نیب اور عدلیہ کے قانون میں تضاد کی وجہ سے نوازوں کو نوازا جاسکتا ہے

345
0

nab-hazrat-umar-judiciary-of-pakistan-imam-abu-hanifa-model-town-incident-rao-anwar-qatari-khat-mashal-khan

نوشتۂ دیوارپرنٹنگ کے مہتمم عبدالکریم نے کہا ہے کہ نیب اور عدلیہ کے قوانین کا فرق سب کو معلوم ہے۔ نیب میں ذرائع آمدن سے زاید اثاثے کا مطلب چوری ہے۔ عدلیہ میں چوری کے ٹھوس ثبوت ہی کے ذریعے سزا ہوسکتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قانون یہ تھا کہ عورت کوشوہر کے بغیر حمل ہوجائے تو یہ زنا ہے اور اس پر حد ہوگی ۔ باقی اماموں جمہور کے برعکس امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک حمل سے حد جاری نہیں ہوگی۔ حضرت عمرؓ ودیگر جمہور کا قانون نیب والا تھا اور امام ابوحنیفہ کا مسلک عدلیہ والاتھا۔ مخالف کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن نے بھی نوازشریف کو بہت رقم دی تھی تو اس سے بھی لندن کے فلیٹ اسوقت خریدسکتے تھے۔ ماڈل ٹاؤن پر کسی کو سزا نہیں ہوئی ۔ راؤ انوار ضمانت پر رہا ہوگیا، مشال خان کو قتل کرنے والے رہا ہوگئے تو نوازشریف اور مریم نواز کو بھی اگر الیکشن کے بعدرہائی دینی ہے تو الیکشن سے پہلے دیدینی چاہیے تاکہ یہ تأثر زائل ہوجائے کہ عمران خان کیلئے میدان صاف کرنے کے نام پر ایک ڈراما رچایا گیا ہے۔ نوازشریف کو چاہیے کہ کھلے عام کہہ دے کہ اسامہ کا نام لے نہیں سکتا تھا اسلئے قطری خط کا سہارا لیاتھا اور آصف علی زرداری کو 11سال جیل کی سزا کھلائی ، اب میں یہی سزا خود بھی بھگت رہا ہوں اور معافی کی اپیل بھی نہیں کرونگا تاکہ اخلاقیات کا سبق قوم کو میرے ذریعہ ملے۔ مریم نواز کو رہا کرو تاکہ وزیراعظم بن جائے پھر اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کرونگا اور ہم نے اس ملک میں ہی رہنا ہے۔