پوسٹ تلاش کریں

سود سے ملک غلام بنتے ہیں اورمزارعت سے خاندان

سود سے ملک غلام بنتے ہیں اورمزارعت سے خاندان اخبار: نوشتہ دیوار

سود سے ملک غلام بنتے ہیں اورمزارعت سے خاندان

آج پاکستان50کھرب کے سودی قرضے میں جکڑا ہوا ہے جس میں 30کھرب تک نوازشریف اور اس سے پہلے پریزومشرف نے پہنچایا تھا۔ پرویزمشرف نے جتنا سودی گردشی قرضہ لیا تھا زرداری نے اس کو ڈبل کردیا تھا۔ یعنیIMFکے آٹھ کھرب کو16کھرب تک پہنچادیا اور نوازشریف نے پرویزمشرف اور زرداری سے دگنا قرضہ لیکر30کھرب تک پہنچادیا تھا۔ عمران خان نے ساڑھے تین سال میں نوازشریف سے بھی ڈبل قرضہ لیکر50کھرب تک پہنچادیا ہے۔ نوازشریف اور زرداری نے1990کی دہائی میں ہی ایکدوسرے کیخلاف سوئس اکاونٹ، سرے محل اور ایون فیلڈ لندن کے فلیٹوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا تھا۔ پانامہ لیکس نے نوازشریف سمیت دوسرے بہت لوگوں کے بھانڈے پھوڑ دئیے اور پھر اس طرح براڈشیٹ نے بہت سے لوگوں کے چہروں سے نقاب اتار دیا تھا اور پھر ایک اور لیک نے بہت ساری حکومتی شخصیات اور دیگر کے بھانڈے پھوڑ دئیے تھے اور اب جنرل اختر عبدالرحمن کے سوئس اکاونٹ اور مفتی محمد نعیم کے پانچ ارب 34 کروڑ اور لاکھوں کے بینک اکاونٹ میڈیا پر زیرگردش ہیں۔ سیاستدان، جج، جرنیل، صحافی، سول بیوروکریسی اور ان کے ساتھی کرپٹ بلڈروں کے مال ومتاع اور ظالمانہ کرپشن کے معاملات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
گورنر پنجاب نے بتادیا ہے کہIMFکے کہنے پرپاکستان کے اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی ریاست کو قرضہ دینا بھی بند کردیا ہے اور اب مالی معاملات پاکستان کی حکومت وریاست کی دسترس سے باہر ہیں اور جس سودی نظام سے2004سے2008تک پرویزمشرف نے ملک کا نظریہ بیچ کر چھٹکارا حاصل کیا تھا لیکن پھر خودہی اس میں کود گئے۔ زرداری، نوازشریف اور عمران خان نے نہلے پر دہلے کردئیے ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے سودی غلامی کو اسلامی غلامی کا نام دے دیا تو کیا اس کا کوئی فائدہ ہے؟۔
پہلے مزارعت سے افراد اور خاندان غلام بنتے تھے اوراب سودی نظام سے ملک غلام بنتے ہیں۔ ریاستِ مدینہ نے مزارعت کو سود قرار دیکر مزارعین کو مفت زمینیں کاشت کیلئے دی تھیں جسے اگر برقرار رکھا جاتا تو دنیا سے غلامی اور لونڈی کا نظام ختم کرنے کا سہرا امریکہ کے ابراہم لنکن اور اقوام متحدہ کی جگہ اسلام کے سر لگ جاتا۔ نبیﷺ نے آخری خطبے میں کالے گورے، عرب و عجم کے تعصبات کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور اپنے چچا کاخون اور سود معاف کرنے سے قتل وغارت گری اور سرمایہ دارانہ نظام کی بیخ کنی کردی تھی۔ اگر ہم پاکستان سے عورت کے حقوق اور اسلام کے معاشی نظام کی ابتداء کردیں گے تو پوری دنیا کے نظام کو قتل وغارت گری اور معاشی استحصال سے بچانے میں ایک زبردست کردار ادا ہوسکتا ہے۔ ایک اچھے نظام کا پہلے کہیں نمونہ پیش کرنا ہوتا ہے اور پھر دنیا بدلتی ہے۔ ریاست مدینہ نے قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست اسی لئے دی تھی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

جب سُود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو نبی ۖ نے مزارعت کو بھی سُود قرار دے دیا تھا
اللہ نے اہل کتاب کے کھانوں اور خواتین کو حلال قرار دیا، جس نے ایمان کیساتھ کفر کیا تو اس کا عمل ضائع ہوگیا
یہ کون لوگ ہیں حق کا علم اٹھائے ہوئے