پوسٹ تلاش کریں

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟

تبلیغی جماعت لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم بتاتی ہے ” اللہ کے حکمو ں میں کامیابی اور غیروں کے حکموں میںناکامی کا یقین آجائے ۔ نبی ۖ کے طریقوں میں کامیابی اور غیروں کے طریقوں میں ناکامی کا یقین ہمارے دلوں آجائے”۔
تبلیغ کی بدولت مدارس اور خانقاہیں آباد ہیں ۔ چراغ سے چراغ جلتے ہیں۔ بہت سارے خواجہ سراؤں کو عزت ،انسانیت اور دین کی خدمت کا موقع ملا ہے۔ کچھ خرابیاں انسانوں کی اجتماعیت میں افراد سے سرزد ہوجاتی ہیں ۔ نبیۖ کے دور میں ذوالخویصرہ، ابن صائد ، رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اور بے ایمان قسم کے اعرابی بھی تھے تو انکی وجہ سے صحابہ کی مقدس جماعت کو برا کہنا کتنا برا ہے؟۔
علماء دیوبندنے مدارس، آزادی، تبلیغ اورخانقاہی نظام میں اسلام کی بہت خدمت کی ہے ۔ ہماری تعلیم وتربیت بھی علماء دیوبند سے منسلک ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا : وعصٰی اٰدم ربہ ”اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی”۔ تاکہ قیامت تک انسان کو اپنی غلطی کو صحیح کہنے پر اصرار نہ کرے ۔بہتر ہے کہ اپنی اصلاح پر زیادہ اور دوسروں کی تردید پر کم توجہ دی جائے ۔ نبی ۖ نے صحابہ کرام کے تزکیہ ،کتاب و حکمت کی تعلیم میں نبوت کا فرض اداکیاتھا۔
چمن کے مولانانے تبلیغی جماعت کے خلاف کہا کہ ” رائیونڈ کے فاضل نے گواہی دی ہے کہ یہ اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم پیغمبروں والا کام کرتے ہیں۔ ایک تبلیغی نے کہا کہ انبیاء سے زیادہ ہم تکالیف اٹھاتے ہیں ۔ یہ لوگ قادیانیوں سے بدتر ہیں۔ ایسی بے غیرت جماعت مسلمانوں کی تاریخ میں بھی نہیں گزری ہے”۔ان بیچاروں کو حلالہ کی لعنت کا شکار بناکر بے غیرت بنایا گیا جو علماء کا قصور ہے۔ ایک اہلحدیث عالم نے بھی گل چاہت معاویہ کی ویڈیو کا کلپ دکھایا کہ ” میرے ساتھ پیغمبری راستے میں زیادتی کی گئی ، جن میں بڑے اکابر بھی شامل تھے لیکن ان کا نام نہیں لوں گا”۔ پھر دیوبندیوں کو برا بھلا کہہ دیا۔
تبلیغی جماعت کے کارکنوں سے علماء کے مدارس، مساجد، مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی تعداد کم نہیں ہے لیکن انہوں نے کونسا تیر مارا ہے؟۔ جو فرائض اور واجبات علماء ومفتیان نے بتائے ہیں تبلیغی جماعت اس پر عمل کرتی ہے۔غسل، وضو اورنماز کے فرائض ، واجبات ، سنتیںاور مستحبات علماء ومفتیان پڑھ کر بالکل بھول جاتے ہیں لیکن تبلیغی جماعت کے کارکن بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ علماء دیوبندجن چیزوں کو بدعات قرار دیتے ہیں تبلیغی جماعت نے نہ صرف عوام الناس بلکہ فضلاء دیوبند کو بھی ان بدعات سے روکنے کی بڑھ چڑھ کر کوشش کی۔ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے ایک ضخیم کتاب لکھ ڈالی کہ” سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا بدعت ہے”۔ ہمارے آبائی شہر کانیگرم جنوبی وزیرستان میں جب دیوبندی عالم مولانا شاداجان نے سنت کے بعد دعا کو بدعت قرار دیا تومولانامحمد زمان نے اس پر قادیانی کا فتوی لگایا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولوی اشرف خان ہماری مسجد کے امام سنتوں کے بعد اجتماعی دعا مانگتے تھے۔
ہماری مسجد کا نام ”درس” تھا اسلئے کہ میرے اجداد طلبہ کو یہاں درس دیتے تھے۔ اب تبلیغی جماعت نے رائیونڈ میں اس کو گلزار مدینہ کے نام سے متعارف کیا ہے۔جب میں نے وہاں تقریر کی کہ تبلیغی جماعت فضائل کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کا طریقہ کار چار مہینے، چلہ، سہ روزہ، جمعرات کا اجتماع اور گشت وغیرہ ایک مستحسن عمل ہے ۔ یہ فرض ، واجب اور کوئی سنت نہیں ہے تو تبلیغی جماعت کا امیر گل ستار اُٹھا اور کہنے لگا کہ مفتی زین العابدین نے کہا کہ ” تبلیغی جماعت کا کام فرض عین ہے”۔ اس پر یہ طے ہوا کہ علماء کرام کی محفل بلاکر فیصلہ کیا جائے گا اور پھر میری غیر موجودگی کی خبر پاکر شہر کے علماء کو بلایا گیا۔ جب وہ ہماری مسجد میں جمع ہوگئے تو میں بھی ٹیپ ریکارڈر ساتھ لیکر اپنے ساتھیوں کیساتھ پہنچ گیا۔ جس سے وہ گھبرا گئے اسلئے کہ انہوں نے یکطرفہ ٹریفک کا کھیل سمجھ رکھا تھا۔ بہر حال وہ بہت لمبی بات ہوجائے گی۔ علماء نے میری طرف سے لکھ دیا کہ” میں نے آخری مہدی کا دعویٰ نہیں کیا ہے اور تبلیغی جماعت کا کام مستحسن ہے”۔ جس پر سب نے دستخط کئے۔ جب حاجی محمد عثمان کے خلاف تبلیغی جماعت نے پروپیگنڈہ شروع کیا کہ آپ تبلیغی جماعت کے خلاف ہیں تو دارالعلوم کراچی سے مفتی تقی عثمانی اور جامعة الرشید کے مفتی عبدالرحیم و مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے دارلافتاء ناظم آباد سے تبلیغی جماعت کے خلاف فتویٰ دیا تھا۔ فتویٰ لینے والے تبلیغی جماعت کراچی کے امیر بھائی امین کے بیٹے مولانا زبیر شیخ الحدیث مولانا زکریا کے خلیفہ تھے مگر انہوں نے عبداللہ کے نام سے فتویٰ لیا تھا۔ جب تبلیغی جماعت کے مرکزی مدنی مسجد کے امام نے ہمارے ساتھیوں سے ملاقات کی تو اس بیچارے کو امامت سے نکال دیا گیا تھا۔ ہماری تبلیغی جماعت سے ہمدردیاں ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ۔
کئی تبلیغی جماعت کے افراد نے حلالہ کے حوالہ سے ہمارا فتویٰ دیکھ کر بڑی خوشی کا اظہار کیا اور حلالہ کے بغیر رجوع بھی کرلیا ہے۔ سیدھے سادے لوگوں کی عزتیں حلالہ کے نام پر لٹوانے کے بجائے تبلیغی جماعت کو اعلانیہ اللہ کے احکام کی تبلیغ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ قرآن کے واضح احکام میں صلح اور معروف کی شرط پر حلالہ کے بغیر بار بار رجوع کی گنجائش واضح ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

عدت کی علت کیا ہے؟ جاوید احمد غامدی
طلاق کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقے کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی؟
نکاح کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقات کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی