پوسٹ تلاش کریں

لے لو ایک روپے میں دو فتوے، آٹھ آنے آٹھ آنے ، آ ٹھنڈے ،آٹھنڈے :شربتِ انار

لے لو ایک روپے میں دو فتوے، آٹھ آنے آٹھ آنے ، آ ٹھنڈے ،آٹھنڈے :شربتِ انار اخبار: نوشتہ دیوار

لے لو ایک روپے میں دو فتوے، آٹھ آنے آٹھ آنے ، آ ٹھنڈے ،آٹھنڈے :شربتِ انار

فتویٰ فروشان اسلام بہت کھلے دل کے ساتھ پوری دنیا کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ
فتویٰ فروشی کی تمنا ازل سے ہمارے دل میں ہے
باز نہیں آنا لگالو زور جتنا بازوئے قاتل میں ہے

رسول اللہ ۖ کے حوالہ سے انصار مدینہ نے شکایت کی کہ مشکلات کے دور میں ہم نے ساتھ دیا اور اب جب آسانیوں کے دروازے کھل گئے تو مہاجر قریش کو نوازا جارہا ہے۔ نبی ۖ تک بات پہنچی تو انصار کے بزرگوں سے پوچھا انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے یہ بات نہیں کی ہے لیکن نوجوانوں کے ہاں گردش کررہی ہے۔ پھر نبی ۖ نے سارے انصار کو بلایا اور ان سے خطاب فرمایا کہ جب میں یہاں نہیں آیا تھا تو تمہارے آپس کے جھگڑے رہتے تھے اب تم شیر و شکر ہوگئے ہو۔ پہلے تمہارا غربت سے بہت برا حال تھا اب دولت مند بن گئے اور پہلے حالت کفر میں تھے اب صاحب ایمان بن گئے ہو، پہلے جاہل تھے اب تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ بن گئے ہو۔ مختلف چیزیں سامنے رکھیں اور انصار نے سب کی تصدیق کی۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ جو مہاجرقریش اپنا گھر بار چھوڑ آتے ہیں تو ان کی مدد کرنا ایک مجبوری ہے اگر تمہاری یہ حالت ہوتی تو تمہیں بھی اسی طرح سے مدد دی جاتی۔ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ بے سہارا مہاجرین کو مال دیا جائے اور میں خود تمہارے مدینے کا باشندہ بن جاؤں ؟۔ انصار نے تقریر سنی اور ایک ایک بات کو سمجھ کر اس کا جواب دیا تو زار و قطار رونے لگے۔ عرض کیا رضینا باللہ ربًا و بنبیی محمد ًا وبالاسلام دینًا ”ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں ،محمد ۖ کے نبی ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر ”۔
نبی ۖ نے شکوے شکایت کی وجہ سے انصار پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا بلکہ ان کو اصل صورتحال سے آگاہ فرما کر غلط فہمیاں دور کردیں۔ خوارج نے پہلی مرتبہ خلافت راشدہ کے دور میں کفر کے فتوے شروع کردئیے ، یہ لوگ پہلے حضرت علی کے ساتھی تھے اور پھر علی کیلئے سود اللہ وجہہ (اللہ اس کا چہرہ کالا کرے) کہتے تھے۔ جس کے مقابلے میں کرم اللہ وجہہ (اللہ اس کے چہرے کو تکریم بخشے) کہنا شروع ہوگئے۔ جب حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان جنگ ہوئی تو شمر علی کا سپہ سالار تھا۔ کسی ریاست میں سول اور ملٹری بیوروکریسی کا کردار ایک ملازم کا ہوتا ہے۔ ہندوستان کو غلام رکھنے والے سول و ملٹری بیورو کریسی آزادی کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم ہوگئے۔ پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے۔ جنرل باجوہ کو نواز شریف نے نامزد کیا اور پھر عمران خان اور سب نے مل کر ایکس ٹینشن دی تو سب کا مشترکہ اثاثہ بن گیا۔ جس کی وجہ سے پھر فوج کے پروجیکٹ عمران خان سے مراسم خاص نہیں رہے بلکہ سب کے ساتھ مشترکہ بن گئے تھے۔
کراچی صدر میں ایک انار شربت فروش تھا جو آواز لگاتا تھا کہ آٹھ آنے، آٹھ آنے … کوئی سیدھا سادہ سمجھ لیتا کہ پانچ روپے کا شربت اتنا سستا مل رہا ہے اور پینا شروع کردیتا تھا تو شربت والا اپنی آواز آٹھ آنے سے آ ٹھنڈے ، آ ٹھنڈے میں بدل دیتا تھا۔ اپنے پاس بدمعاش بٹھائے تھے جو پانچ روپے دینے سے انکار کرتا تھا تو اس سے زبردستی سے بھی لے لیتے تھے۔ کچھ لوگ اپنی شرافت سے پانچ روپے دے دیتے تھے۔ ٹھگوں کا یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا۔
سواد اعظم اہل سنت کی تحریک کو عراق نے پیسہ دیا تو اہل تشیع پر کفر کا فتویٰ لگادیا۔ مولانا سلیم اللہ خان نے سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق کے سوتیلے والد مولانا زکریا لنگڑے کی ڈنڈے سے پٹائی لگائی تھی اور مولانا زکریا نے سواد اعظم کے رہنماؤں اور مولانا سلیم اللہ خان پر بہت بڑے کرپشن کا الزام لگایا جو مختلف اخبارات کی زینت بنا۔ پھر وہ وقت آیا کہ ہمارے استاذ ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر نے دوران تعلیم ہم سے کہا کہ یہ باہر فسادی آئے ہوئے ہیں مولانا بنوری کے وقت میں اہل تشیع کا ماتمی جلوس گزرتا تھا تو ان کے بڑے دفتر میں آتے تھے اور نیوٹاؤن مسجد کے مٹکے صاف کرکے پانی سے بھردئیے جاتے تھے اور غسل خانے صاف کردئیے جاتے تھے تاکہ ماتمی جلوس کے شرکاء کیلئے آسانی ہو۔
پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے اہل تشیع کے خلاف فتویٰ لکھا گیا کہ شیعہ تین وجوہات کی بنیاد پر قادیانیوں سے بدتر کافر ہیں۔1:شیعہ پورے قرآن کی تحریف کے قائل ہیں اور قادیانی ایک آیت میں تاویل کرتے ہیں۔2:شیعہ کا عقیدہ امامت ختم نبوت کا انکار ہے۔3:شیعہ صحابہ کرام کو کافر کہتے ہیں۔
دار العلوم کراچی نے سواد اعظم کی تحریک میں پیسوں کی وصولی نہیں کی اسلئے انہوں نے اس پر دستخط نہیں کئے۔ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کے سارے مدارس نے اس فتوے پر دستخط کئے تھے اور آج بھی وہ کتابی شکل میں مارکیٹ کی زینت ہے۔ پھر دار العلوم کراچی نے سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیا تو اکیلے رقم وصول کرلی تو باقی مدارس نے مفتی تقی عثمانی اور اسلامی بینکاری کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا جو مارکیٹ کی زینت ہے۔ ان فتویٰ فروش علماء و مفتیان کا حال کراچی صدر کے شربت فروش سے مختلف نہیں ہے۔ روپے کے دو فتوے ، آٹھ آنے اور آٹھ آنے سے معاملہ بدل کر آٹھنڈے آٹھنڈے پرآجاتا ہے۔ اہل تشیع پر جن لوگوں نے فتویٰ لگایا تھا انہوں نے اتحاد تنظیمات المدارس کے نام پر شیعہ کے ساتھ اتحاد کرلیا اور کفر کا فتویٰ اسلام میں بدل دیا۔ جن مدارس نے اسلامی بینکاری کے خلاف فتویٰ دیا تھا وہ اسلامی بینکاری کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی کی تائید کررہے تھے۔ ان لوگوں کا دین ایمان اور علم صرف پیسہ اور ماحول ہے۔
خلیل جبران نے قصہ لکھا ہے کہ ایک پادری کسی وادی سے گزر رہے تھے تو کسی شخص کے کراہنے کی آواز آئی ، اس نے سوچا کہ کون ہے اور قریب سے دیکھا تو ایک اجنبی بہت شدید زخمی حالت میں پڑا تھا۔ پادری کا نام لے کر اس نے کہا کہ مجھے بچاؤ ۔ پادری نے کہا کہ اپنا تعارف کراؤ ۔ اجنبی زخمی کہہ ر ہا تھا کہ تجھے میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور تو بھی مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے، جلدی مجھے اٹھاکر لے جاؤ نہیں تو میں مرجاؤں گا۔ پادری نے کہا کہ اگر تو اپنا تعارف نہیں کرائے گا تو میں تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں۔ زخمی نے بتایا کہ میں ابلیس ہوں اور اسرافیل علیہ السلام نے مجھے اپنی دو دھاری تلوار سے شدید زخمی کردیا ۔ پادری نے خوب لعن طعن کی تو ابلیس نے سمجھایا کہ جب میں لوگوں کو ورغلاتا ہوں تو پھر وہ تجھے کفارہ کے طور پر صدقے اور خیرات دیتے ہیں۔ اگر میں نہ رہا تو تیرا بھی گزر اوقات نہیں ہوگا۔ پادری کی سمجھ میں بات آگئی اور اسے کاندھے پر اٹھالیا ، رات کی تاریکی میں ابلیس کاخون رستا رہا اورپادری کے جوتے بھر گئے۔
کراچی میں حاجی محمد عثمان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خود پر لگنے والے فتوؤں کی داستان سامنے رکھ دی تو تاریخ کے ہر موڑ پر علماء حق اور علماء سُو ء کی سمجھ آجائے گی۔ یہ میڈیا کا دور ہے، لوگوں میں تعلیم عام ہے اور علماء و مفتیان نے وقتی مفادات حاصل کرنے کے بعد اپنا اعتماد کھودیا ہے۔ چند افراد کے غلط کردار سے سب کی بدنامی ہوئی ہے اور ہم سب اہل حق کی عزت بحال کرنا چاہتے ہیں

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

عدت کی علت کیا ہے؟ جاوید احمد غامدی
طلاق کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقے کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی؟
نکاح کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقات کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی