انفرادی ،اجتماعی اور ذہنی غلامی کا خاتمہ اور بڑی آزادی

636
0

mental-slavery-freedom-saudi-ulma-scholars-tripple-talaq-taqi-usmani-aasan-tarjuma-e-quran-taqleed-ki-shari-haisiyat-mna-qazi-fazl-ullah-londi-nikah-mutah

قرآن وسنت کی تعلیم عربی میں ہے۔ سعودی علماء نے ہٹ دھرمی یا سمجھ بوجھ سے عاری ہوکر حقائق پر توجہ نہ دی۔ تین طلاق پر رجوع کی گنجائش ختم ہونے کیلئے حنفی مکتبۂ فکر سے مدد لی، حالانکہ حنفی مسلک میں اولین ترجیح قرآن ہے ۔ جہاں بار بار باہمی صلح سے عدت میں اور عدت کی تکمیل پر رجوع کی گنجائش ہے۔ قرآن کی طرف رجوع کئے بغیر خود ساختہ منطق نے امت کا بیڑہ غرق کیاہے۔
قرآن وسنت نہ ہوتو اجتہادہے۔ اجتہادنئی شریعت نہیں قاضی یا جج کا فیصلہ ہے۔ مفتی محمدتقی عثمانی نے اپنی کتاب ’’ تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘میں جن آیات و احادیث کی غلط تشریح کرکے حوالہ دیا تھا ، اپنے’’ آسان ترجمہ قرآن‘‘ میں اس کی نفی کردی۔ ہوسکتا ہے کہ فقہی مقالات کا تو صفحہ تبدیل کردیا اور اب مارکیٹ سے اس کتاب کو بھی غائب کردیں۔انکے جھوٹ اور منافقت کے ہمارے پاس دلائل اور ثبوت ہیں۔ ہمارا مقصد ذاتی تحقیر وتذلیل ہر گز نہیں ،بس ایک گونگے شیطان کو بولنے پر مجبور کرنا ہے، جس کا طوطی بولتا ہے۔اس کا ناطقہ بند کردیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے سابق MNA قاضی فضل اللہ چھوٹا لاہور صوابی امریکہ میں ہیں، وہ کہتا ہے کہ ’’ جانور وں کے معاشرہ سے انسانوں میں آگیا ‘‘۔ مغرب و مشرق میں انسانوں اور جانوروں کا فرق کیوں ہے؟۔ ہمارے ہاں جو بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا جارہاہے ،یہ تو جانور بھی نہیں کرتے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں ایسے انسانی معاشرے کو جانور وں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ ھم کالانعام بل ھم اضل ’’ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ وہ زیادہ بدتر ہیں ‘‘۔
قرآن وسنت میں لونڈی و آزاد عورت کیلئے نکاح و متعہ کا تصور ہے اور متعہ کیلئے متعوھن اورماملکت ایمانکم کے الفاظ ہیں۔ لونڈی سے نکاح نہ ہو تو یہ متعہ یا ملکت ایمانکم ایگریمنٹ ہے اور آزاد سے متعہ یا ایگریمنٹ ہو تو بھی اس پر ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوتا ہے۔قرآن نے لونڈیوں و غلاموں کو ایگریمنٹ کا درجہ دیکر غلامی کا وہ تصور ختم کیا جو دورِ جاہلیت میں آل فرعون نے بنی اسرائیل کے خلاف بنایا تھا۔ شخصی غلامی کے علاوہ ملکوں اور قوموں کی غلامی کا تصور بھی موجود تھا۔ آل فرعون نے بنی اسرائیل کو من حیث القوم غلام بنایا تھا۔
مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی تھی۔ نبیﷺ نے حدیبیہ کا معاہدہ قریشِ مکہ سے 10 سال تک کیلئے تھا اور اس میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی مزید گنجائش تھی۔ اگر معاہدہ مشرک نہ توڑتے تو نبیﷺ کی حیات، ابوبکرؓ اور عمرؓ کے دور تک جاری رہتا۔ مزید توسیع کی گنجائش تھی ۔ حلیف بنوخزاعہ کیخلاف قریشِ مکہ نے بنوبکر کی حمایت سے معاہدہ کی ایک شق توڑ دی تو نبیﷺ نے اسکا بدلہ فتح مکہ کی صورت میں اتاردیا۔ تاہم کسی کو غلام یا لونڈی نہیں بنایا۔ البتہ تین دن تک متعہ کی اجازت دیدی۔ لونڈی بنانے پر دورِ جاہلیت میں عورت سے اپنا اختیار ختم ہوجاتا تھا، وہ آقا کی امۃ بن جاتی تھی اور مرد عبد بن جاتا تھا۔
دو صحابیؓ نے ایک عورت سے متعہ کی پیشکش کی۔ ایک کی چادر اور دوسرے کا چہرہ اچھا تھا۔ عورت نے خوشنماچہرے کا انتخاب کیا، تین دن تک یعنی جب تک مکہ میں رہے ، معاہدے پر کاربندرہے اور اس سے زیادہ قیام نہیں تھا اور کم کا جواز نہیں تھا۔ فتح مکہ کے بعد تو مسلمانوں نے تین دن میں جانا تھا اور پھر جس سے متعہ کیا جاتا اور وہ عورت اس کی پابند رہتی تو ایگریمنٹ کا فائدہ نہ تھا، اگر تین دن سے کم متعہ ہوتا تو وہ بے دین مشرک عورت مختلف مردوں سے متعہ کرسکتی تھی، اسلام اس کی اجازت نہ دیتا۔ ایک مرد زیادہ خواتین کیساتھ ایگریمنٹ کرے تو اس کی قرآن نے اجازت دی ہے فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی و ثلاثہ و رباع وان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ او ماملکت ایمانکم ’’پس نکاح کرو، عورتوں میں سے دودو، تین تین ، چار چار کیساتھ اور اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرسکوگے تو پھر ایک یا جو تمہاری ایگریمنٹ والی ہوں‘‘۔ مگرایک عورت ایک طہروحیض میں ایک سے زیادہ مردوں کیساتھ متعہ نہیں کرسکتی ہے ورنہ تو اس کی اولاد کا بھی پتہ نہ چلے گا اور اس سے لاتعداد بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
نبیﷺ نے مکہ کے مشرکین کو غلام و لونڈی نہ بنایا۔ حبشہ کیلئے یہ وصیت کی کہ ’’ جب تک وہ تعارض نہ کریں تم بھی نہ کرنا‘‘۔ کوئی اُلو کاپٹا کہے کہ نبیﷺ نے آخری خطبے میں یہ وصیت کرکے قرآن کو نہ سمجھا ۔ روئے زمین پر غلبۂ دین کیلئے مبعوث تھے ۔سب اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں ورنہ غلام ولونڈی بنانے کا حکم ہے تو ایسے علماء ومفتیان اور مجاہدین کو اپنے مؤقف پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں جس بچی ، بچے اور خاتون کیساتھ جبری جنسی تشدد ہو تو سب کہتے ہیں کہ یہ انسان نہیں جانور سے بھی بدتر ہیں۔ ہماری ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کیلئے لونڈی کا تصور رکھا جائے تو ہمارے کیا تأثرات ہونگے؟۔ نبی ﷺ کو آخری پیغمبر اور رحمۃ للعالمین کا تصور اسلئے دیا کہ اسلام زحمت نہیں۔ مذہبی طبقے کی خود ساختہ منطق نے آج پوری دنیاکو لرزہ براندام کردیا کہ اگر وحشی درندوں سے بدتر جنت کے حوروں کی لالچ اور مغرب ومشرق ،شمال وجنوب کی ساری ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو لونڈیاں بنانے کے جذبے سے آگے بڑھے تو دنیا کو خوفناک اور بدترین صورتحال کا سامنا ہو گا۔ حالانکہ اسلام نے اس خلافت علی منہاج النبوۃ کا تصور دیا، جس سے آسمان اورزمین والے خوش ہونگے۔
قرآن وسنت کے عظیم احکام کو پسِ پشت ڈالنے کا نتیجہ ہے کہ دنیا ہماری بے سروسامانی، پستی کی اتاہ گہرائی اور دستِ نگر ہونیکی سوچ دل ودماغ سے نکال کر ہمیں خطرناک ترین سمجھ رہی ہے۔ روس و امریکہ براہِ راست نہیں لڑتے بلکہ مسلمانوں کو کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبیا کے بعد اب شام میں سرد جنگ نے لے لی ۔ہم کیمیائی ہتھیاروں سے مرجانے کو خوش آئند قرار دینے سے نہیں شرماتے۔ جن بچیوں کیساتھ زیادتی کے بعد ماردیا جاتا ہے تو یہ کیمیائی ہتھیاروں سے بڑا عذاب ہے جو ہم پر مسلط ہے،یہ لونڈی بنانے سے بھی زیادہ سخت عذاب ہے اور اسکے تدارک کیلئے ہمیں معاشرتی بنیادوں پر اُٹھ کھڑا ہوناہوگا۔اسلام نے جو نظام دیا ہے وہ مسلمانوں کی کھوپڑیوں میں نہیں بلکہ قرآن وسنت میں محفوظ ہے۔ حنفی مکتبۂ فکر کا مسلک بہترین ہے مگر حنفی مکتب والے اپنا مسلک کو بھول گئے۔
قرآن وسنت نے لونڈی بنانے کا تصور ختم کیا ۔ ابوالعلاء معریٰ ہزار سال قبل لکھ دیا کہ ’’اسلام نے لونڈی بنانے کا تصور ختم کیا تھا مگر عرب فاتحین نے یورپ کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھا تو انہوں نے دوبارہ یہ نظام رائج کردیا‘‘۔ نکاح میں خواتین کے تمام حقوق سلب کرکے قرآن وسنت کی توہین کی جاتی ہے ۔ ابولعلاء معریٰ نے نظام سے بغاوت کرکے شادی بھی نہ کی۔ اپنی قبر کے کتبہ پر لکھوایاکہ ’’ یہ میرے باپ کا گناہ تھا، میں نے یہ گناہ نہیں کیا ‘‘۔ حقوقِ نسواں کے متعلق تمام اسلامی احکام کو قرآن میں واضح ہیں مگرمذہبی طبقہ نے انسانی حقوق کو مسخ کرکے اسلام کے تمام امورکو بالکل غیرفطری اور دنیا کیلئے ناقابلِ عمل بنایا۔