پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور قرآنی تعلیم کی ضرورت

651
0

molana fazal-ur-rehman-dera-ismail-khan-tank-waziristan-zina-in-islam-pti-mujra-mma-hurmat-e-musahirat-shaukat-aziz-siddiqui

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ٹانک کی جامع مسجد میں یہ خطاب کیا تھا کہ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام سخت مذہب ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ایک شخص دوافراد مرد اور خاتون کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لیں تو جب تک شیشے کے بوتل میں انگلی کی طرح دیکھنے کی گواہی نہ دی کہ مرد کا عضو ء تناسل عورت کی اندام نہانی میں ڈھل چکا تھا تو اس کی گواہی معتبر نہیں ہوگی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ گوشت اور پوست کے مردو خاتون کو اس طرح دیکھا جاسکے؟۔ ہرگز نہیں۔ پھر ایک شخص دیکھ لے تو بھی اس کی گواہی معتبر نہیں ، دو افراد بھی دیکھ لیں تو بھی اس پرزنا کا اطلاق نہیں ہوتا،تین افراد بھی دیکھ لیں تو یہ معتبر نہیں۔ چار افراد دیکھ لیں، وہ بھی معتبرو تقویٰ دار ہوں، کسی خاتون کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں۔ کیا شریعت اسلامی حد جاری کرنے کیلئے رکاوٹ ہے یا حد جاری کرتی ہے؟۔ خوامخواہ اسلام کو اتنا سخت تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام تو بہت نرم ہے‘‘۔ مولانا فضل الرحمن جن الفاظ میں اپنی تقریر کررہے تھے یقیناًعمران خان کے جس دھرنے کو مجراقرار دیتا تھا اس میں یہ جملے ادا نہیں ہوسکتے تھے ورنہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے جو خواتین شریک تھیں وہ سب اس اسلام کو سن کر شرم سے بھاگ جاتیں۔ حضرت آدم ؑ و حواء ؑ کے قصے کو جس شائستگی سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’جب مرد نے اپنی بیوی کو چادر اوڑھا دی، پھر اس کو ہلکا سا حملہ ہوا۔ پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے ہمارے ربّ ہمیں صحیح سالم بچہ عطاء فرما۔ پھر اللہ نے بچہ دیدیا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگے‘‘۔
دنیا کی کسی تہذیب وتمدن میں اتنے مہذب الفاظ میں میاں بیوی کے تعلق کو اس طرح سے بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن جب کوئی کسی بیوہ یا طلاق شدہ سے شادی کرلے اور اس کی سابق شوہر سے بچیاں اسکے گھر میں جوان ہوجائیں اور اس کی نیت خراب ہوجائے تو بڑے سخت الفاظ میں کہا گیا کہ ’’ اگر تم نے ان کی ماں سے نکاح کیا اور ان میں تم نے ڈال دیا تو تمہارے لئے وہ بچیاں جائز نہیں اور اگر نہیں ڈالا ہے تو پھر تمہارے لئے جائز ہیں‘‘۔ قرآن ایک طرف مہذب الفاظ کی تعلیم دیتا ہے تو دوسری طرف منکر سے منع کرنے کیلئے ماں کے اندر ڈالنے اور نہ ڈالنے کی وضاحت کرکے انسانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے میں آسرا نہیں کرتا۔ افسوس کہ اتنے واضح الفاظ کے باوجود فقہ کی دنیا میں جو تضادکانصابِ تعلیم پڑھایا جارہاہے وہ بہت افسوسناک ہے۔ حرمت مصاہرت کے مسائل اور اختلافات نمایاں کئے جائیں تو دینی مدارس کے فارغ التحصیل اور پڑھنے پڑھانے والے کسی کو منہ تک دکھانے کے قابل نہ رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے فقہ سے جو اسلام بیان کیا تھا وہ عوام میں فحاشی بڑھانے کا یا کم کرنے کاذریعہ ہے؟۔
رسول اللہ ﷺ کو قیامت میں شکایت ہوگی کہ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ہذالقرآن مھجورا ’’اے میرے ربّ ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ جب یہودی مرد اور عورت پر رسول اللہﷺ کی طرف سے حد اجراء ہوا تھا تو گواہی کے پیچھے ان کو چھٹکارا دلانے کی کوشش نہیں کی گئی تھی اور جب سورۂ النساء میں بدکاری کے باوجود عورت کو گھر میں نظر بند کرنے کا حکم تھا اور آگے جاکر لونڈی یا متعہ کی عادی سے نکاح کے فحاشی پر نصف سزا کا حکم تھا تو یہ حقیقت ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا جو واقعہ لکھ دیا گیا تھا اور جس پر احناف اور جمہور کا شدید اختلاف بھی ہے لیکن واقعہ پر ازسرِ نو غور کرنا چاہیے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام سے زیادہ روشن خیالی کا تصور کوئی سیکولر دنیا بھی نہیں کرسکتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں گھومنے والے جوڑے اگر اسلام کی حقیقت جان لیں تو جسطرح تبلیغی جماعت نے 100سال تک نماز اور آذان میں خطبے میں لاؤڈاسپیکر کااستعمال نہیں کیا لیکن جب مولانا طارق جمیل کو تصویر کے جواز کا پتہ چل گیا تو ویڈیو کے ذریعے اسلام کی تشہیر شروع کردی ہے۔ اسی طرح قرآن وسنت میں ایگریمنٹ کا پتہ چل جائے اور سعودیہ کے مسیار کی معلومات مل جائیں تو جماعتوں کی تشکیل میں بھی اس پر عمل پیرا ہونگے ، لونڈے باز ڈرائیور اپنی گاڑیوں کے پیچھے ’’دعوت و تبلیغ زندہ باد‘‘ لکھتے ہیں۔ جائز طریقے پر ایگریمنٹ کی ضرورتمند خواتین سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے تو گاڑیوں کے آگے بھی’’ اسلام زندہ باد‘‘ کے نعرے لکھیں گے۔ اسلام ریئل ہے اور آئیڈیل بھی ہے ۔ قرآن و سنت کے حقائق کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ مولانا عبدالمنان ناصر نے بتایا تھا کہ ’’ پہلے حج میں عورت اپنے ساتھ محرم بنانے کیلئے مرغ کیساتھ نکاح کرلیتی تھی‘‘۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی معروف شخصیت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ’’اسلام آباد پولیس کے 90%افراد لوگوں کو کرایہ پر لڑکیاں سپلائی کررہے ہیں‘‘۔ دوبئی میں بھی پولیس والوں کا حال مختلف نہیں ۔ ہوٹلوں میں پولیس کا اپنا طے شدہ بھتہ ہوتا ہے۔ لاہور کا حال بھی دگرگوں ہے۔ عصمت فروشی کا دھندہ بھی ریاستی عناصر کی بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے تحت روا رکھا جائے تو کیا رہ جاتا ہے؟۔ جمعیت علماء اسلام کا سابق ایم این اے قاضی فضل اللہ چھوٹا لاہور صوابی پاکستان سے امریکہ پہنچا تو تاثرات یہ تھے کہ ’’حیوانوں سے انسانوں کی دنیا میں آیا ہوں‘‘۔ قرآن و سنت میں تمام انسانی ، معاشرتی ، ملکی اور بین الاقوامی قوانین کا بہترین حل موجود ہے۔ کاش ! پاکستان کی عوام حقائق کی طرف توجہ دے دیں۔
اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ و قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا مودۃ فی القربیٰ ’’کہہ دیجئے کہ مجھے تم سے قرآن پر کچھ نہیں چاہئے لیکن قرابتداری کی محبت کے تقاضوں پر عمل کا مطالبہ کرتا ہوں‘‘۔ اگر مشرکین مکہ اس پر عمل کرتے تو رسول اللہ ﷺ کو ہجرت نہ کرنی پڑتی۔ جب جاہل مشرکوں سے یہ مطالبہ ہوسکتا ہے کہ اہل مکہ ہونے ، قریش ہونے ، عربی ہونے، پڑوسی ہونے اور عزیز و اقارب ہونے کے ناطے رسول اللہ ﷺ کے کچھ حقوق ہیں تو مشرکوں سے زیادہ مسلمانوں سے ان تمام رشتوں کے تقاضوں پر بھی عمل پیرا ہونا دین فطرت اسلام کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ والدین کیساتھ احسان کرو ، قرابتداروں کیساتھ بھی ، ان پڑوسیوں کے ساتھ بھی جو قرابتدار ہیں اور ان پڑوسیوں کیساتھ بھی جو اجنبی ہیں اور جو تمہارے ساتھ والے ہیں انکے ساتھ بھی احسان کرو اور جو تمہارے عہد و پیمان والے ہیں ان کیساتھ بھی احسان کرو۔ اسی طرح قرآن میں زکوٰۃ کیلئے بلا تفریق حادثات کا شکار ہونے والے ، مسافر ، غریب مساکین وغیرہ کا ذکر ہے جن میں غیر مسلم افراد مؤلفۃ القلوب کا خصوصی طور پر ذکر ہے۔ علاوہ ازیں اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے مستحقین پر خرچ کرو اور یہ اخلاقیات بھی ذکر کی ہیں کہ اگر کسی سائل کو دینے کے بعد طعنہ سے اذیت دینی ہو تو اس سے بہتر یہ کہنا ہے کہ صاف الفاظ میں منع کیا جائے اور معذرت طلب کی جائے۔ قرآن اصول اور اخلاقیات کی ایسی کتاب ہے جس پر عمل سے عروج حاصل کرسکتے ہیں۔