موت اور زندگی اللہ دیتا ہے ریاست نے ہمارا عقیدہ خراب کردیا. منظور پشتین

420
0

ptm-manzoor-pashteen-taliban-rao-anwar-ehsanullah-ehsan-economic-hub-moscow-russia-karachi-lady-doctor-razia-tank-search-operation-in-waziristan

وزیرستان( سوشل میڈیا) PTMکے قائد منظور پاشتین نے وزیرستان، صوابی اور اپنے ویڈیو بیانات میں کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے وانا شہر کا فاصلہ روس ماسکو سے14سوکلومیٹر اور کراچی سے فاصلہ 13سو کلومیٹر ہے۔ پختونخواہ کے پہاڑی اور میدانی علاقے معاشی حب ہیں، ایک طرف گرم علاقوں کے پھل کھجور، آم، مالٹا اور اناج گندم ، چاول وغیرہ ہیں تو دوسری طرف پہاڑی و ٹھنڈے علاقوں کے پھل آخروٹ، آڑو، انگور، چلغوزہ وغیرہ ہیں۔ جبکہ لاہورکے دونوں اطراف ایک ہیں، گرم علاقوں کے پھل پنجاب سندھ اور بھارت تک ایک جیسے ہیں۔تجارت کیلئے منافع بخش مرکز پختونخواہ ہے۔ دنیا میں جنوبی وزیرستان کے چلغوزے کا سب سے بڑا جنگل ہے۔ وزیرستان میں اس کی قیمت کم ہے لیکن گرم علاقوں میں اس سے بہت کمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس طرح آم ، کھجور، اناج کی قیمت گرم علاقوں میں بہت کم ہے لیکن پہاڑی اور ٹھنڈے علاقے میں انکے ذریعے سے بہت کمائی ہوسکتی ہے۔ ہمارے علاقوں کو ایک سازش کے تحت دہشت گردی کا مرکزبنایا گیاہے۔ہمارا مطالبہ یہ نہیں کہ جن افراد کو اغواء کیا گیا ہے ان کو رہا کرو، بلکہ ہمارامطالبہ یہ ہے کہ عدالتوں کے سامنے پیش کرو، اگر وہ مجرم ہوں تو قرارِ واقعی سزا ملے اور بے گناہ ہوں تو ان کو عدالت چھوڑ دیگی۔ ایک جوان نے ایک کتے کو مارا، اس کو پولیس نے ہتھکڑی پہناکر گرفتار کیا،ہم اس کو سراہتے ہیں۔ کتے کو مارنا بھی غلط ہے لیکن راؤ انوار 450افراد کا قاتل ہے۔اس کو ہتھکڑی بھی نہیں پہنائی گئی، اسکے گھر کو سب جیل قرار دیا گیا۔ اس کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ تین بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف کو بکتربند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے ، راؤ انوار کو عزت دی گئی۔ ہم ریاست کو مانتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ اتنے بڑے قاتل کو ریاست سزا دیگی یا نہیں؟۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوتوپھر ہم راؤ انوار کو آسمان میں بھی چھپنے نہ دینگے۔ ہمارامطالبہ آئینی ہے، ہم ریاستی عناصر کو قانون کی خلاف ورزی سے روکتے ہیں اور اگر ریاست کا قانون یہ ہے کہ وردی میں جو جرائم کرلو، سینکڑوں افراد کو قتل کرو، تمہیں تحفظ ملے گا تو ہم پوچھتے ہیں کہ آئین کے کونسے دفعہ میں یہ بات لکھی ہے؟۔
2009ء میں ہمیں گھروں سے بے دخل کیا گیا ، پھر2016ء میں ہم نے اپنے گھروں کو بد حال دیکھا، گھروں سے اشیاء غائب تھیں تو بھی ہم نے سوچا تھا کہ ہماری غلطیاں ہیں، ہمارا قصور ہے، جو ہم نے کیا اس کو ہم نے پایا، جو بویا وہ کاٹا۔ مگر جب پھر بھی امن نصیب نہ ہوا، شریف عوام پر سختی اور گڈ طالبان کو رعایت دی گئی۔ ہماری تلاشی لی جاتی ہے،ان کو گزرنے دیا جاتا، پھر بھی ہم نے سمجھا کہ جس کا کام ہے اس کو ساجے، مگر جب کوئی دھماکہ ہوتاتو ساری مصیبت کا سامنا عوام کوہی کرنا پڑتا۔ عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے۔آخر یہ کب تک ہمارے ساتھ ہوتا رہے گا؟۔ اب ہم سمجھ گئے کہ دہشت گردی محض بہانہ ہے،اصل بات وسائل پرقبضہ کرنا ہے ، یہاں کی قیمتی معدنیات دنیا میں فروخت کرنے کا منصوبہ ہے۔ دہشت گرد احسان اللہ احسان اور مسلم خان وغیرہ کو اپنے پاس محفو ظ رکھاہے۔ یہ ایک کھیل ہماری جان، مال اور عزتوں کی قیمت پر کھیلا جارہاہے۔ یہ کاروبار ہے، یہ علاقہ پر قبضے کا منصوبہ ہے اور پشتون عوام، مٹی اور وطن پر ایک ڈرامہ ہے۔ ہماری دنیا تباہ ، عزت برباد ، وطن ملیامیٹ اور مٹی پلید کی گئی، حتی کہ ہمارا عقیدہ بھی خراب کیا گیا، ہمارا ایمان واعتقاد تھا کہ زندگی موت کا مالک اللہ ہے۔ ہمیں اتنا ڈرایا گیا کہ زندگی موت کا یقین خدا سے اُٹھا۔ ریاستی اداروں اور انکے اہلکاروں کو زندگی موت کا مالک سمجھنے لگے۔ یقین ہوا کہ وہ چاہیں تو ہم زندہ رہ سکتے ہیں اور وہ چاہیں تو ہمیں کبھی ،کسی وقت مار ڈال سکتے ہیں۔ ظلم وجبر نے ہمارا خدا سے یقین اٹھادیامگر ہم خاموش نہ رہیں گے، قوم کو اگاہی دینگے اور پہلے بھی جنہوںں نے قربانیاں دیں تو ایک فضاء ایسی بنائی گئی کہ لوگ قربان ہوں۔ اسکا صلہ یہ ملا کہ ہماری تذلیل کی گئی اور ہمارا جینا دوبھر کردیا، پاکستان کے چپے چپے پر ہمیں دہشت گرد قرار دیا گیا۔ چند دن چیک پوسٹوں پر رویہ بدلا گیا تو وہ فوٹو سیشن تھا، پھر وہی سلوک ہورہاہے مگر اب ہم متحد اور بیدار ہیں۔ ایکدوسرے سے رابطہ ہے، کسی کیساتھ زیادتی ہو توسب کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہم نے خود کومنظم کرنا اوران کو ظلم سے روکناہے۔
تبصرہ : تیز وتند : عبدالقدوس بلوچ
ٹانک سے بیٹنی لیڈی ڈاکٹررضیہ کو طالبان نے اغواء کیا، وزیرستان لے گئے،پشاور شوروم میں اسکی کارفروخت کیلئے کھڑی کی،اگرریاست بے غیرت تھی تو پختون قوم کو غیرت آتی، اسوقت غیرت کرلیتے تو تمہاری عزتیں بھی خراب نہ ہوتیں۔ طالبان نے غلط عقیدہ خراب کیا اور فوج کیوجہ سے بولنے کی ہمت ہے، عوام کوبیوقوف بنانے سے بہتر ہے کہ شعور واآگہی پھیلاؤ، قوم کوانقلاب کیلئے جگاؤ۔