اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ مہدی غائب آکر معاملہ ٹھیک کرے گا سنی عقیدہ ہے کہ قرآن مہدیوں کو بناتا ہے

160
0

جب تک عوام تبدیلی کیلئے کھڑے نہیں ہونگے ہمارامذہبی، سیاسی، ریاستی، سماجی اشرافیہ اور بدمعاش طبقہ مسلط ہی رہے گا۔ اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ مہدی غائب آکر معاملہ ٹھیک کریگا، سنی عقیدہ ہے کہ قرآن مہدیوں کو بناتا ہے۔

ایران میں شیعہ نے امام مہدی غائب سے پہلے انقلاب برپا کردیا اور پاکستان میں سنی مکتبۂ فکر نے اہل تشیع کے ساتھ مل کر بھی کوئی انقلاب برپا نہیں کیا، متحدہ مجلس عمل بڑا ڈھونگ تھا

مارشل لاء اور اس کی پیداوار سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تبدیلی کی کوئی توقع نہیں ہے۔ پاکستان میں معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلیوں سے استحکام آسکتا ہے ورنہ افراتفری پھیلے گی۔

علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں امامت اور مہدی کی وضاحت فرمائی۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمان کو سلاطیں کا پرستار کرے
شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست نہ خوابیدہ نہ بیدار
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالمِ افکار
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی

علامہ اقبال کا تعلق سنی مکتبۂ فکر سے تھا۔ انہوں نے مہدی کاتصور وہ پیش کیا جو سنی مکتبۂ فکر کا عقیدہ ہے۔ جس طرح حیات خضر علیہ االسلام کا عقیدہ تھا اور آج بھی بہت سے لوگ حضرت خضر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے زندہ مانتے ہیں لیکن ان پر کفر وگمراہی کے فتوے نہیں لگتے،اسی طرح اہل تشیع کیلئے مہدیٔ غائب اور امامِ زمانہ کا عقیدہ رکھنا کوئی عیب نہیںہے اور جب تک علمی حقائق واضح نہیں ہوجاتے تو مناقشہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

ایک سفید ریش پٹھان عالمِ دین نے کہا کہ ” شیعہ آذان میں حضرت علی کیلئے خلیفتہ بلافصل نبیۖ کا خلیفۂ بلافصل کہتے ہیںیہ حضرت ابوبکر کی توہین ہے اور ان کی آذان پر پاکستان میں پابندی لگنی چاہیے”۔ حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا لیکن آپ پر توہین کا الزام نہیں لگایا گیا۔ البتہ جنات نے قتل کیا تھا یا اس دور کے خفیہ مشن والوں نے قتل کیا ۔ جب حضرت عثماناور حضرت علی کی شہادت مسندِ خلافت پر بیٹھنے کے باوجود ہوئی تو حضرت سعد بن عبادہ کی شہادت بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ صحافی ہارون الرشید کی کلپ دیکھی کہ ”ہزارہ مزدوروں کو طالبان نے اسلئے قتل کیا کہ بھارت کی جاسوسی کرتے ہیں”۔ مولانا عادل خان کو اسلئے قتل کیا گیا ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے پیسوں سے یہاں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے تھے۔ ایک طرف علماء دین کا قتل اور دوسری طرف ہزارہ مزدروں کا قتل فرقہ واریت کے نام پر جاری رہے گا؟۔

تحریک طالبان پاکستان نے اپنے عروج کے دور میں بریلوی مکتبۂ فکر کے علماء اور پیروں کو قتل کیا۔ مینگورہ سوات میں ایک شخصیت کی لاش کو قبر سے نکال کر چوک پر لٹکایا گیا۔ ہماری سیکورٹی ایجنسیاں موجود ہونے کے باوجود بے بس تھیں کیونکہ مذہبی جوش وجنون اور غیظ وغضب کا سامنا کون کرتا؟۔ شیعہ کی آذان کو صحابہ کی توہین قرار دینے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنیوالے وقت میں پنجاب سے آواز اُٹھے کہ ” جو لوگ آذان سے پہلے صلوٰةوسلام نہیں پڑھتے ہیں یہ گستاخ رسول ہیںاور ان کی قتل وغارت شروع ہوجائے”۔

تبلیغی جماعت کے ترجمان نعیم بٹ نے شاید حفظ ماتقدم کے طور پر ہی پہلے سے اس صلوٰ ةو سلام کی بہت تعریف کی ہے۔ لیکن جب فرقہ واریت کا بھوت سوار ہوجاتا ہے تو پھر قائد آبادخوشاب میں بریلوی مکتبۂ فکر والا گستاخ کے نام پر گارڈ کی گولی کا نشانہ بنتا ہے اور لوگ پولیس اسٹیشن پر چڑھ کر قتل کی تائید کررہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ دیوبندی ، اہلحدیث یا جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تب بھی حالات زیادہ مختلف ہوتے کیونکہ ان کو گستاخ ہی سمجھا جاتا ہے۔پنجاب میں شیعہ سنی کے علاوہ دیوبندی بریلوی فرقہ واریت کی فصل بھی تیار کھڑی ہے، صرف ماچس کی ایک تلی سے آگ لگانے کی دیر باقی ہے۔

علامہ اقبال نے ”پنجابی مسلمان” پر خوب لکھا تھا کہ

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندہ کوئی صیاد لگادے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

تحریکِ لبیک کے علامہ خادم رضوی سے حکومت نے معاہدہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو سترہ(17)فروری( 2021ئ) سے پہلے نکالا جائیگا۔ اوریا مقبول جان بھی چہلم پر گیا تھا، ڈاکٹر عامر لیاقت کے حوالے سے بھی تحریکِ انصاف چھوڑ کر تحریکِ لبیک میں شامل ہونے کی خبرپھیلائی جارہی ہے۔ شاید یہ تحریکِ لبیک تحریک انصاف کی متبادل کے طور پر بھی ہو، جس طرح مریم نواز نے کہا تھا کہ شہبازشریف عمران خان کے متبادل ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے تو امریکہ کا بھی کوئی سفیر موجود نہیں جو ہماری فوج، سیاسی جماعتوں اور جہادی طبقات کا باپ رہاہے۔ فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مسئلہ اہم ہے یا نہیں ہے ؟ لیکن ہمارے ملک کے حالات جس طرف جا رہے ہیں وہ بڑے تشویشناک ہیں۔ اسلام آباد میں پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے میں محترم محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ” مولانا فضل الرحمن فتویٰ جاری کرے کہ عوام بھوک مٹانے کیلئے حکومت کی املاک کو لوٹ سکتے ہیں”۔ بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا تو عوام احتجاج سے زیادہ لوٹ مار میں لگے ہوئے تھے۔ طالبان نے اپنی تحریک لوٹ مار اور بھتہ خوری کے ذریعے چلائی تھی۔ براڈ شیٹ نے ایک روپیہ بھی برآمد نہیں کیا ہے لیکن اس کو اتنی رقم ادا کردی گئی ہے جتنی پاکستان کی نیب نے پاکستانی عوام سے وصول کی تھی۔ ریاست اور سیاست کے پہلوان بھی اپنے لئے بقدرِ ضرورت حکومت کا مال اور عوام سے بھتہ حلال سمجھتے ہیں اور جب انسان کی بھوک کھل جاتی ہے تو حدیث میں آتا ہے کہ مٹی سے ہی اسکا پیٹ بھر سکتا ہے۔ ہم بہتر مستقبل کی تلاش میںاپنا حال بھی برا کرسکتے ہیں۔

علامہ سید جواد نقوی نے وضاحت کی ہے کہ” اہل تشیع کے ہاں امام عوام کی طرف سے منتخب نہیں ہوتا بلکہ نامزد ہوتا ہے۔ نبیۖ نے حضرت علی ، علی نے حسن ، حسن نے امام حسین اور اس طرح بارہ امام نامزد ہوگئے۔ امام کا اسلام وہ ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اہل تشیع کا بھی وہی ہے۔ اہل تشیع ائمہ سے رہنمائی لیتے ہیں لیکن اب غیبت کبریٰ کا زمانہ ہے اورعمومی احکام سے رہنمائی لینی ہے”۔

اہل تشیع بھائیوں سے اتنی گزارش ہے کہ جب تک امام مہدیٔ غائب نہ نکلے تو اپنے کلمے اور آذان پر کاربند رہو۔ تمہارے علماء وذاکرین جو دلائل دیں ان پر جھومتے رہو، غمِ حسین کا ماتم مناؤ۔ ہندو، سکھ، عیسائی ، یہودی اور بدھ مت کے علاوہ بہت مذاہب دنیا میں ہیںلیکن ان سے پاکستان میں کوئی نفرت نہیں کرتا تو آپ سے نفرت کرنے والوں کا ایک مشن بھی ہے اور کاروبار بھی۔ جب تک اپنے اماموں کیلئے جذباتی بنیاد پر دوسروں سے اپنی نفرت کا اظہار کروگے تو مخالفین اپنا مشن زندہ رکھیںگے کیونکہ جب آپ اپنے اماموں کی گستاخی برداشت نہیں کرسکتے تو دوسروں کو سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔ دوسروں سے نفرت تمہاری مجبوری بھی ہے لیکن اتنا خیال کم از کم ضرور رکھو کہ امام کا تعلق زمانے کیساتھ ہوتا ہے۔ حضرت علی کے بعد اب تو بارہویں امام کے کلمے اور آذان میں جملے کی منطق بنتی تھی۔ جس طرح رسول کیساتھ کلمہ بدلتا ہے۔ ابراہیم خلیل اللہ، موسیٰ کلیم اللہ اور عیسیٰ روح اللہ کے بعد اب محمد رسول اللہ۔ حضرت علی کے بعد امام حسن ، امام حسین ، زین العابدین کیساتھ ساتھ اب تو بارہویں امام کا کلمہ ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ آپ نے اپنے امامِ وقت کیساتھ اپنا کلمہ بدلنے کی درست کوشش کیوں نہیں کی؟۔ ہم تمہیں تمہارے مخالفین کے قتل و غارت کا نشانہ بنانے سے بچانا چاہتے ہیں۔ ہماری سنی مکتبۂ فکر سے استدعا ہے کہ اپنی جہری نماز میں سورۂ فاتحہ اور دوسری سورتوں کا آغاز جہری بسم اللہ سے کرلو۔

پنجاب میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک ٹیم نکلے اور فرقہ واریت کی جگہ دلائل سے عوام کے شعور کو مالامال کردے۔ بلوچستان اور پختونخواہ کی تباہی کے بعد پنجاب اور سندھ میں فرقہ واریت کے نام پر قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوجائے تو پاکستان کی ریاست حالات کو سنبھال نہیں سکے گی اور اقوام متحدہ کی فوج عراق میں عورتوں کی جس طرح تلاشی لیکر توہین کررہی ہے اور امریکی فوج نے جس طرح کا جنسی تشدد القاعدہ والوں پر کیا ، بس اللہ کی پناہ۔ ایک فارسی بان یا ازبک وتاجک وغیرہ کی ویڈیو آئی تھی۔ اس پر بے پناہ جنسی تشدد کیا گیا تھا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی