پی ٹی ایم اگر مظلوم تحفظ موومنٹ ہوتی تو اقتدار میں آتی

937
0

general-zia-ul-haq-zulfiqar-ali-bhutto-mrd-murtaza-bhutto-mufti-mehmood-ghulam-ghaus-hazarvi-islami-referendum-ayub-khan-establishment-ptm

بانی پیپلزپارٹی ذوالفقار بھٹو نے جنرل ایوب کے ہاں سیاسی پرورش پائی ۔ آزادانہ انتخاب کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوا۔ مجیب الرحمن کو اقتدار نہ دیا گیا تو بنگلہ دیش میں بغاوت پیدا ہوئی یا پھر اقتدار مل جاتا تو بنگلہ دیش کو الگ کرنا تھا؟ یہ الگ بحث ہے۔ کہا یہ جارہاہے کہ فوج اور سیاستدان خود ہی بنگلہ دیش سے جان چھڑانے کیلئے کوشاں تھے۔ مجیب کے چھ نکات بھی خود بناکردئیے تھے۔ 65ء کی جنگ میں بھی اپنوں کی سازش پر بھارت چڑھائی کرکے آیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مسلم اتحاد کیلئے آغاز کیا مگر سیاسی حریفوں کو انتقام کا نشانہ بنایا اور اپنا اقتدار قائم کرنے کیلئے دھاندلی کا سہارا لیا، جنرل ضیاء نے جمہوریت کو بھٹو سمیت کچلا، نوازشریف کاطویل المدت تجربہ ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے باری باری اقتدار سنبھالا اور تحریک انصاف کو اقتدار مل گیا یا اقتدار میں لایا گیا ؟۔ دونوں باتوں کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ جس مسلم لیگ کیخلاف ولی خان لڑائی لڑ رہے تھے، ولی خان مرحوم نے لیگ سے اتحاد کیا تو ان کی نظریاتی سیاست ختم ہوگئی۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے ن لیگ کیساتھ اتحاد کرکے نظریہ دفن کیا۔ جن کیخلاف کھڑے تھے ان کی گود میں بیٹھنے کے بعدکہنے کیلئے کچھ نہ رہا۔
عمران خان نظریاتی نہیں، کھلاڑی نے میدان اسلئے مار دیا کہ ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر جو بیانیہ زرداری کیخلاف تیار کیا، اسکے دلدل میں خود بھی پھنس گئی ۔ ایم کیوایم نے قائد الطاف سے مجبوری میں بغاوت کی ،جن رہنماؤں نے کٹھن حالات میں الطاف حسین کو نہ چھوڑا ، دیواروں پر نعرے لکھے کہ جس نے قائد کو بدلا اس نے باپ کو بدلا، برطانوی پولیس نے الطاف سے بڑی غیر قانونی رقوم برآمد کرلی، لیکن پھر بھی رہنماؤں کو بدعنوانی پر کارکنوں سے پٹوادیا۔ایم کیوایم نے قوم کو جس حال میں رکھا ، اگر فوج کا سخت گیر رویہ نہ ہوتا تو یہ آپس میں ایکدوسرے کی جان عذاب میں ڈالتے۔الیکشن میں کچھ تو نئے چہرے آتے۔
پاکستان میں متعدد لسانی اکائیاں ہیں، مذہبی افرادنے ایکدوسرے کیخلاف فرقہ وارانہ فصیلیں کھڑی کرکے مذہبی جماعتوں کو محدود کردیا ۔ اسلام کمزور اور فرقہ واریت طاقتور ہے۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا، فرقوں نے نظریات کی طرف دھکیل دیا۔ جمعیت علماء ہند گانگریس اور جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ کی دم چھلہ جماعتیں تھیں۔ مجلس احرار نے انگریز کیخلاف قربانیاں دیں اور پاکستان بنا توکشمیر جہاد کے حق میں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی جدوجہد کی۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور سرکاری علماء ومشائخ نے انکا ساتھ نہ دیا ۔ جن لوگوں نے ساتھ دیا ،ان کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کی قوم پرستی سے نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ایجنٹ کا الزام لگانے سے پرہیز کیا جائے۔ اگر وہ مظلوم تحفظ موومنٹ سے اپنی تحریک کا آغاز کرتے تو پاکستان بھر میں انکے مشن کو پذیرائی حاصل ہوسکتی تھی۔ فاطمہ جناح پر بھی غداری کا الزام لگا اور مادرملت فاطمہ جناح کے فرزندوں کو اس ماں کے دوپٹے میں چھپ کر کسی پر غداری کا الزام لگانے میں شرم کرنی چاہیے جس پر فوجیوں نے غداری کا الزام لگایا تھا۔ تحریک انصاف کے علاوہ عوام کے پاس کوئی دوسری چوائس نہ تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کی بھی پوری ہمدردیاں پی ٹی آئی کیساتھ تھیں۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی متبادل ملٹی نیشنل کمپنی اب صرف تحریک انصاف ہے۔ اشتہارات سے ملٹی نیشنل کمپنی جس طرح اپنی مارکیٹنگ سے دھاک بٹھا دیتی ہے وہ دیسی کمپنیوں کی اوقات نہیں ہوتی ،اسی طرح ملٹی نیشنل سیاسی جماعت بھی اپنا مقام پیدا کرتی ہے۔ یہ قوم کی ضرورت و مجبوری بھی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو جب دوسروں کی وفاداری پر یقین نہ ہوگا اور تحریک انصاف شفاف انداز میں واحد قومی سیاسی جماعت کا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائے گی تو اسٹیبلشمنٹ اسی کو سپورٹ کریگی۔الزامات لگیں نہ لگیں مگر فضاء ایک ہی ہے۔
بے خودی کو کر بلند اپنا کہ ہر الیکشن سے پہلے
تیری اوقات سے زیادہ سیٹوں کی بھرمار مل جائے
جسطرح نسوار، سگریٹ، چرس، کوکین، ہیروئن، حقہ،بھنگ، افیون اور دیگر نشہ آور اشیاء کی علت ماحول سے پڑ جاتی ہے ،اسی طرح اشتہارات کا ماحول ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چیزوں کو معاشرے میں مقبول کردیتا ہے۔ تحریک انصاف نے اشہارات، ٹی وی چینلوں اور مقابلے میں کسی دوسری اچھی جماعت نہ ہونیکی بنیاد پر صرف اپنے بل بوتے پر کامیابی اسلئے حاصل نہ کی کہ پرانے چورن کووہ نئی پیکنگ میں بیچ رہی تھی۔ سمجھ دار لوگ اپنے پرانے اسٹاک پر گزارہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کا نظریہ بھی اسکے نام کی طرح مکس تھا۔ جیل میں بند نوازشریف کے بارے میں لوگوں کو یقین تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے کسی نظریاتی جنگ پر نہیں بلکہ اپنے کرپشن کے مقدمات میں محصور ہوگیا ہے۔
ایک آواز بہت واضح تھی جس کو میڈیا نے بالکل نظر انداز کیا لیکن سوشل میڈیا نے اس کو کچھ نہ کچھ پذیرائی ضرور بخشی۔شمالی اور جنوبی وزیرستان سے PTM کے محسن داوڑ اور علی وزیر نے اپنی قومی اسمبلی کی نشستیں جیت لی ہیں۔ بعض چینل پر بیٹھ کر صحافی کہتے ہیں کہ پشتونوں نے غداروں کی سیاست ختم کردی ۔ محمود خان اچکزئی ، اسفندیارولی، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق سب کو شکست دیکر تحریکِ انصاف کو بھاری اکثریت سے جتوادیا ۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں اگر وہ بھی PTMکی طرح کھل کر آواز بلند کرتے تو وہ بھی کامیاب ہوجاتے؟۔ ایسے کم عقل صحافی دانشور نہیں بلکہ گویے،بک بک ،چرب زبانی اور کرایے کے پالشی و مالشی ہیں جنکا مال مسالہ نہیں بکتا اور ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔
چند چینل، صحافی اور فوج کے ریٹائرڈ افسران کھل کر تحریک انصاف و دھاندلی کی حمایت نہ کرتے تو فوج الزامات کی اس طرح سے لپیٹ میں بھی نہ آتی۔ اس سے ملک وقوم کا زبردست نقصان ہے کہ یہ تأثر عام کیا جائے کہ فوج کسی سیاسی جماعت کا ساتھ دے رہی ہے۔ سندھ کے ڈی جی اے، مصطفی کمال اور تحریک لبیک کے الزامات نے PTMکے نعروں سے زیادہ پاک فوج کو نقصان پہنچایا۔
فافن نے50قومی اسمبلی اورغالباً127 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں بڑی بے قاعدگیوں کی رپوٹ دی ہے۔ ہنگ پارلیمنٹ کو بے قاعدگیوں سے دھکا نہ ملتا تو ہینگ ہوجاتا۔اور پھر بھی الزام خلائی مخلوق کے کھاتے میں جانا تھا۔ عمران خان کو چاہیے تھا کہ بیگم اور خواتین مزاج مردوں سے مشاورت کے بجائے واضح کہہ دے کہ پنجاب اور مرکز میں مجھے سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں۔ سینٹ کی طرح قومی اسمبلی میں بھی آزاد علی وزیریا محسن دواڑ کو وزیراعظم بنالیتے ہیں جبکہ پنجاب میں آزاد محسن جگنو کو وزیراعلیٰ بنادیتے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سپورٹ بھی حاصل کی جائے تو یہ قومی حکومت جمہوری انداز میں قانون اور اصول کو بالادست رکھ کر قومی مجرموں کو بلاامتیاز کٹہرے میں لاسکتی ہے۔ عسکری پارک کراچی کا جھولا چین سے خریدا کس نے تھا؟۔ جس نے ایک جان لی ۔ مجرم کو سزا ملنی چاہیے۔