یہ غلط ہے کہ نبیۖ کا حضرت عائشہ سے نکاح ہوا تو 6 سالہ اور رخصتی میں 9سالہ بچی تھیں.

266
0

جبری نکاح کا تصور

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

1: حسن بصری و امام نخعی کے نزدیک عورت کا زبردستی سے نکاح کرایا جاسکتا ہے۔کنواری ہو بیوہ یا طلاق شدہ ۔ 2:ابن شبرمہ کے نزدیک عورت کا زبردستی نکاح صحیح نہیں 3: امام شافعی کے نزدیک کنواری کا نکاح زبردستی سے کرایا جاسکتا ہے مگر طلاق شدہ وبیوہ بچی ہویا بالغہ عورت کا نہیں۔ 4: حنفی مسلک میں بچی کا زبردستی سے نکاح کرایا جاسکتا ہے لیکن بالغہ کا نہیں کرایا جاسکتا۔ چار اماموں کا اتفاق ہے کہ کنواری بچی کا زبردستی سے نکاح کرایا جاسکتا ہے۔ (کشف الباری ج ٣ صفحہ٢٤٦:مولانا سلیم اللہ خان(
بچی کا زبردستی سے نکاح کرانے سے بہتر یہ ہے کہ اس کو زندہ زمین میں گاڑ کر دفن کیا جائے۔ پاکستان نے بہت بڑا احسان کردیا ہے کہ بچپن کی شادی پر پابندی لگادی ہے اور جب کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پولیس گرفتار کرلیتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں یہ بنیادی بات ہے کہ ” کوئی بھی قانون قرآن وسنت سے متصادم نہ ہوگا”۔
یہ غلط ہے کہ نبیۖ کا حضرت عائشہ سے نکاح ہوا تو 6 سالہ اور رخصتی میں 9سالہ بچی تھیں۔ عن عائشة ان النبیۖ تزوجہا وھی بنت ست سنین وادخلت علیہ وھی بنت تسع و مکثت عندہ تسعًا ”حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپۖ سے نکاح ہوا تو 6 سالہ لڑکی تھیں اوررخصتی ہوئی تو9سالہ لڑکی تھیں اور آ پ کیساتھ9سالوں تک رہیں”۔ (بخاری)
6 سالہ اور9سالہ ہو تو بجائے بنتکے طفلة ست سنین6 سالہ بچی ، طفلة تسع سنین 9سالہ بچی کے الفاظ استعمال ہوتے۔ یہ ترجمہ غلط ہے کہ 6 سالہ لڑکی تھی تو نکاح ہوا اور9سالہ لڑکی تھی تو رخصتی ہوئی۔دوسری روایت ہے کہ 9سالہ لڑکی تھی تو جماع ہوا ۔(بخاری )
نکاح سن11نبوی، رخصتی سن 1 ھ کو ہوئی۔ سن 11 نبوی کو اماں عائشہ کی عمر16 سال ہو تو 5سال قبل ازنبوت پیدائش بنتی ہے ۔ حضرت اسمائ کی وفات100سال کی عمر میں73ھ کو ہوئی۔ جو اماں عائشہ سے دس سال بڑی تھیں۔ 100 سے72سال نکالے جائیں تو حضرت اسماء کی عمر ہجرت کے وقت28 سال بنتی ہے اور 13 سال مکی دور کے نکالے جائیں توحضرت اسماء کی بعثت نبوی کے وقت15سال بنتی ہے۔ اس حساب سے اماں عائشہ کی عمر بعثت کے وقت عمر5سال اور11نبوی کوآپ کی عمر ٹھیک 16سال ہی بنتی ہے۔
یتیم لڑکوں کا اللہ نے فرمایا: ” مال انکے حوالہ کرو حتی اذابلغوا النکاح جب نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں” ۔ لڑکی کا نکاح کی عمر کو پہنچنا فطری بات ہے۔6اور9 سالہ بچی ہوتی ہے۔ بچی کا پردہ ہے اورنہ نکاح ۔ بنات کا پردہ اور نکاح ہے۔ مراھقہ کی عمر11، 12، 13سال ہوتی ہے بنات 14، 15سے 20،22 کی لڑکیاں ہیں۔
عربی میں عبدالقادر کو ” یاقادو” کہہ سکتے ہیں۔ کروڑوں کابنگلہ ہوتوخالی 10 کہنے سے 10کروڑاور لاکھوں کی گاڑی ہو تودس سے10 لاکھ مرادہوتے ہیں۔ عربی گنتی 11 سے19 تک احد عشرة، اثنا عشرة… ست عشرة… تسع عشرة کیلئے ست سے مراد 16 اورتسع سے مراد 19ہے۔ اسلئے کہ نکاح کیلئے بچی نہیں لڑکی کا ہونا ضروری ہے۔
چند سال پہلے اخبار ”عوام” جنگ میں خبر شائع ہوئی کہ کینیڈا میں 66سالہ شخص کا نکاح 36سالہ عورت سے ہوا۔ 30سال عمروں میں فرق ہے۔ 20سال معاشقہ چلااورآخرکار دونوں میںرشتہ ہوگیا۔ اگر اماں عائشہ سے متعلق درست معلومات ہوتیں تو گستاخانہ فلم کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا ۔جدید تحقیق کے مطابق بچے میں جنسی خواہش کا مادہ ہوتا ہے جبکہ بچی میں جنسی خواہش بالکل نہیں ہوتی۔
علماء کرام و مفتیان عظام آگے بڑھ کر اعلان کریں کہ جب تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ کی عمر رخصتی کے وقت19برس تھی تو پوری دنیا کو پیغام پہنچادیں کہ نبیۖ کے خلاف کارٹون کی مہم بنیاد ہی غلط ہے۔ جس میں اغیار سے زیادہ ہماری غفلت کا نتیجہ ہے۔جب اغیار نبیۖ کی سیرت کا مطالعہ کرینگے تو گرویدہ بنیں گے۔

مشکواة کیساتھ الاکمال فی اسماء الرجال کی کتاب میں واضح طور لکھا ہے کہ حضرت اسماء کا انتقال 100سال کی عمرمیں 73ھ کو ہوا اور آپ اپنی بہن ام المؤمنین حضرت عائشہ سے 10سال بڑی تھیں۔
ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے خبر دی یوسف …نے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ اُم المؤمنین کے پاس تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ جب یہ آیت اتری تھی: بل الساعة موعدھم و الساعة ادھٰی و امر تو اس وقت میں چھوکری تھی اور کھیلا کود اکرتی تھی۔( بخاری)
یہ سورة القمر ہجرت سے 5سال پہلے نازل ہوئی، جس میں شق القمر کا واقعہ ہے۔ اس وقت اماں عائشہ کی عمر 13 سال بنتی ہے۔ جب رسول ۖ نے نکاح کا پیغام بھیجا تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ میں پہلے جبیر بن مطعم کو ان کا رشتہ دے چکا ہوں۔ جب حضرت ابوبکر نے مطعم کے سامنے رشتے کی بات رکھی تو اس نے کہا کہ آپ لوگ اپنا دین بدل چکے ہو اسلئے میں اپنے بیٹے کیلئے تمہاری بیٹی نہیں لیتا ہوں۔حضرت ابوبکر بہت قریبی صحابی تھے ،یہ کیسے ممکن تھا کہ سن 5نبوی کو حضرت عائشہ کی پیدائش ہوئی اور 5 نبوی سے 11نبوی تک کے اس انتہائی کٹھن مرحلے میں ایک مشرک سے اپنی چھوٹی بچی کا رشتہ بھی طے کردیا ؟۔
5نبوی تک دارارقم میں چھپ کر تبلیغ ہوتی تھی۔ دار ارقم کے محدود افرادمیں اسماء بنت ابوبکر اور عائشہ بنت ابوبکر شامل تھیں۔ ابوبکر کی چار اولاد کی پیدائش نبوت سے قبل ہوئی ۔(طبقات ابن سعد)
آیت”جن عورتوں کو حیض نہیں آتا ”سے یہ دلیل غلط ہے کہ کم عمر بچیاں مراد ہیں حالانکہ وہ خواتین مراد ہیں، جن کا سلسلہ حیض ختم ہویا بانجھ ہوں۔ اگر کوئی بضد ہوکہ اماں عائشہ کی رخصتی اور جماع کا عمل 9سالہ عمر میں ہوا۔ عرب جتنا گرم پاکستان، بھارت ہیں تو کیاکوئی شریف انسان اپنی بچی کواس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس عمر میں نکاح کیلئے پیش کریگا؟۔
کیا عورت کے نکاح میں شریعت سازی کاحق تھا؟۔ بچی کا نکاح ہوتوپھر بلوغت کے بعد نکاح برقرار رکھنے یا توڑنے کے حق پر اختلاف ہوتو یہ شریعت ہوسکتی ہے؟۔ جس غلط مفروضے پر جعلی شریعت کی بنیاد رکھی گئی ہے اس کو ڈھانے کیلئے کسی مسیحا کے انتظار کا حکم ہے؟۔ مفتی اعظم پاکستان برادر شیخ الاسلام مفتی محمد رفیع عثمانی کہتے ہیں کہ ” ہم علماء کو معلوم نہیں ہے کہ کس کا مسلک حق اور کس کا غلط ہے۔ جب امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو اس کی ہر بات حق ہوگی اور اس کا مخالف باطل ہوگا”۔ کیا امام مہدی تک بیٹھ کر گمراہی میں رہنا ہے؟۔
نبیۖ نے فرمایا” جسکے پاس بچی(لونڈی) ہو، پھر اس کی بہترین تعلیم کرے، بہترین تربیت کرے۔ پھر اس کو آزاد کرے ، پھر شادی کرے تو اس کیلئے دو اجر ہیں” بخاری۔فائدہ :لونڈی بچی ہو تو جنسی تعلق نہیں تعلیم وتربیت دینی ہوگی اور پہلے بلوغت، آزادی اور پھر شادی کا تصور دیا گیا ہے۔کم عمر بچوں کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنانے والوں کا ضمیر کبھی اس بات پر نہیں جاگ سکتاہے کہ نبی پاکۖ کی توہین کاراستہ روکنے کیلئے حدیث کی زبردست تحقیق کو مان لیں۔ ان کا ضمیر جگانے کیلئے بڑی محنت درکار ہے۔