پوسٹ تلاش کریں

جس دن اُمت نے قرآن و سنت کو سمجھ کر اعلان کردیا کہ حلالے کا تصور نہیں تو آدھا چلّہ گزرتے ہیں21ویں دن دنیا میں انقلاب آجائے گا!

جس دن اُمت نے قرآن و سنت کو سمجھ کر اعلان کردیا کہ حلالے کا تصور نہیں تو آدھا چلّہ گزرتے ہیں21ویں دن دنیا میں انقلاب آجائے گا! اخبار: نوشتہ دیوار

جس دن اُمت نے قرآن و سنت کو سمجھ کر اعلان کردیا کہ حلالے کا تصور نہیں تو آدھا چلّہ گزرتے ہیں21ویں دن دنیا میں انقلاب آجائے گا!

پہلے دن حلالے کی لعنت کا خاتمہ ہوگا اور دوسرے دن،تیسرے، چوتھے، پانچویں …… بیسویں دن تک ایک ایک اہم مسئلے کی وضاحت جاری رہے گی تو امت زندہ ہوجائے گی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ ” اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے”۔ مغرب کی سب سے بڑی خوبی جمہوری اقتدار، غلامی اور ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ ہے۔ ہمارا خلیفہ بھی جمہوری انداز سے مقرر ہونا چاہیے۔ ڈکٹیٹر شپ سے امریکی ونیٹو فوج کو افغانستان میں کامیابی نہیں ملی۔ طالبان کے جنرل مبین نے کہا کہ” جب تک عوام ساتھ نہ ہو ،افغانستان میں کوئی حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی”۔ دہشگردی کا خاتمہ جمہوری حکومت کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔ اگر خواتین کو اسلامی حقوق دینے کی وضاحت اور پھر اس پر عمل درآمد کا اعلان کیا جائے تو جمہوری بنیادوں پر پوری دنیا کی خواتین خلافت علی منہاج النبوت قائم کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ پہلے دن اعلان کیا جائے کہ حلالہ کا خاتمہ ہے۔ باہمی رضامندی سے صلح کا راستہ اللہ نے کھلا رکھا ہے۔ تو مسلمانوں کی زندگی میں حرکت شروع ہوگی۔ پھر اگلے دن عورتوں کو اسلام کے مطابق خلع کا حق دیا جائے تو مزید تحریک کامیاب ہوگی۔اسلامی علوم کا بند اور فطری ذخیرہ عوام وخواص کے سامنے کھلے گاتو انقلابی رحجان پیدا ہوگا۔ پھر خواتین اور مردوں کے مخلوط معاشرے کی مثال خانہ کعبہ کے طواف، صفاومروہ کے سعی اور حرم کعبہ میں نمازباجماعت سے دی جائے تو مولوی کا ذہن بھی کھلے گا۔مرد اور عورت کو نظروں اور شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم سمجھایا جائیگا تو حجر اسود چومتے وقت نامحرم آپس میں رگڑ ا نہیں کھائیںگے ۔ہر نیا دن انقلابی سورج طلوع ہوگا۔ نکاح میں مردوں پر فرائض اور خواتین کے حقوق سے دنیا بھر کی مسلم اور غیرمسلم خواتین اسلامی نظام کے حق میں ووٹ دیںگی۔پانچ دنوں میں انقلاب کے اثرات ہونگے۔والدین کی علیحدگی کی صورت میں بچوں پر ماؤں کا یکساں حق ہوگا تو مائیں خوشیوں سے سرشارہونگی۔
چھٹے دن پنجاب میں جہیز اور پشتونوں میں عورت کا حق مہر کھانے کا رواج ختم ہوگا اور عرب والدین بھی حق مہر کے مطالبے کی وجہ سے عورتوں کے حقوق کو ضائع کرنا چھوڑ دیںگے۔ افغان طالبان حکومت کو بھی دنیا تسلیم کرے گی اور عرب وعجم کی خواتین میں اسلام کوزبردست قبولیت کا درجہ حاصل ہوجائیگا۔7ویں دن اعلان ہوگا کہ عورت اور مرد کے ریپ پر سنگساری کی سزا ملے گی تو دنیا بھر کے غیور لوگ اسلام کے حق میں کھڑے ہوںگے۔8ویں دن اعلان ہوگا کہ سورۂ نور کے مطابق عورت اور مرد کو بدکاری پر اعلانیہ100کوڑے کی یکساں سزا دی جائے گی اور ماحول کے اعتبار سے کوڑے میں سختی اور نرمی ہوسکتی ہے تو دنیا کے کان کھڑے ہوںگے لیکن تحریک اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوگی۔ پھر9ویں دن لعان کے قانون کا اعلان ہوگاتو دنیا حیران ہوگی کہ اسلام میں قانون کی بالادستی کا چودہ سو سال پہلے سے یہ تصور تھا کہ جب عورت کیخلاف اسکا شوہر فحاشی کی گواہی دے اور عورت کو نہ صرف اسکے جھٹلانے کا حق ہو بلکہ اس کی وجہ سے سزا کا حکم بھی ہٹ جائے تویہ کتنا زبردست اور بہترین قانون ہے۔ سورۂ نور کی یہ آیت لوگوں کی نظروں سے کیوں اوجھل رکھی گئی؟۔ اگر یہ واضح احکام ہوتے تو مغرب کو ہوس پرستی کیلئے یہ مادر پدر آزادی دینے کے قوانین کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔وہ اسلام کے محفوظ خاندانی زندگی کی طرف دوبارہ پلٹنے میں دیر نہیں لگائیںگے کیونکہ انسان جانور نہیں بن سکتا ہے۔
10ویںدن اعلان ہوگا کہ نہ صرف شوہر کو اپنی وسعت کے مطابق حق مہر دینا ہوگا بلکہ جب عورت کو ہاتھ لگائے بغیر بھی شوہر طلاق دے گا تو نصف حق مہر پھر بھی دینا فرض ہوگا۔ البتہ اگر عورت اپنی طرف سے کچھ معاف کرنا چاہے لیکن ترغیب مرد کو ہے کہ جسکے ہاتھ میں طلاق کا گرہ ہے کہ وہ نصف حق مہر سے زیادہ دے تو بہتر ہے۔آیت کے ان الفاظ سے فقہاء نے جو مسائل نکالے ہیں کہ عورت حرامکاری پر مجبور ہو ،تب بھی عورت کو خلع نہ ملتا ہو تو وہ لذت اٹھانے پر گناہگار ہوگی۔ وغیرہ تو لوگ سابق مخلص علماء وفقہاء کی مغفرت کی دعاکرینگے۔
11ویں دن اعلان ہوگا کہ عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل کے بعد اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد میاں بیوی میں صلح کا دروازہ کھلا ہے تو یہ ایک ایسا انقلاب ہوگا جس کی وجہ سے عوام اور خواص کے خاندانوں میں دشمنی کا خاتمہ ہوجائیگا اورماحول کو بہت پاکیزگی اور تزکیہ مل جائیگا۔12ویں دن اعلان ہوگا کہ بیٹیوں کو باپ کی جائیداد میں بیٹے کے نصف کے برابر حصہ ملے گا تو ظالموں کے کلیجے منہ کو آجائیں گے اور مظلوموں کو انصاف مل جائیگا۔13ویں دن اعلان ہوگا کہ مزارعت ،ٹھیکہ ، مزدوری اور کرائے پر زمینوں کا دینا ممنوع ، ناجائز اور سود ہے تو روس کے دارالخلافہ ماسکو پر اسلام کا جھنڈا لہرائے گا اور سارے کامریڈ اور کمیونسٹ اسلامی نظام کو قبول کرنے کا اعلان کریں گے۔14ویں دن اعلان ہوگا کہ دنیا سے سودی نظام ختم ہے اور اصل رقم قرضہ کی شکل میں واپس کی جائے گی اور سودی لین دین دنیا میں منع ہے جس سے انسان دشمنی کے راستے اور غلامی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں تو ایک جشن منایا جائیگا کہ انسانوں کی گردنیں غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہیں۔15ویں دن اعلان ہوگا کہ کالے گورے، عرب عجم سب بنی آدم ہیں ۔ کسی کو کسی پر نسل کی وجہ سے برتری حاصل نہیں۔ افضیلت کا معیار کردار ہے تو یہ بہت مثبت اثرات مرتب کرے گا۔16ویں دن اعلان ہوگا کہ وکیلوں کو چھوڑ دیں۔ اپنا مقدمہ خود پیش کریں۔ سیاسی جماعت کے قائدین ، جرنیل ،جج ،ملا، صحافی ، تاجر ، ٹھیکہ دار اور تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد صاف ہونگے تو ان کو دائیں ہاتھ سے اعمالنامہ جاری کیا جائیگا اور آسان حساب لیا جائیگا اور جو حاضر ہونے سے انکار کرے گا تو اس کو پیٹھ پیچھے اس کا اعمال نامہ دیا جائیگا اور وہ اپنی موت پکارے گا۔ کرپٹ عناصر نے ملک وقوم کو لوٹ کر کہاں سے کہاں پہنچادیا ؟۔ بڑے بڑے ہاتھ مارنے والوں سے حساب لیا جائے گا۔17ویں دن اعلان ہو گا کہ زکوٰة کو قرآن وسنت کے نصاب کے مطابق آٹھ قسم کے افراد میں تقسیم کیا جائیگا۔ حادثات کا شکار ہونے والوں میں مسلم و غیرمسلم کی تفریق نہیںہو گی۔مسلمانوں سے نہری اور بارانی زمینوں کا عشر اور غیرمسلموں سے اتنی مقدار میں جزیہ لیا جائیگا۔18ویں دن اعلان ہوگا کہ زکوٰة، حج، نماز اور خواتین کے پردے میں جبری نظام کا تصور نہیں۔ صرف اخلاقیات کی ترغیب ہوگی لیکن قانون اور زبردستی کا تصور قرآن وسنت میں نہیں۔19ویںدن اعلان ہوگا کہ مسلمانوں کی طرح اگر ہندو، بدھ مت، عیسائی، یہودی اور صائبین وغیرہ بھی اپنی مرضی سے اپنے اصل ادیان کی طرف لوٹ کر مسخ شدہ احکام کی اصلاح کرنا چاہتے ہوں تو یہ انکی اپنی مرضی ہے۔ وہ خود اپنی شریعت اور اپنی مرضی ہی کے مطابق اپنے احکام پر عمل کے پابند ہونا چاہیں تو ان کی مرضی ہے لیکن ہماری طرف سے جبر وزبردستی کاکوئی تصور نہیں اور نہ ہم ان کی کتابوں کے مطابق ان کا فیصلہ کرینگے اسلئے کہ اللہ نے منع فرمایا۔20ویں دن اعلان ہوگا کہ دنیا سے ظلم کا خاتمہ اور عدل قائم کریںگے تو مسلمانوں میں روح مکمل ہوجائے گی۔21ویں دن انڈے کا خول توڑ کر مسلم امت کے چوزے دوڑنے کے قابل ہوں گے۔
میری دائیں اور بائیں بازو دونوں سے صراط مستقیم پر چلنے کی نہ صرف ایک درخواست ہے بلکہ یہ یقین ہے کہ اسلامی احکام کی افادیت کے سامنے پوری دنیا کی طرح جلد ازجلد وہ بھی سرجھکائیں گے۔ عورت جب بیاہی جاتی ہے تو وہ کسی قوم، خاندان اور علاقہ میں رعایا کی زندگی بسر کرتی ہے۔ جو مظالم قانون، رسم و رواج اور شریعت کے نام سے عورت پر روا رکھے گئے ہیں ،اگر اسلام کی حقیقت سامنے آجائے تو وللہ باللہ تاللہ سب لوگ حقیقی اسلام قبول کریںگے اور ایمان کو دلوں میں داخل کریںگے۔ مولانا فضل الرحمن ووٹ مانگتا ہے تو کہتا ہے کہ اگر مرداور عورت کو فحاشی کی حالت میں ننگاایک ، دو اور تین مرد دیکھیںگے تو بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر جب اقتدار ہاتھ میں آتا ہے تو دوپٹہ سرکنے یا چہرے دکھانے پر کوڑے مارے جاتے ہیں حالانکہ حج وعمرہ میں عورتیں چہرہ دکھاتی پھرتی ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟
خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟
بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں