مولانا فضل الرحمن کا بیٹا ممبر قومی اسمبلی، ایک بھائی سینیٹر، دوسرا ممبر صوبائی اسمبلی، تیسرا بھائی الیکشن کا کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان سے امیدوار ہے

814
0

muttahida-majlis-e-amal-maulana-fazal-ur-rehman-sirajul-haq-allama-sajid-mir-sajid-naqvi-owais-noorani-siddiqui-kulachi-khan-muhammad-sherani-mehmood-khan-achakzai

ٹانک ( شاہ وزیر سرحدی)جمعیت علماء اسلام کے سابق سرگرم کارکن، مرکزی شوریٰ کے رکن اور ضلعی عہدیدار پیر نثار احمد شاہ نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل قائدین کو اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کا موقع دیا ہے۔ ہمارا بڑا مسئلہ فرقہ واریت ہے، بریلوی، دیوبندی، شیعہ اہلحدیث اور جماعت اسلامی سب اتحاد کا حصہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن، علامہ ساجد میر، علامہ ساجد نقوی، مولانا اویس نورانی اور سراج الحق کو چاہیے کہ ایک ملک گیر تبلیغی دورے کا آغاز کریں۔
مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت کی بہت خدمت کرلی لیکن دین کی خدمت کیلئے اب تک فراغت اور موقع نہیں مل سکاہے اور دیگر جماعتوں نے بھی اسمبلیوں کے اندر اور اسمبلیوں کے باہر کردار ادا کرلیا۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو پتہ ہے کہ دوبارہ الیکشن میں وہ زیادہ خسارے میں ہونگے، وہ صرف جمہوریت ہی کیلئے آواز اٹھارہے ہیں مگر جمہوریت ، سیاست اور اقتدار کا کھیل چلتاہی رہے گا۔ ملتے جلتے منشور، کردار، ذہنیت، خواہشات اور عزائم رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا ہردور میں دُم چھلہ بن کر رہنا بھی کوئی زندگی ہے؟۔ کیا اس سے دنیاو آخرت کو ٹھیک کرنے میں پیش رفت ہوسکتی ہے؟۔ بہت کچھ کرکے دیکھ لیا۔ صرف آخرت کی فکر باقی رہ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی عمر بھی اب بہت ہوگئی ہے، بیٹا بھی قومی اسمبلی میں پہنچ گیا ہے، ایک بھائی سینٹر، دوسرا صوبائی اسمبلی کا ممبر اور تیسرا بھائی بھی امیدوار تھامگر اکرام اللہ خان گنڈہ پور کی شہادت سے الیکشن ملتوی ہوگئے۔سیاست میں خاندان کے اتنے سارے افراد کا کردار بہت ہے، جانشینی کیلئے بیٹا بھی سیاسی فرض ادا کرتا رہے گا۔ بھائیوں نے بھی ہرسطح پر ایک جگہ پائی ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن نے اب خود کو اسلام کی تبلیغ اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے وقف کیا تو ایک زبردست اسلامی انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ مولانامحمد خان شیرانی نے پہلے جمہوری سیاست کو خیرباد کہنے پر راضی کیا تھا اور اس مرتبہ الیکشن میں حصہ بھی نہیں لیاہے ۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی ناک کٹانے کیلئے ہی اسکے صاحبزادے کو بھی جتوایا گیا ہو۔ باشعور لوگوں میں مولوی کا کردار بادشاہوں اور نوابوں والا بھی بہت معیوب ہے ۔محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں جمعیت والوں کو دھاندلی سے جتوایا ہے تو سیٹ سے دستبردار ہوکر محمود اچکزئی کو جمہوریت کی بحالی کیلئے قیادت سونپ دیں۔ انکے بھائی اور رشتہ داروں نے بھی بہت سیاسی فائدے جمہوری نظام سے اٹھائے ہیں۔ مجید اچکزئی کبھی ناکام نہیں ہوا مگر غریب پولیس اہلکار کو شہید کرنے کے بعد رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو اسکی رہائی پر پھول نچھاور کرنا یتیموں کے زخم پر نمک پاشی تھی۔ نوازشریف کے قافلے میں جس ڈرائیور نے بچے کو قتل کیا جس کو ن لیگ اپنا پہلا شہید کہہ رہے تھے،اسکے ڈرائیور کا ریاست نے پتہ نہ چلایا۔مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، علامہ ساجد میر ، علامہ ساجد نقوی اور مولانا اویس مشترکہ تبلیغی دورہ تشکیل دیتے ہوئے اس قوم کی وہ خدمت کرسکتے ہیں جو پارلیمنٹ، اقتدار، پولیس اور فوج کی طاقت سے ممکن نہیں۔ لوگوں کو صرف اپنی شکلوں کی زیارت نہ کروائے بلکہ فرقہ واریت کے اہم مسائل کو اجاگر کرکے ان کا حل بھی پیش کریں۔ جہری نمازوں میں کسی وقت بسم اللہ کو جہر سے پڑھنے پر پابندی تھی لیکن اب کوئی ایسی بات نہیں ، درسِ نظامی کا تعلیمی نصاب بھی درست کریں اور نمازوں میں بسم اللہ بھی جہر سے پڑھنا شروع کریں۔ قومی ایکشن پلان پر اربوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔اہل تشیع واہلحدیث سے زیادہ حنفی مسلک میں طلاق کے بعد باہمی رضامندی سے حلالہ کے بغیر رجوع کا مسئلہ واضح ہے اور اسکے ڈھیر سارے دلائل قرآنی آیات میں موجود ہیں۔آخری پیغمبرحضرت محمدﷺ پر نازل قرآن مسائل کا بہترین حل ہے۔ سورۂ مجادلہ میں نبیﷺ نے ظہار کا مسئلہ ایک خاتون کو بتایا مگروحی خاتون کے حق میں نازل ہوئی ۔ کیا مفتیان کرام کیلئے یہ مشعل راہ نہیں کہ اپنی رائے پر قرآن کو ترجیح دیں اورکیا کوئی امام نبیﷺ سے خود کو بڑا کہہ سکتا ہے؟۔ بدری قیدیوں پر فدیہ کے مسئلے پر بظاہر آیت نبیﷺ اور اکثریت کی رائے کے خلاف نازل ہوئی تو کیا جمہور اور اسکے قائدین بھی یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ بھی غلطی پر ہوسکتے ہیں۔ ایک نابینا صحابی عبداللہ بن مکتومؓ کی آمد نبی کریمﷺ پر ناگوار گزری تو قرآن نازل ہوا۔ کیا ہم بھی اپنے رویوں میں نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ اور قرآنی آیات کے عملی نمونے برداشت کرنے کو تیار ہوسکتے ہیں؟۔
اہلسنت کے چھ کلمے کس نے بنائے؟ ۔ علماء کو پتہ نہیں اور عوام کو رٹانے میں الجھائے رکھا۔غسل، وضواور نمازکے فرائض اور واجبا ت بعد کی ایجاد اور ان پر اختلافات ہیں جنکا صحابہؓ کے دورمیں وجود نہ تھا۔ شیعہ کلمہ وآذان میں حضرت علیؓ کے حوالے سے اضافہ کرتے ہیں یہ انکے اپنے اصولوں کے منافی ہے۔ ایک ایسا متعصب طبقہ بھی ہے جسکے سامنے کہا جائے کہ اللہ کا وجود تو محض ایک افواہ ہے اصل میں تو حضرت علیؓ ہی خدا اور عرش پر بیٹھا ہے تو بھی ان کی تمنا ہوگی کہ اس سے بڑا مقام دینا چاہیے، سب شیعہ ایسے نہیں، اگر انکے سامنے بات رکھی جائے کہ شیعہ اصولوں کا تقاضہ ہے کہ کلمہ وآذان میں حضرت علیؓ کے بعد امام حسنؓ کا نام لیا جاتا، پھر امام حسینؓ کا ، اسی طرح بارہ امام کا اپنے اپنے دور میں کلمہ پڑھا جاتا اور آذان میں نام لیا جاتا تو درست ہوتا لیکن موجودہ دور کے امام کو چھوڑ کر حضرت علیؓ کا نام لینا شیعہ اصولوں کے منافی ہے۔ حقائق تک رسائی کی تعلیم دی جائے تو پھر شیعہ سنی کی مرضی ہے کہ نماز میں جہری بسم اللہ اور کلمہ وآذان میں اسلامی تعلیمات کے مطابق چلتے ہیں یا نہیں لیکن تعصبات کے غبارے سے ہوا بالکل ہی نکل جائے گی۔