اسلام کی نشاۃ ثانیہ سندھ پنجاب فرنٹیئر بلوچستان کشمیر سے ہوگی: مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ

584
0

ubaid-ullah-sindhi-sindh-punjab-army-chief-journal-ayoub-zulfiqar-ali-bhutto-1973-1977-daish

محمد فیروز چھیپا ڈائریکٹر فنانس نوشتۂ دیوار اور ادارہ اعلاء کلمۃ الحق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مرتبہ پاکستان سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں لیلۃ القدر ایک ہی دن میں منائی جائے گی۔ اللہ کرے کہ ہمیشہ کیلئے رمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی پوری دنیا میں ایک ہی دن منائی جائے۔ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا تھا ، اب 70سال ہونے کو ہیں مگر غلامی سے آزادی نہیں مل سکی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا یہ اتفاق تھا کہ قائد کا مزار مغربی پاکستان میں تھا۔ مشرقی پاکستان ہم نے کھودیا لیکن مقبوضہ کشمیر کا قبضہ نہیں چھڑا سکے۔ پاکستان میں پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے اور پھر پہلا پاکستانی مسلمان فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان تھا۔ جس نے میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا کو صدارت سے الگ کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پھر ذو الفقار علی بھٹو قائد جمہوریت کو جنم دیا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ باضابطہ انتخابات ہوئے تو اسکا سارا کریڈٹ جنرل ایوب کو جاتا ہے۔
پاکستان میں سیاست کی علمبردار پارٹیاں جمہوریت سے بالکل بے خبر تھیں۔ اے ڈی اور بی ڈی ممبروں کے ذریعے وہ بنیادی جمہوریت جنرل ایوب خان نے مہیا کی جس میں قوم کے اندر جمہور ی شعور کا آغاز ہوا۔ پاکستان میں لوگ خانوں و نوابوں کو جانتے تھے یا منجمد سیاسی قیادتوں کو جانتے تھے۔ جب 1971ء میں پہلی مرتبہ عام انتخابات ہوئے تو جمہوری قوتوں نے پاکستان کو دو لخت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ جنرل ایوب کی باقیات ذو الفقار علی بھٹو پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ صحافیوں اور سیاستدانوں کیخلاف بڑے سخت اقدامات اٹھائے۔ ذو الفقار علی بھٹو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر تھے۔ فوج کے تربیت یافتہ اور عوامی نمائندے تھے۔ 1973ء میں پہلی مرتبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عوامی آئین مرتب ہوا۔ قادیانی بھی اس کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دئیے گئے۔ قائد کے پاکستان میں پہلے بے قاعدگیاں تھیں یا بعد میں بغاوت کی گئی ہے ؟ ۔
احرار کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے اپنی زندگی کھپادی کہ انگریز ہندوستان سے نکل جائے اور قادیانی کافر قرار دئیے جائیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے بار بار اپنے خطبات میں تنبیہ کی تھی کہ انگریز اس خطے میں لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اسلئے کشمیر کا مسئلہ تقسیم ہند کیساتھ حل ہونا چاہیے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی وفات کے کافی عرصہ بعد ختم نبوت کا مسئلہ عوامی طاقت سے یا ریاست کی رعایت سے حل ہوگیا لیکن کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ جس پاکستان میں ختم نبوت کیلئے جگہ نہیں تھی اور جو لوگ ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے پر بھی قید و بند ، بغاوت اور دیگر مقدمات کا سامنا کرتے تھے اس پاکستان میں قرآن ، اسلام اور مسلمانوں کیلئے کتنی گنجائش ہوسکتی تھی؟۔ عرصہ ہوا کہ قومی زبان اردو کو ہم سرکاری زبان انگریزی کی جگہ پر نہیں لاسکے۔ جیوے جیوے پاکستان ۔ یہ فوج ہی کی سازش تھی یا سیاستدانوں کی نالائقی تھی ؟۔ جتنی حکومت فوج کی رہی ہے اتنی جمہوری حکومت بھی اقتدار میں رہی ہے۔
ذو الفقار علی بھٹو پر کفر کے فتوے لگ رہے تھے اور اس نے جمعہ کی چھٹی بحال کی ، اسلامی کانفرنس میں مسلم اُمہ کی قیادتوں کو پاکستان میں اکھٹا کیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ امیر المؤمنین جنرل ضیاء الحق کے لے پالک نواز شریف نے جمعہ کی چھٹی ختم کی ، الیکشن کے فارم میں ختم نبوت کے خلاف سازش کی اور جب کرپشن میں سزا ہونے کا خوف دامن گیر ہوا تو فوج اور عدلیہ کے خلاف بے پر کی اڑانے لگے۔ شاباش !۔
پاک فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو دُم سے اٹھاکر قوم پر مسلط کردیا۔ جس کی وجہ سے عوام تو عوام ساری سیاسی قیادتوں کو بھی بغاوت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل ضیاء الحق نجات دہندہ کی طرح آئے اور سیاسی قائدین کو بھٹو کی قید سے رہائی دلائی۔ پھر جنرل ضیاء حادثے کا شکار ہوئے اور نواز شریف کو فوج نے تیار کرلیا۔ نواز شریف کو یہ بھی پتہ نہیں کہ 70 سالوں کی بات درست نہیں ۔ 1970ء سے 1977ء تک بھٹو نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا ۔ اسکے بعد جنرل ضیاء کا رونا درست نہیں اسلئے کہ جنرل ضیاء الحق کا سب سے بڑا لے پالک نواز شریف خود تھا۔ جنرل ضیاء کے بعد 1988ء سے 1998ء تک یہی نواز شریف لے پالک مہرے کا کردار ادا کررہا تھا۔ حقیقت پسند ی کا تقاضہ یہ ہے کہ نواز شریف دوسروں کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے بلکہ سینہ کوبی کرکے خود ماتم کرتے کہ میں اُلو کا پٹھا تو استعمال ہوگیا اب عمران خان کو اُلو کا پٹھا نہیں بننا چاہیے تھا۔
نواز شریف اور عمران خان کے علاوہ زرداری اور دیگر اہل سیاست سے عوام بہت بد ظن ہیں ۔ جب عوام اٹھے گی تو لوٹوں کی بساط لپیٹے گی۔ لوٹوں کے امام نواز شریف اور عمران خان ہی ہونگے اور باقی سیاستدانوں کے حالات بھی مخفی نہیں ہیں۔
علماء کرام اور مفتیان عظام کے حالات بھی بد سے بدتر ہیں اور قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک بہت بڑا انقلاب برپا ہوسکتا ہے اور اس کی نشاندہی بہت تفصیل کے ساتھ گاہے بگاہے ہم کر رہے ہیں۔ شرعی حدود کا مسئلہ ہو ، نکاح کا مسئلہ ہو ، ایگریمنٹ کا مسئلہ ہو ، طلاق کا مسئلہ ہو ، قرابتداروں اور ہمسایہ کے حقوق کا مسئلہ ہو اور درس نظامی کی خامی کا مسئلہ ہو ، فرقہ واریت کا مسئلہ ہو اور سیاسی و جہادی مسائل ہوں سب کا حل ہم وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کی طرف سے کھل کر ہماری تائید بھی ہورہی ہے۔ اگر مساجد کی سطح پر سید عتیق الرحمن گیلانی کو دعوت دی جائے اور پیچیدہ مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہاں ہم اسلامی نظام کے نفاذ میں کامیابی حاصل کرلیں۔ ایک دفعہ بھٹو کو آزمایا گیا ، جسکے نتائج عوام نے دیکھ لئے تھے پھر نواز شریف کو آزمایا گیا اور اسکے بھی نتائج سامنے آگئے ۔ اب عمران خان کو آزمانے کی ضرورت نہیں ہے ، مساجد و مدارس ایک بہت بڑی طاقت ہیں ، قرآن و سنت طاقت کا سرچشمہ ہے جس نے پہلے دور میں مشرکین مکہ کو جہالت سے نکال کر عروج عطا کیا۔ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو اس وقت شکست دی جب وہ سپر طاقت تھے۔ خلافت راشدہ ، بنو اُمیہ ، بنو عباس ، خلافت عثمانیہ کا طویل دورانیہ اسلام کی نشاۃ اول کا کارنامہ تھا۔ اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز انشاء اللہ مملکت خداداد پاکستان سے ہوگا۔ اسکے لئے ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندہ کرنا ہوگا۔
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھا۔ اس نے قرآن کے احکام کو زندہ کرنے کیلئے اپنی سی کوشش کی تھی اور یہ پیشنگوئی کی تھی کہ اسلام کا آغاز عرب سے ہوا تھا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ قرآن و سنت کی پیشن گوئیوں کے مطابق عجم سے ہوگا اور اس کیلئے سندھ ، پنجاب، بلوچستان، فرنٹیئر، افغانستان اور کشمیر میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کے حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تو بھی ہم اس خطے سے دستبردار نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان کی یہ فکر مختلف کتابوں میں درج ہے اور خاص طور پر ان کی تفسیر المقام محمود کی سورۃ القدر میں یہ سب کچھ اتفاق سے لکھا گیا ہے جبکہ پاکستان بھی لیلہ القدر کی رات کو معرض وجود میں آیا تھا اور مولانا سندھیؒ پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت معلوم ہوتی ہے۔ سورہ جمعہ ، سورہ محمد، سورہ واقعہ اور دیگر آیات کے علاوہ بخاری و مسلم وغیرہ کے روایات میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہت وضاحت کے ساتھ ذکر ہے۔
پاک فوج ، عدلیہ ، سیاستدان ، صحافی ، عوام ، دانشور ، علماء اور تمام طبقات اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے خواہاں ہیں ۔داعش نے بھی اپنا ٹھکانہ افغانستان میں بنالیا ہے۔ داعش مخفف ہے اس کے نام دولت اسلامیہ عراق و شام کا مگر یہاں تو عراق و شام نہیں افغانستان اور پاکستان ہیں۔ جس دن اسلام کا حقیقی چہرہ عوام کو دکھایا گیا تو جنگجو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ امریکہ بھی اس خطے سے اپنی بے بسی اور پسپائی کا اعتراف کرتے ہوئے چلا جائے گا۔ ہندوستان کے ناپاک عزائم بھی خاک میں ملیں گے اور اسرائیل بھی حق کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ سعودی عرب اور ایران بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کیلئے تیار ہونگے۔
بکری اور شیر ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اور دعوت اسلامی و تبلیغی جماعت ایک ساتھ جماعتیں نکالیں گی۔ مجاہدین دشمنی کو چھوڑ کر آپس میں شیر و شکر ہوں گے ۔ جماعت اہل سنت کے قائدین ، رہنما اور کارکن امامیہ اور تحریک جعفریہ کے ساتھ باہم دوستیاں رچائیں گے۔ مشرق و مغرب ، شمال و جنوب اور تمام بر اعظموں سے اسلام کا ماڈل دیکھنے کیلئے انشاء اللہ لوگ یہاں آئیں گے ۔ علامہ اقبال کے خواب پورے ہونگے۔
دلیل صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی
عروق مردۂ مشرق میں خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریاہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مؤمن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابی
اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل!
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کمیابی
تڑپ صحنِ چمن میں آشیاں میں شاخساروں میں
جدا پارے سے ہوسکتی نہیں تقدیرِ سیمابی
وہ چشمِ پاک بھی کیوں زینتِ برگرستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی
ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کردے
چمن کے ذرے ذرے کو شہیدِ جستجو کردے
سرِ شکِ چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتابِ ملتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا