اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہونے کے زبردست دلائل: اداریہ

maulana-yousuf-ludhianvi-mufti-naeem-talaq-halala-haji-usman-pakistan-flag-k-electric-islamic-revolution-islam-ajnabi-tha-khatoon-ki-faryad-fatwa

استاذ مفتی محمد نعیم مدظلہ العالی جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی نے بالمشافہہ ملاقات میں کہا کہ ’’ ایک خاتون صحافی اپنے شوہر کیساتھ آئی تھیں، اس نے کہا کہ مجھے شوہر نے ایک ساتھ تین طلاق دئیے۔ پھر ہماری صلح ہوگئی اور دارالعلوم کراچی نے فتویٰ دیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ اب مفتی صاحب آپ بتائیں کہ میں کس طرح ایک غیر آدمی سے ایک رات کیلئے نکاح کرکے اپنی شلوار نکال کر لیٹ سکتی ہوں کہ مجھے اپنے شوہر کیلئے حلال کردو۔ جب اس نے یہ بات کہی تو میں شرم کے مارے پانی پانی ہوگیا کہ یہ کتنی عجیب آزمائش ہے۔ واقعی اگر سوچا جائے کہ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کیساتھ یہ ہو تو کیا حال ہوگا؟‘‘۔
یہ تو محض الفاظ کی مار ہے، حلالے پردنیا میں جو ہورہا ہے۔ دنیا کی اقوام، مذاہب اور ممالک ہمیں حیرت میں دیکھتے ہیں۔کیا قرآنی آیت پردل وجان سے ایمان کی یہ کیفیت بن سکتی ہے؟۔ جس کو صورتحال کا سامنا ہو تو وہ کہے گا کہ ہمارے اجداد مسلمان نہ بنتے تو اچھا ہوتا۔ گائے کا پیشاب پینے سے زیادہ مشکل یہ ہے جسکا روز کسی حواء کی بیٹی کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کے ضمیرکو جگانا پڑیگا۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ ایمان کے اعتبار سے عجیب مخلوق کون ہیں؟۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ملائکہ!۔ نبیؐ نے فرمایا کہ انکاایمان عجیب کیوں، وہ تو سب کچھ مشاہدہ کرتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر انبیاء کا، نبیﷺ نے فرمایا: انبیاء کا ایمان عجیب کیسے ہوگا، ان پر وحی نازل ہوتی ہے تو صحابہؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ رسولﷺ نے فرمایا: تمہارا ایمان کیسے عجیب ہوگا ، جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر ہم نہیں جانتے۔ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو علم ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ایمان کے اعتبار سے عجیب لوگ وہ ہونگے کہ جن کے پاس قرآن کے الفاظ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن پھر بھی انکا ایمان قرآن کی آیات پر تمہارے جیسا ہی ہوگا۔ ایک کو50 کا اجر ملے گا۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ ہم میں 50 یا ان میں سے؟۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بلکہ تم میں سے 50 افراد کے برابر اجر ان کو ملے گا۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ لوگوں پر ایک زمانہ آئیگا، جس میں اسلام کا صرف نام باقی رہ جائیگا، قرآن کے صرف الفاظ باقی رہیں گے، مساجد لوگوں سے بھری لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے، ان سے فتنہ نکلے گا اور ان میں لوٹ جائیگا‘‘۔(عصرحاضر : مولانایوسف لدھیانوی)
اللہ نے فرمایا: ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدا وبای ارض تموت ’’بیشک اللہ کے پاس وقت کا علم ہے، وہ بارش برساتا ہے، وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی نہیں جانتاکہ کل کیا حاصل کریگا اور کونسی زمین پر مرے گا‘‘۔
نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ یہ پانچ چیزیں غیب کی چابیاں ہیں‘‘۔ پڑھالکھا طبقہ سمجھتا ہے کہ آئین سٹائن کے نظریہ اضافیت نے قرآنی عقائد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مصنوعی بارش اور بارش کب برسے گی ؟،کے بارے میں قدامت پسند علماء کا عقیدہ خراب ہوا ۔ الٹراساونڈ نے ماں کے رحم میں بچے کی مکمل معلومات کو عام کردیاہے۔ مذہبی طبقات سمجھتے ہیں کہ عقیدہ خراب نہ ہوجائے اسلئے گدھوں کی طرح وقت کے سائنسی تجربات سے حادثات کی طرح آنکھیں بند کرلو۔
ابن عباسؓ نے کہا: ’’ قرآن کی تفسیرزمانہ کریگا‘‘۔ سورہ معارج میں اللہ نے فرمایا: فرشتوں اور روح کے چڑھنے کے دن کی مقدار 50 ہزار سال ہے۔ رسول اللہﷺ نے معراج میں مشاہدہ کیا۔ آئین سٹائن نے نظریہ اضافیت سے ریاضی کی بنیاد پر اس کی تصدیق کردی ۔ موٹی عقل والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وقت کا علم غیب کی چابی ہے۔ دن رات سے پتہ چلا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے، ماہ وسال سے سورج کے گرد زمین اور سورج چاند گرہن وغیرہ کے علم کا دروازہ کھلا ۔ بارش برسنے میں آسمانی بجلی ، آگ اور اولے برستے ہیں، بجلی کی تسخیر الیکٹرک کی دنیا میں نت نئی ایجادات غیبی چابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رحموں کا علم بھی غیب کی چابی ہے، فارمی حیوانات و فارمی نباتات سے نئی دنیا آباد ہے، جمادات میں ایٹمی ایجاد اورالیکٹرانک کی دنیا اسکامنہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلمانوں کا حال تو ان سست لوگوں کے لطیفے سے بدتر ہوگیا کہ ایک نے گھوڑ سوار سے کہا کہ اللہ واسطے، یہ بیر منہ میں ڈال دو، ساتھ میں پڑا ہوا دوسرا کاہل کہہ رہا تھا کہ نہیں ،اسکے منہ میں بیر بالکل نہ ڈالو، کل کتا میرے منہ پر پیشاب کررہا تھا تو یہ کتے کوزبان سے بھی نہیں روک رہا تھا۔ اس لطیفے سے بدترآج مسلم اُمہ کا حال ہے۔
ہم جان لڑاکر قرآن سمجھاتے ہیں کہ حلالہ نہیں مگر بعض لوگ پھر بھی مولویوں سے فتویٰ لیکر اپنی عزتوں کو لٹواتے ہیں۔مذہب کے نام پر غلط روش نے قرآن کی آیات سے مسلمانوں کا ایمان متزلزل کردیاہے اور الحمدللہ رب العالمین کہ ایک جماعت ایسی وجود میں آگئی ہے جو علم ، ایمان اور دین کو ثریا سے لاکر زمین میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرچکی ہے۔دین، ایمان اور علم سے انقلاب آئیگا۔
آج بھی رسم ہے کہ لڑکی نے شادی سے انکار کیاتو قتل کی گئی، منگیتر نے نکاح سے انکار کیااور قتل کی گئی، شوہر کیساتھ عورت نہیں رہناچاہ رہی تھی اور قتل کی گئی، شوہر نے طلاق دی ، دوسری عورت سے نکاح کیا اور طلاق کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اور قتل کی گئی۔ بے غیرتی کو غیرت کا نام دیکر معاشرے سے دین کو نکال دیا گیا ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب یہ پھر اجنبی بن جائیگا، خوشخبری ہے اجبنیوں کیلئے۔ سردار سعد بن عبادہؓ نے کہا: میں قرآن کے حکم لعان پر عمل نہ کرونگابلکہ قتل کرونگا۔ نبیﷺ نے انصارؓ سے شکایت کی تو کہنے لگے کہ یارسول اللہ، یہ بڑی غیرت والا ہے، کبھی کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے نکاح نہ کیابلکہ کنواری سے کیا اور طلاق دی تو کسی اور سے نکاح نہ کرنے دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا: میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرتمند ہے۔ (بخاری) عالم اسلام میں بات پھیل گئی کہ سردار صحابہؓ نے بھی اپنی غیرت کو نہ چھوڑا، نبیﷺ نے بھی تائیدکی۔ غلط تشریح نے غیرت کے نام بیوی کو گھر سے نکلنے یا نکالنے کے بجائے قتل کرنے کی رسم برقرار رکھی۔ جوغیرتمند اللہ کی بات نہیں مان رہا تھا،وہ اتنا بے غیرت بنا کہ نارمل ماحول میں حلالہ کیلئے خود بیگم مولوی کے کہنے پر پیش کی۔ معاشرے سے تضاد ختم ہوگا تو دین کا ڈھانچہ ایمان کی روح سے زندہ ہوگا۔ صحیح علم سے ایمان اور دین کا رشتہ جوڑیں جس سے شدت پسندی، بے راہروی،جہالت، دہشتگردی اور گمراہی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ، شیخ الہند محمود الحسنؒ ، مولانا الیاسؒ اور حاجی عثمانؒ کا مشن فرقہ پرستی، مسلکی تعصب ،گروہ بندی اور جماعت پرستی نہ تھابلکہ حقیقی اسلام اور قرآن کی طرف دنیا کو دعوت دیناتھا۔ دارالعلوم دیوبند انڈیا میں پاکستانی جھنڈا جلاکر شرمناک نعرہ لگایا گیا ، یہ مذہبی طبقہ اچھوت ہندؤں سے بدتر ہے ۔ حدیث کی پیشگوئی دیکھ لیں کہ مساجد کے امام بدترین مخلوق ہونگے۔ سید عتیق گیلانی