نماز میری نماز ہے نہ وضو کوئی وضو آتی ہے انقلاب کی مسلسل کوئی خوشبو

ایک وقت تھا جب روز روز دھماکے ہوتے تھے، کچھ مخصوص طبقے محفوظ تھے لیکن اب فسادات برپاہونے کا ایسا خدشہ ہے کہ یہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کون کس کو کیوں مار رہاہے؟، پاکستان اور پوری دنیا میں خون خرابے کے خطرات ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کرونا (COVID-19)نے غریبوں کو بے حال اور امیروں کا کاروبار تباہ کیا ، ہمیں باہر سے زیادہ اندر کے معاملات سے بڑاخطرہ ہے ، سیاسی جماعتیں سکیورٹی رسک کا کام کررہی ہیں!

قرآن کے بڑے بڑے اور واضح احکام کی طرف رجوع کرنے میں سب مسلمانوں اور عالمِ انسانیت کی بھلائی ہے لیکن مسلمان قوم اس آسان فطری راستے کی طرف نہیں دیکھ رہی ہے

نماز میری نماز ہے نہ وضو کوئی وضو
آتی ہے انقلاب کی مسلسل کوئی خوشبو
دریائے دہشت سے پیر نہ سوکھ پائے
کر گیا میرا وطن پھر کوئی لہو لہو
عالمگیر فتنوں کا ہے یہ علاج
قرآن جو کہے وہی کرو تم ہُو بہُو
دل رکھتے ہیں نہ دماغ، جگر اور نہ روح
جس میں نہ ہو انقلاب وہ سر نہیں ٹوٹے کدو
عشق مصطفی سے انکار نہیں اے سرکار
نظام مصطفی سے فرار ہے تجھے رو برو
اہل سیاست و صحافت کا یہ کردار
لڑتا ہے روز سرِ شام بدخو سے بدخو
سفیر نکالنا تھا تو نکال چکے ہوتے
خون خرابے کی فضاء بنائی کو بہ کو
جو وعدے کا پاسدار نہیں وہ دین دار نہیں
عاشقوں کے چرچے ہیں اب چار سُو
پان کھاؤ یا چقندر، اے باتوں کے سکندر!
منہ کو خون لگا، آئی درندے کی بدبو
یہ پارلیمنٹ ہے یا کوئی بکرا منڈی؟
اسپیکر، سابق وزیراعظم بھی ہیں دوبدو
امن کا دامن چھوڑا، سلامتی کا بھگوڑا
قتل و غارت کی لگ رہی ہے جستجو
کلاسرا کی کتاب ”ایک قتل جو ہو نہ سکا”
دیکھ لو مگرمچھ کے چند آنسو
سلمان تاثیر قتل ہوا شہباز تاثیر اغوائ
بکتا رہا جوں مارنے کا بازار میں شیمپو
شرم ہے نہ غیرت، حیاء نہ انسانیت
گونج رہی ہے بس، بھانڈوں کی گفتگو
مذہبی ہو یا سیاسی، فوجی ہو یا صحافی
قریہ قریہ چپہ چپہ نکٹو نکٹو
گیدڑ بھبکی مارے لومڑی کا بچہ
شیرو ویرو کوئی نہیں یہ خرو گیدڑو
ناموس رسالت کے نام پر بھی سیاست؟
بھونکو نہیں، کرو ڈھینچو ڈھینچو
عتیق کس پر کرے عوام بھروسہ؟
بس نام باقی رہ گیا اللہ ھو اللہ ھو
پاکستان اوردنیاکی یہ فضاء نہ بن جائے کہ مذہبی، نسلی، لسانی، طبقاتی، نظریاتی بنیاد پر عوام کو پتہ نہ چلے کہ کون کس کو کیوں مار رہا ہے؟۔ پختونخواہ بلوچستان،کراچی کے بعد پنجاب کو خطرات لاحق ہیں۔ COVID-19 نے دنیا کا کاروبار تباہ کردیا ۔ غربت وافلاس اور نفرتوں کی ہرجانب دھوم مچی ہے۔ جسکا جتنا بس چلتا ہے وہ اپنی محرومی اور جہالت کا اتنا ہی دوسروں سے انتقام لیتا ہے۔شرافت کی زباں صرف مجبوری کی حد تک ہے اور تھوڑا بہت موقع ملتا ہے تو فرعون، ہامان اور قارون کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔
احتجاج کرنا مغربی طرز عمل ہے اور احتجاج اسی وقت کیا جاتا ہے جب عوام کے جذبات مشتعل ہوں۔ اوریا مقبول جان نے فرانس کے سفیر کو نکالنے کیلئے تین ماہ کے بعد پر معاملہ ڈال کرثابت کرنے کی کوشش شروع کردی کہ یہ حکومت اور تحریک لبیک کا ذاتی معاملہ ہے ،پاکستان کی عوام اور دوسری پارٹیوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں پھر تین ماہ بعد دو ماہ مزید وقت دیدیا۔ پانچ ماہ بعد اگر فرانس کا سفیر نکال بھی دیا جاتا تو یہ وہ تھپڑ ہوتا جو لڑائی ختم ہونے کے بعد یاد آتا ہے۔
پنجاب پولیس اور لبیک کے کارکنوں کا خون بہانے کے بعد یہ قرار داد پیش کرنی تھی تو لبیک کے قائد ین کا مواخذہ کرنا چاہیے۔ عشق رسولۖ کسی نے اپنی سیاسی مقبولیت کیلئے استعمال کرکے مخلص کارکنوں کے خون سے بے وفائی کا مظاہرہ کیا ہو تو یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ جو یہ کہتا تھا کہ فرانس کے سفیر کو نکالے بغیر ہم لاشیں دفن نہیں کرینگے اس نے اس حقیر سی قرارداد پرمعاملہ طے کرلیا؟۔
اگر کارکنوں کو فرانس کے سفیر کو نکالنے سے کام نہیں تھا بلکہ اپنے قائدین کا حکم ماننا تھا تو پھر یہ عشق رسول نہیں ان قائدین سے وفاداری ہے جنہوں نے تحریک لبیک یارسول اللہ سے اپنا نام بدل کر تحریک لبیک پاکستان رکھ دیا ہے۔
جب کئی دنوں تک فتنہ وفساد کا بازار گرم تھا تو اوریامقبول جان بلے کی طرح مگرچوہے کے بل میں دودھ پی کے سویا رہا۔ پھر جب قتل وغارت کے بعد اس تحریک پر پابندی لگ گئی تو سوشل میڈیا پر بیان داغ دیا کہ ”پاکستان کو سازش کیلئے بنایا گیا تھا تاکہ سیکولر فوج اور سول بیروکریسی اسلام کے نام پر پہلی مرتبہ بننے والی تحریک لبیک پر پابندی لگائے۔ طالبان کو عالمی قوتوں نے ختم کردیا”۔ اوریا مقبول جان کو سو چوہے کھا کر حاجی بننا تھا؟۔ نوکری چھوڑکر طالبان کے پاس جاتے۔طالبان کے جہاداور تحریک لبیک کے عشق پر مفت میں پھوسیاں مارکر کریڈٹ لیتاہے؟۔ بیشک طالبان نے امریکہ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا اور امریکہ سے دوستی پر پاکستان اور افغانستان میں جو جہاد یا فساد کرسکتے تھے وہ کیا لیکن تم جیسے لوگوں نے کیا کیا ؟۔ باتوں کے سکندر کھانے کے چقندر تمہیں کیا پتہ ہے کہ پختون قوم ، پاک فوج، افغانستان اور پاکستان کے لوگوں نے اس کی کیا قیمت چکائی ہے؟۔ نوازشریف اور عمران خان بھی طالبان طالبان کرتے تھے لیکن انکے اصل چہرے بے نقاب ہوگئے۔ کٹھ پتلی کی آذان مرغی کی آذان ہے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ جب مرغی آذان دے تو اس کو ذبح کردو۔ مولانا فضل الرحمن اورمسلم لیگ ن نے جس بیانیہ کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم (PDM) سے نکالا تھا وہ بیانیہ نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان بھی کھلے عام موجود تھا۔
مریم نواز نے کھل کر کہا کہ عمران خان کو ہم مدت پوری کرنے دینگے۔ جس کے جواب میں پیپلزپارٹی کے چوہدری منظور نے کہا ہے کہ ” اب ہمیں سمجھ میں بات آئی ہے کہ پی ڈی ایم (PDM) کو کیوں توڑا تھا؟ لیکن ن لیگ یہ واضح کرے کہ جب حکومت کو نہیں گرانا تھا تو لانگ مارچ کا ڈرامہ کیوں کیا ؟”۔
پہلے مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز ٹو چین رہتے تھے لیکن اب فاصلہ نظر آتا ہے اسلئے کہ مریم بی بی حمزہ شہباز کیساتھ ٹو چین ہوگئی ۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف وہ بیانیہ کہاں گیا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو نکال باہر کرنے کا دعویٰ کیا تھا؟۔
شہباز شریف نے کہا کہ ”سترسالہ بوڑھا ہوں۔ضمانت پر رہا، علاج کیلئے بیرون ملک جانے دیا جائے ،پہلے بھی واپس آگیا” تو یہ نوازشریف کے منہ پر زوردار طمانچہ تھا کہ اسٹیبلیشمنٹ کی گدھاگاڑی میں دونوں کھوتوں کی طرح زندگی بھر جتے رہے ہیں۔ جیو ٹی وی کی رپورٹ کارڈ میں یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟۔ شاہ زیب خانزادہ نے سوالات اٹھانے کی زحمت کیوں گوارا نہیں کی؟۔
حکومت و تحریک لبیک نے اپنی دُموں کو باندھ کر زوردارپدو مارا، تو فضاء میں بدبو پھیل گئی۔ ن لیگ ، جے یو آئی اور پیپلزپارٹی لاوڈ اسپیکر لگاکر اس کی گونج سے دنیا کو آگاہ کررہی ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر واقعی اتنے عاشق رسول ہیں اور ناموس رسالت پر ایمان ہے تو ن لیگ دور میں ختم نبوت پر کیوں حملہ کیا؟۔ جب فرانس نے گستاخی کرلی تو تم نے اپنا احتجاج اس وقت کیوں تحریک لبیک کیساتھ شامل نہیں کیا؟۔ حکومت کو شکست دینے کیلئے جو اندازاپنایا جا رہا ہے ،اس سے ملک وقوم میں پھر قتل وغارتگری کی فضا ء ہموار ہورہی ہے۔
تحریک لبیک کے قائد حافظ سعد رضوی کو گرفتار کرکے حکومت نے اشتعال پھیلایا لیکن پنجاب پولیس کیساتھ جو تحریک لبیک کے کارکنوں نے کیا وہ انتہائی قابلِ مذمت تھا اور اگر تھانہ پر حملہ کرکے پولیس ورینجرز کے اغواء پر بھی راست اقدام نہ اٹھایا جاتا تو بھیگی بلی بننے والی تحریک لبیک کی شوریٰ اپنی حدوں کوپار کر دیتی۔ احتجاج نبیۖ کی سنت یا قرآن کا حکم نہیں ۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگاتو رئیس المنافقین عبدللہ بن ابی کو شہر بدر نہیں کیا گیا۔ بیشک خون کی ہولی کھیلنے کا سارا کریڈٹ نااہل اور جاہل حکمرانوں اور وزیروں کے سر ہی جاتا ہے لیکن اتنا پتہ چل گیاہے کہ جان لڑانے والے جان کی امان پاکر کیسے بیٹھ گئے ہیں؟۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button