پوسٹ تلاش کریں

حلالہ کی لعنت گائے کا پیشاب پینے سے بدتر لعنت ہے.سورہ ٔ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا فقہاء کی کتنی بڑی جہالت ہے؟

حلالہ کی لعنت گائے کا پیشاب پینے سے بدتر لعنت ہے.سورہ ٔ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا فقہاء کی کتنی بڑی جہالت ہے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

عقیدہ غیب پر ایمان ہے لیکن علم نہ ہو تو انسان بتوں کی پوجا اور گائے کا پیشاب پیتا ہے۔حلالہ کی لعنت گائے کا پیشاب پینے سے بدتر لعنت ہے ،اُونٹ اور گائے کے پیشاب میں فرق نہیں۔ سورہ ٔ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا فقہاء کی کتنی بڑی جہالت ہے؟

عقیدہ اور عقیدت غیب پر ایمان ہے جسکے اثرات صرف روحانی دنیا اور مذاہب تک محدود نہیں بلکہ مادیت اور سائنس پر اسکے بہت بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ” بیشک اللہ کے پاس ساعة کا علم ہے، وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ارحام میں کیا ہے؟۔ کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کس زمین پر مرے گا”۔ (القرآن)
نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہ پانچ چیزیں غیب کی چابیاں ہیں”۔ عرب لوگ ساعة گھنٹے کوبھی کہتے ہیں اور گھڑی کو بھی اور قیامت کو بھی۔ ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت گھڑی اور دن میں چوبیس گھنٹوں کا تصور نہیں تھا اسلئے آیت میں قیامت ہی مراد ہے۔ عام مفسرین نے بھی قیامت مراد لی ہے۔ حدیث جبریل میں جب نبیۖ نے جبریل سے پوچھ لیا کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ ، تو جبریل نے عرض کیا کہ سائل سے زیادہ مسئول کو بھی پتہ نہیں ہے۔
قرآن میں الساعة قیامت کو بھی کہا گیا ہے اور ایک عظیم الشان انقلاب کی گھڑی کو بھی۔ مختلف اقوام پر تاریخ میں آنے والے عذاب کے دن پر بھی اسی طرح الساعة کا اطلاق کیا گیا ہے۔ جب عربی سمجھنے کے بجائے رٹنے کا نظام ہو تو ایک لفظ کا معنی موقع محل کے مطابق کرنے کے بجائے ہر جگہ ایک ہی معنی مراد لیا جاتا ہے۔ قرآن کے بارے میں مشہور ہے کہ حجاز میں نازل ہوا، مصر والوں نے اس کو پڑھا اور ہندوستان والوں نے اس کو سمجھ لیا۔ یہ مشہور قول اس بات کی بڑی زبردست غمازی کرتا ہے کہ امت مسلمہ نے قرآن کیساتھ کیا سلوک روا رکھا ؟۔ قرآن نے واضح کیا کہ ”رسول (ۖ) کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند مولانا سید انورشاہ کشمیرینے فرمایا تھا کہ ” میں نے اپنی زندگی ضائع کردی اسلئے کہ قرآن وحدیث کی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں گزاردی”۔ اکوڑہ خٹک کے مولانا عبدالحق،دارالعلوم کراچی کے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے علامہ یوسف بنوری، قاسم العلوم ملتان کے مفتی اعظم پاکستان قائد جمعیت مفتی محمود سب علامہ کشمیری کے ہی شاگرد تھے۔
جب شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا حسین احمد مدنی، علامہ شبیراحمد عثمانی، مولانا عبیداللہ سندھی ،مولانا اعزاز علی،علامہ سید انورشاہ کشمیری اور بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس وغیرہ کے سروں پر دستارباندھنے کا فیصلہ کیا تو شاگردوں نے عرض کیا کہ ”ہم نالائق ہیں۔ اس قابل ہرگزنہیں کہ علم کی بنیاد پر کسی کی رہنمائی کرسکیں” مگر استاذ نے فارغ التحصیل ہونے کا شرف بخش دیا ۔ آج تو دیوبندی علماء نے مساجد میں روحانی علاج کا معاملہ شروع کردیا ہے۔
ہندوستان میں بریلوی دیوبندی اختلاف کی شورش تھی تو اکابرین کے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے 7 مسائل کے حل پر کتاب ”فیصلہ ہفت مسئلہ ”لکھ دی۔ دارالعلوم دیوبند میں اسکے نسخے جلادئیے گئے لیکن مولانا اشرف علی تھانوی نے کچھ نسخے باقی ہونے پر اس کو پھر شائع کردیا تھا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے تصوف کا سلسلہ بھی زندہ رکھا تھا۔ پھر ہم نے اپنی آنکھوں دیکھا حال یہ دیکھا کہ مفتی محمد شفیع، مولانا عبدالحق ،مولانا یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود ، مولانا سید محمدمیاں، مولانا ادریس کاندہلوی اور اکابر کی تیسرے درجے کی کھیپ جب اپنے اختتام کو پہنچی تو پھر مولانا عبدالمالک کاندھلوی،مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا اسفندیار خان، مولانا سلیم اللہ خان، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی، قاری محمد حنیف جالندھری، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد فریداکوڑہ خٹک ، مفتی اعظم پاکستان مفتی عبدالستار خیرالمدارس ملتان،مفتی احمد الرحمن، مولانا زکریا لنگڑا ا نوارالعلوم ایف بی ایریا کراچی اور دیگر علماء اکابر کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ دیوبندی اکابرین کا پہلا طبقہ مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی،ملامحمود تھے۔ دوسرا طبقہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور حسین علی تھے۔ تیسرا طبقہ شیخ الہندکے شاگرد تھے اور چوتھا طبقہ شیخ الہند کے شاگردوں کے شاگر د تھے اور پانچواں طبقہ مفتی محمود کے بعد شروع ہوا لیکن مولانا مفتی محمد حسام اللہ شریفی مدظلہ چوتھے طبقے کے ہیں۔
صدام حسین سے شیعہ کے خلاف فتوے پر پیسے کھائے گئے اور ایک کتاب مرتب کی گئی جو مارکیٹ میں دستیاب ہے۔یہ مولانا محمدمنظور نعمانی کے سوال پر بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی کاجواب ہے جس پر پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کے معروف مدارس کے دستخط ہیں۔ اس میں تین بنیادوں پر شیعہ کو قادیانی سے بدتر کافر قرار دیا گیا ۔
نمبر1: تحریف قرآن کا عقیدہ ۔ 2: صحابہ کرام خاص طور پر حضرت ابوبکرو عمر کے کفر کا عقیدہ رکھتے ہیں۔3: عقیدۂ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کا انکار۔
مولانا حق نواز جھنگوی شہید کی تقریر سپاہ ِ صحابہ نے شائع کی تھی جس میں یہ واضح تھا کہ ”اہلسنت کا شیعہ سے قرآن اور صحابہ پر اختلاف نہیں ۔ ہمارا اصل اختلاف شیعہ سے مسئلہ امامت پر ہے”۔ شیعہ سنی فقہی اختلافات سنی مسالک میں بھی ہیں ۔’شرح العقائد” میں یہ لکھا ہے کہ ” شیعہ کے نزدیک امام کا مقرر کرنا اللہ پر فرض ہے اور سنیوں کے نزدیک امام مسلمانوں پر مقرر کرنا فرض ہے”۔
مفتی محمود کی طرف بھی یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ درسِ نظامی میں شرح العقائد کی کتاب غلط شامل کی گئی ہے کیونکہ یہ اس کا مصنف شیعہ یا شیعوں سے متأثر ضرور تھا۔ شرح العقائد میں پڑھایا جاتاہے کہ” شیعہ کے نزدیک اللہ پر امام کا مقرر کرنا فرض ہے جبکہ اللہ پر کوئی چیز فرض نہیں ہوسکتی ہے۔ انبیاء کرام کی بعثت اللہ پر فرض نہیں ہے اور اللہ نے جب تک چاہا تو نبوت کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر جب چاہا نبوت کا سلسلہ اپنے آخری نبیۖ کے ذریعے ختم کردیا”۔
جب حضرت ابوبکر کے ہاتھوں پرانصار کے ہاں بیعت ہوئی اور مہاجرین نے اس کو قبول کرلیا تو اہل سنت کے نزدیک حضرت ابوبکر خلیفہ بلافصل بن گئے لیکن شیعہ کے نزدیک حضرت علی ہی خلیفہ بلافصل اسلئے تھے کہ نبیۖ نے ہی غدیر خم کے موقع پر آپ کی ولایت کا اعلان فرمادیا تھا۔ شیعہ بارہویں امام غائب تک اپنا یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ سنیوں کے ہاں خلفاء راشدین کے بعد بنوامیہ و بنوعباس کی امارت اور پھر ترکی خلافت عثمانیہ کے بعد جبری حکومتوں کے ادوار کا سلسلہ شروع ہوا،جو ابھی تک موجود ہے اور یہی شرعی حکومتیںہیں۔ اہل تشیع بھی اب پاکستان اور ایران وغیرہ میں رویت ہلال کمیٹی کی طرح حکومتوں کے فیصلے شریعت کے مطابق مانتے ہیں۔ مثلاً اگر ایران اور پاکستان میں روزے اور عید پر اختلاف ہو تو دونوں ممالک کے باشندوں کے علماء اپنی اپنی ریاستوں کیساتھ کھڑے ہونگے۔ ایرانی انقلاب میں شیعوں نے قربانی دیکر بادشاہت کو ختم کیا اور جمہوری حکومت قائم کردی لیکن وہاں کنٹرول جمہوریت ہے ۔افغانستان میں امریکہ نے طالبان کی اسلامی حکومت ختم کرکے جمہوری حکومت قائم کردی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خلافت راشدہ میں خلفاء عوام کی مرضی سے آئے تھے اور امار ت و بادشاہت اور جبری حکومتوں کے ادوار میں عوام کی مرضی کے بغیر زبردستی اور جبری انداز میں حکومتوں کو مسلط کیا جارہاہے۔
شاہ اسماعیل شہید نے” منصب امامت” میں وہی عقیدہ امامت لکھ دیا ہے جو شیعہ کی طرف سے اپنے ائمہ کے بارے میں ہے۔ جس کی تائید مولانا یوسف بنوری نے بھی زبردست طریقے سے کی ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، کسی بھی شخص کو اس کا مؤقف بیان کرنے سے نہیں روکا جاسکتا ہے۔ غلام احمد پرویز سے پہلے علامہ تمنا عمادی نے احادیث کی سخت مخالفت کی تھی اور وہ ایک معتبر عالم بھی تھے لیکن وہ گوشہ گم نامی میں چلے گئے۔ مولانا محمد یوسف بنوری کے داماد مولانا طاسین نے بھی مزارعت پر ایک مقبول فقہی مؤقف پیش کیا تھا لیکن ان کو بھی گوشہ گمنامی کی نذر کردیا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے یہودی سود کی عالمی بینکاری کو اسلامی قراردیا تو سارے مدارس کے بڑے علماء ومفتیان کی مخالفت کے باوجود بھی وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے۔
جب داعش (دولت اسلامیہ عراق وشام)نے اپنی تنظیم کی بنیاد رکھ دی تو پورے مغرب سے ”نکاح بالجہاد” کے نام سے عورتیں آئیں جو مجاہدین سے اپنا نکاح روزانہ کی بنیاد پر بستر بدل بدل کر کرتی تھیں اور مقامی عورتوں کو بھی وہ مجاہدین زبردستی سے پکڑپکڑ کر لونڈیاں بناتے تھے۔ یزیدی فرقہ کے نام سے جو قرآن اور سابقہ ادیان کا مخلوط عقیدہ رکھتے ہیں اور بہت کمزور ہیں ان کی خواتین کو بھی زبردستی سے لونڈیاں بنایا جاتا تھا۔ ایک طرف شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی کا عالمی بینک کا سودی نظام ہو اوردوسری طرف داعش کا نکاح بالجہاد ہو ، تیسری طرف ہمارے مذہبی طبقات ان لوگوں کو اپنا پیٹی بند ساتھی تصور کرکے حمایت بھی کرتے ہوں تو برصغیرپاک وہند میں آنیوالا منظرنامہ بڑاخطرناک ہوسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی جمعیت کے شاعر سلمان گیلانی کبھی اپنی شاعری میں مسلم لیگ ن کی عابدہ حسین اور تہمینہ دولتانہ کا نام لیکرمخالفت میں جمعیت کے جلسوں کو گرماتا تھا اور اب مریم نواز سے جمعیت کی حمایت کے جلسے گرمائے جا رہے ہیں۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے1988ء کے الیکشن میں جمعیت ف کے پلیٹ فارم سے اعلان کیا تھا کہ مجھے کوئی شیعہ ووٹ نہیں دے۔ لیکن مولانا فضل الرحمن خود اپنی سیٹ شیعوں کی حمایت سے جیت گئے تھے۔ یہ تضادات تھے اور پھر مولانا ایثار الحق نے سپاہ صحابہ اور اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے جمعیت ف کی مخالفت اور شیعہ عابدہ حسین سے اتحاد کیوجہ سے 1990ء کا الیکشن جیت لیا تھا۔”بہت تلخ ہیں بندہ ٔ مزدور کے اوقات”۔ مولوی اسلام کانوکرنہیں بلکہ دوسروں کی مزدوری کرتا ہے۔ بھارت ، افغانستان، مصر، سعودی عرب، چین، پاکستان اور دنیا کے تمام ممالک میں ہرماحول کے مطابق اسلام کو ڈھالا جاتا ہے اور زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے علماء وطلباء نے افغان طالبان کے اسلام کے نفاذکی زبردست حمایت کی تھی اور اب جب طالبان نے اپنے اس اسلام کے نفاذ سے مکمل دستبرداری کا اعلان کیا ہے تو ان کو مرتد قرار دیا جائیگا یا یہ کہا جائے گا کہ امریکہ سے مصالحت کے بعد اب یہ اسلام ٹھیک ہے؟۔
مولانامحمد یوسف بنوری نے لکھا ہے کہ ” شاہ اسماعیل شہید نے اپنے مرشد سیداحمدبریلوی کے مقام کیلئے اپنی کتاب ”منصبِ امامت ” لکھ دی تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ کتاب میں خراسان کے مہدی کو مدینہ منورہ کے مہدی آخرزماں سے الگ شخصیت قرار دیا گیا تھا اور جس طرح بادشاہ اپنے جانشین کا انتخاب کرتا ہے تو حکومت کے سارے وزیروں اور مشیروں کی مقبولیت اور اہلیت کا معیار اس کی وفاداری ہوتی ہے ، اسی طرح امام وقت کیساتھ وفاداری کے بغیر ہر چیزبیکار ہے اور یہی عقیدہ اہل تشیع کا بھی ہے اور شاہ اسماعیل شہید نے بھی یہی عقیدہ کھل کر لکھا ہے۔ سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد بھی ان کے بہت سے معتقدین کا عقیدہ تھا کہ وہ اہل تشیع کے امام کی طرح غائب ہوگئے ہیں اسلئے واپس آئینگے۔
ہمیں ان دیوبندیوں اور اہل تشیع کو کافر وگمراہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے جو حضرت خضر کی طرح کسی شخصیت کے غائب ہونے پر اپنا غیبی اعتقاد رکھتے ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ جب عقیدہ اور عقیدت کوعلم وعقل کی رہنمائی سے محرومی کا سامنا ہو تو پھر لوگ بتوں کی پوجا اور گائے کا پیشاب بھی پیتے ہیں۔ ہمیں ہندوؤں کا بھی تمسخر اڑانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ فقہ حنفی کی معتبر کتب فتاویٰ قاضی خان اور فتاویٰ شامیہ میں علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں” فقہی مقالات” اور” تکملہ فتح المہلم”سے نکال دیا مگروزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں مفتی محمد سعید خان نے اپنی کتاب ” ریزہ الماس ” میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا پھر دفاع کیا ہے۔حلالہ کی لعنت کا جواز قرآن میں نہیں بلکہ علماء وفقہاء کی نالائقی ہے۔ حلالہ کی لعنت کا عمل گائے کے پیشاب پینے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔
حضرت عمر اور ائمہ اربعہ کے مؤقف کو قرآن وسنت کی تائید حاصل ہے کہ ایک مرتبہ پر بھی تین طلاق کے حتمی فیصلے کا اطلاق ہوسکتا ہے جس کے بعد عورت اس شخص کیلئے حلال نہ ہو ، جب تک وہ اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح نہیں کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے اور باہمی رضامندی سے رجوع کی اجازت دی ہے اور باہمی رضااور معروف طریقے کے بغیر رجوع کو ناجائز قرار دیا ہے۔ رجوع کی علت باہمی رضا ہے لیکن بعد کے فقہاء نے اس کی علت غلط نکال دی ہے۔ شاہ اسماعیل شہید نے لکھا ہے کہ ” روزہ معاف ہونے کی علت سفر ہے اور اس کا سبب مشقت ہے۔ جس طرح عام لوگ علت اور سبب کے درمیان فرق نہیں کرسکتے ۔سفر میں اگر مشقت نہ ہو تو بھی روزے کی رخصت ہے اور مزدوری میں مشقت ہوتی ہے مگر روزے کی رخصتی نہیں ہے۔ بہت سارے کم عقل وکم علم فقہاء نے علت اور سبب میں فرق کو سمجھے بغیر مسائل نکالے ہیں”۔ قرآن وسنت پر نظر کی جائے تو طلاق سے رجوع کی علت باہمی رضامندی ہے اور حضرت عمر نے باہمی رضامندی ہی کے نہ ہونے کی وجہ سے حتمی طلاق کا فتویٰ دیا تھا اور ائمہ اربعہ اور پہلے ادوار کے لوگوں نے اسی پر اتفاق کیا تھا مگر بعد میں معاملات بگاڑ دئیے گئے۔
حدیث میں قرآن کی پانچ چیزوں کو غیب کی چابی قرار دیا گیا ہے۔ وقت کا علم بھی قرآن میں واضح کیا گیا ہے کہ ”جب فرشتے اور روح چڑھتے ہیں تو اس کا ایک دن یہاں کے پچاس ہزار سال کے برابر ہے”۔ نبیۖ نے اس کا مشاہدہ معراج کی رات کیا تھا۔ آئین سٹائن نے نظریہ اضافیت دریافت کرکے غیب کی چابی کا سائنسی ثبوت بھی دیدیا۔ اسٹیفن ہاکنگ کے بلیک ہول میں نئی دریافتوں کیساتھ کہکشاؤں کی کائنات میں کتنے نظریہ اضافیت ہونگے؟۔ بارش نازل ہونے سے جس قدرتی بجلی کا پتہ چل رہاتھا اور قرآن نے تسخیر کی دعوت دی اور سائنسدانوں نے اس کو عملی جامہ پہنایا تو الیکٹرک کی غیبی چابی نے ایک جہانِ نو کو جنم دیا ہے۔ اور قرآن میں تیسری چیز ارحام کا علم ہے۔ جمادات،نباتات، حیوانات میں ایٹمی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کی دنیا سے لیکر فارمی پھلوں،پرندوں اورجانوروں تک غیب کی چابی کا ثبوت موجود ہے لیکن مذہبی طبقات اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرنے میں مصروف ہیں اور حقائق اجاگر ہونے کے باوجود اس طرف کوئی توجہ دینے کیلئے تیار نہیں، حالانکہ قرآن ایک حقیقت بن گیا ہے۔
قرآن میں پہلی 3 چیزوں کے علم کی نفی نہیں اورآئے دن ترقی کی نئی منزل بتاتی ہے کہ کل انسان کیا کمائے گا؟ اور کس زمین پر مریگا؟۔ یہ کوئی نہیں جانتا۔ عظیم قرآن کو پیشاب سے لکھنے والوں کے حوالہ کرکے ہم نے بڑابرا کیاہے۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟
خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟
بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں