حور سے مراد اگر دنیاوی عورتیں تو یہ بیویاں ہیں اگر اس سے مراد پریاں تو یہ ہم نشین کے معنی میں ہیں ۔

441
0

تحریر : سید عتیق الرحمن گیلانی

حور سے مراد اگر دنیاوی عورتیں ہیں تو یہ بیویاں ہیں اور اگر اس سے مراد پریاں ہیں تو یہ پھر ہم نشین کے معنی میں ہیں ۔

قرآن میں سورۂ الدخان کی آیت
وزوجنٰھم بحور عین کے بارے میں قرآن کی مشہور لغت مفردات القرآن میںامام راغب نے لکھا کہ” ہم نے ان کو حور عین کا ہم نشین بنایا ہے”۔
اگر حورسے مراد انسانوں سے الگ جنس کی مخلوق ہو تو پھر زوجنا سے مراد شادی کے معنیٰ میں نہیں ہوگا۔ بلکہ پریوں کو انکا ہم نشین بنانا مراد ہوگا۔ عربی کی مشہور لغت القاموس المعجم میں حوریات کے بارے میں لکھا ہے کہ ”شہری عورتوں کو کہتے ہیں”۔ شہری عورت پر حور کااطلاق ہوتا ہے جو زیادہ سفیدیا صاف ستھری ہوتی ہیں۔ اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے کہ عربی زبان کا معاملہ سمجھے بغیر قرآنی آیات کے مفہوم کو سمجھنا مشکل ہے۔ قرآن میں زوج کے کئی معانی ہیں۔ سورۂ واقعہ میں انسانوں کے تین ازواج یعنی اقسام کا ذکر ہے۔
اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور مقربین۔ یہ جنت اور جہنم اور درجہ کے اعتبار سے تین اقسام ہیں۔ قرآن میں واذا النفوس زوّجت ”اور جب نفسوں کو جوڑا جوڑا بنایا جائیگا”۔کے بارے میں علماء سمجھتے ہیں کہ جب لوگوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جائیگا۔ حالانکہ اس کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا تھا کہ جب لوگوں کو شادی کے بندھن میں جوڑا جوڑا بنایا جائیگا۔ اگر آیت سے سیاق وسباق کے مطابق معانی مراد لئے جائیں تو حقائق منظر عام پر آجائیںگے۔ جہاں قرآن میں یہ ہے کہ زندہ درگور کرنے والیوں سے پوچھا جائیگا کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئیں؟۔ اسی جگہ پر نفسوں کو جوڑا بنانے کا ذکر بھی ہے ۔ دورِ جاہلیت میں بچیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا اور میاں بیوی صلح چاہتے تھے تو بھی ان میں مذہب کے نام پر تفریق کرادی جاتی تھی اور دونوں برائیوں کو ایک پس ِ منظر میں دیکھا جائے تو اذاالنفوس زوجت سے نفسوں کے مختلف اقسام بنانا مراد نہیںہوسکتا ہے بلکہ اسلام کے نام پر اب بھی جس طرح طلاق اور تفریق کا سلسلہ جاری ہے تو اس تنبیہ سے علماء ومفتیان کو سبق سیکھنا چاہیے۔ جنت دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی۔ دنیاوی جنت کے حوالہ سے قرآن میں بہت سی آیات ہیں۔ اسی طرح جنت کے علاوہ دنیا میں بھی جحیم کی اقسام ہیں۔ حضرت ابراہیم کو بھی کافروں نے دنیا میں سزا دینے کا ارادہ کیا تو آپ کو قرآن کے الفاظ میںجیحم میں پہنچانے کا پروگرام بنایا۔ باغ کو بھی جنت کہتے ہیں۔ آخرت کی بنیاد پر جنت کی کیفیت کو سمجھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ۔
دنیا میں اسلامی انقلاب آئے تو بھی نیک واچھے لوگوں کی ازواج یعنی بیویوں پر حوروں کا اطلاق ہوگا اور اسکے معانی پاکیزہ کے بھی ہیں۔ انقلاب کے بغیر بھی جس طرح متقی لوگوں کیلئے الطیبون لطیبات و الطیبات للطبین” پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کیلئے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کیلئے ہیں”۔ ان پر بھی حوروں کا اطلاق ہوتا ہے۔ حور صرف مؤنث ہی نہیں بلکہ مذکر کیلئے بھی عربی لغت میں آتا ہے۔ جب ساتھی کے معنیٰ میں ہو تو پھر جس طرح حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے الحواریون قرار دیا ہے جنہوں نے آپ کی مدد کی تھی۔ صحابہ کرام دنیا کی طرح آخرت میں نبیۖ کے ساتھی ہونگے۔ حور عین کا معنیٰ بڑی بڑی آنکھوں والا بھی ہے اور آنکھ کی سفیدی کا زیادہ سفید ہونا اور سیاہی کا زیادہ سیاہ ہونے کو بھی کہتے ہیں اور حور کا معنی نقصان اٹھانے کو بھی کہتے ہیں۔
ہمارے یہاں سخت ، بڑی اور موٹی روٹی بنتی ہے جس کو گاڈلیائی کہا جاتا ہے۔ کہاوت ہے کہ کوچے کے کتے کو چودھویں کا چاند بھی گاڈلیائی نظر آتا ہے۔ عربی کی کہاوت ہے کہ للناس فی مایعشوقون مذاہب ”لو گ اپنے ذوق کے مطابق رائے رکھتے ہیں”۔ نبیۖ اور صحابہ کرام کیلئے سیدنا بلال حبشی بھی حور تھے اور علة مشائخ رکھنے والوں کا ذوق کچھ اور ہوتا ہے۔
دھوبی کا کام کرنے والوں کو بھی حور کہتے ہیں اور باطنی صفائی رکھنے والے کو بھی حور کہتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ االسلام کا ساتھ دھوبیوں نے دیا تھا ،دھوبیوں کو حواریون کہا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھی صوفی باصفاء باطن کی صفائی رکھتے تھے اسلئے ان کو حواریون کہا گیا ہے۔
جنات اور پریاں ہماری باطن کی دنیا میں بھی ہیں اور اس کا ذکر قرآن میں ہے۔ تو جنت اور آخرت میں بھی ہوسکتی ہیں۔ سورۂ رحمن میں تو دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہی مخلوق جنت میں ہمارے ساتھ کھلے عام بھی ہوسکتی ہے۔اگر اس کی جنس الگ ہے تو جنسی تعلق کاامکان نہیں رہتاہے۔ ابلیس اور اس کی مادی بھی جنت میںپہنچ گئے تھے۔ جس کو اللہ نے آگ سے بنایا ہے اور ہمیں مٹی سے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھ دیا ہے کہ ” ابلیس اور اس کی بیگم نے حضرت آدم و حواء کو اپنے جنسی تعلق کا مشاہدہ کرایا تھا جس کے بعد یہ لوگ بھی اس شجرہ ممنوعہ کی شہوت میں پڑگئے۔ اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کردی”۔ قرآن میں تفصیل کے ساتھ قصے کا ذکر ہے ،جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے درخت کے قریب جانے سے منع کیا ہے پھر فرمایا کہ فاکلا” پھر دونوں نے اسے کھایا” تو اس ازواجی تعلق پر کھانے کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اکل کے معنی صرف کھانے کے نہیں بلکہ کھجلانے کے بھی ہیں۔ اکل راسہ ”اس نے اپنا سر کھجلایا”۔ (المنجد: عربی ، ارود لغت)
اللہ نے قرآن میں بیوی سے جنسی تعلق کیلئے کئی الفاظ استعمال کئے ہیں۔ باشر، تغشی، لامستم ”براہ راست ہونا، چادر میں چھپانا، ہاتھ لگانا”۔ لیکن قرآن میں وطی کا لفظ جنسی تعلق کیلئے کہیں نہیں آیا ہے اور فقہ کی کتابیں اس سے بھری ہوئی ہیں۔ تہجدکا وقت اشدوطائً واقوم قیلًا”نفس کو کچلنے کا ذریعہ اور بات سمجھنے کیلئے زیادہ اچھا ہوتا ہے”۔ عربی میں گھاس کو کچلنے کیلئے وطأ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں بیگمات کو شوہروں کیلئے حرث قرار دیا گیا ہے اور حرث کھیتی کو بھی کہتے ہیں اور اثاثہ (ایسٹ) کو بھی ۔ اثاثہ ایسٹ کے بھی دو اقسام ہیں۔ مال ودولت کو بھی کہتے ہیں اور عناصر کی صفات کوبھی کہتے ہیں۔ عناصر سے ان کی صفات جدا نہیں ہوسکتی ہیں لیکن مال کا متبادل ہوتا ہے اور قرآن میں بیگمات کو جس طرح کا اثاثہ قرار دیا گیا ہے، تمام اہل ذوق اپنے اپنے ماحول کے مطابق اسکا معنیٰ لیں گے۔ جب کوئی بیٹا زیادہ قابل اعتبار ہو گا تو اس کا باپ اس کو اپنا اثاثہ (ایسٹ) قرار دے گا۔
قرآن کا یہ کمال ہے کہ لوگوں کی اپنی اپنی ذہنی سطح کے مطابق اسکے معانی سمجھ میں آتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذو القرنین کا ذکر کیا ہے کہ وہ مغرب کے آخری کنارے تک پہنچا تو اس نے سورج کو پانی اور کیچڑ میں اترتے دیکھا۔ ظاہر ہے کہ سورج تو اپنی جگہ پر کہکشاؤں کی جھرمٹ میں اپنی منزل کی طرف اپنی رفتار سے گامزن ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے لیکن جب ذوالقرنین کا زمانہ تھا تو اس نے اپنی ذہنیت ہی کے مطابق سورج کو کیچڑ میں اترتے دیکھا تھا۔ اچھے لوگوں پر غلط تہمت نہیں لگائی جاسکتی ہے کہ انہوں نے حوروں کے غلط تصورات پیش کرکے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ البتہ حوروں کے تصورات کے باجود بھی بہت لوگوں نے چند ٹکوں کی خاطر سودی نظام کو جائز قرار دیدیا ہے۔ اللہ کیلئے نہ کرتے تو حوروں سے شادی کیلئے ہی چند ٹکوں کی خاطر دین کو نہیں بیچنا تھا۔
اللہ والوں نے راتوں کو تہجد میں قرآن سمجھنے کیلئے اپنی عقل کو استعمال نہیں کیا مگر اس مشقت اور نفسوں کو کچلنے کے باعث علة مشائخ کی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ یہ بھی گھاٹے کا سودا نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن جس مقصد کیلئے نازل کیا گیا تھا اس کو صرف رونے دھونے اور پیشانیوں کو سجدوں کے نشانات سے چمکانا مقصد نہیں تھا۔ علامہ اقبال نے کہا کہ ابلیس کا بڑا خوف تھا کہ سحرگاہی کے آنسوؤں سے وضو کرنے والے بہت خطرناک ہیں لیکن انکے خشک لہجوں میں مٹھاس اسلئے نہیں آسکتی تھی کہ قرآن بہت کامل معاشرے کی تشریح پیش کرتا ہے جس میں اچھی معیشت، معاشرت ، سیاست ، حکمت، فقاہت ، بڑی زبردست سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ترقی کی سب ہی راہیں اس میں موجود ہیں۔ فقہ سے زیادہ سائنس کے حوالے سے آیات ہیں۔ ہمارا مولوی طبقہ تو فقہ کی دنیا میں بھی آج سے نہیں پتہ نہیں کب سے پنچر ہوچکا۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ کی شکایت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے کہ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھٰذالقراٰ ن مھجورًا ”اور رسولۖ عرض کرینگے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ القرآن
پہلے دارالعلوم دیوبند کے اکابر کے استاذشیخ الہند محمود الحسن نے مالٹا کی جیل سے رہائی کے بعد یہ مشن بتایا کہ مدارس کے نصاب کو چھوڑ کر قرآن کی طرف امت کو متوجہ کیا جائے۔ لیکن ایک شاگرد مولانا انور شاہ کشمیری نے درسِ نظامی کی تدریس جاری رکھی، مولانا الیاس نے تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی، مولانا اشرف علی تھانوی نے تصوف کو زندہ رکھا ، مفتی کفایت اللہ نے فتوؤں کا کام زندہ رکھا، مولانا حسین احمد مدنی نے سیاست کا کام کیا اورصرف مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنے استاذ کی بات مان لی۔ امام انقلاب کہلائے لیکن ان پر کفروگمراہی کے فتوے لگائے گئے اور جب مولانا کشمیری کو آخر میں احساس ہوا تو معافی مانگ لی اور فرمایا کہ ” میں نے زندگی ضائع کردی ہے”۔ آج علماء دیوبند مختلف شعبۂ جات میں مذہب کو تجارت گاہ بناچکے ہیں۔ہر شعبے میں ماحول زوال کی آخری حد کو چھورہاہے۔ اللہ سب کو ہدایت عطاء فرمائے ۔آمین