اہل تشیع کو علماء دیوبند پر بھرپور اعتماد کرکے فرقہ پرستی کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

اہل تشیع کو علماء دیوبند پر بھرپور اعتماد کرکے فرقہ پرستی کی سازشوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ اُمت مسلمہ کو درپیش عالمی سازشوں کا بہت کھلے دل ودماغ سے مقابلہ کرنے میں مشکلات کا بروقت جلداز جلدخاتمہ ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شیعہ سنی مساجد کے ائمہ اور خطیبوں کاتحفظ صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ منبر ومحراب سے اتحاد واتفاق اور وحدت کی آواز اُٹھے گی تو دشمن اپنے عزائم میں ناکام ہوجائے گا!

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سراور ڈاڑھی سے پکڑلیا۔اگرقرآن کی اس بات پر فرقہ پرستی کی داستان چڑھائی جاتی تو خطیبانہ انداز سے بات کہاں پہنچتی ؟

ہماری قوم میں بداعتمادی کی فضاء ہے۔ اہل تشیع کے علامہ سید جواد حسین نقوی نے علماء دیوبند کے مولانا سرفراز خان صفدر کے بیٹے علامہ زاہدالراشدی کے پیچھے اپنے مدرسہ عروة الوثقیٰ مسجد بیت العتیق لاہور میں نماز پڑھی تو علامہ شہریار رضا عابدی نے علامہ سیدجوادحسین نقوی کا نام لئے بغیر اتحاد کے حوالے سے خبردار کیا کہ دیوبند کے امام مولانا سرفراز خان صفدر کے شیعہ امامیہ اور ایرانی انقلاب کے بارے میں کیا خیالات تھے۔علامہ زاہدالراشدی کے سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی شہید اور قائدین علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہید اور مولانا اعظم طارق شہید کے بارے میں کیا تأثرات تھے۔ ایک تازہ ویڈیو میں سارے حقائق سامنے رکھ دئیے ہیں۔
علماء دیوبند نے اہل تشیع، بریلوی مکتبۂ فکر، اہلحدیث اور آپس میں ایکدوسرے خلاف بہت کچھ لکھا ہے لیکن جب اہل تشیع کے علامہ صاحبان خود ایک طرف حضرت عمر اور اکابرصحابہ پر کفر ونفاق کے فتوؤںکی یلغار کریںگے اور دوسری طرف یزیدکے بیٹے معاویہ کا خلوص بتائیںگے۔ یزید کی دادی ہند کی طرف سے حضرت حسین بن علی سے انتہائی عقیدت ومحبت کا اظہار کرکے اپنے لوگوں کو رُلائیںگے تو اس تضاد بیانی کا کیابنے گا کہ بڑے صحابہ کرام کیلئے نفاق وارتداد اور یزید کے کنبے کیلئے اسلام وایمان کے ثبوت پیش کئے جائیں؟۔ اللہ نہ کرے کہ اہل تشیع آپس میں فساد برپا کریں۔
علماء نے اگر اہل تشیع کی باتوں کا الزامی جواب دیا ہے تو اہل تشیع اپنے روئیے پر بھی نظر ثانی کریں۔ اگر گستاخانِ صحابہ کے مقابلے میں سپاہ صحابہ کا کارکن پھانسی کے پھندے کو چوم رہاتھا تو اسلئے نہیں کہ سعودی عرب کی بھیجی ہوئی زکوٰة کو ہضم کررہا تھا بلکہ وہ اپنے ایمانی جذبے سے موت کو گلے لگاکر خوش ہوتاتھا۔ جب اہل بیت کی خواتین کے نام لیکرشیعہ ذاکر مظلومیت کو خطابت کے آرٹ میں چار چاند لگادیتا ہے تو سامعین کے قلوب سے ظلمت کاماحول آنسو بہابہا کر دھل جاتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کیلئے بی بی زینب کے تذکرے تریاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سنی علماء کے پاس اُم المؤمنین حضرت عائشہ کی طرف سے جنگ میں شرکت کے حوالے سے ایسی داستان نہیں جس پر خطیب حضرات اپنے جوشِ خطابت کے جوہر دکھا سکیں۔
سنی شیعہ خطیبوں کی پنجاب میں فیس ہے۔ ریٹنگ بڑھانے کا دھندہ مقبولیت کی بنیاد پر چلتا ہے لیکن یہ مقبولیت بارگاہِ خداوندی میں نہیں بلکہ عوام کے ہاں جن سے پیسہ بٹورنا ہوتا ہے۔ میں سخت جان انسان تو نہیںاسلئے کہ اللہ نے قرآن میں انسان کو کمزورقرار دیا ہے اور میں اپنی کمزوری کو بخوبی سمجھتا ہوں لیکن بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انسان کے دل کو تھام لیتا ہے۔ جب فرعون سے بچانے کیلئے حضرت موسیٰ کوان کی ماں نے دریا میں ڈال دیا اور پتہ چل گیا کہ فرعون کے ہاں پہنچ گیا ہے تو اللہ نے حضرت موسیٰ کی ماں کے دل کو اپنے فضل سے تھام کر سکون عطا فرمایا تھا۔
ایک مرتبہ بلورخاندان کی ایک فیکٹری میں معذور پیر چترالی بابا کے ہاں بریلوی مکتبۂ فکر کے ایک پختون خطیب کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر چندافراد کیساتھ تقریر سنی۔ جب اس نے حضرت زینب دخترِ علی کی کیفیت کا ذکر کیا کہ وہ اپنے سر پر مٹی پھینک رہی تھیں تو میں بے ساختہ اتنا پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ عقل دنگ رہ جائے۔ عورت ذات کی تکلیف سن کر کلیجہ منہ کو آنا ایک فطری بات ہے۔ ہمارے ساتھ بھی وہ واقعہ پیش آیا تھا جس نے کربلا کی یاد تازہ کردی تھی۔ میرے بھتیجے ارشد حسین شہید کی یلغار سے گھبرا کر دہشتگرد نے راکٹ لانچر سے اس کا سر مبارک اڑادیا تھا، اس کے سر کا بھیجا درخت میں بکھر گیا تھا۔ ہمارے جنازے پر بھی خود کش کی دھمکی تھی، قاتل اتنے بے لگام تھے کہ جنازہ ختم ہوتے ہی قریبی عزیز کے گھر مسلح ہوکر گاڑیوں میں پہنچ گئے اور سرِ عام دندناتے ہوئے پھرتے تھے۔ ان دہشت گردوں کے سامنے یزید کا دربار انسانیت اور اسلام کے لحاظ سے بہت بہتر لگتا ہے ، حالانکہ کس قدر خطیبانہ آرٹ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بھیانک انداز میں اس کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اہل تشیع کے تحفظات اپنی جگہ پر سوفیصد درست ہیں۔ زوال وانحطاط کے انتہائی دور میں معصوم بچیوں اور خواتین کو جس طرح سفاکی و بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے تو فرعون بھی حیران ہوگا کہ ہم بچوں کو قتل کرتے تھے اور عورتوں کو عصمت دری کیلئے زندہ چھوڑتے تھے۔ اس قدر ظلم تو اس دور میں بھی نہیں تھا جو آج کے زمانے میں ہورہا ہے اور اگر اس ظالمانہ ماحول میں فرقہ پرستی کے ناسور کا عنصر بھی شامل ہوگیا تو کیا ہوگا؟۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے کو اس ماحول میں تنہاء چھوڑ کر اس کی طرف مزید دھکیلنے کی کوشش کی جائے یا پھر انسانیت کو اس ظالمانہ ماحول سے باہر نکالا جائے؟۔ رسول خداۖ نے سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ کے کلیجے کو نکالنے والے حضرت وحشی اور کلیجہ چبانے والی حضرت ہند کی معافی اسلئے نہیں کی کہ دائرۂ اختیار سے باہر تھے ، یہ کوئی سیاسی منافقت کا تقاضہ تھا یا ان سے آئندہ کوئی خطرات نہ تھے بلکہ رحمة للعالمینی کا تقاضہ تھا، رب العالمین نے جھوٹ موٹ نہیں سچ مچ رحمت للعالمین بناکر بھیجا تھا۔
رسول خداۖ کے اہل بیت نے بھی کسی تقیہ ، مجبوری اور سیاست کے تحت نہیں بلکہ رحمت للعالمینۖ کے سچے اور پکے جانشین بن کر بنوامیہ اور بنو عباس کے دور میں حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد معمول کے مطابق زندگی گزاری تھی۔ہمارا کردار یہ ثابت کرے کہ ہم بھی نبیۖ،اہل بیت عظام اور صحابہ کرامکے سچے پکے چاہنے والے ہیں۔ ابوذر غفاری شیعہ سنی دونوں کیلئے قابل احترام ہیں لیکن اگر خلفاء کے دربار کو حضرت ابوذر غفاری نے اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تو وہ اہل بیت کی چوکھٹ سے بھی دور ہی رہے۔ حضرت علی ، حضرت حسن، حضرت حسین کے ڈیرے پر نہیں بیٹھتے تھے جن کو بدری صحابہ کے برابر بیت المال سے حضرت عمر بہت بڑا حصہ دیتے تھے۔
مجھے اپنے اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی خلوت وجلوت میں رونا نہیں آیا۔ کراچی میں ساتھیوں کو دلاسہ دینے ان کے گھروں میں پہنچ گیا اور اپنے پاس بھی بعض افراد کو بلایاتاکہ ان کا یہ احسا س مٹادوں کہ میں غم سے نڈھال ہوں گا۔ کسی کو زیادہ روتا ہوا دیکھ کر یہ بھی کہہ دیا کہ رونا مردوں کا کام نہیں بلکہ عورتوں کے حوصلے کا مقام ہے۔ آج میں پھر متازع معاملات میں دخل اندازی کرکے اپنے سکون کی زندگی کو اُجاڑنے پر تلا نظر آتا ہوں لیکن یہ میری ہمت نہیں اللہ کا فضل اور میری مجبوری ہے۔ صحابہ واہلبیت نے اپنے دور میں جن مشکلات پر قابو پایا تھا وہ بہت اچھے لوگوں کا زمانہ تھا،آج بہت برے لوگوں کا عجیب زمانہ ہے،مفادات نے سبھی کو اندھا اور اندھا دھند بنا رکھا ہے۔
قوموں کے ضمیر کی موت اور تقدیر کو اپنے کردار، گفتار، تکرار اور رفتار سے بدلنے کی کوشش کی جائے تو ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بن سکتا ہے۔ علماء دیوبند کے خلوص کو منافقت سے تعبیر کرکے اسکے شر سے بچنے کی کوئی تدبیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے مخلص ساتھیوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے مجھ سے فرمایا تھاکہ ”ہمارا مدرسہ آپ کا مرکز ہے” تو میں نے معذرت سے عرض کیا تھا کہ ” خیمے لگانے کی تکلیف برداشت کرنی پڑے تو اس پر گزارہ کرلیںگے مگر کسی مسلک کی طرف خود کو منسوب نہیں کرینگے”۔ مولانا صفدر نے اس پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ بہت زبردست بات ہے ۔ مجھے تمہاری پیشانی کی چمک سے لگ رہاہے کہ خلافت کے قیام میں کامیاب ہوگے”۔
افغانستان میں اہل تشیع نے ملا عمر کا ساتھ نہیں دیا تو بھی اقتدار میں آگئے تھے اور جب امریکہ کے حملے کے بعد اہل تشیع نے افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا تب بھی ملاعمر نے امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا، جہاد کے میدان میں خطابت کے ترانے اور ذاکرین کے افسانے نہیں چلتے بلکہ بمباری کی گھن گرج میں اللہ پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے جہاں مشرک بھی سمندری طوفانی بھنور میں پھنسنے کے اندیشے پر بتوں کو بھول کراللہ ہی کو پکارتا ہے۔ میں نے جہاد کے میدان میں دیکھا تھا کہ جب ہماری طرف سے روسی ٹینکوں پر میزائل سے تین گولے فائر کئے تو وہاں سے گولے ہم پربرسائے گئے ۔ پنجابی امیر خالدزبیرکے سفید دانت قریب میں لگنے والے گولے کی گرد و غبار میں چمکتے مسکراتے ہوئے دکھائی دئیے تو دوسری طرف حرکة الجہاد الاسلامی کراچی کے کمانڈر اعجاز مردانی کو گولے کی آواز سے گرتے ہوئے دیکھا تو میری ہنسی چُھوٹی،اس نے کہا کہ ہنستے کیوں ہو؟، میں نے کہا کہ گرے کیوں؟۔ اس نے کہا کہ روزہ لگا ہے۔ جب ہم جیپ میں رات کو افغانستان سے واپس آرہے تھے تو کبھی جیپ کی لائٹ جلاتے، کبھی بجھاتے ، روسی ٹینکوں سے گولے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لگ رہے تھے جیسا کہ کوئی فلمی سین بن رہا ہو۔ اللہ پر بھروسہ ہو تو جہاد کا میدان گلی ڈنڈے کا کھیل ہے۔
میں مدرسہ عربیہ فیوچر کالونی لانڈھی کراچی میں زیرِ تعلیم تھا تو ایک اہل تشیع کے لواحقین اس کی میت جنازے کیلئے لائے تھے ، انہوں نے بتایا کہ مرحوم نے وصیت کی تھی کہ اس کا جنازہ سنی مکتب والوں سے پڑھایا جائے۔ ہم نے جنازہ پڑھا توانہوں نے خود شرکت نہیں کی۔ میں نے ہمدردانہ جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کیساتھ میت گاڑی تک لے جانے میں مدد بھی کی اور بہت ہلکا پھلکا وزن تھا اس میت کا۔ مجھے کراچی میں جمعہ کی نماز پڑھنے کیلئے پہنچنا تھا لیکن راستے میں کارساز کے قریب ایک امام باڑہ میں غلطی سے پہنچ گیا۔ دیکھا کہ نماز ہورہی ہے، جماعت میں شامل ہوا،اس شیعہ امام کے پیچھے نماز پڑھ کر یہ احساس ہرگز نہیں تھا کہ کسی گمراہ کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی اور یہی سوچا کہ اہل تشیع کی اپنی نماز ہوجاتی ہے تو میرے لئے بھی اس کی نماز ہوجاتی ہے ، فقہی مسائل اور نماز کے طریقۂ کار میں جتنا اختلاف فقہ حنفی اور فقہ جعفری میں ہے اس سے زیاہ ائمہ اربعہ میں بھی ہے۔
کچھ دنوں بعد محرم آگیا اور علامہ آصف علوی کی تقریر پر کراچی کے سنی علماء نہیں بلکہ لاہور اور اسلام آباد کے شیعہ علماء بھی اس کو سازش قرار دے رہے تھے۔ جس دن جمعہ کے بعد دیوبند مکتبۂ فکرکی طرف سے احتجاج تھا تو اس احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب نے بھی مصروف دن گزارے تھے۔ اتفاق تھا کہ میں قاری صاحب کی مسجد کے قریب سے گزر رہا تھا تو میں وہاں پہنچ گیا ۔ قاری صاحب سورۂ فتح کی آیات میں مذکورصحابہ کرام کی صفات کا ذکر فرمارہے تھے۔ جب یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار” کاشتکار ا سے دیکھ کر خوش ہوتا ہے تاکہ کفاراس سے جل کر غصہ ہوں”۔ قاری اللہ داد صاحب نے صحابہ کرام کی اس سے پہلے ایک ایک صفت کو بیان کیا مگران سے کفار کے غصہ کے مارے جلنے کی بات نہیں کی۔
اگر صحابہ کرام کی طرف یہ نسبت کی جائے کہ وہ آپس میں رحم نہ کرنے والی صفات کی وجہ سے صحابیت سے خارج ہوگئے ہیں تو پھر حضرت علی اور ان سے لڑنے والوں سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے لیکن جب سورۂ فتح کے بعد سورۂ حجرات میں آپس کے قتل وقتال کے باوجود بھی دونوں گروہوں کو مؤمن قرار دیا گیا ہے تو پھر ان پر کفر کے فتوے لگانا قرآن کے علاوہ ائمہ اہل بیت کے مسلک سے بھی کھلا انحراف ہے۔
مجھے امید ہے کہ شیعہ سنی ایک دوسرے کو مساجد کے منبروں پر جمعہ کے دن تقریر کا موقع دیںگے اور امت مسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے میں منبر ومحراب سے زبردست کردار ادا کریںگے۔ اپنے مسلک کے شدت پسندوں کی مخالفت ہی معیارِ حق ہے تو پھر کیا سنی شیعہ اتحاد کے دعویدار شیعہ علماء اپنے مسلک کیلئے قربانی دینے والوں کی قبروں پرحاضری نہیں دیتے پھرتے ہیں؟۔ یہی شدت پسند وہ ہیں کہ اگر اچھے راستے پر لگ گئے تو امت کا بیڑہ خالد بن ولید کی طرح پار کریں گے۔
مشرکینِ مکہ نے غزوہ اُحد میں پلٹ کر حملہ کیا تو مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچا۔ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ گیارہ (11) افراد رہ گئے تھے۔ علامہ جواد حسین نقوی نے کہا کہ تین افراد رہ گئے تھے ایک اور شیعہ عالم نے کہا کہ صرف علی رہ گئے تھے۔ قرآن میںبدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے اور اُحد میں بھاگنے والوں کی سرزنش میں زیادہ فرق نہیں تھا، یہ تربیت کا مرحلہ تھا اور ان آیات میں ہم نے اپنے معاشرے کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا ہے اور اگر تفریق وانتشار کا سلسلہ جاری رہا تو پھر وہ خون ریزی ہوسکتی ہے کہ اشتعال انگیزی میں اپنی صلاحیتیں خرچ کرنے والوں کو خوف وہراس میں اپنا مذہب نہیں بدلنا پڑ جائے۔ واعظ اور خطیب مجاہد ہوتو میدانِ جنگ میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گھبراکر بھاگ جاتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button