Home Unity مولاناعتیق گیلانی قرآنی علوم و معارف میں گہری بصیرت رکھتے ہیں. مفتی...

مولاناعتیق گیلانی قرآنی علوم و معارف میں گہری بصیرت رکھتے ہیں. مفتی محمد حسام اللہ شریفی

473
0

mufti-hussam-ullah-sharifi-daily-jang-news-paper-Federal-Shariat-Court-shariat-appellate-bench-supreme-court-Shajar-e-Mamnooa-qissa-adam-o-iblees

روزنامہ جنگ کراچی حضرت مولانا مفتی محمد حسام اللہ شریفی صاحب مدظلہ العالی و دامت برکاتہم العالیہ
*رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن و سنت رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ * ایڈیٹر ماہنامہ قرآن الہدیٰ کراچی اُردو انگریزی میں شائع ہونیوالا بین الاقوامی جریدہ *مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان *مشیر شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ پاکستان * رجسٹرڈ پروف ریڈر برائے قرآن حکیم مقرر کردہ وزارت امور مذہبی پاکستان * خطیب جامع مسجد قیادت کراچی پورٹ ٹرسٹ ہیڈ آفس *کتاب و سنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی جنگ گروپ
نے تحریر فرمایاکہ( ۱۳ رمضان المبارک ۱۴۳۹، 29-5-18) اللہ رب العزت نے اس دنیا میں مختلف انسان پیدا کرکے ان میں مختلف صلاحیتیں رکھی ہیں۔ یہ انسان کسی کارخانے اور فیکٹری میں نہیں ڈھلے اور تیار نہیں ہوئے کہ ایک ہی مشین میں ڈھلے ڈھلائے برآمد ہوئے ہوں اور ہر انسان تمام معاملات میں بالکل یکساں ہو۔ یہ انسان اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور ان میں مختلف استعداد اور صلاحیتیں رکھی ہیں تاکہ دنیا کا کاروبار چل سکے۔ کوئی شخص تحقیق اور ریسرچ کے کام میں مہارت رکھتا ہے، کوئی تصنیف و تالیف میں دلچسپی رکھتا ہے، کسی کو درس و تدریس سے شغف ہوتا ہے، کسی کو شعر و شاعری سے لگاؤ ہوتا ہے۔ غرض مختلف لوگ مختلف کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ مولانا عتیق الرحمن گیلانی قرآنی علوم و معارف میں گہری بصیرت رکھتے ہیں اور کتاب و سنت کے معارف میں تحقیق اور ریسرچ کے کام میں اپنے شب و روز بسر کرتے ہیں اور قرآن و حدیث سے انتہائی قیمتی اور گراں قدر معارف تلاش کرکے عامۃ المسلمین کے استفادے کے لئے پیش کرتے رہتے ہیں۔ پہلے بھی بہت سی ایسی تحقیقات عام لوگوں کے سامنے لائے ہیں جن پر کسی بھی عالم کی پہلے نظر نہیں پڑی تھی اور جسے عام علماء نظر انداز کردیتے تھے۔ اب پھر انہوں نے نہایت قیمتی اور گراں قدر گوہر قرآن و سنت پر تدبر و تفکر کرکے برآمد کیا ہے۔ قصہ آدم و ابلیس قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر اللہ رب العزت نے بیان کیا ہے اور تفصیل کے ساتھ ابلیس لعین کے سازشی ذہن کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انسانوں کے جد امجد حضرت آدم اور اماں حوا کو کس طرح ایک شجر کے پھل سے لذت آشنا کیا۔ یہ’’شجر‘‘ کون سا تھا اس ’’شجر‘‘ کی حقیقت سے مولانا عتیق الرحمن گیلانی نے پردہ اٹھایا ہے۔ اور اپنی تحقیق سے اہل علم و دانش کو چونکا دیا ہے۔
یہ سعادت اللہ رب العزت نے مولانا عتیق الرحمن گیلانی کیلئے مقدر کی تھی کہ وہ اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں اور عامۃ المسلمین کے غور و خوض کیلئے ایک اہم پیش رفت کریں کہ وہ ’’شجر‘‘ جس کا ذکر خالق کائنات نے اس دنیا کی پیدائش کے سلسلے میں کیا ہے وہ کون سا ’’شجر ممنوعہ‘‘ ہے۔
مولانا عتیق الرحمن گیلانی کے ذہن رسا نے وہ کام کیا ہے جس پر دوسروں کے ذہن کی رسائی نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ مولانا گیلانی کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرمائے اور ہم عام لوگوں کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین