پوسٹ تلاش کریں

پاکستان اور دنیا کے بیشتر ممالک سے حلال کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہم نے فتویٰ جاری کیا ہے۔

پاکستان اور دنیا کے بیشتر ممالک سے حلال کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہم نے فتویٰ جاری کیا ہے۔ اخبار: نوشتہ دیوار

نوشتہ دیوار کراچی۔ ماہ نومبر2021۔ صفحہ نمبر4
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی(چیف ایڈیٹر)

پاکستان اور دنیا بھر کے اکثر ممالک سے حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے بہت سوں کو ہم نے فتویٰ دیا اور بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث علماء ومفتیان اپنے مسلک کے برعکس قرآن وسنت کی تائیدکر رہے ہیں

_ سورۂ طلاق اور حدیث پاک_
صفحہ نمبر ایک پر سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات کا بالکل سادہ مفہوم لکھ دیا ہے تو کیا حدیث سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے؟۔ اس سوال کا تسلی بخش جواب یہی ہے کہ دورجاہلیت میں مذہبی گدھوں نے طلاق کے شرعی تصور کا حلیہ بالکل بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ایک ایسی فضاء تھی کہ اس سے نکالنے کیلئے قرآن کریم کو ایک ایک بات پر زبردست وضاحتوں سے کام لینا پڑا تھا۔ جب ایک غلط چیز معاشرے میں سرایت کرجائے اور معاشرہ اس سے متأثر ہوجائے تو بہت مشکل پڑتی ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے اللہ کی وحی کو بھی اپنی آخر حد تک جانا پڑتا ہے۔
حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر تمام لوگ اس پر عمل کریں تو وہ آیت انہیں کافی ہوگی۔ صحابہ نے پوچھا : یارسول اللہ ! وہ کون سی آیت ہے؟۔ تو آپ ۖنے فرمایا:
ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًا (الطلاق:2) اور جو اللہ سے ڈرا تو اللہ اس کیلئے راستہ بناتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث:4220، صحیح ابن حبان) تفسیر تبیان القرآن ،ج12، صفحہ69۔ علامہ غلام رسول سعیدی)
جب نبی کریم ۖ نے طلاق کی دوسری آیت کو اتنی اہمیت دی ہے تو اس میں صرف تقویٰ کی بات نہیں ہے کیونکہ تقویٰ کا ذکر تو بہت سی آیات میں ہے۔ سورۂ طلاق کی آیت2میں طلاق کے تمام مسائل کا حل ہے۔ جس میں قرآن کی وضاحتوں کے مطابق طلاق دینے اور پھر اس سے رجوع کیلئے راستہ کھلا رکھنے کا معاملہ ہے۔ پہلا معاملہ یہ ہے کہ طلاق مرحلہ وار دی جائے، دوسرا معاملہ یہ ہے کہ عورت کواس کے گھر سے نہ نکالا جائے اور نہ وہ خود نکلے۔ تیسرا معاملہ یہ ہے کہ عدت کی تکمیل تک پہنچنے پر معروف رجوع یا معروف الگ کرنے پر عمل کیا جائے ۔اور اس میں عورت کے مال کو تحفظ فراہم کیا جائے اور پھر بھی رجوع کے دروازے کو کھلا رکھا جائے اور یہ نبیۖ کا لوگوں کیلئے کافی ہونے کا فتویٰ ہے۔
حضرت رکانہ کے باپ نے رکانہ کی والدہ کو طلاق دی اور دوسری عورت سے شادی کرلی، اس نے رکانہ کے نامرد ہونے کی شکایت کردی تو نبیۖ نے فرمایا کہ رکانہ کے بچے اس سے کس قدر مشابہہ ہیں اور پھر اس عورت کو چھوڑنے کا حکم دیا اور حضرت رکانہ کی والدہ سے رجوع کا حکم فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرمائی۔ ( سننن ابوداؤد شریف)
قرآن میں جتنی وضاحت کیساتھ طلاق اور اس سے رجوع کے احکام ہیں اور اس سے امت مسلمہ نے غفلت اختیار کررکھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بجا فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے رسول ۖ امت کے خلاف یہ شکایت فرمائیں گے کہ وقال الرسول یاربّ ان قومی اتخذوا ہذالقرآن مھجورًا ” اور رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ طلاق سے رجوع کیلئے سورۂ طلاق کی آیت2بھی امت کیلئے عمل کی کافی دلیل ہے۔کاش علماء ومفتیان اس پر عمل کا فتویٰ دیکر امت کا کافی بھلا کریں۔

_ قرآن کے تراجم میں گمراہی_
شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اورشیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی تفاسیر اور تراجم میں بھی تضادات ہی تضادات ہیں۔ اسی طرح مولانا احمد رضا خان بریلوی، مولانا پیر کرم شاہ الازہری اور علامہ غلام رسول سعیدی کی تفاسیر اور تراجم میں تضادات ہی تضادات ہیں۔ اگر کسی ایک مکتب فکر ،مسلک اور فرقے کے علماء ومفتیان میں قرآن کے ترجمے پر بھی بنیادی تضاد ہو تو اس سے ہدایت کیسے مل سکتی ہے؟۔
وجہ اس کی یہی ہے کہ قرآن کا سادہ ترجمہ اور تفسیر انکے مسلکوں پرپورا نہیں اترتی ہیں۔1973ء کو ہندوستان میں ”ایک مجلس کی تین طلاق ”پر سیمینارمنعقد ہوا۔ جس کی صدارت دیوبندی مکتب کے مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے کی تھی ۔ اس میں جماعت اسلامی، بریلوی مکتب، اہلحدیث اور دیوبندی مکتب کے اکابر علماء و مفتیان نے شرکت کرکے اپنے اپنے مقالے پڑھے تھے اور یہ پاکستان سے بھی کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں۔ جس میں مولانا پیر کرم شاہ الازہری کا کتا بچہ” دعوت فکر ” بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان میں حلالے کی لعنت سے جان چھڑانے کی زبردست کوشش کی گئی ہے اور اس کو ایک جرأتمندانہ اقدام قرار دیا گیاہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کے تراجم اور تفاسیر میں جو بہت فاش غلطیاں کی گئیں ہیں تو ان کا ازالہ کئے بغیر امت مسلمہ کی درست رہنمائی ممکن نہیں ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے ” آسان ترجمۂ قرآن ” میں عربی کے الفاظ میں بھی کھلم کھلا تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔ اذابلغن اجلھن کے الفاظ قرآن میں متعدد بار آئے ہیں۔ سورہ ٔ بقرہ کی آیات231،232،234میںاور سورۂ طلاق آیت2میں ایک ہی لفظ کا مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے مطلب کیلئے پہلی مرتبہ متضادترجمہ کیا ہے۔ تکاد السمٰوٰت ُ من فوقھن والملئکة یسبحون بحمد ربہم ویستغفرون لمن فی الارض (الشوریٰ آیت:5) کی تفسیر میں احمق نے لکھ دیا ہے کہ ” فرشتے اتنی تعداد میں آسمان میں عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان ان کے وزن سے پھٹ جائے اور نیچے گر جائے”۔
جب سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر عوامی دباؤ پڑا تھا تو مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں ” تکملہ فتح الملہم ” اور”فقہی مقالات جلد4” سے اس کو روزنامہ اسلام اخبار اور ہفت روزہ ضرب مؤمن کراچی میں نکالنے کا اعلان کردیا تھا۔ گھوڑے کیلئے اشارہ کافی ہوتا ہے اور گدھوں کو مارپیٹ اور تشدد سے راستے پر لایا جاتا ہے۔ قرآن میں توراة کی تحریف کے مرتکب یہود کے علماء کی مثال بھی گدھے سے دی گئی ہے۔اردو میں کہا جاتا ہے کہ فلاں کی ماں بہن ایک کردی ہے۔ یعنی اس گالی کو کسی کی حالت بری کردینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور پشتو زبان میں کسی کی حالت بری کرنے کیلئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے کہ اسکی بیوی……… دی ہے۔ حلالہ کے نام پر علماء ومفتیان نے امت مسلمہ کیلئے وہی عمل کردیا ہے جو پشتو کی گالی ہے۔ اسلام کے نام پر کسی کو بیوی کی لعنت کا شکار کرنے سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ مگر امت پھر بھی غیرت نہیں کھاتی ہے۔

قرآن کریم کے بہت واضح حقائق
سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات کے ترجمے وتفسیر میں بھی علماء ومفتیان اور نام نہاد اسلامی دانشوروں کے تضادات ہی تضادات ہیں اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان کا مسلک، عقیدہ اور نظریہ قرآن کے الفاظ پر پورا نہیں اترتا ہے۔ اپنے لئے قرآن کے الفاظ کا مفہوم بدلنا کتنی بڑی گمراہی ہے؟۔ علامہ اقبال نے کہا: خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق؟
سورۂ بقرہ کی آیات222سے232تک دو رکوع کے مضامین اور232تک جتنی وضاحتوں کیساتھ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے مسائل بیان فرمائے ہیں اور طلاق سے رجوع کیلئے جس طرح کی بھرپور وضاحتیں کردی ہیں،اگر قرآن کے مسائل کو قرآن ہی کے ذریعے سمجھنے کو اولیت دی جائے، جس طرح فقہ حنفی میں درسِ نظامی کی تعلیمات کادرست خلاصہ بھی ہے توپوری دنیا میں ہدایت کا ایک ایسا انقلاب آسکتا ہے جس کی خوشخبری رسول اللہۖ نے فرمائی ہے کہ اس سے آسمان وزمین والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ یہ دنیا کی پہلی خلافت اور نبیۖ کا وہ خواب ہوگا جو کھلی آنکھوں سے نبی کریم ۖ کو اللہ نے معراج میں دکھایا تھا۔ جس مشاہدے میں نبیۖ نے تمام انبیاء کرام کی بیت المقدس میں امامت کی تھی۔ سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر ہے ۔ اللہ نے قرآن وسنت کے ذریعے اسلام کو تمام ادیان پر غلبہ دلانا ہے۔ جس کا قرآن میں جگہ جگہ تذکرہ ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت60میں دوچیزوں کو امت کی آزمائش قرار دیا گیا ہے ،ایک نبیۖ کے خواب کو جو دن کے غالب کرنے کا وژن تھا اور دوسرا قرآن میں شجرۂ ملعونہ کو آزمائش کا سبب قرار دیا گیاہے ۔
سورۂ بقرہ کی230میں جس طلاق کے بعد حلالہ کئے بغیر پہلے شوہر سے رجوع نہ کرسکنے کی کھلی وضاحت ہے تو یہ امت کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر اس سے پہلے کی آیات228،229اور بعد کی آیات231اور232کو نظر انداز کرکے حلالہ کی لعنت کا حکم دیا جائے توپھر یہ امت مسلمہ کیلئے بہت بڑی خرابی، قرآن کو چھوڑنے کے علاوہ بہت بڑی بے غیرتی کا باعث ہے۔ اُمت مسلمہ کے زوال کی ابتداء وہاں سے شروع ہوئی تھی جب سورۂ نور کی آیات میں لعان کے حکم پر اسلئے عمل نہیں کیا گیا کہ مشرقی غیرت کے تقاضوں کے خلاف تھا اور اس کے زوال کی انتہاء اس وقت شروع ہوئی کہ جب قرآن میں شجرہ ملعونہ کے ذکر حلالہ کی لعنت کو سیاق وسباق کے بغیر لوگوں پر مسلط کیا گیا اور بے غیرت لوگوں نے قرآن وسنت کی طرف توجہ کرنے کی جگہ اپنی بیگمات کی عزتیں بھی پہلے چھپ کر اور اب کھل کرلٹواناشروع کردیں۔
سورہ بقرہ کی ان آیات میں اول سے آخر تک باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع کرنے کی زبردست گنجائش بلکہ واضح حکم ہے اور حلال نہ ہونے سے پہلے وہ صورت ہے جس میں نہ صرف میاں بیوی بلکہ جدائی کا فیصلہ کرنے والے سب لوگ اس پر اتفاق کریں کہ آئندہ رابطے کی بھی ان دونوں میں کوئی صورت باقی نہ رہے، جس میں صلح کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے۔

_ بے غیرتی کی انتہاء کا یہ آغاز_
آج سے تقریباً21،22سال پہلے جب میں جامعہ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دیگر مدارس میں پڑھتا تھا تو طلاق اور حلالے کے فتوے نام کے بغیر دئیے جاتے تھے۔ ایڈریس کیساتھ حلالے کا فتویٰ بہت قریب کے دور میں شروع ہوا ہے۔ کس کی بیوی کا حلالہ ہوا؟۔ کس کی تحویل میں کس نے حلالہ کیا؟۔ کسی کو کانوں کان بھی خبر نہیں پڑتی تھی۔ شرافت رکھنے والے علماء اور عوام اس کا تذکرہ بھی بہت معیوب سمجھتے تھے۔ پھر کھلم کھلایہ بے غیرتی شروع ہوئی اور حلالہ سینٹروں کی دنیا بھر میں بھرمار ہوئی اور مدارس کے علماء ومفتیان نے ایڈریس اور شناختی کارڈ کیساتھ فتوے دینے شروع کردئیے۔
1947سے1988تک پاکستانIMFکے قرضے سے آزاد تھا اور پھر2004سے2008تک پھرIMFکے سودی قرضوں کا غلام بن گیا۔ ”موت کا منظر ”نامی کتاب بہت عام ہے اور سن1970ء کی دہائی میں مجھے اس کے پڑھنے کا موقع ملا تھا، اس میں زنا بالجبر کی سزا کا ذکر ہے کہ نبیۖ نے ایک عورت کی گواہی قبول کرکے اس شخص کو سنگسار کرنے کا حکم دیا جس نے اس کا ارتکاب کیا تھا۔ قرآن کی سورۂ احزاب میں بھی عورتوں کی بے حرمتی کرنے پر ملعونوں کو جہاں پایا جائے ،ان کو پکڑ کر قتل کرنے کی سزا کا حکم پہلی امتوں کے حوالے سے بھی اللہ کی اس سنت کا ذکر ہے۔ جب کوئی اپنے مال پر ڈاکہ ڈالنے والے ڈکیت کو قتل کرتا ہے تو داد پاتا ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ اگر گھر میں داخلے پر چور کو قتل کیا جائے تو اس کا گھر والے کو حق ہے۔ پھر کون اتنا بے غیرت ہوگا کہ کسی عورت کی عزت زبردستی سے لوٹی جائے اور وہ عدالتوں سے سزا دلوانے کیلئے4گواہوں کو پیش کرے؟۔ ایسے لوگوں کو قتل کرنا ہر قوم ومذہب اور ہردور کا تقاضہ تھا۔ جس قانونِ فطرت کی قرآن نے بھی وضاحت کردی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جسٹس مفتی تقی عثمانی نے حدود آرڈنینس کے نام پر ”یہ قانون” بنایا تھا کہ ” اگر کسی عورت پر زنا بالجبرہو اور اس کے پاس4باشرع مرد صالح گواہ نہیں ہوں تو اس کو حدقذف کے تحت سزا دی جائے گی”۔ جب پرویزمشرف کے دور میں بہت سی خواتین اسلئے جیل میں بند تھیں کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف شکایت کی تھی تو اس قانون کو بدل دیا گیا۔ جس پر مفتی تقی عثمانی اور جماعت اسلامی نے پمفلٹ شائع کرکے شور شرابہ کرنیکی کوشش کی تھی مگر میں نے اس کا مدلل جواب لکھ کر خاموش کردیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن اس وقت اپوزیشن لیڈر تھے ۔2006ء میں یہ قانون تبدیل ہوگیا مگر اب پھر جناح کے مزار میں زیادتی کا شکار ہونے والی پنجاب کی بیٹی کے مجرموں کو اسی پہلے قانون کے تحت باعزت رہا کردیا گیا ہے، حالانکہ اس عورت نے مجرموں کو پہچان لیا تھا اور ان کاDNAسے بھی ثبوت ملا تھا۔ عالمی دباؤ کے تحت اگر قرآن وسنت کے مطابق پاکستان جبری زیادتی کرنے والوں کو قتل اور سرِ عام سنگسار کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا تو کم ازکم حلالہ کی لعنت سے امت مسلمہ کی جان چھڑانے میں کوئی عالمی دباؤ بھی نہیں ہے۔ اندر ونی صفحات پر تسلی بخش دلائل ملاحظہ کریں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

تبلیغی جماعت کہتی ہے کہ لاالہ الا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین مگر حلالہ کی کیاکامیابی ہے؟
خلع میں عدالت و مذہبی طبقے کا قرآن وسنت سے انحراف؟
بشریٰ بی بی قرآن وسنت کی دوعدتیں گزار چکی تھیں