ریاستی معاملات ٹھیک ہونگے یاپھرایک انقلاب آئیگا؟

398
0

maulana-yousuf-ludhyanvi-amir-liaquat-fake-phd-certificate-gadha-imran-khan-shaukat-khanum-hospital

پاکستان ہی نہیں دنیا کی تمام ریاستوں کا بھی آوے کا آوا بگڑ چکا ہے۔ دنیا کو جانے انجانے ایک انقلاب کی راہ پر اللہ تعالیٰ نے ڈال دیا۔ امریکہ نے اسلامی دنیا کو تباہ کردیا، لیکن اسلام اور مسلمانوں کا خوف اسکے دل سے نہیں جارہاہے۔ یورپ ، مغرب اور دنیا بھر میں ایک انجانے انقلاب کا خوف لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہے۔ روس کا نظام انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں تھا تو چاروں شانوں وہ چِت ہوا۔ چین نے انقلابی روح بدلی اور بدترین سرمایہ دارانہ نظام پر اپنا انحصار شروع کردیا۔ پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ بوسیدہ ہوچکا ہے اور سیاست کا طرزِ عمل اخلاقیات کی تباہی کا ساماں لیکر سب کچھ سبوتاژ کررہاہے۔ وکالت میں کلائنڈ بدلنے سے وکیل کا ضمیر بدل جاتا ہے، سیاستدان اور صحافی بھی بے ضمیر ی کی تاریخ رقم کرنے لگے ہیں۔ حقائق کو میڈیا پر نہیں لایا جارہاہے مگر پھر بھی ایک حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارے میں اچھے لوگوں کی قطعی طور سے کوئی کمی نہیں ۔
علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کو یہ بہت بڑا کریڈٹ جاتا ہے کہ اپنے اپنے عقیدے، فرقے اور مسلکوں سے ان کی وابستگی بہت لازوال ہے۔ زمین جنبد یا نہ جنبد گل محمد نہ جنبد۔ (زمیں ہلے یا نہ ہلے مگر گل محمد نہیں ہلتا) کے مانند قدامت پسند علماء کرام ومشائخ عظام اپنی روش پر دنیا کی پروا کئے بغیر چل رہے ہیں۔ اس حقیقت کیساتھ ایک دوسری بڑی خوشخبری بھی دنیا کو مل رہی ہے کہ ہرمکتبۂ فکر کے اکابرین و مذہبی طبقات کی طرف سے ماہنامہ نوشتۂ دیوار کے مضامین ، ادارئیے، کالم، خبروں اور تبصروں کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ کوئی اظہارِ خیال کرنے کی جرأت کرلیتا ہے اور کوئی خاموشی سے حمایت کرنے پر اکتفاء کرتا ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے اپنی کتاب ’’ عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں میں‘‘ ایک حدیث لکھ دی کہ ’’ ایک وقت آئیگا کہ جب اہل اقتدار کی جانب سے سب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر وہ جس نے اللہ کے دین کو پہچان لیا، پھر اس کی خاطر زبان، ہاتھ اور دل سے جدوجہد کی۔ یہی ہے وہ جس کیلئے پہلے سے پیش گوئیاں ہوچکی ہیں(جو سبقت والوں میں شامل ہوا)۔ دوسرا وہ ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اس کی برملا تصدیق بھی کردی۔ تیسرا وہ ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچانا مگر حق کا اظہار کرنے سے ہچکچایا۔ جس کو اچھا کام کرتے دیکھا تو اس سے محبت رکھی اور کسی کو باطل عمل کرتے دیکھاتو اس سے نفرت کی لیکن ان تمام چیزوں کو چھپانے کے باوجود بھی وہ نجات پاگیا‘‘۔
موجودہ دور میں ایک سر بکف مجاہدین کی وہ جماعت ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچاننے کی سعادت حاصل کی اور پھر زبان ، ہاتھ اور دل سے اس کی خاطر جدوجہد کی ، یہ سب میں سبقت لے گئے ہیں۔ دوسرے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والوں کاوہ جمع غفیر ہے جو کھل کر ان کی حمایت کررہے ہیں۔ تیسرے درجہ میں وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین کی معرفت رکھتے ہیں اوراہل حق سے محبت رکھتے ہیں اور اہل باطل سے بغض رکھتے ہیں لیکن وہ اپنی ان تمام باتوں کو چھپاتے ہیں ان کیلئے بھی اس حدیث میں نجات کی خوشخبری موجود ہے۔ جب انقلاب آئیگا تو یہ سب لوگ کھل کر سامنے آئیں گے۔ ہمیں ان کی عزت وتوقیر کرنی ہے۔
طلاق و حلالہ ، خواتین کے حقوق اوردرسِ نظامی کے نقائص کا معاملہ سب ہی کو سمجھ آگیا ہے، بڑے مدارس کے ارباب فتویٰ وتدریس بھی فرقہ واریت کو بھول کر ہم سے کھل کرو چھپ کر اتفاقِ رائے کا اظہار فرمارہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے زمین میں خلیفہ بنایا تو اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے علاوہ اقتدار کیلئے کوئی دوسرا قبیلہ، قوم، رشتہ داراور دوسرے طبقے کے انسان موجود نہیں تھے۔ طبقاتی تقسیم اور اقتدار کا معاملہ بعد میںآتا ہے۔ پہلے گھر سے ہی اقتدار کا معاملہ ٹھیک کرنا ہوگا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، پاکستان کا آئین خاطر خواہ اسلامی تعلیمات سے واقفیت کو لازم قرار دیتاہے جبکہ عوام ، سیاستدان، سیاسی علماء اور نام نہاد مذہبی اسکالر تو بہت دور کی بات ہے، اسلامی تعلیمات کی تدریس کیلئے زندگی وقف کرنے والے بھی بنیادی اسلامی تعلیمات سے بھی بے بہرہ اسلئے ہیں کہ علم، دین اور ایمان احادیث صحیحہ کی پیش گوئیوں کے مطابق اٹھ چکے ہیں۔
وہ علماء کرام اور مفتیان عظام جنہوں نے کسی موضوع پر کتاب لکھ ڈالی ہے تو اس کو بھی علم نہیں جہالت سے بھر دیا ہے۔فقہ کی کتاب الطہارت میں لکھے گئے جو غسل اور وضو کے مسائل ہیں وہ بھی قرآن وسنت اور صحابہ کرامؓ سے انحراف کے مترادف ہیں۔ دین کی تکمیل ہوچکی تھی تو غسل اور وضو میں فرائض گھڑنے اور ان پر اختلافات کی کہاں گنجائش تھی۔ نہانے اور وضو میں فرق ہر انسان جانتاہے بس حالت جنابت سے نہانے کو غسل اور وضو ٹوٹنے کی صورت میں وضو کرنا عملی کام تھا جس میں فرائض و اختلاف گھڑنا امت کاوقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
قرآن وسنت میں نکاح وطلاق، خواتین کے حقوق اتنے واضح ہیں کہ صرف ان کی بنیاد پر گھر، محلہ اور معاشرے کی درست رہنمائی کی جائے تو ایک انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ سیاستدانوں سے الیکشن میں صرف یہ مطالبہ کیا جائے کہ زمینوں کو خود کاشت کرو،یا مزارعت کے بجائے کاشتکاروں کو مفت دو، تو پورے ملک کا طبقاتی نظام درست کرنے کیلئے ایک بڑی بنیاد فراہم ہوجائے گی۔ مزارع غلام نہ رہے گا اور اپنے ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکے گا جو قابل انجنیئر، ڈاکٹر، سائنسدان اور تمام شعبائے تعلیم میں قابلیت حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو ملک، قوم اور سلطنت ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے۔ بلاول بھٹو زرداری، بختاورزرداری، آصفہ زرداری، حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور دیگر بااثر طبقے کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ کر بھی اپنی تعلیمی فیس کا ضیاع کرتے ہیں اور اس کیلئے بول ٹی وی چینل کے ’’ایگزیکٹ‘‘ نے جعلی تعلیمی اسناد کا کامیاب راستہ نکالا تھا جس پر مغرب کے اداروں نے عرب ممالک پر بھی تجربات کئے تھے۔
عربی لطیفے کی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ کسی تعلیمی ادارے نے جاہل بدو سے کہا کہ تعلیمی سند برائے فروخت ہے،اگر لوگے تو تمہاری شخصیت بدلے گی، پی ایچ ڈی ڈاکٹر کہلاؤگے، تو بدو نے کہا کہ 2 سند دے دینا کیونکہ ایک میں اپنے لئے خریدوں گا اور دوسرا اپنے گدھے کیلئے‘‘۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کے پاس ڈاکٹر کی ایسی کوئی سند ہوگی اور ان اسناد سے سیاستدانوں کے گدھے جیسے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ قرار دیا جائے تو ان کی شخصیتوں میں فرق نہ آئیگا۔ البتہ غریب غرباء کے باصلاحیت بچوں کو تعلیم کے مواقع مل جائیں تو ملت کی تقدید بدل کر رکھ دینگے۔
جب مزارعت کا سودی اور ناجائزسسٹم ختم ہوجائیگا تو مزدور کی مزدوری بڑھ جائے گی، نوکر پیشہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا مجبوری بن جائے گی۔ محنت کشوں کو اپنی محنت کا درست صلہ مل جائے تو غربت، چوری، ڈکیتی، عزتوں کی پامالی اور بہت سی برائیوں میں فرق آئیگا۔ عمران خان شوکت خانم کے نام پر دنیا بھر سے جو غرباء کا فنڈز کوٰۃ کے نام پر ہتھیاتا ہے، اگر شوکت خانم کے اشتہارات کا پیسہ بھی غریبوں پر خرچ کیا جائے تو لوگ کینسر سے زیادہ سختی کے حالات سے نکل آئیں۔