سورہ بقرہ آیت230کا درست ترجمہ اور تفسیر دیکھئے! - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

سورہ بقرہ آیت230کا درست ترجمہ اور تفسیر دیکھئے!

سورہ بقرہ آیت230کا درست ترجمہ اور تفسیر دیکھئے! اخبار: نوشتہ دیوار

سورہ بقرہ آیت230کا درست ترجمہ اور تفسیر دیکھئے!

فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ان ظنا ان یقیما حدود اللہ و تلک حدود اللہ یبینھا لقوم یعلمونOآیت230البقرہ
پس اگر اس نے طلاق دے دی تو پھر اس کے لئے حلال نہیں ہے اس کے بعد یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے ، پس اگر وہ اس کو طلاق دے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں رجوع کریں اگر انہیں گمان ہو کہ وہ اللہ کے حدود پر قائم رہ سکیں گے، اور یہ وہ اللہ کے حدود ہیں جس کو اللہ بیان کرتا ہے اس قوم کیلئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔

آیت230سے حلالہ مراد نہیں بلکہ آیت229میں3مرتبہ طلاق کے بعد وہ صورتحال واضح ہے جس میں طے ہو کہ صلح کی گنجائش نہیں ہے۔صلح نہ ہونے کی صورت میں عورت کی جان خلاصی کیلئے زور دار الفاظ کااستعمال بڑامعجزہ تھا۔

جبکہ ان دونوں آیات سے پہلے آیت228میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کی بھرپور وضاحت ہے اور ان دونوں آیات کے بعد آیات232-231میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی باہمی رضامندی سے اصلاح کی شرط پر رجو ع کی وضاحت ہے۔ جس کا خلاصہ سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی فیصلہ کن طریقے سے بالکل واضح ہے۔

ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حلالہ کی رسم کو ختم کرنا تھا تو پھر آیت230میں ایسے الفاظ کے استعمال کی کیا ضرورت تھی؟۔ بہت زبردست سوال ہے اور اس کا جواب بھی تسلی اور اطمینان سے سمجھ لیجئے گا۔
اگر اسلامی تاریخ میں مثبت اور منفی نتائج کو دیکھ لیں تو ایک ساتھ تین طلاق کے نتائج عورت کے حق میں بہت بہتر نکلیں ہیں اسلئے کہ حلالہ سے متأثرین اور مجرحین کی تعداد بالکل آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ زیادہ تر ایسی خواتین ہیں جنہوں نے اکٹھی تین طلاق کے الفاظ سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور وہ یہی چاہتی تھیں کہ وہ شوہر سے الگ ہوجائیں ۔
اصل مسئلہ عورت کے حقوق کا تھا اور عورت کے حق کی وضاحت ہی کیلئے آیت230کی وضاحت بہت ضروری تھی ،اگر یہ نہ ہوتی تو پھر کوئی راستہ بھی نہ ہوتا کہ عورت کی جان شوہر سے کبھی چھوٹ جاتی۔
آیت228البقرہ میں اللہ نے واضح کیا کہ طلاق کے بعد عورت کی عدت کے تین مراحل ہیں اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش ہے اور اس عدت میں ان کے شوہروں کو باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق حاصل ہے۔ اتنی وضاحت کے باوجود بھی اصلاح وصلح کی شرط کو نظرانداز کرتے ہوئے مذہبی طبقات نے ایک طلاق کے بعد شوہر کو غیرمشروط رجوع کی اجازت دے دی اور یہ عورت کی بہت بڑی حق تلفی ہے ۔
پھر آیت229میں دو مرتبہ طلاق کے بعد معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت دیدی۔ لیکن مذہبی طبقات نے پھر معروف واصلاح کی شرط کو نظر انداز کرتے ہوئے دو مرتبہ طلاق کے بعد شوہر کو غیرمشروط رجوع کی اجازت دے دی۔ باہمی اصلاح اور معروف کی شرط کوبالکل نظرانداز کیا۔
پھر آیت230میں طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کا ذکر کردیا تو حلالہ سمجھ کر مذہبی طبقے کی بانچھیں کھل گئیں۔ اگر اس میں یہ جملہ نہ ہوتا تو عورت کے حقوق کی طرف کبھی توجہ بھی نہ جاتی۔ اتنے زبردست الفاظ سے عورت کے حق کو تحفظ دلانا مقصود تھا لیکن مذہبی طبقے نے ان کی عزتیں لوٹ لیں۔
آیت231میں واضح ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع ہوسکتا ہے۔ مذہبی طبقہ اتنا ناعاقبت اندیش تھا کہ بجائے یہ سوچنے کے کہ اللہ نے آیت228میں اصلاح، آیت229میں معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت دی تو کچھ اس پر غور کرتے کہ اس سے مراد باہمی رضامندی ، صلح واصلاح سے رجوع مراد ہوسکتا ہے؟۔لیکن پھر بھی انہوں نے اس آیت سے دلیل پیش کی کہ ”رجوع شوہر کا اختیار ہے”۔
آیت232میں اندھوں کی آنکھیں ،بہروں کے کان اور ناسمجھوں کے دل کھولنے کیلئے مزید وضاحت کردی کہ اگر تم نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی اور وہ عورتیں اپنی عدت کو پہنچ گئیں تو اگر وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرنا چاہتی ہوں معروف طریقے سے باہمی رضامندی کے ساتھ تو ان کے درمیان رکاوٹ کھڑی مت کرو۔
ان ساری آیات کا خلاصہ سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی موجود ہے۔ کوئی ایک صحیح حدیث بھی ایسی نہیں کہ نبی ۖ نے میاں بیوی کی رضا مندی کے باوجود بھی صلح سے منع کیا ہو۔ اگر کوئی بے شرم یہ بات پکڑ کر بیٹھ جائے کہ ”اللہ نے قرآن میں نماز کے قریب جانے سے روکا ہے ”اور اس وجہ سے نماز پڑھنے کی تمام آیات کا انکار کرے تو پھرکیا کیا جاسکتا ہے؟۔
بخاری میں ایک ساتھ تین طلاق پر حلالے کی روایت من گھڑت ہے اسلئے کہ بخاری میں یہ واقعہ اور جگہوں پر نقل ہے ،جن میں الگ مراحل کی طلاق ثابت ہے اور دوسرا یہ کہ عورت نے جس طرح نامرد کا الزام لگایا تھا تو شوہر نے اپنی مردانگی کی وضاحت کی تھی اور یہ باہمی اختلاف مارپیٹ کا مسئلہ تھا ،اس میں حلالے کا کوئی دور دور بھی واسطہ نہیں بنتاہے۔
آیت میں یہ ہے کہ ”اگر دوسرا شوہر طلاق دے تو پہلے شوہر سے اس وقت رجوع میں کوئی حرج نہیں کہ جب دونوں کو گمان ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکیں گے”۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا شوہر اتنی جاذبیت نہیں رکھتا ہو کہ پہلے سے شادی کے بعد بھی جنسی تعلقات کا خدشہ رہے۔

نوٹ: سورہ بقرہ کی آیت230سے پہلے ”سورہ بقرہ آیت229کا درست ترجمہ اور تفسیر دیکھئے!” کے عنوان کے تحت پوسٹ ضرور پڑھیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ نومبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

طلاق کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقے کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی؟
نکاح کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقات کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی
تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟