ایران کے شہر قم میں استاذ کربلا عراق کے رہائشی سیدکمال حیدری اور پاکستانی شیعہ کا موازنہ
جون 26, 2026
واقیموا الوزن بالقسط
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ ایران جنگ میں فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر نے زبردست کردار ادا کیا ہے اور اس میں طاقت نہیں حکمت کو کام میں لایا ہے۔ اہل تشیع کے علماء کے متضاد بیانیہ میں حکمت کے ساتھ توازن قائم کرنا امریکہ ایران جنگ سے بھی زیادہ مشکل معاملہ ہے لیکن ہم اس پر تھوڑی محنت کرنے کا رسک لیتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں نے ہمیں صلح یا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
کسی کی اصلاح کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ جس کو مخاطب کیا جائے تو اس کو لگے کہ میری دوستی مقصود ہے دشمنی نہیںاور یہ بھی دیانتداری کا تقاضہ ہے کہ اس کا مؤقف غلط پیش نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں اس کو مخالف کے سامنے شرمندہ بھی نہیں کیا جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیدکمال حیدری نے کربلا کی مٹی کا حق ادا کرتے ہوئے شیعہ کے اصلاح کی بڑی زبردست کوشش کی ہے۔عربی میں عنوان لگایا ہے کہ ”اثناعشری دین کو پھاڑ کر رکھ دیا ہے”۔ اس میں بھی شک نہیں کہ پاکستانی شیعہ کا تجزیہ درست ہے کہ ”سنی اور شیعہ میں90فیصد اتفاق ہے لیکن وہابیوں کو کامیابی ملنے کی وجوہات کچھ اور ہیں”۔
اصل بات یہ ہے کہ سید کمال حیدری نے شیعہ کا جو مذہب بیان کیا ہے وہ اصل اختلاف ہے لیکن شیعہ اس کو چھپاتے ہیں اور سنی اپنے علماء کی کتابوں سے جاہل ہیں ورنہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔ کامیابی اس بات میں نہیں ہے کہ کسی کو شیعہ یا سنی بنایا جائے بلکہ کامیابی اس بات میں ہے کہ دونوں قرآن پر درست ایمان کی تعلیمات کا معیار بنائیں۔
بارہ امام قرآن سے فتویٰ دیتے تھے اور آج بھی قرآن سے فتویٰ دینا بالکل آسان ہے لیکن شیر سے ویسے بھاگو مت جیسے قرآن میں بدکے ہوئے گدھوں کے فرار کا ذکر موجود ہے۔
ــــــــــ
علی علیہ السلام کا نام توراة میں ایلیا آیا ہے: علامہ سید جان علی شاہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ عزیز و! بڑا نازک مسئلہ ہے۔ آج ہمارے اہل سنت بھائی عاشق اہل بیت ہیں۔ اہل سنت کی تعداد ہر جگہ پہ زیادہ ہے۔ ادھر شیعہ، ادھر وہابی، بیچ میں اہل سنت ہیں۔ شیعوں اور وہابیوں کی تعداد اور کم ہے۔ تجربہ بتلا رہا ہے جو عقلمندی کرے گا تو مستقبل میں تعداد اس کی بڑھے گی۔ شیعہ سنی عقیدے90%ایک جیسے ہیں۔ وہابی90%دونوں کے خلاف ہیں۔ شیعہ یا رسول اللہ، سنی یا رسول اللہ کہتے ہیں۔ شیعہ عاشق رسول نبی کی ضریح کو چومنا چاہتے ہیں وہابی ڈنڈا مارتے ہیں سنی بھی چومنا چاہتے ہیں۔ شیعہ زیارت پہ جاتے ہیں سنی بھائی زیارت پہ جاتے ہیں وہابی اسے حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ کہتے ہیں یا رسول خدا مدد یا علی مدد مگر وہابی حرام سمجھتے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت نذر نیاز کرتے ہیں، وہابی حرام سمجھتے ہیں، بدعت سمجھتے ہیں، کافر سمجھتے ہیں اسی طرح عزیزان گرامی اگر آپ گنتے چلے جائیں گے۔ شیعہ اور سنی غم حسین میں روتے ہیںمگر وہابی بدعت سمجھتے ہیں۔ عزاداری دونوں کرتے ہیں، ہمارے سندھ میں پورا سیہون شریف کے سنی ماتم کرتے ہیں۔ پتہ نہیں چلے گا شیعہ کون ہے محرم میں سب کے لباس کالے ہوں گے۔ مٹیاری شہرمیں وہابی پر بھی ماحول کا اثر ہے وہ بھی ماتم میں شریک ہوتے ہیں زیارت نہیں پڑھتے کہتے ہیں زیارت پڑھنا بدعت ہے۔
آپ نے دیکھا شیعہ سنی کا عقیدہ90%ایک جیسا ہے۔ وہابی90%شیعہ کو بھی کافر سمجھتے ہیں، سنی کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ عقلمندی کیا ہے جن کا عقیدہ90%ہمارے جیسا ہے جو عاشق رسول ہے انہیں ہمیں اپنی طرف بلانا چاہئے یا بھگانا چاہئے۔ توجہ فرمائیں! و ہابی پیسہ دے کر سنی کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ توجہ فرمائیں! اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں بعض لوگ صرف تھوڑی چند منٹ کی واہ واہ کیلئے ایسی بات کر دیتے ہیں کہ وہ سنی بھائی پھر مجلس میں نہیں آتا۔ اب بتایئے یہ کوئی عقلمندی ہے۔ آپ اس سنی بھائی کو وہابیوں کی طرف بھیج رہے ہیں وہ مجلس میں آیا ہے آپ بھگا رہے ہیں۔ صلو ةپڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ تو عقلمندی سے کام لینا ہے۔
عزیزان گرامی! یوٹیوب پر میں نے ایک ویڈیو دیکھی ایسی واقعاً حقیقت ہے کتنی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ ایک سنی بیچارے نے شیعہ سے گفتگو سنی یا مجلس میں جا کے سنا کہ بھئی بی بی پاک گئی تھیں فدک لینے اور بی بی کو فدک نہیں ملا۔یہ سنی بیچارہ کہتا ہے مجھے پوری رات نیند نہیں آئی۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ جو نبی کے صحابی ہوں وہ فدک نہ دیں؟ کہتا ہے مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں نے کہا نیند نہیں آ سکتی۔ بارہ بجے رات میں اٹھا محلے میں میرے ایک مولانا تھے سنی عالم میں نے کہا مولانا میں بہت پریشان ہوں میری مدد کریں۔ کیا پریشانی ہے؟ کہا مولانا یہاں مسئلہ حل نہیں ہوگا مسجد میں آیئے آدھی رات کو سنی عالم کو مسجد میں لے آیا اس کے سر پہ قرآن رکھا وہ گھبرا گیا۔ میں نے کہا مولانا اس کے سوا میری پریشانی دور نہیں ہوگی میں بہت پریشان ہوں صرف دو سوال کہوں گا آپ یہاں کہیں ہاں یا نہیں۔ کیا سوال ہیں؟ کہا مولانا میں نے سنا ہے کہ نبی کی بیٹی فاطمہ زہرا فدک لینے دربار میں گئی تھیں۔ مولانا نے تقریر شروع کی تجھے کسی شیعہ نے بھٹکایا ہے۔ مولانا میں نے تقریر نہیں سنی میں نے کہا ہاں یا نہیں بی بی گئی تھیں یا نہیں؟ سر پہ قرآن ہے آپ کے۔ میں پڑھا لکھا آدمی نہیں کہا بی بی گئی تھیں۔ صحیح بخاری مسلم میں ہے بی بی فدک لینے گئی تھیں۔ بہت شکریہ۔ دوسر ا سوال خلیفہ نے فدک دیا یا نہیں ؟ مولانا نے کہا نہیں دیا۔ میں نے سر سے قرآن اتار دیا کہا مولانا آپ نے بہت احسان کیا۔ میری مشکل حل ہو گئی۔ کہا تیری مشکل کیسے حل ہو گئی؟ کہا میں بہت گنہگار ہوں مولانا میں بہت گنہگار ہوں۔ اگر میرا کوئی جگری یار ہو نا اور اس کی بیٹی مر جائے وہ وہ مر جائے وہ بیٹی یتیم ہو جائے اگر وہ میرے گھر پر آئے اگر اس کا حق بھی نہ ہو میں گھر بیچ کر دوں گا۔ یہ کیسے یار تھے؟ نبی کی بیٹی کو واپس کر دیا؟۔ ہزاروں لوگ شیعہ بننے کیلئے تیار ہیں۔ تڑپ رہے ہیں بے خبر ہیں بیچارے۔ ہمارے منبر سے انہیں بلایا نہیں بھگایا جا رہا ہے۔ دو منٹ کی واہ واہ کی خاطر۔
عزیزان گرامی! اب بچپن سے انہوں نے تعریفیں سنی ہیں۔ آپ کو یہ پتا ہوگا کہ ایران نے ایک اسمگلر کو جہاز سے اتار کر پھانسی دی تھی۔ ریگی نام تھا اس کا۔ یہ بلوچ تھا جس نے ایران میں سوسائڈ اٹیک (خود کش حملے)کئے تھے اور کتنے مومنین کو شہید کیا تھا۔ تو امارات کے جہاز سے اتار کے اس کو پکڑ کے پھانسی دینے سے پہلے اس سے پوچھا کہ تو کیسے جوانوں کو تیار کرتا ہے؟ کہ ایک جوان خود کو مارتا ہے اور حملہ کرتا ہے۔ اس نے کہا میں کچھ نہیں کرتا سب کام آپ کے مولوی کرتے ہیں۔ بتایئے یہ ریگی کا انٹرویو ہے۔ کہتا ہے میں کچھ نہیں کرتا میرا کام آسان تمہارے مولوی اور ذاکر کرتے ہیں۔ میں50-40نوجوانوں کو بلاتا ہوں اچھا کھانا کھلاتا ہوں پھر میں نے کلپ بنائے ہوئے ہیں جو آپ کے مولوی جو تبرہ بازی کرتے ہیں جو ان پر الٹی سیدھے جملے کستے ہیں میں وہ انہیں دکھاتا ہوں۔ انہوں نے بچپن سے تعریفیں سنی ہیں کہ یہ عاشق رسول ، عاشق اہل بیت ہیں جب وہ سنتے ہیں تو ان میں سے10قسم کھاتے ہیں کہ ہم تب تک یہ کام نہیں کریں گے بیوی کے پاس نہیں جائیں گے یا نکاح نہیں کریں گے جب تک ہم60-50شیعوں کو مار نہ دیں۔ کہتے ہیں سارا کام جو ہے نا آپ کے علما کرتے ہیں۔ میںنے صرف ان کی کلپیں بنائی ہوئی ہیں اور وہ میں دکھاتا ہوں۔
عزیزان گرامی! آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم چند منٹ کی واہ واہ کیلئے اپنی قوم کو مروا رہے ہیں۔ یا وہابی بنوا رہے ہیں کہ آنے والا سنی وہ چلا جاتا ہے یا ہم اپنی قوم کو مروا رہے؟۔ کیونکہ خود خدا کہتا ہے قرآن میں کہ آپ کسی کے برے خدا کو برا نہ کہیں کہیں آپ کے سچے خدا کو کوئی نہ کہے۔ خود امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا جس سے مولا سخت ناراض ہوئے کہا کہ یہ تبرے کیلئے شرائط ہیں کہ تم اس کے سامنے تبرہ پڑھو جس کو پتہ ہو کہ یہ ظالم ہے۔ دوسرے کو پتہ نہیں کہ یہ ظالم ہے جب تو اسے ظالم کہے گا، برا بھلا کہے گا اس نے مولا علی کو برا بھلا کہا اس کا مجرم تو ہے۔ امام سخت ناراض ہوئے کہ تبرے کے شرائط ہیں جو جتنے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو پتہ ہے یہ بندہ ظالم ہے اس نے بی بی کا گھر جلایا ہے اس نے حضرت محسن پہ ظلم کیا اب آپ تبرہ کریں تو کوئی بات نہیں کیونکہ سب کو پتہ ہے لیکن ایک کو پتہ ہی نہیں ہے وہ اسے عاشق رسول سمجھ رہا ہے عاشق علی سمجھ رہا ہے عاشق اہل بیت سمجھ رہا ہے آپ کہیں گے تو کیا ہوگا وہ آپ کا دشمن ہوگا۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔
عزیزان گرامی! بہت دھیان بہت ہوشیاری سے کام کرنا ہے۔ پاکستان میں40سال پہلے وہابیوں کی تعداد5%تھی اور وہابی اگر کسی کو کہیں غصہ کرتے تھے ہم عاشق رسول ہیں ہمیں وہابی مت کہو وہ گستاخ ہیں رسول کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں سنی برداشت نہیں کر سکتا اور اگر وہابی مسجد میں کوئی چلا جائے ہمارے شہر میں تو بہت بری نگاہ سے دیکھتے تھے وہابی ہے۔ اب وہابی30%فیصد ہو گئے ۔ بعض اس سے بھی بڑھ گئی ہے۔5سے40سال میں40-30فیصد کیسے بنے؟ ۔ ہم ان پہ ہنستے ہیں یہ بستر بند، لوٹے والا لطیفے بناتے ہیں۔ بستر لوٹے والے تبلیغ کر رہے ہیں ۔ہر وہابی انجینئر، ڈاکٹر ،پروفیسر بارہ ماہ میں ایک مہینہ وقف کرتا ہے تبلیغ اسلام کیلئے۔ بتایئے آپ میں سے کتنے ایک مہینہ وقف کرتے ہیں؟ ہم تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بھائی تبلیغ کا حق تو ہمیں ہے کہ ہم امام کا انتظار کر رہے ہیں۔ تبلیغ کا حق ہمیں ہے کہ ہم باب مدینة العلم کے ماننے والے ہیں۔ وہ تبلیغ کر رہے ہیں جن کے پاس کوئی علم ہی نہیں ۔
ہر وہابی نے قسم کھائی ہے کہ مرنے سے پہلے10لوگوں کو وہابی کرنا ہے۔ اگر ہر شیعہ قسم کھا لے کہ مرنے سے پہلے10اہل سنت کو مومن بنانا ہے تو ہماری تعداد10گنا بڑھ جائے گی۔ ہم تبلیغ کرتے نہیں۔ ہم نارتھ امریکہ سے آ رہے ہیں بتایا کہ وہابی ہر سال50ہزار امریکن کو مسلمان بناتاہے۔ عزیزان گرامی! ہم تبلیغ کر ہی نہیں رہے۔ ایک آدمی کو مسلمان بنانے پہ کم از کم ایک لاکھ ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ آپ کو خرچ نہیں کرنا۔ بغیر خرچ کے آپ مسلمان کر سکتے ہیں۔ ہمارے ایک مولانانے امریکہ میں بہت ساروں کو مسلمان کیا بھئی آپ کیا کرتے ہیں؟ کہا میں پکی پکائی روٹی کھاتا ہوں۔ کہا وہ کیسے؟ کہا جیسے وہابی مسلمان کرتے ہیں وہ تیار شدہ مال5سال مدرسے میں پڑھے ہوئے میں ایک کتاب بھیج دیتا ہوں انہیں تیجانی کی ”پھر میں ہدایت پا گیا” (Then I was Guided)یا نائٹس آف پشاور یعنی شبہائے پشاور ایک کتاب پڑھ کر وہ5سالہ تیار مولانا شیعہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ تعصب نہیں رکھتے نا امریکن حق کی تلاش میں ہیں۔ کتنے ہمیں ملے جو شیعہ ہیں وہ پہلے وہابیوں کے ذریعے سے مسلمان ہوئے۔5سال مدرسے میں، لندن میں ایک ملا میں نے کہا تو کیسے شیعہ بنا؟ کہا میں ایسے شیعہ بنا کہ وہابیوں نے مجھے مسلمان بنایا اور میرے استاد نے مجھے سند دی کہ تو امام بن گیا، نماز پڑھا سکتا ہے مولوی بن گیا لیکن خیال رکھنا کبھی شیعہ سے بات نہ کرنا۔ میں نے کہا شیعہ کون ہے؟ کہ یہ شیعہ کافر ہیں بہت برا بھلا کہنے لگا، شیعہ نے40جز قرآن بنایا ہے یہ کافر ہیں ان سے کبھی بات نہ کرنا اتنا ڈرایا اتنا ڈرایا کہ میرے دل میں شوق پیدا ہو گیا کہ ایک شیعہ کو دیکھ تو لوں۔ یہ کیا ہے بھوت ہے جن ہے کیا ہے اتنا ڈرایا۔ تو کہا میں امریکہ نیویارک میں ٹیوب میں جا رہا تھا ریلوے اسٹیشن میں قرآن مجید میرے پاس تھا ماہ مبارک رمضان تھا سامنے ایک مسلمان قرآن پڑھ رہا تھا۔ میں اس کے نزدیک گیا اسلام علیکم وعلیکم السلام مسلمان ہو؟ کہا ہاں مسلمان ہوں۔ کون سے مسلمان ہو؟ اس نے کہا میں شیعہ مسلمان ہوں۔ اوہ یہ ہے شیعہ۔ تو استاد نے کہا تھا کہ بھئی یہ قرآن نا شیعوں کا40جز بڑھا دیا ہے اس لئے کافر ہیں۔ تو میں نے کہا بھئی یہ قرآن مجھے دے سکتے؟ کہا بسم اللہ ۔ میں نے جیب سے قرآن نکالا دیکھا ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور الحمد ہے ادھر بھی سور بقرہ ادھر بھی سور بقرہ ادھر سارا قرآن وہی ہے ایران کا چھپا ہوا۔ میں نے کہا بھائی یہ قرآن مجھے تھوڑے دن کیلئے چاہئے کسی کو دکھانا۔ کہا بسم اللہ۔ میں گیا اس وہابی استاد کے پاس کہ جی آپ نے کہا تھا شیعوں کے قرآن میں40جز ہیں یہ دیکھو ایران سے چھپا ہوا وہی قرآن۔ ایک دم وہ ملاغصے میں آ گیا کہ تجھے منع کیا تھا شیعہ سے ملا کیوں؟ کہا میں بھی غصے میں آ گیا کہ مسلمان بنا تیرا غلام تو نہیں بنا کہ کسی سے ملوں نہیں۔ کہا جب تیری ایک چیز جھوٹی ہو گئی اب سب پہ شک ہو گیا۔ مجھے واپس تحقیق کرنی ہے۔ میں گیا اس شیعہ کے پاس بھائی کوئی شیعہ مذہب کا کتاب ہے اس نے مجھے یہی کتاب دی "Then I was Guided” (پھر میں ہدایت پا گیا)۔ تیجانی کی کتاب ختم ہو گئی میں نے اعلان کیا علی ولی اللہ۔ صلوة پڑھئے نعرہ حیدری یا علی نعرہ تکبیر اللہ اکبر نعرہ رسالت یا رسول اللہ نعرہ حیدری یا علی حیدری یا علی حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد نعرہ صلوة۔
یقین جانیئے آپ50-20ایسے لوگوں کو مسلمان کو شیعہ کر سکتے ہیں۔ جو عیسائی سے مسلمان ہوئے صرف یہ کتاب بھی مفت میں آپ جا کے گوگل میں سرچ کریں (Then I was Guided) ایک ڈالر کا خرچہ نہیں آپ پہلے سرچ کریں کنورٹڈ مسلمان ۔ وہابیوں نے بہت کئے انکے ای میل لے لیں اور یہ کتاب بھیج دیں مفت میں آپ کا یہ کام ہو جائے گا اور ایک بندہ بھی شیعہ کر دیا تو آپ کی جنت پکی ہے صلوة پڑھ دیں محمد و آل محمد پہ۔
آپ نے دیکھا دو ٹیکنیکس وہابی کیوں بڑھے40فیصدی30فیصدی بعض جگہ مقامات پر یہی کہ یہ بستر بند ہر سال مہینے میں تبلیغ پہ جاتے ہیں اور کھینچتے ہیں انہیں پیسہ دیکر کھینچتے ہیں اور دوسری ٹیکنیک کیا ہے؟ یہ اپنے مولویوں کو مکے اور مدینے سے پی ایچ ڈی کراتے ہیں۔ ڈاکٹر بناتے ہیں مکے مدینے سے اور پھر بھیجتے ہیں انگلینڈ۔ ان کیساتھ یورپ میں یونیورسٹیاں ہیں وہاں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کراتے ہیں یعنی ڈاکٹر سے اوپر۔ یہ نہ پاکستان میں ہے نہ ایران میں تھرڈ ورلڈ کنٹریز غریب ملکوں میں ہے ہی نہیں۔ ان کا مولوی پوسٹ ڈاکٹریٹ کر کے انگلینڈ سے چلا گیا۔ جب کراچی یونیورسٹی لاہور یونیورسٹی میں کوئی پروفیسر مر گیا ریٹائر ہو گیا یہ انٹرویو کیلئے آیا تو اسے تو سیٹ ملنی ہی ملنی ہے کیونکہ کوئی بندہ پوسٹ ڈاکٹریٹ ہے ہی نہیں۔
دوسرا ان کا نقطہ یہ ہے کہ پورے دنیا کی یونیورسٹیوں پہ انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وزیر، سفیر وہیں حکومت کے لوگ کہاں سے نکلتے ہیں؟ یونیورسٹی سے۔ ہم سندھ تبلیغ کرنے جاتے تھے8-7علماء تو ہم نے دیکھا کہ اگر6مہینے بھی تبلیغ کریں حالانکہ چھوٹا ہے پنجاب سے تو بھی ہر گاؤں میں نہیں جا سکتے۔ اگر ہم سندھ یونیورسٹی میں بیٹھ جائیں کراچی یونیورسٹی میں ہم ایک لاکھ پمفلٹ یا کتابیں چھاپیں اور ہم لڑکوں میں تقسیم کر لیں تو ہر گاؤں میں ہمارا میسیج چلا جائے گا۔ کیونکہ ہر شہر ہر گاؤں کا اسٹوڈنٹ موجود ہے۔ اب آپ نے دیکھا کہ وہابیوں کی ٹیکنیک کہ یونیورسٹیوں پہ قبضہ کریں اسلئے ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہماری کوئی یونیورسٹی نہیں ہے مثلا پورے یورپ، امریکہ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ انکے پاس پیسہ ہے، ہمارے پاس پیسہ نہیں۔ پیسہ ہمارے پاس ہے لیکن ہم نے سوچا نہیں کہ یونیورسٹی کتنی اہم ہے۔ کئی سالوں سے ہم کوشش کر رہے تھے ایک یونیورسٹی بنائیں اب انگلینڈ میں یونیورسٹی بنائیں تو10سال کالج کواور ہزار اسٹوڈنٹ ہونا چاہئے50ڈاکٹر ہونا چاہئے ایک دو ملین کا پیسہ ہونا چاہئے یعنی بہت مشکل ہے۔
ہم کوشش کرتے رہے الحمدللہ مولا نے مدد کی تقریبا ابھی اسی سال8مہینے ہو گئے مولا علی کے نام جو مولا علی کا نام تورات انجیل میں ہے ایک یونیورسٹی ایلیا یونیورسٹی ہالینڈ میں ثبت ہو گئی ۔ یونیورسٹی رجسٹر اور700اسٹوڈنٹ پڑھ رہے ہیں الحمدللہ آن لائن۔700اسٹوڈنٹس سائیکالوجی اسلامک سائیکالوجی اور چائلڈ سائیکالوجی بچے کی سائیکالوجی پڑھ رہے ہیں۔ مولا سرکار امام زمانہ نے ایک تحفہ دیا اور ایک ایسا علم دیا ہے جو اس وقت کسی یونیورسٹی کے پاس نہیں ہے۔ اور انشااللہ اس کو ہم شروع کرنے والے ہیں ایک مہینے میں اور اس سے آپ بھی فائدہ کریں۔ ایک بندہ تھا یہ بیچارہ سمجھو کہ شہید زندہ ہے جنگ میں8سال تھا پھر کیمیکل گیس سے یہ زخمی ہو گیا تھا۔ جرمنی میں5سال بستر پہ تھا۔5سال کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا۔ یہ5سال اس مومن نے ضائع نہیں کئے۔ یہ پڑھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ایسی چیز بناؤں جو دنیا میں کہیں نہ ہو کیونکہ جتنا انسان خاموش رہتا ہے اتنی عقل بڑھتی ہے۔5سال خاموشی میں فکر کرتا رہا اور مولا نے اسے تحفہ دیا۔ تھا بھی شہید یعنی پورا زخمی تھا۔ اللہ نے کیا تحفہ دیا جناب اس کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ ایک کورس کراتا ہے وہ ایک سال کا بھی ہے6مہینے کابھی، انسان کی صلاحیت پر ہے کہ ایک منٹ میں آپ5ہزار سے7ہزار الفاظ پڑھ سکتے ہیں۔یعنی اس کے شاگرد ایک ہفتے میں3ہزار صفحات پڑھ لیتے ہیں۔ یہ ایک چیز ۔
دوسری چیز اس نے کیا فوٹو میموری یعنی کوئی چیز یاد کرنا ہے اس کا فوٹو نکال دیتا ہے وہ آپ کو بھی سکھائے گا کہ فوٹو میموری پہلے بھی تھا یعنی کروڑوں میں ایک آدمی تھا، اس نے یہ ٹیکنیک نکالی ہے کہ ہر آدمی کے اندر فوٹو میموری ہے اگر وہ کوشش کرے۔ کروڑوں میں ایک آدمی ہوتا تھا کہ جو دیکھ لے ایک مرتبہ یاد ہوجاتا تھا۔ فوٹو میموری کی ٹریننگ شروع کی اس وقت18ہزار اس کے شاگرد ہیں ہماری یونیورسٹی میں بھی ہیں وہ کیا ہے کہ قرآن مجید چار مہینے میں آپ حفظ کر سکتے ہیں۔ ہاں جی چار مہینے میں یعنی ہر دن 12 صفحے قرآن کے فوٹو نکالیں گے یاد نہیں کریں گے بسم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ رٹنا نہیں ہے۔ جب آپ فوٹو نکالیں گے تو آپ سے پوچھیں گے پہلی لائن پہ پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ بتائیں گے۔ درمیانہ لفظ کون سا ہے؟ ایسا کوئی حافظ نہیں ہے۔ آخری لفظ کون سا ہے؟ دوسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ تیسری لائن میں پہلا لفظ کون سا ہے؟ آپ فوٹو نکالیں گے۔ اس نے40ایکسرسائز بنائی کہ آپ کا فوٹو میموری بن جائے۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔ توجہ فرمائیں۔ اب اس سے اپنی قوم کو ترقی دلانی ہے۔ اگر یہ ٹریننگ آپ لیں ایک سال بھی لگ سکتا ہے6مہینے بھی ٹائم کتنا دیتے ہیں۔ تو آپ کا پھر کیا حال ہوگا؟ اگر یہ فوٹو میموری آگیا اور ریڈنگ ایک ہفتے میں3ہزار صفحے آپ پڑھ لیں گے تو آپ چار مہینے میںبی اے…6مہینے میںایم اے ایک سال میں ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔PHDکر سکتے ہیں۔ الحمدللہ یہ اپنی ایلیا یونیورسٹی سے نیکسٹ منتھ ہم شروع کرنے والے ہیں اور صرف یہ نہیں بلکہ ہم تین زبانیں بھی سکھائیں گے ایک مہینے میں۔ فارسی عربی انگلش۔ قرآن بھی آپ پورا ترجمہ کر لیں گے یہ ہم نے پہلے اس پہ کام کیا تھا تین زبانیں سال میں آپ کا بچہ اور آپ بھی سیکھ سکیں گے۔
روزگار کیلئے بھی ہم نے دو پروگرام اور کئے کلاؤڈنگ کیونکہ یہ امریکہ میں ہمارے ساتھ استاد ہیں کلاؤڈنگ اگر آپ سیکھ لیں یہ ایک سال میں آرام سے سیکھ لیں گے تو جتنے بھی کلاؤڈنگ کی ٹیکنالوجی آسان ہے آپ کی تنخواہ کم سے کم جو تنخواہ ہے امریکہ میں اور یہاں80ہزار ڈالر سال میں ہے۔ اور پلس وائپ، موبائل میں یہ وائپ ٹیکنالوجی ہم سکھائیں گے آپ کو اسی ایک سال میں تنخواہ دو لاکھ ڈالر ہے۔ دشمن ہمیں مار رہا ہے اقتصادی نقصان کر رہا ہے تو ہم اپنی قوم کو ٹیکنالوجی میں اتنا آگے بڑھائیں کہ دشمن کو شکست ہو ۔ صلوة پڑھئے محمد و آل محمد پہ۔
ــــــــــ
ابولہب، اسکی بیوی کا نام قرآن میں آیا توپھر علی… علامہ سید کمال حیدری
یہ خالص قرآنی اصول ہے کہ قرآن کریم کسی چیز کو پیش کرتا ہے، تو کیا اس کی اہمیت پرخاص توجہ کو ظاہر کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ آپ کیا کہتے ہیں؟ ہمیں ہاں یا نہ میں جواب دیجیے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں، تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ (قرآن)ہی بنیادی محور، یہی اساسی کتاب ہے اور یہی اسلام کا دستور ہے؟ آپ یہ بات نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ کا جواب ”نہیں” ہے، تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ جب قرآن کسی چیز کو چھیڑتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے ایک خاص اہمیت دے رہا ہے، یعنی اپنے معرفتی نظام کے بنیادی ستونوں میں شامل کر رہا ہے اب اگر وہ کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے اور اس کا ذکر نہیں کرتا، تو آپ کیا کہیں گے؟ آپ سب خاموش کیوں ہو گئے؟ قرآن نے کس چیز کو پیش کیا ہے؟ اس نے ابو لہب کا ذکر کیا اور فرمایا:
تبت یدا ابی لہب و تب
آپ خود اپنے اور اللہ کے درمیان انصاف سے بتائیں، قرآن میں ابو لہب کا ذکر زیادہ اہم ہے یا شیعہ امامت؟ آپ حضرات تو امامت کو اگر توحید سے بڑھ کر نہیں، تو کم از کم توحید کی قبولیت کی شرط قرار دیتے ہیں کہ جس کے پاس امامت نہیں، اس کی توحید بھی قبول نہیں۔ اگر یہ توحید سے زیادہ اہم نہیں توحید کی شرط ہے۔ تو کیا قرآن نے اسے پیش کیا ہے یا نہیں؟ جواب دیجیے! روایات کی بات مت کیجیے، کیونکہ روایات میں تو ہمارا آپس میں اختلاف ہے۔ سامنے والے کے پاس صحیح بخاری اور میرے پاس الکافی ہے، اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ متفق علیہ بنیاد تو قرآن ہے۔ کوئی آیت دکھائیے جو ہر زمانے میں امام کی ضرورت کو واضح طور پر بیان کرتی ہو۔ آپ کہیں گے کہ قرآن نام نہیں لینا چاہتا، چلو میں نام نہیں مانگتا، لیکن یہ تو کہے کہ ہر زمانے میں معصوم امام کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی آیت کہاں ہے؟ میرے سامنے یہ آیت مت پڑھیں کہ
یوم ندعو کل اناس بامامہم
اور پھر یہ کہیں کہ روایات میں یوں آیا ہے روایات کو چھوڑئیے، یہ آیت کہتی ہے کہ ”ہم پکاریں گے ان کے امام کیساتھ”۔ تو کیا اس سے ہر زمانے کا امامِ زمانہ ثابت ہوتا ہے؟ یہ تو دوسرے فریق کا بڑا اعتراض ہے، اس پر توجہ اور تحقیق کیجیے۔ دوسرا فریق یہ نہیں کہتا کہ اگر قرآن میں امامت کی ضرورت پر کوئی آیت آتی تو میں امامت کا انکار کر دیتا، بلکہ وہ پوچھتا ہے کہ یہ اصول قرآن میں کہاں ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ قرآن نے اسے پیش ہی نہیں کیا، تو کیا امامت کوئی بنیادی معرفتی اصل ہے یا نہیں؟ اگر یہ توحید، نبوت اور معاد کے درجے کی اصل ہے، تو کیا ان اصولوں پر سینکڑوں آیات نازل نہیں ہوئیں؟ خدا کی توحید ثابت کرنے کے لیے کیا آپ کو کسی روایت کی ضرورت پڑتی ہے؟ قرآن خود کہتا ہے:
فاعلم انہ لا الہ الا ہو
۔ توحید، نبوت اور معاد پر سینکڑوں آیات موجود ہیں، لیکن امامتِ خاصہ شیعہ پر کوئی ایک آیت کہاں ہے؟۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن نے اشارہ کیا ہے، میں پوچھتا ہوں کہاں؟ وہ کہتے ہیں کہ آیت
ان عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا
میں بارہ مہینوں کا ذکر ہے اور ائمہ کی تعداد بھی بارہ ہے۔ خدا کے لیے بتائیے، کیا یہ کوئی منطق ہے؟ یہ آیت مہینوں کی تعداد سے مربوط ہے، اس کا ائمہ کی تعداد سے کیا تعلق؟ شاید باطن میں کوئی ربط ہو، لیکن ظاہری قواعد کے حساب سے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح آیت
انی جاعلک للناس اماما
کا کیا تعلق ہے؟ یہ آیت تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مربوط ہے، اسے مولا امام جواد علیہ السلام سے جوڑنے کا کیا جواز ہے؟ آپ کے اور حق کے درمیان کیا ربط ہے؟ یہاں آپ کو مجبوراً روایات کی طرف جانا پڑتا ہے۔ بات روایات تک پہنچتی ہے، تو وہ اپنے روایتی نظام کو مانتا ہے اور آپ اپنے نظام کو، اور مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن نے نماز کا حکم تو دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکعتوں کی تعداد بیان فرمائی، بالکل اسی طرح امامت کا معاملہ ہے۔ یہ بڑا عجیب استدلال ہے! کیا آپ نماز کا موازنہ امامت سے کر رہے ہیں؟ نماز فروعِ دین اور رکعتیں فروع کی بھی فروع ہیں، یہ قیاس مع الفارق ہے۔ مزید برآں، قرآن نے صاف لفظوں میں
یا ایہا الذین امنوا اقیموا الصلاة
فرما کر اصلِ نماز کو قرآنی طور پر ثابت کر دیا۔ آپ امامت کی اصل کو قرآنی طور پر ثابت کر کے دکھائیں۔ میں آپ کو علمی چیلنج دیتا ہوں، علمی چیلنج دیتا ہوں کہ آپ امامت کی اصل کو قرآن سے ثابت کریں، یہ تو نماز کی طرح بھی ثابت نہیں ہے۔
کوئی ایسا بارہ امامی شیعہ عالم نہیں جو باطنی طور پر مسلمانوں کے کفر کا حکم نہ لگاتا ہو۔ جی ہاں، ظاہری حکم میں ان کا اختلاف ہے کہ آیا ان پر کفار کا حکم لاگو ہوگا یا مسلمانوں کا۔ بعض علما، جیسے ”کتاب الحدائق”کے مصنف صاحبِ حدائق کہتے ہیں کہ وہ دنیاوی کفر اور دنیاوی نجاست کے محکوم ہیں، چنانچہ وہ دنیا میں کتے اور خنزیر کے حکم میں ہیں۔یہ صاحبِ حدائق کے الفاظ کی صراحت ہے۔ جبکہ دوسرے بعض علما، جو کہ اب مشہور رائے ہے جیسے آیت اللہ سید خوئی اور ہمارے دیگر جلیل القدر فقہا، وہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں ان کے ظاہری اسلام کا حکم لگائیں گے، لیکن باطنی طور پر، آخرت کے حشر اور کلامی ابعاد کے لحاظ سے شیعہ علما کا انکے کفر پر اتفاق ہے۔ میں یہ بات پوری تحقیق اور تتبع کیساتھ کہہ رہا ہوں، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ مجھے قائل کر کے دکھائے۔ جی ہاں، آیت اللہ سید کمال حیدری کہتاہے کہ یہ کفر کا حکم اسلامی اور دینی نظام کے لوازمات میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ مخصوص (تفسیر)کا نتیجہ ہے جس کے تحت انہوں نے امامت کو سمجھا ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے علما میں اس پر کوئی اختلاف نہ ہو؟ میں کہتا ہوں کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام ان پر یہ نتیجہ فرض کرتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پورے دین کا نظام، بلکہ وہ مخصوص فکری قرآت جو انہوں نے اپنائی، اس نے ان پر یہ نتیجہ فرض کر دیا اور وہ مخصوص قرآت پر متفق ہو گئے۔ایسا کیوں ہے؟ جواب یہ کہ روایتی نصوص انہیں اسی نتیجے کی طرف لے جاتی ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ میرا اپنا موقف کیا ہے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں روایتی دلیل کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ روایتی نصوص میں جھوٹ، جعل سازی اور من گھڑت باتیں اس حد تک شامل ہیں جو تصور سے باہر ہیں۔
جب آپ سے کہا جائے کہ قولِ صحابہ حجت ہے، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ اسے قبول کرتے ہیں یا مسترد کرتے ہیں؟ آپ کیوں قبول نہیں کرتے؟ یہ کیسا منطق ہے کہ شیعہ علماء کی بات آئے تو وہ آپ کو کھینچ کر کنویں کی طرف لے جائیں اور آپ مان لیں، لیکن صحابہ کی بات آپ کو منظور نہ ہو؟ اسی لیے میں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ شیعہ علماء نے بغیر کسی بنیاد کے فتوی دیا ہو۔ یہی بات اللہ کے حضور صحابہ کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے، آپ صحابہ پر شک نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ صحابہ امیر المؤ منین کے زمانے تک اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے اور جنگوں میں جاتے رہے۔ کیا یہ سب منافق تھے؟ وہ لوگ جنہوں نے عراق، فلسطین، روم اور فارس کو فتح کیا اور وہ جہاد کیلئے گئے نہ کہ مال و غنائم جمع کرنے کیلئے، کیا وہ سب مرتد اور منافق تھے؟ یہ کون سی منطق ہے؟ جی ہاں، اگر وہ خلافت کو اس نص کے مطابق نہیں سمجھ پائے جو امیر المؤ منین کیلئے تھی، تو میں کیا کروں؟ کیا وہ سب کے سب معاند تھے؟ اور اگر سب معاند تھے تو جہنمی ہوں گے، پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کیوں گئے ؟۔صحابہ پر اعتراض کرتے ہیں، تو آپ پورے دین پر اعتراض کر رہے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ۖسے پورا دین ہم تک صحابہ کے واسطے سے ہی منتقل ہوا ۔ اگر آپ صحابہ کو ہی مشکوک بنا دیں گے، تو پھر کوئی دین باقی نہیں رہے گا، یہاں تک کہ قرآن بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ کے عقیدے کے مطابق اصل قرآنی نسخہ تو امام حجت کے پاس مخفی ہے، اور آپ جو قرآن استعمال کر رہے ہیں، یہ تو صحابہ کا قرآن ہے جنہیں آپ کافر، مرتد، منافق، فاسق اور فاجر کہتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں!کیونکہ آپ کا یہ ماننا ہے کہ اصل نسخہ امیر المؤ منین کے ہاتھ میں تھا، جو ان کی اولاد سے ہوتا ہوا امام حجت تک پہنچا اور انشا اللہ وہ آخری زمانے میں اسے لیکر ظاہر ہوں گے،یہی ہمارا منطقی عقیدہ ہے۔
اگر آپ صحابہ پر شک کریں گے، تو نہ کوئی حدیث بچے گی اور نہ ہی کوئی دین بچے گا، کیونکہ دین انہی کے ذریعے پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے اخباریوں نے کہا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخباریوں نے اپنے قائم کردہ اصولوں کے مطابق یہ بات کہی تھی، میں ان کی تائید نہیں کر رہا، کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ سید کمال حیدری اخباری ہو گئے ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ جو قواعد آپ نے قائم کیے، انکے تحت اخباریوں کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ قرآن کی حجیت ساقط ہے، کیونکہ قرآن خلفاء کے عہد میں جمع ہوا تھا، تو یہ حجت ہے یا نہیں؟ ان کے نزدیک یہ حجت نہیں ہے، تو پھر ہمارے پاس کیا بچتا ہے؟ صرف احادیث کی کتابیں بچتی ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ فکری ارتقا کسی مخصوص روایت سے نہیں لیا گیا، بلکہ یہ معصوم کے فعل، معصوم کی تقریر اور دیگر مجموعی دلالتوں سے حاصل کیا گیا ہے۔
عزیزانِ گرامی!شیعہ امامت میں عصمت کا عقیدہ ثابت اور غیر تبدیل شدہ امر ہے یا یہ وقت کیساتھ تبدیل ہوا ہے؟ پچھلی بحث میں ہم نے واضح اور صریح طور پر بیان کیا تھا کہ شہیدِ ثانی نے اپنی کتاب ”حقائق الایمان” میں کیا فرمایا ہے۔ ان کی عبارت بالکل واضح تھی، فرمایا کہ ان (ائمہ)کے اکثر راویوں اور شیعوں سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ائمہ علیہم السلام کو ایسے علماِ ابرار(نیک و سائر علما) مانتے تھے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی۔ اسی لیے سید بحر العلوم اس مقطوعہ حصے کے مقدمے میں کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ ایسا ہی تھا، اور یہ عقیدہ خطا سے معصوم ہونے کی تصدیق سے خالی تھا۔ تو کیا تشیع کا معیار ائمہ کی عصمت پر ایمان لانے پر موقوف ہے یا نہیں؟ پہلی تین صدیوں تک عصمت پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ پھر علمائِ مذہب کی رائے تبدیل ہوئی اور انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس عصمت پر دلیل قائم ہو چکی ہے۔ ”روضہ الکافی” مجلد15، روایت نمبر362میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے، عزیزو توجہ کیجیے اور اپنے سروں میں محفوظ کر لیجیے، آپ نے فرمایا: ”اس امر (تشیع)کا دعوی کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ خود شیطان کو بھی ان کے جھوٹ کی ضرورت پڑتی ہے”۔ میرے عزیز!یہ انسانوں کے روپ میں شیاطین ہیں، جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا:
شیاطین الانس والجن
یہ لوگ شیعوں میں موجود انسانوں کے شیاطین ہیں۔ آپ کہیں گے کہ سیدنا! اس کا لازمی نتیجہ تو پورے نظام کا ہدم (انہدام) ہے، تو میرا جواب یہ ہے کہ تعمیر سے پہلے ہدم ضروری ہوتا ہے۔ کچھ افکار کا گرانا ضروری ہے، یا کم از کم ہمیں کچھ افکار کو گرانے پر سوچنا چاہیے تاکہ ہم ایک نئی عمارت کھڑی کر سکیں۔ میرے عزیز!اگر آپ اس مادی عمارت میں آئیں جس میں ہم اس وقت موجود ہیں، اور آپ مجھ پر پانچ اعتراضات اٹھائیں، تو آپ اس کی جگہ اس سے بہتر عمارت کب بنا سکیں گے؟ پہلے آپ کو اس موجودہ عمارت کو گرانا ہوگا، ورنہ آپ اس پر دوسری عمارت نہیں کھڑی کر سکتے۔ اسی لیے عزیزو! میں صاف کہتا ہوں کہ میرا منہج پہلے علمی ابھار اور ہدم ہے، اسکے بعد تعمیر ہے۔ یہ واقعی ایک المیہ ہے، المیہ ہے، المیہ ہے! واللہ اگر آپ ہماری کتابوں کی طرف رجوع کریں تو المیے بلکہ رسوائیاں ہیں، کیونکہ وہاں ایسی روایات کی بہت بڑی تعداد ہے جو خرافات، اسرائیلیات اور جھوٹ پر مبنی ہیں جنہیں کوئی عاقل انسان تسلیم نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ ایک معصوم امام ایسی بات کہے۔
آئیے عزیزو! ہم اہل بیت کے موروثی روایتی ذخیرے کا جائزہ لیں۔ سید محمد سعید الحکیم کہتے ہیں کہ روایات کے موروثی ذخیرے کا زیادہ تر حصہ ملاوٹ شدہ اور من گھڑت ہے۔ ہم نے یہ بات کہی ، کہتے ہیں، تاکید کرتے ہیں اور اپنی بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمارا بہت سا موروثی سرمایہ جو ہم تک پہنچا ہے، وہ اسرائیلی روایات سے سرایت کر کے ہم تک پہنچا ہے۔ عزیزو! میں یہ بات سائنسی اور علمی دلیل کیساتھ بالکل صاف اور واضح طور پر کہتا ہوں کہ شیعوں کی ایسی کوئی کتاب بھی موجود نہیں ہے جس کی مکمل توثیق امامِ وقت(امام حجت)نے فرمائی ہو۔ تمام کتابوں میں صحیح روایات بھی ہیں اور باطل بھی۔ نہ اصولِ اربعمائہ (400اصول)کی حیثیت ہے، نہ کتبِ اربعہ کی، اور نہ ہی ”کتاب الکافی” ہمارے شیعوں کیلئے مکمل طور پر کافی ہے۔ یہ تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔ ہمارے پاس موجودہ موروثی ذخیرے میں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو امام حجت کے سامنے پیش کی گئی ہو اور انہوں نے اس کی تائید کرتے ہوئے فرمایا ہو کہ اس میں موجود ہر چیز صحیح ہے، اور میں کسی بھی شخص کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر ایک بھی دلیل لے آئے کہ کوئی کتاب، حتی کہ ”اصولِ کافی” بھی، اصولِ اربعمائہ کی تو بات ہی چھوڑیے، ایسی توثیق یافتہ ہو۔
میں معتبر ذرائع کا یہ کہہ رہا ہوں کہ ہماری بہت سی روایات من گھڑت ہیں ”بحار الانوار” کا تو زیادہ تر حصہ ہی من گھڑت اور موضوع ہے۔ میں یہ بات دوسرے لوگوں پر اتمامِ حجت کیلئے کہہ رہا ہوں جو علامہ مجلسی کو معیار مانتے ہیں، ورنہ میرے نزدیک مجلسی علمی معیار نہیں ہیں، میں انہیں صرف روایات کا جامع (جمع کرنے والا)مانتا ہوں نہ کہ ایک محدث۔ ”تفسیر القمی” کے بارے میں میرا یہ قطعی عقیدہ ہے کہ یہ ائمہ کی تفسیر نہیں۔ بھلا آپ ہی بتائیے، اللہ کیلئے کیا کوئی امام یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی ۖ زینب کے گھر گئے اور انہیں اس حالت میں دیکھا کہ نبی کے دل میں سما گئیں؟ کیا یہ نبی کی شان ہے قرآن کہتا ہے: وانک لعل خلق عظیم؟ یہ”تفسیر القمی” ہے، اس تفسیر میں شاید کچھ روایات صحیح ہوں، لیکن ملاوٹ شدہ، مسخ شدہ اور تحریف شدہ ہے، بہت زیادہ ہیر پھیر ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، چلیے عراقیوں کے محاورے میں بالکل صاف صاف بات کرتے ہیں، یہ بات ختم ہوئی کہ ”تفسیر المیزان” بھی اسرائیلی روایات سے بھری پڑی ہے، وہی ”تفسیر المیزان” جو شیعوں کے نزدیک بہترین تفسیر مانی جاتی ہے۔ ہمارے پاس ”تفسیر العیاشی” کی تمام روایات مرسل ہیں، اور ”تفسیر القمی”ہمارے نزدیک ثابت ہی نہیں۔
عزیزو! ان کتابوں سے مراد اصولِ اربعہ کے مصنفین کی کتابیں ہیں جو اصلِ فلان اور اصلِ فلان کے نام سے جانی جاتی ہیں، یہ لوگ ان کتابوں میں من گھڑت روایات شامل کرتے تھے اور ائمہ پر جھوٹ باندھتے تھے، خود ہمارے علمائِ طائفہ نے یہ نقل کیا کہ ان میں جھوٹ، ملاوٹ، تزویر، غلو اور زندیقیت تھی۔ خود اہل بیت فرماتے ہیں کہ غالیوں اور دشمنوں نے ہمارے اصحاب کی کتابوں کو زندیقیت، جھوٹ اور غلو پر مبنی روایات سے بھر دیا، جن میں مخالفین کو گالی گلوچ، سب و شتم اور لعن طعن کی روایات شامل ہیں۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ روایات ہمارے دشمنوں کی من گھڑت ہیں۔ خدا گواہ ہے، کچھ روایات ایسی ہیں جن کی نہ کوئی سند ہے اور نہ کوئی اصل، جیسے لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں: ”دعائے صنمائے قریش” اللہ کی قسم! اس کی نہ کوئی اصل ہے، نہ کوئی سند، نہ کوئی مستند اور نہ ہی کوئی مآخذ، اسے صرف جاہل اور عوام ہی پڑھتے ہیں۔
دوسری بات مصنف کی پہچان ہے، عزیزو! جب تک ہم مصنف کے فکری نظریات سے واقف نہیں ہوں گے، شیخ کلینی کو نہیں سمجھیں گے، ہم یہ نہیں جان سکتے کہ انہوں نے مخصوص نصوص کو کیوں نقل کیا اور دوسروں کو کیوں چھوڑ دیا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان کے پاس روایتی نصوص کی جو تعداد موجود تھی، وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھی جو انہوں نے ”کتاب الکافی” کے اصول، فروع اور روضہ میں ہم تک منتقل کی ہے۔ انہوں نے روایات کے دوسرے مجموعوں کو چھوڑ کر اسی مخصوص مجموعے کا انتخاب کیوں کیا؟ مثال کے طور پر، کلینی نے نوابِ اربعہ سے کوئی ایک روایت بھی کیوں نقل نہیں کی؟ کیا یہ ایک سوالیہ نشان ہے یا نہیں؟ جبکہ وہ انکے ہم عصر تھے یا نہیں؟ وہ ان کے بالکل ہم عصر تھے۔ تو پھر ”کتاب الکافی”میں ایک بھی روایت کیوں نہیں نقل کی؟ ممکن ہے کہ دوسرے مآخذ میں نقل کی ہو، لیکن ”کتاب الکافی” میں کیوں نہیں، جو کہ شیعوں کے نزدیک مطلق طور پر سب سے اہم حدیثی مآخذ ہے؟ یہ کتاب اسلئے اہم ہے کیونکہ یہ اصول اور فروع کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ دوسری کتبِ ثلاثہ شیخ طوسی اور شیخ صدوق کی کتب، وہ صرف فروع سے مربوط ہیں، ہماری اصل اور معتمد کتاب ”کتاب الکافی” ہے۔ بعض اکابر کے دعوے کے مطابق کہ فقیہ کیلئے نیابتِ عامہ ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ دعوی بالکل بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں کہ فقیہ تمام امور میں امام کا نائب ہوتا ہے۔ یہ نظریہ ولایتِ فقیہ ہے جس کے تحت زعامت صرف مجتہد کیلئے مخصوص ہوتی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کتاب میں کوئی اصل نہیں ملی۔
آپ کہیں گے کہ ان ابحاث کو تو شہیدِ ثانی نے مرتب کیا تھا اور وہ ولایتِ فقیہ کے قائل تھے؛ جی ہاں، انہوں نے اسے مرتب کیا تھا، بہت اچھے۔ وہ اپنے استاد شہید محمد باقر الصدر کے تابع ہو کر ولایتِ فقیہ کے قائل تھے، لیکن یہ نظریہ بالکل واضح اور صریح طور پر آیت اللہ سید خوئی کے کلمات میں بھی آیا ہے۔ میں ا نکے تمام کلمات کو وقت کی کمی کی وجہ سے پیش نہیں کرتا، میں صرف مآخذ کا حوالہ دے دیتا ہوں تاکہ عزیزان خود اس کا مطالعہ کر لیں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ کل کو لوگ سید خوئی کی طرف وہ باتیں منسوب کرینگے جو انہوں نے کہی نہیں ہوں گی۔ میں یہ بات کسی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ایک دینی موقف اور ولایت کے اصول کے تحت کہہ رہا ہوں۔ سیاسی ولایت غیبت کے زمانے میں فقیہ کیلئے کسی خاص دلیل سے ثابت نہیں۔ اس بات پر اچھی طرح توجہ کیجیے، یہ بہت اہم ہے؛ وہ کہتے ہیں کہ نہ صرف سیاسی ولایت فقیہ کیلئے ثابت نہیں ہے، بلکہ منصبِ قضا (عدالت)بھی فقیہ کیلئے ثابت نہیں، یعنی فقیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قضاء کے معاملات کو سنبھالے۔ یہ مستند آپ کے سامنے ہے، میں عبارت پڑھ دیتا ہوں کیونکہ کل میں نے اسے نہیں پڑھا تھا۔ سید خوئی کا یہ مستند، جو شیخ مرتضی بروجردی کی تقریرات پر مبنی ہے، اس سے پہلے کہ میں اقتباس پیش کروں، میں یہ واضح کر دوں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قضاوت ناجائز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع نے غیبت کے دور میں یہ ذمہ داری فقیہ کے سپرد نہیں کی۔ شارع نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے، یہ فقیہ کی ذمہ داری نہیں۔
اب اگر لوگ خود ان کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو وہ انہیں حکم بتا سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی ان کی طرف رجوع نہ کرے، تو کیا فقیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کیلئے آگے بڑھے؟ یہ ذمہ داری ان پر نہیں۔ یہی بات تیسری کڑی میں امام پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ کیا امام پر یہ ذمہ داری ہے؟ یہ نظریہ کہتا ہے کہ امام اور نبی پر تو ذمہ داری تھی، لیکن فقیہ پر نہیں ہے۔ ”مستند العرو الوثقی”جلد دوم میں شیخ مرتضی بروجردی، جو ہمارے استاد سید خوئی کی تقریرات ہیں، اس مقام پر کلام کا یہ خلاصہ کرتے ہیں کہ کیا امامِ دوازدہم (امامِ غائب)نے غیبت کے زمانے میں علما کو قضاوت کا منصب عطا کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کسی بھی معتبر لفظی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔
بے شک سید خوئی رحم اللہ علیہ کی عبارت اس سلسلے میں بہت بہترین ہے، میں عبارت پڑھوں گا کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ