مُرغ آذان سحر دیتا ہے اسلئے اسکو برا کہنا منع ہے۔مُلا مرغ کی دُم بنتا ہے جو ہوا کے رُخ کیساتھ پھرتا ہے تو اس کی اوقات نہیں ہوتی۔اگر خلیفہ نامزد کیا جائے مگر اس کے پاس قوت نافذہ نہ ہو تو وہ شرعی ہوگا مگر قانونی نہیں۔ حضرت علی کے بعد امام حسن نے اسلئے دستبرداری اختیار کی تھی۔ اگر کوئی قریشی خلیفہ زبردستی سے اپنا تسلط جمالے تو بھی اسکا اقتدار نہ صرف غیر شرعی بلکہ ناجائز بھی ہوگا۔ اسلئے خلفاء قریش کے دور میں بغاوتیں ہوتی رہیں۔ اگر غیر قریشی امیر المؤمنین کو دنیا کیلئے نامزد کیا جائے اور لوگ اس کو برضاو رغبت قبول کرلیں تو اس کی امامت شرعی اور قانونی ہے۔ مسلمان ممالک کو قبضے کے بجائے طرز عمل کو درست کرنا ہوگا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

قرآن وحدیث سے انحراف کا نتیجہ
ایک عظیم انسانی معاشرہ
قرآن کریم کی غلط تعبیر سے کس نے گمراہ کیا؟