Home Unity ولا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونا من الظٰلمین

ولا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونا من الظٰلمین

429
0

adam-and-hawwa-habeel-and-qabeel-shajra-nasab-mubashrat-molana-ubaidullah-sindhi-gomal-university-kushti-college-students

’’اور اس شجرہ کے قریب نہ جاؤ ،ورنہ دونوں ظالموں میں سے ہوجاؤگے‘‘۔
حضرت آدم علیہ السلام جنت میں تنہائی محسوس کررہے تھے، انسان کوانسان ہی مانوس کرسکتا ہے۔ اس انسیت کا تعلق مرد اور عورت کے خاص تعلق سے جوڑنا بھی درست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے بارے میں فرمایا :لیسکن الیہا ’’تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو‘‘۔جوان مرد اور جوان عورت کا جوڑا ایک ہی جگہ رہتا ہوتو ان سے فطری طور پر یہ خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ آپس میں کشتی لڑکرحدود سے تجاوز کرتے ہوئے معاملے کو خراب نہ کردیں۔ معاملے کی اس خرابی کو کیا نام دے سکتے ہیں؟۔ پٹھان اور بلوچ مختلف اشیاء میں کھانے پینے اور مذکر ومؤنث کیلئے ایک ہی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ فارسی زباں بڑی آسان اور مختصر ہے اور عربی زباں بہت وسیع اوربہت بڑے گرامر والی ہے۔ عربی کے لغت کو بھی دوسری تمام زبانوں پر ایک لامحدود فوقیت حاصل ہے۔
فلاوربک لاےؤمنون حتی یحکموک فیما شجربینھم ’’پس نہیں تیرے ربّ کی قسم کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے جب تک اپنے درمیان تنازعات میں آپ کو اپنا حکم ( فیصلہ کرنیوالا) تسلیم نہ کرینگے‘‘۔ (النساء : 65)
جھگڑا اور تنازع دو افراد کے درمیان یہاں تک پہنچے کہ کسی تیسرے کو بھی اس میں فیصل مقرر کرنے کی ضرورت بھی پڑے تو بھی وہ شجرہ ہے۔ مشاجرات صحابہؓ کا مطلب صحابہؓ کے وہ تنازعات ہیں جو نبیﷺ کے بعد پیش آئے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا علیحدگی تک پہنچنے کی صورت اختیار کرلے تو اللہ نے حکم دیا کہ فابعثوا حکماً من اہلہ وحکماً من اہلہا ’’پھر تشکیل دو ایک حکم مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے ‘‘۔ لیکن اگر میاں بیوی اس حد تک بات پہنچنے سے پہلے خود ہی صلح کرلیں تو فبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحا ’’ شوہر عدت میں اصلاح کی شرط پر انکو لوٹانے کا حق رکھتا ہے‘‘۔ اگرچہ کم درجہ جھگڑے کی بات ہو بلکہ کھیل پر بھی اسکا اطلاق ہوتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے ایک صحابیؓ سے فرمایا کہ ’’ کنواری لڑکی سے شادی کرتے وہ تجھ سے کھیلتی اور آپ اس سے کھیلتے‘‘۔ اس پر بھی جھگڑے اور شجربینھما کا اطلاق ہوتا ہے۔ ڈبرہ گاؤں علاقہ گومل ٹانک کے ایک دیوانہ شخص سردار بیٹنی نے کالج کے لڑکوں کی طرف سے چھیڑنے پر کہا کہ ’’ تم سمجھتے ہو کہ تمہارے والدین تمہیں پڑھنے کیلئے کالج بھیجتے ہیں تم میں جو شریف ہیں ان کی مائیں اسلئے بھیجتی ہیں تاکہ اپنے شوہروں سے کشتی لڑیں اور جو بدمعاش ہیں ان کی مائیں پرائے لوگوں کیساتھ ہی کشتی لڑتی ہیں‘‘۔ اس پاگل کو چھیڑنے کی پھر جرأ ت کسی میں نہیں ہوسکی ۔ انسان کیلئے الفاظ بھی زبردست عبرت کا ذریعہ ہیں۔
اللہ نے آدم ؑ و حواء ؑ کو منع فرمایا:الاتجوع ولاتعری ’’تاکہ تم بھوکے ننگے نہ ہوجاؤ‘‘۔ کوئی ایسا درخت نہیں جس کا ذائقہ چکھنے سے کوئی بھوکا ننگا ہوجائے۔ البتہ جنسی تعلق سے جو شجرۃ النسب بنتا ہے اس سے بھوکے اور ننگے ہونے کی بات آتی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھا : ’’شیطان نے اپنی بیوی کیساتھ سامنے مباشرت کی اور حضرت آدم ؑ و حواء ؑ کو دعوت دی ‘‘۔ :قال ھل ادلکم علی شجرۃ الخلد والملک لایبلی ’’ ابلیس نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایسے شجرہ کی نشاندہی کردوں جو ہمیشہ کیلئے ہو اور ایسی دولت ہو جو نہ ختم ہونے والی ہو؟‘‘۔ اور کہا تھا کہ ’’ ما نہا کماربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین ’’ تمہارے ربّ نے صرف اسلئے منع کیا تاکہ تم فرشتے بن جاؤ‘‘۔ فرشتوں کے اندر جنسی خواہش کا تصور نہیں ہوتا، وہ معصوم گناہ کر ہی نہیں سکتے ہیں۔
فلماذاقا الشجرۃ بدت لھما سوء اتھما ’’پھر جب ان دونوں نے اس شجرہ کا ذائقہ چکھ لیا تو ان دونوں کی شرمگاہیں ان کیلئے ظاہر ہوگئیں‘‘۔ ونادا ھما ربّھما ألم ان أنھکما عن تلکما الشجرۃ ’’اور جب ان دونوں کے ربّ نے پکارا کہ کیا میں نے تم دونوں کو منع نہ کیا تھا ، تم دونوں آپس کے اس شجرہ سے ؟‘‘۔ قرآن کی اس آیت سے یہ وضاحت سامنے آتی ہے کہ یہ شجرہ آپس کے تعلق سے متعلق تھا اور کوئی خارجی چیز نہ تھی ۔ورنہ قرآن کے الفاظ میں عن تلک الشجرۃ کی بات ہوتی۔اگلی آیات میں تنییہ ہے کہ’’ اے بنی آدم ! بیشک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے تاکہ تم اپنی شرمگاہوں کو چھپاؤ اور زینت کا ذریعہ بھی ہے اور تقویٰ کا لباس بہترین ہے۔ یہ اللہ کی آیات ہیں ہوسکتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔Oاے بنی آدم ! شیطان تمہیں ہرگز ہرگزفتنے میں نہ ڈالے، جیسا کہ اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکال دیا اوران سے ان کا لباس اتروادیا تاکہ انکی شرمگاہیں ایکدوسرے کو دکھادے۔ بیشک شیطان تمہیں دیکھتا ہے ، وہ اور اس کا قبیلہ اس طرح سے کہ تم ان کو نہیں دیکھ سکتے، بیشک ہم شیطانوں کو بناتے ہیں ان لوگوں کا سرپرست جو ایمان نہیں لاتے O۔ اور جب یہ لوگ بے حیائی کے مرتکب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسطرح عمل کرتے ہوئے پایا اوراللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ کہہ دیجئے کہ بیشک اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ہے۔ اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہو جس کو تم نہیں جانتے ؟۔ (الاعراف : آیت19سے 28 تک تفصیل سے دیکھ لیجئے گا)
حدیث ہے کہ ’’اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حواء ؑ نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی‘‘۔ ( بخاری)یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر بنی اسرائیل مذہبی تحریف، غلو، تعصبات اور عذاب کا شکار نہ ہوتے بلکہ دنیا کی ترقی کی طرف توجہ دیتے تو دنیا کب سے اس کمال تک پہنچ جاتی کہ گوشت خراب نہ ہوتا۔ تسخیرکائنات میں بجلی کب کی مسخر ہوجاتی اور دنیا لوگوں کیلئے جنت بن جاتی۔ حضرت حواء ؑ کی کشش سے نافرمانی کاارتکاب نہ ہوتا تو کوئی عورت اپنے شوہر کی نافرمانی نہ کرتی۔حضرت نوح ؑ اور حضرت لوطؑ کی بیگمات کے بارے میں فرمایا کہ کانتا تحت عبدین صالحین فخانتاھما ’’وہ دونوں خواتین دو نیک بندوں کے زیرِ دست تھیں پھر ان دونوں سے دونوں نے خیانت کی‘‘۔ حضرت آدم ؑ و حواء ؑ سے نافرمانی ہوگی تو یہ سلسلہ انسانوں کے خمیر میں بھی منتقل ہوتا رہا۔ قابیل نے بھائی ہابیل کو اپنی ناجائز جنسی خواہش کیلئے قتل کردیا۔ حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط ؑ کی بیویاں کفر تک پہنچیں۔ سورۂ تحریم میں دوکافر خواتین کیساتھ دو مؤمنات کی مثال ہے ، حضرت مریم اور فرعون کی بیوی۔ سورۂ تحریم میں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کو تنبیہ ہے جنہوں نے نبی ﷺ کی نافرمانی میں سرگوشی کی۔ اللہ نے انسان کو نافرمانی سے بچنے کیلئے حدود و قیود میں رہنے کی قرآن میں تنبیہ، وعظ، احکام اور واقعات بیان کئے ہیں۔ جب قرآن وسنت کا درست مفہوم اجنبیت سے نکال کر عوام و خواص کے سامنے آئے تو نہ صرف چھوٹی بڑی گمراہیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ ساری دنیا اسلامی نظام کے قیام پر متفق ہوجائے گی۔ کوئی حدیث کا منکر ہے تو کوئی قرآن کا غلط مفہوم پیش کرکے اسلام کی حقیقت کو سمجھنے میں بڑی ٹھوکر کھاتاہے اور کوئی مذہبی کاروبار کررہاہے۔