اسلام کو اجنبیت سے نکالنے کیلئے درست راہ کا انتخاب 

595
0

islam-and-strangeness-unfamiliarity-right-way-to-be-out-reform-yousuf-ludhyanvi-asar-e-hazir-book

بدء الاسلام غریبا فسیعود غریبا فطوبیٰ للغربیٰ (الحدیث)
نبیﷺ نے فرمایا: اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا، عنقریب یہ پھر اجنبی بن جائیگا، پس خوشخبری اجنبیوں کیلئے۔ قرآن نے بار بار اس بات کو دھرایا ہے کہ’’ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو‘‘۔ ایک جگہ اللہ نے اولی الامر کی بھی اطاعت کا حکم دیا ہے مگر ساتھ میں یہ واضح کردیا ہے کہ’’ اگر کسی بات میں تمہارا تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ اور اسکے رسول کی طرف لوٹادو‘‘۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں قرآنی آیات اور احادیث کا جس طرح سے حشر کیا ہے ، بقول مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہیدؒ کے اس کی تحریف اور حقائق کو مسخ کرنے کا انداز دیکھ کر وحوش وطیور بھی الامان والحفیظ سے صدائے احتجاج بلند کررہے ہوں، مولانا یوسف لدھیانویؒ کی کتاب ’’ عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں‘‘ کا مقدمہ اور احادیث کی تشریحات سے مفتی تقی عثمانی کی کتاب میں انہی احادیث کا اندراج دیکھ کر موازنہ کرکے دیکھا جائے۔
امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی فکر قدرے بہتر تھی لیکن ایک طرف یہ کہنا کہ نبیﷺ نے عرب وعجم اور حبشی وایرانی کی تفریق ختم کردی تھی اور دوسری طرف یہ کہنا کہ قرآن میں مسئلہ قومیت کی بنیاد یہ ہے کہ جہاں ایک قوم کے افراد بستے ہوں وہاں دوسرے قوموں کی حیثیت غلاموں اور لونڈیوں کی ہے۔ بڑاغلط اور گمراہ کن ہے۔ فکر شاہ ولی اللہ تنظیم نے تاریخی اعتبار سے جس ذہنیت کی بنیاد پر اسلام کی تشریح کی ہے اس میں بڑی غلط فہمیوں کو حل کرنے کی کوشش ضرور ہے لیکن حقائق سے بہت انحراف بھی ہے۔ بارہ خلفاء سے یزید کی شخصیت کو آٹے سے بال کی طرح نکالنے کی باریک بینی ان کو بھی قبول نہ ہوگی جو دوسرے دن کے چاند کو دور بین سے بھی دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ اس فکر کی خوش فہمی میں رہنے کے بجائے قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
رسول اللہﷺ نے اولی الامر کی حیثیت سے جمہوریت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ حضرت عمرؓ نے حدیث قرطاس کی مخالفت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی وصیت مسلط نہیں فرمائی تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو خلافت کے مسئلہ پر ہنگامہ وفساد کا خطرہ تھا لیکن حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے انصارؓ کی جمع ہونے والی جماعت سے مذاکرہ کیا اور ہنگامی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ خلیفہ بن گئے۔ انصار کے سردار سعد بن عبادہؓ اتنے ناراض ہوئے کہ خلفاء راشدینؓ کے پیچھے نماز تک نہ پڑھتے۔یہ پہلا دور تھا جس سے نبیﷺ کے بعد اجنبیت کی منزل شروع ہوگئی۔ جن علاقوں میں بعض لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا ،ان سے قتال پر شروع میں حضرت عمرؓ بھی متفق نہ تھے لیکن پھر خلافت کو منظم کرنے کی غرض سے مجبور ہوگئے۔ مالک بن نویرہؓ نے زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار نہ کیا بلکہ قرآن میں نبیﷺ کیلئے فرمایا کہ ’’ ان سے صدقات لو، یہ ان کیلئے تسکین کا ذریعہ ہے‘‘۔ جسکے بعد نبیﷺ نے عزیز و اقارب پر زکوٰہ کو حرام کردیا۔ مالک بن نویرہؓ اور اسکے ساتھیوں نے کہا تھا کہ ’’ ہم حجۃ الوداع میں یہ سن کر آئے ہیں کہ من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ (میں جسکا مولا ہوں یہ علی اس کا مولا ہے)۔ اگر حضرت علیؓ کی طرف سے کوئی نمائندہ آئیگا تو ہم اس کو زکوٰۃ دینگے ‘‘۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے قتل کردیا اور اسکی بیوی سے زبردستی عدت کا انتظار کئے بغیر شادی رچالی۔ حضرت عمرؓ نے تجویز پیش کی کہ خالد بن ولیدؓ کو جرم کی پاداش میں سنگسار کردیتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی طرف سے تنبیہ کو کافی قرار دیکر کہا گیا کہ ابھی ہمیں خالدؓ کی ضرورت ہے۔
یہ وہی خالد بن ولیدؓ تھے جنہوں نے رسول اللہﷺ کے دور میں بھی بعضوں کو بے گناہ اور بے دریغ قتل کیا تو نبیﷺ نے بدلے میں قتل نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ ’’ اے اللہ ! گواہ رہنا ، میں خالد کے فعل سے بری ہوں ‘‘۔ فوجی مہمات کے دور میں فوجیوں سے ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں ، اگر غلطی پر سخت سزا دی گئی تو آئندہ ان میں لڑنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہے گی‘‘۔ پاک افوج تو اس دور کی پیداوار ہیں جسکا معاشرتی ، اقتصادی، مذہبی اور سیاسی نظام تباہ حال ہے۔
رسول اللہ ﷺ حضرت عمرؓ کے کہنے پرحدیثِ قرطاس سے رُکے لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کیلئے مشاورت کی اور لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کو کیا جواب دینگے کہ کتنے سخت انسان کو ہم پر مسلط کردیا ؟ مگر ابوبکرؓ نے اپنی صوابدید پر عمرؓ کو نامزد کردیا۔ اولی الامر کے تقرری پر اسلام کی اجنبیت کایہ دوسرا موڑ آیاتھا۔ حضرت عمرؓ نے متعہ، ایک ساتھ تین طلاق، حجِ تمتع اور دوسرے معاملات پر جن اقدامات کی بنیاد رکھی وہ بھی مستند کتب کا حصہ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت عمرؓ کے زخمی ہونے کے بعد تیسرے خلیفہ سے متعلق مشاورت ہوئی تو شوریٰ کے جن ارکان کا انتخاب کیا گیا ،انہوں نے اس بات کا لحاظ رکھا کہ عثمانؓ نے ابوبکرؓ و عمرؓ کے اقدامات کو جوں کے توں عملی جامہ پہنانا تھاجبکہ علیؓ کی چاہت تھی کہ اللہ اور نبیﷺ کی پیروی کرینگے۔ اسلئے حضرت عثمانؓ تیسرے خلیفہ بن گئے۔ بخاری میں عثمانؓ اور علیؓ کا حج تمتع پر اختلاف کا ذکرہے۔اصل اختلاف کو چھوڑ کر دوسروں کے سر غلطیاں ڈالنا دانشمندی نہیں، عثمانؓ اور علیؓ کی شہادت کے علاوہ اسلام کا نظامِ حکومت جمہوریت سے خاندانی وراثت بننا کوئی کم المیہ نہیں تھا اور یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے اجنبی بن جانے کی خبر سنائی تھی۔
لیپا پوتی کے ذریعے اسلام کی اجنبیت کو دور نہیں کیا جاسکتا ۔ نبیﷺ نے علیؓ کو اپنا ولی قرار دیا مگرحضرت عمرؓنے حدیث قرطاس میں یہ وصیت نہیں مانی تھی۔ وشاور ھم فی الامر؛ وامرھم شوریٰ بینھم کے تقاضے بھی عیاں تھے۔ اللہ نے صاحبزادگی کا فتنہ ختم کرنے کیلئے نبیﷺ کو مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں بنایا۔ داماد اور چچازاد کو بھی فتنہ بننے سے روک دیا۔ اموال واولاد کو اللہ نے فتنہ قرار دیا تو صدر اسلام میں اس کا راستہ بھی روک دیا۔ کھلے حقائق سے قادیانی و آغا خانی اور امامیہ شیعہ کی آنکھیں کھل سکتی ہیں۔ سیاسی ومذہبی جماعتوں، مساجد، مدارس اور خانقاہوں میں بھی نالائق جانشینوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ ایران کا نظام بھی حدیث قرطاس ہی کی بدولت قائم ہے۔ چوہدری نثار ن لیگ میں ناپسندیدہ بن گئے مگر اس کی مزاحمت نے مریم نواز کو جانشین بننے سے روک دیا۔ یہ تمغہ کسی نظریاتی کارکن اور رہنما کی قسمت میں ہوتا تو خلافت ونیابت راشدہ بن جاتی۔
علیؓ کا راستہ روکنا قرآن وسنت اور فطرت کے مطابق تھا۔المیہ تھاکہ ولایت کا مفہوم بگاڑا۔ اللہ نے اہل کتاب خواتین سے نکاح کی اجازت دی ابن عمرؓ نے تثلیث کے عقیدے پر مشرک قرار دیکر نکاح ناجائز قرار دیا۔ یہ منطق تعصب نہ تھا۔اللہ نے اہل کتاب کو فیصلے کا اختیار سونپ دینے سے منع کیا مگر اسکا غلط ترجمہ ہوا کہ ’’ انکو اپنا دوست نہ بناؤ‘‘۔ بیوی سے بڑھ کر دوستی کیا ؟۔ متحدہ مجلس عمل علمی انقلاب کی کوشش کرے تو ووٹ،نوٹ، دنیا اورآخرت کی سرخروئی ملے۔ رمضان میں تراویح و جہری نمازوں میں سورتوں سے قبل جہری بسم اللہ سے آغاز کریں۔