بلوچستان کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کی ایک تجویز

409
0
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
حیات بلوچ کا بے گناہ قتل پوری پاکستانی قوم کا قتل ہے، تمام بلوچوں کا قتل ہے اور سب بے گناہوں کا قتل ہے اور پوری انسانیت کا قتل ہے۔ ایک جوان کی وجہ سے ماںباپ کا گلستان اُجڑتاہے ،بیوی بچوں کی دنیا برباد ہوجاتی ہے۔ انسان کوئی بھی ہو اسکے قتل سے زمین وآسمان پر اس وقت لرزہ طاری ہوتا ہے جب اس بے گناہ کے خون سے زمین رنگین ہوجاتی ہے۔ اسی لئے تو اللہ کی بارگاہ میں فرشتوں نے کہا تھا کہ زمین میں فساد پھیلانے اور خون بہانے والی قوم کو کیوں پیدا کررہے ہو؟۔
کعبہ کا مقام ہے کعبہ حضرت ابراہیم نے بنایا، انسان کو اللہ نے بنایا ہے۔ حضرت عبدالمطلب نے ابرہہ کی لشکر کشی پر خون خرابے کا ماحول پیدا نہ کیا تو اللہ نے ایسا پوتا دیا جو رحمة للعالمینۖ کے نام پر دنیا کیلئے اُسوہ ٔ حسنہ ہے۔ آپۖ نے حضرت امیرحمزہ، سیدنا فاروق اعظم، علی حیدر کرار وابوبکر صدیق اکبر اور حضرت عثمان جیسے جانثاروں کے ہوتے ہوئے مکہ میں خون خرابے کے بجائے ہجرت کو ترجیح دی۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے میں دس سال تک خانہ کعبہ کو 360 بتوں کی بھرمار کے باوجود مشرکینِ مکہ کے حوالے کیا۔ جب ابوجہل نے نبیۖ کو گالی گلوچ دی تو امیر حمزہنے ابوجہل کو للکارا کہ ” او چوتڑ پر خوشبو لگانے والے بزدل! تجھ میں یہ ہمت کیسے ہوئی کہ میرے بھتیجے کو گالی دی”۔ (سیرت النبی ۖ:الرحیق المختوم)
حضرت عمر اسکے بعد اسلام لائے اور اس وقت حضرت امیر حمزہ نے اسلام کو قبول بھی نہیں کیا تھا۔ اگر اس وقت مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہوتا تو دہشت سے لوگوں کا بہت برا حال ہوسکتا تھا لیکن مکی دور میں جہاد کی اجازت نہیں تھی۔ فاروق اعظم نے اسلام قبول کیا تو اعلانیہ آذان بھی دی اور ہجرت بھی اعلانیہ کی تھی۔ چھاپہ مار جنگ کی اجازت ہوتی تو بدر میں مردار ہونے والے سردار مکی دور میں مارے جاچکے ہوتے۔
حیات بلوچ کی شہادت پہلی نہیں، بہت بڑی تعداد میں بلوچوں کے جوان بوڑھے، خواتین اور بچے شہید ہوئے ہونگے لیکن حیات کیمرے کے سامنے آگئے اور بہت ساروں کی تشدد زدہ لاشوں پر کوئی آواز بھی نہیں اُٹھ سکی۔ وجہ یہ ہے کہ جب ریاست کیخلاف کچھ نوجوانوں نے ہتھیار اُٹھالئے۔ ان کا بس چلتا ہے تو ریاستی اہلکاروں کو مارنے میں آسرا نہیںکرتے ۔جب ریاستی اہلکاروں کی زد میں آتے ہیں تو ریاست بھی ان سے دشمنوں جیسا رویہ روا رکھتی ہے۔ عدالت ، قانون اور انسانیت کی جگہ چھاپہ مار کاروائیاں ہوںتو زور آزمائی میں ایکدوسرے سے آگے نکلناہوتا ہے۔ کب تک یہ جنگ جاری رہے گی اور مزید کتنے بے گناہ اس جنگ کی آگ میں جھونک دئیے جائیںگے؟۔ اسکے آغاز اور خاتمے کا کچھ پتہ نہیں۔ اللہ کرے کہ ظالم اپنے ظلم سے رُک جائے ،حق وصداقت اور امن وامان کا پرچم جلد بلند ہو۔
آصف علی زرداری جب صدر مملکت اور پاک فوج کے آئینی سربراہ تھے تو انہوں نے بلوچوں سے معافی مانگ لی تھی مگر کس بات پر معافی مانگی تھی،اس کی کوئی خبر کسی کو نہیں ۔ جب تک پتہ نہ چل جائے کہ جرم کیا تھا؟۔ اس وقت تک اس معافی میں کوئی وزن بھی رہتا ہے۔ پھر تو استغفار اللہ ہی کی بارگاہ میں کرنا چاہیے۔ بندوں سے معافی مانگی جاتی ہے تو جرم کے ارتکاب پر ہی مانگی جاتی ہے۔
جب ذوالفقار علی بھٹومرکز میں وزیراعظم ،بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل اور پختونخواہ میں مفتی محمود وزیراعلیٰ تھے تو بھٹو نے بلوچستان اسمبلی توڑ کر گورنر راج قائم کیا ۔عطاء اللہ مینگل کو ہٹاکر اکبربگٹی کوگورنر بنادیا ۔ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کو ہٹا کٹھ پتلی گورنر نامزد ہوا، اسلئے کہ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی اکثریت کو حکومت کا حق تھا۔ مفتی محمود نے ساز باز کرکے بلوچستان میں حکومت نیشنل عوامی پارٹی کو دی اور خود سرحد کے وزیراعلیٰ بن بیٹھے۔ اگر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی حکومت بنتی اور سرحد میں نیپ کاوزیر اعلیٰ خان عبدالولی خان ہوتے، تو جس طرح پنجاب سرکاری مسلم لیگ کا مرکزتھا اور سندھ پیپلزپارٹی کا مرکز ہے،اسی طرح پختونخواہ عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان جمعیت علماء اسلام کا مرکز بنتے۔ اگر یہ مفاد پرستی کی ساز باز نہ ہوتی تو آج پختونخواہ میں مذہبی جماعتوں کے بجائے قوم پرستوں کی حکومت ہوتی اوربلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اور مذہبی جماعتوں کا اقتدار رہتا سرحد میں کٹھ پتلی حکومت مذہب کے نام پر قائم ہوئی اور بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت قوم پرستی کے نام پر قائم ہوئی تو کٹھ پتلی تماشے کا جمہوری بنیادوں پر آغاز ہوگیا۔ جمہوریت کٹھ پتلی بن گئی تو قوم پرستوں نے اقتدار کیلئے ریاست سے قوم کو لڑانے پر غور شروع کیا اور مذہب پرستوں کے دماغ میں دہشت گردی نے جنم لیا۔
مریم نوازکے شوہر صفدراعوان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”ذوالفقار علی بھٹو نے مرزائیوں کو کافر قرار دیا ، بھٹو شہید کو سلام پیش کرتا ہوں، فوج میں قادیانی بھرے پڑے ہیں، بھٹو کو قادیانیوں نے شہید کیاہے”۔
کوئی صفدر اعوان سے یہ پوچھنے والا نہیں تھا کہ جس بنیاد پرجنرل ضیاء الحق کی مخالفت کرتے ہو، اسی کی پیداوار تمہارا یہ ٹبر ہے جس میں نوازشریف،شہباز شریف اور مریم نواز شامل ہیں، اگر بھٹو کو جنرل ضیاء الحق پھانسی نہ دیتا اور شریف برادران کی سیاسی پرورش نہ کرتا تو آج ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اعوان کسی پرائیویٹ کمپنی میں سکیورٹی گارڈ کی خدمت انجام دے رہا ہوتا۔ اگرکیپٹن صفدر اعوان میں سیاسی بصیرت ہوتی تو وہ قومی اسمبلی کے فلور پر بیان دیتے ہوئے کم ازکم حقائق پر بھی بہت غور کرتے۔
حیات بلوچ شہیدکے پسِ منظر میں کٹھ پتلی قوم پرست سیاسی لیڈر شپ کا دامن بھی صاف نہیںہے۔ ریاست سے ملی بھگت کیساتھ خون دینے اور خون لینے کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے محفوظ مقامات پر بیٹھ کر پالیسی بیانات دینے کا معاملہ ہے۔ آزاد بلوچستان کا خواب دیکھنے والے اب درست کہتے ہونگے کہ ریاست بلوچوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے لیکن اپنا اور اپنے بچوں کو جنگ سے دور رکھ کر جنگ کی حمایت کرنے والے بھی معصوم خون کو بہانے میں بالکل برابر کے شریک ہیں۔ کوئی شک وشبہ نہیں کہ بلوچ بہادر، انسانی اقدار کے سب سے بڑے محافظ اور بہت شریف ، باغیرت، باضمیر اور سیاسی سمجھ بوجھ سے مالا مال لوگ ہیں ۔ ان کی جرأتمندی ، بہادری اور غیرت بہت مثالی ہے اور پاکستان میں قوم کی حیثیت سے یہ لوگ ہی سب سے زیادہ احترام ، عزت اور بہت پیار دینے کے لائق ہیں۔ ریاست کے کرتوت ایسے ہیں کہ اگر اتنی غیرت دوسری قوموں پنجابی، سندھی اور پختون میں ہوتی تو بنگلہ دیش سے بہت پہلے ہندوستان کی مدد سے نہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر فوج، پولیس، عدالت اور سول بیوروکریسی سمیت سب کو پکڑکر انگریز کی غلامی سے آزادی دلانے میں ستر سال ضائع نہ کرتے۔ قبائل مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کی فوج سے آزاد کرسکتے تھے تو کیا اتنی بڑی عوام اپنی ریاست کو سیدھا نہیں کرسکتی تھی؟۔
بلوچوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ بندوق رکھ کر سیاسی راستہ اپنائیں تاکہ بلوچ قوم خونریزی کے اس عذاب سے نکل جائے اور اچھا انقلاب برپا ہوجائے۔ اسلامی منشور سے عرب کے صحراء سے نکلنے والے تہبند کے لباس میں ملبوس ساری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔ آج بھی حج وعمرہ کیلئے احرام تہبند کا لباس پہننا پڑتاہے تو بہت بڑی بڑی گھیر والی شلوار پہننے والے غیرتمند بلوچ بھی اسلام کی بنیاد پر دنیا فتح کرسکتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ فتح مکہ کیلئے سب سے بڑی بنیاد بن گیا تھا کہ نہیں؟۔