جمہوریت اور پاکستان میں جمہوری اقدار کا پسِ منظر

1076
0

general-zia-ul-haq-zulfiqar-ali-bhutto-mrd-murtaza-bhutto-mufti-mehmood-ghulam-ghaus-hazarvi-islami-referendum-ayub-khan-establishment

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے بعد تحریک انصاف نے پارٹی کی حیثیت سے اپنا مقام بنالیا۔ ایک وقت تھا کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں قومی اتحاد کے نام پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوگئیں پھر جنرل ضیاء نے 11سال اقتدار پر قبضہ کیا۔ 1985ء میں غیرجماعتی الیکشن کا سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تو بڑے پیمانے پر عام لوگ بھی اسمبلی کی زنیت بن گئے۔ قائداعظم کے بعد قائد عوام کا خطاب ذوالفقار علی بھٹو کو ملا، غیرجماعتی الیکشن نے محمد خان جونیجو کو قائد جمہوریت بنادیا۔جبکہ MRDکے نام سے بحالی جمہوریت کی تحریک چل رہی تھی۔ جنرل ضیاء نے جونیجو کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ جنرل ضیاء حادثے کا شکار ہوگئے توفوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے جمہوریت بحال کردی۔ 1980ء میں عام انتخابات میں عوام نے پاکستان کی پہلی مسلمان وزیراعظم بینظیر بھٹو کومنتخب کیا تھا جبکہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی تھی۔
بدقسمت عوام کی نمائندہ وزیراعظم بینظیر بھٹو نے لالچ میں بحالی جمہوریت کے ساتھی نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں جنرل ضیاء کے ساتھی غلام اسحاق خان کو صدر بنانے میں کردار ادا کیا، بینظیر بھٹو کی اس روش نے مرتضیٰ بھٹوشہید کو علیحدہ پارٹی بنانے پر مجبور کیا۔ بینظیر بھٹو نے بیرون ملک سے آمد کے بعد اپنے دیرینہ ساتھی غلام مصطفی جتوئی کو چھوڑ دیااور جنرل ضیاء کے ساتھی سید یوسف رضا گیلانی سے دوستی اپنالی۔حالانکہ بحالی جمہوریت کے مشکل ترین دور میں جب بینظیر بھٹو بیرونِ ملک ایک آزادانہ اور پر آسائش زندگی گزار رہی تھی توغلام مصطفی جتوئی نے پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھالی تھی۔ مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء نے ایم آرڈی میں شمولیت کی وجہ سے گمراہی وکفر کا فتویٰ لگایا، ایم آرڈی میں وہی قومی اتحاد کی جماعتیں تھیں جس کی قیادت نظام مصطفی کے قائد مفتی محمودنے کی تھی مگر ایک پیپلزپارٹی کا اضافہ ہوا تھا اور جماعتِ اسلامی کی اس میں کمی تھی۔
مولانا فضل الرحمن کیلئے یہ فتویٰ نیا نہ تھا بلکہ 1970ء میں جماعت اسلامی سے مل کر بڑے دیوبندی علماء ومفتیان نے جمعیت علماء اسلام کے اکابر پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ قومی اتحاد میں جماعتِ اسلامی کی شرکت سے ناراض ہوکر مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنا دھڑا بناکر پیپلزپارٹی کیساتھ اتحاد کرلیا۔ ایرانی نژاد نصرت بھٹو نے دم تعویذ اور جھاڑ پھونک کے بہانے غلام غوث ہزاروی کو قریب کرلیا تھا۔ ایم آر ڈی کے دور میں جب جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کیساتھ تھی تو مولانا فضل الرحمن کہتے تھے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کی رائے درست تھی ، قومی اتحاد میں جماعت اسلامی کو شریک کرنا مفتی محمود کا فیصلہ بالکل غلط تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے 1981ء جمن شاہ لیہ پنجاب میں تقریر کی ’’ پاکستان میں فوج کی حیثیت آنکھوں کیلئے پلکوں کی طرح ہے۔ پلکوں کے بغیرآنکھیں بدنما اور غیرمحفوظ ہیں۔فوج نہ ہو تو ملک کی خوبصورتی اور حفاظت نہ ہو اگر پلکوں کا ایک بال بھی آنکھ میں گھسے تو ناقابلِ برداشت ہے۔ اب تو ساری پلکیں آنکھوں میں گھسی ہیں۔ یہ دلیل غلط ہے کہ پاک فوج اس ملک کی حفاظت کرتی ہے اسلئے کہ وہ اس ملک پر حکمرانی کی حقدار ہے۔ لوگ تنخواہوں سے چوکیدار رکھ لیتے ہیں تو کیا اپنے تھمائے ہوئے بندوق سے چوکیدار گھر کے مالک کو پرغمال بنانے کا حق رکھتا ہے؟۔ ہرگز نہیں!۔ چوکیدار کا کام اپنی ڈیوٹی انجام دینا ہوتا ہے اور بس‘‘۔
جنرل ضیاء نے شرعی بل نافذاوراسلامی ریفرینڈم کیاتو مولانا فضل الرحمن نے بھرپور مخالفت کی۔ مولانا سمیع الحق کا جنگ میں انٹریو شائع ہوا ، جس میں مولانا سمیع الحق نے کہا کہ شریعت بل میں کچھ منافق روڑے اٹکا رہے ہیں، پوچھا گیا کہ انکے خلاف آپ کیا کرینگے؟۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ انکے خلاف جہاد کرینگے۔ پوچھا گیا کہ یہ منافق کون ہیں؟ تو مولانا سمیع الحق نے کہا کہ موجودہ دور میں منافق کا پتہ نہیں چلتا ، نبیﷺ کے دور میں منافق تھے۔
بینظیر بھٹو حکومت کاتختہ الٹنے کیلئے اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا ، صدر غلام مصطفی جتوئی اور سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے، نواز شریف پنجاب کے صوبائی صدر تھے۔بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی اور دونوں طرف سے خریدوفروخت جاری تھی۔ جمعیت علماء اسلام کے ارکان بھی تحریک عدم اعتماد کا حصہ تھے لیکن وہ آزاد گھوم رہے تھے۔ چانگا مانگا میں مسلم لیگ نے منڈی لگار کھی تھی اور سوات میں بینظیر بھٹو نے اپنے ارکان کو محصور رکھا تھا۔ خاتونِ اوّ ل بشریٰ پنکی مانیکا کے سسر غلام محمد مانیکا نے نوازشریف کی جماعت سے نکل کر تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنایا تھا اور پیپلزپارٹی نے اس کو ایک اور ساتھی سمیت خرید لیا تھا۔پھر صدرغلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی اور اسلامی جمہوری اتحاد کا صدر الیکشن میں ناکام ہوا۔ مولانا سمیع الحق نے اپنا حق نواز شریف کو دیا، نوازشریف وزیراعظم بن گئے۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں زیادہ اہم کردار جماعت اسلامی کا تھا، جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفور احمد نے بعد میں میڈیا پر بتادیا کہ وہ بالکل خفیہ کردار اور سازش سے لاعلم تھے۔ یہ جماعت اسلامی کا کمال تھا کہ اپنے جنرل سیکرٹری کو بھی لاعلم رکھا گیا تھا۔ مشرف کا ریفرینڈم ہوا تو تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری معراج محمد خان مخالف تھے، عمران خان نے اپنی غلطی بھی تسلیم کرلی مگر پارٹی سے معراج محمد خان کو چلتا کر دیا، تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے عمران خان کے کہنے پر پارلیمنٹ سے استعفیٰ دیدیا مگرعمران خان سمیت تحریک انصاف کا کوئی ممبراستعفیٰ نہ دے سکا۔
ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ایوب خان نے بنایا اور فوج کی طرف سے فری ہینڈ ملنے کے بعد پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریر بن گئے۔ پاکستان کو اتفاق رائے سے ایک آئین دیا جس میں اپوزیشن اور فوج کا اتنا کردار تھا جتنا بھٹو کا تھا لیکن بھٹو نے سول بیوروکریسی کو اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے اعلیٰ افسران کو نکال دیا، فوج میں قادیانیوں کی بڑی طاقت تھی ، پارلیمنٹ کے ذریعے قادیانیوں کو کافر قرار دیکر فوج کو بھی ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، دھاندلی کے ذریعے الیکشن کے نتائج بدل دئیے اور تمام سیاسی قائدین کو بغاوت کے مقدمے میں بند کردیا۔پھر جنرل ضیاء الحق نے تختہ الٹ دیا تو عوام اور سیاسی رہنماؤں نے سمجھا کہ ایک فرعون سے دنیا نے نجات حاصل کرلی۔جنرل ضیاء نے اقتدار کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کئے تو عوام جو پاک فوج کو دل وجان سے چاہتی تھی، 1965 ء کے شہداء کی توقیر، 1971ء کے قیدیوں سے ہمدردی کا جذبہ بھی بہت متأثر ہوا ۔
جنرل ایوب خان نے کہا کہ ’’ ایک فوجی اچھا سپاہی بن سکتاہے مگر اچھا لیڈر نہیں ہوسکتا‘‘۔ ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان نیجو، میاں نوازشریف اور موجودہ عمران خان سبھی بنائے ہوئے لیڈر ہیں۔ان کی پارٹیاں سیاسی چورن ہیں جوعوام کیلئے اقتدار کی صورت میں ٹیسٹ بدلنے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ باقی سیاسی جماعتوں کا حال ان سے بھی زیادہ برا ہے جن کا دُم چھلہ بن کر رہنا ایک مجبوری کا عمل ہے۔ حقیقی جمہوریت کیلئے جمہوری مزاج کے حامل لیڈرکی ضرورت ہے۔