خادم حسین رضوی کا دھوم سے جنازہ،اچانک وفات اورتحریکِ لبیک کے محرکات اور لوگوں کے بڑے خدشات

151
0

علامہ خادم حسین رضوی کا دھوم سے جنازہ،اچانک وفات اورتحریکِ لبیک کے محرکات اور اس پربہت سے لوگوں کے بڑے خدشات

تحریر: تیز و تند۔ عبد القدوس بلوچ

جب روس کیخلاف امریکہ کو اسلامی جہاد کی ضرورت تھی تو مجاہدین پیدا کئے گئے۔ پھر امریکہ اسامہ و طالبان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کیا۔ پھر پنجاب سے صوفی ازم کو زندہ کرنے کی ابتداء ہوئی کیونکہ جہادسے معاملہ خراب ہوا تو صوفی ازم والے اسلام کی پھر ضرورت پڑی۔ طاہرالقادری کی انٹری ناکام ہوئی لیکن پنجاب سے صوفیت کی کہانی شروع ہوگئی اس کا نتیجہ عاشق رسول علامہ خادم حسین رضوی کی شکل میں نظر آیا۔ آسیہ بی بی کو پہلے عدالت نے مجرم قرار دیا اور پھر سپریم کورٹ نے مظلوم قرار دیا۔جس پرگورنر سلمان تاثیر، عیسائی وزیراور ممتازقادری کے بعد مولانا سمیع الحق اس نظام عدل ہی کے ہاتھوں سوئے مقتل چلے گئے تھے۔
پاکستان نہیں تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ دیکھ کر دنیابڑی حیرت میں پڑگئی کہ پیغمبر اسلامۖ سے مسلمانوں کو اتنی والہانہ محبت ابھی تک اس حد تک موجود ہے کہ ہرمکتبۂ فکر کے لوگوں نے خراجِ عقیدت پیشکردی۔ مولانا فضل الرحمن نے جلسہ ٔ عام میںدعائے مغفرت و درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ اہلحدیث مسلک کے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے ختم نبوت و ناموسِ رسالتۖ کیلئے سب سے بلند آواز قرار دیا علماء کے ناقدصحافی حسن نثار بھی وفات کے بعد تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
اے خدا ،اے خدا ،اپنے بندوں کوخود سمجھا
ہر چڑھتے سورج کی کرتے ہیں یہ خود پوجا
ابوذر غفاری کا جنازہ چند افراد نے پڑھا اگر حسن نثار آرائیں اس وقت موجود ہوتا تو پہلا اور آخری فرد یہ ہوتا جو اُن پرتبرا کرتا
الطاف حسین ، صدر زرداری کی تعریف کی
ہجوم دیکھ کر یہ مخلص صحافی ہر ایک پر مراتھا
یہ حالت کسی ایک کی نہیں دیکھ لو شہید کربلا
یزیدکے دور میں کس نے آپ کو کندھا دیا
مولانا طارق جمیل نے زندگی بھر اس مشن کیلئے کبھی دعا بھی نہ مانگی ہوگی مگر جم غفیر کو دیکھ لحد پر پہنچ گئے اور اعلیٰ درجات کی دعا کردی۔ اسٹیبلیشمنٹ اور اپوزیشن کی سوشل میڈیا نے علامہ خادم رضوی سے عقیدت کا اظہار کیا۔ ایک کلپ بناکر کسی نے شرارت کی انتہاء کردی کہ فوج کو فیض آباد دھرنے میں بلانے کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا لیکن پوری بات سننے کے بعد یہ شرارت ناکام ہوگئی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ سازش کے ذریعے بھی فوج کو بدنام کرنے کا کام کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جاتا کہ فیض آباد دھرنے کی اصل محرک فوج تھی تو علامہ خاد م حسین رضوی کے عشق رسول کا مقام ٹیشو پیپر میں بدل جاتا اور اگر بلیک میلنگ قرار دیا جاتا توبھی رضوی کی حیثیت ختم ہوجاتی لیکن فوج کے بدخواہوں نے سوشل میڈیا پر خود کو بدنام کردیا۔ اگر وہ نادانستہ طور پر یہ سب کچھ کر گئے تو ان کو اپنی غلطی کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے تھا ورنہ وہ لفافہ دار ہیں۔
جس طرح جہاد پر دیوبند کا اجارہ تھا ۔ امریکہ کیخلاف پاکستانی قوم نے طالبان کو سپورٹ کیا، اسی طرح عشق رسولۖ پر بریلوی مسلک کی اجارہ داری ہے۔ امام مولانا احمد رضا بریلوی نے قادیانی، دیوبندی، اہلحدیث، وہابی، چکڑالوی اور شیعہ کو یکساں کافر قرار دیا لیکن قادیانیوں پر گستاخی کا فتویٰ نہیں لگایا۔ قادیانی فرقہ واریت کو بھڑکانے کے حوالے سے ذمہ دار بھی ہوسکتے ہیں اسلئے کہ طالبان نے شیعہ، بریلوی اپنے دیوبندیوں تک کو نہیں چھوڑا اورISI ملتان کے دفتر، GHQ، فضائیہ کراچی تک پر حملہ کیا مگر ربواچناب نگر میں قادیانیوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔
علامہ خادم حسین رضوی کے علاوہ پیر افضل قادری مولانا اشرف جلالی کی شہرت تھی۔ پیرافضل نے مولانا اشرف جلالی کو نکالنے میں کردار ادا کیا اور اب پیرافضل قادری نے تحریک لبیک کے نئے امیر سعد حسین رضوی پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ علامہ اشرف جلالی اور پیرعرفان شاہ کے درمیان بھی اچھا خاصا پھڈہ چل نکلا۔
جب امریکہ نے جہاد سے ہاتھ اُٹھا یا تو سعودیہ بھی صوفیت کو تقویت پہنچانے کا فلسفہ اپنا رہاہے۔ علامہ الیاس قادری کی دعوت اسلامی کو مدینہ میں مرکز بنانے کی اجازت شاید مل گئی ہے تو وہابیت و صوفیت ایک دوسرے کے قریب ہونگے۔ پنجاب میں اگر اس نعرے کو جذباتی تقویت ملے گی کہ ” گستاخ کی سزا ،سر تن سے جدا” تو اس کا نشانہ دیوبندی ،اہلحدیث ، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور بریلوی مسلک والے بھی بن سکتے ہیں۔ اسرائیل کیساتھ قادیانیوں کے مضبوط تعلقات ہیں اور وہ اپنی شناخت چھپانے کیلئے بریلوی مسلک ہی کا لبادہ استعمال کرسکتے ہیں اسلئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سب سے پرانے ہیں۔
فوج پر قادیانیت کا راج تھا اسلئے بھٹو نے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ ن لیگ کا پنجاب پر ہولڈ ہے اسٹیبلشمنٹ کے قریبی صحافی قادیانیوں کی مخالفت پر ن لیگ کو کمزور کررہے ہیں اور ن لیگ نے مولانا فضل الرحمن کو بندوق تھمادی ہے کہ قادیانیت کا فتویٰ فوج ہی پر لگانے کی تیاری جاری رکھی جائے۔
یہ ہتھیار دشمن کے خلاف استعمال کرنا بہت مشکل ہے، اگر قادیانیوں نے کہہ دیا کہ مولانا فضل الرحمن ہمارے ساتھ ہے تو مولانا فضل الرحمن کا بیڑہ غرق ہوگا اور اگر جنرل قمر جاوید باجوہ یا نوازشریف میں کسی کو اپنا مہرہ قرار دیا تو ان کا بیڑہ غرق ہوگا۔
انصار عباسی کو نذیر ناجی نے کتے کا بچہ کیوں قرار دیا؟۔ لیکن اتنے سخت الفاظ کے پیچھے وجہ تو ضرور ہوگی۔ انصارعباسی کو ن لیگ نے مری میں ذاتی گھر تک روڈ بناکر دیا توزرداری اور جمہوریت کا نہیں اسٹیبلیشمنٹ کا حامی تھا لیکن نوازشریف بھی اس وقت فوج ہی کی حمایت کرتا تھا۔ پھر عمران خان اور نوازشریف کا مقابلہ ہوا تو انصار عباسی نے فوج کیخلاف اپنا بیانیہ نوازشریف کیلئے وقف کیا۔ اب اس نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ پر قادیانیت کا الزام تھا لیکن پھر ایجنسیوں نے اس کو کلیئر قرار دیا ۔ اوریا مقبول جان نے اسلئے باجوہ کے حق میں ایک خواب بھی بیان کیا تھا۔
اگر مذہبی، سیاسی ، صحافتی اور فوج کی تقدیر کے فیصلے الزامات کی رہین منت بن جائیں تو اس سے زیادہ ملک کی کمزور اور خراب پوزیشن کیا ہوسکتی ہے؟۔ خوشاب میں ایک راسخ العقیدہ بریلوی بینک منیجر پر قادیانیت وگستاخی کا بہتان شہید کرنے کے بعد لگا تو قاتل کے حق میں طوفان کھڑا ہوگیا۔ پنجاب کے لوگ حکومت و ریاست نے سب سے زیادہ پسماندہ اور بے شعور رکھے ۔ افغانستان میں مجاہدین کے نام پر اور پھر مجاہدین کو ختم کرنے کے نام پر سرمایہ آگیا تو پختون قوم تباہ ہوگئی مگر اوریا مقبول جان اور کرنل امام جیسے لوگ مجاہدین کا پیسہ کھا کرحمایت کر رہے تھے اسلئے کہ خود اور اپنے بچوں کے بجائے دوسرے تباہ ہورہے تھے۔ کرنل امام کو طالبان نے ذبح کیا تھا لیکن اگر اس جنگ کو پنجاب کی سرزمین پر زندہ کیا گیا تو اوریا مقبول جان کا سر بھی تن سے جدا ہوگا اسلئے کہ مسلک کی لڑائی فرانس یا امریکہ میں نہیں پنجاب میں لڑی جائے گی۔ طالبان تو امریکہ کیساتھ صلح کرکے بیٹھ گئے اور اس بات کو ذہن نشین کیا جائے کہ بریلوی بھی امریکہ سے صلح کرکے بیٹھ جائیںگے کیونکہ ان کی لڑائی گستاخوں سے ہے اور یہ گستاخ کون ہیں ؟۔ اس کی تعلیم مساجد میں دی جارہی ہے۔ علامہ آصف گیلانی نے جیو کے پروگرام میں کہا تھا کہ میرے دم سے کینسر اور دیگر مریض درست ہوگئے ہیں تو عتیق گیلانی نے کہا تھا کہ اپنا پھونک امریکہ کو بھی مار دو۔ پھر چائے کی نشست میں علامہ آصف گیلانی نے کہا کہ امریکہ دشمن نہیں بلکہ طالبان ہمارے دشمن ہیں۔ اب تو طالبان بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ سے دوستی ہے لیکن افغان حکومت سے دشمنی ہے۔ جو رویہ پاکستان کے طالبان نے ریاست کیساتھ اپنایا،وہ پنجاب کے عاشقان کا بھی ریاست کیساتھ ہوسکتا ہے۔ ن لیگ کے خلاف دھرنا دیا گیا تو اس میں گیٹ4 کی طرف سے فیض آباد دھرنے کو حمایت دینے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے اسلئے کہ شیخ رشید اور فیض آباد کا ایک مشن تھا۔ پھر آسیا بی بی پر مولاناسمیع الحق کا قتل اور علامہ خادم رضوی کی جیل میں ٹیونگ ہوئی تو اس میں کسی اور کا ہاتھ نہیں ہوسکتا تھا اور اب کی دفعہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے یہ تاثر قائم کرنے کی اطلاع دی جارہی ہے کہ ن لیگ کا ہاتھ تھا۔ مذہب اور سیاست کو جس طرح کا کھیل بنایا گیا اور حکومت ، اپوزیشن، ریاست کے علاوہ سوشل میڈیا کی منافقانہ صحافت بھی بہت بڑا کردار ادا کررہی ہے جسکے نتائج بہت خطرناک نکل سکتے ہیں۔ مفاہمت کی راہ بھی کام اسلئے نہیں آئے گی کہ مہنگائی کا طوفان سب مل کر بھی کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں اور کمانے والے پیٹ نہیں اپنی بھوک مٹا رہے ہیں جس کو قبر کی مٹی ختم کرسکتی ہے اور اگر اسلام کے شاندار مسائل عوام کے سامنے آگئے تو یہ قوم بچ سکتی ہے۔
جماعتِ اسلامی نے اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف سلیم صافی کی منظق میں آکر مجبوراً فتویٰ دیا تو امارت سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اب سراج الحق نے PDMپشاور جلسہ کے خلاف مینگورہ سوات میں جلسہ رکھا تھا تو اس کو معلوم ہوگیا کہ فضاؤں کا موڈ اب فوج کے خلاف ہے اسلئے دیر میں جلسہ رکھا تو امیر جماعت اسلامی نے فرمایا کہ ”فوج کو اپنا سیاسی کردار ختم کرنا ہوگا”۔
نوازشریف اور جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری اتحاد کس کے کہنے اور کس کے پیسوں سے بنائی تھی؟۔ جب کشمیر کا جہاد فوج کا نہیں بلکہ جماعت اسلامی نے کرنا تھا اور سیاست فوج نے کرنی تھی پھر آج اپنا کعبہ قبلہ بدل کر کیوں دوسرا رُخ اختیار کیا جارہاہے؟۔ پاک فوج نے کتے بھی پال رکھے ہوتے تو وفادار ہوتے مگر چڑھتے سورج کے پُجاری بے نسل آدمی جانوروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
ہم نے چپ کر اور نہ کھل کر اس طرح فوج کا نام لیکر انکے کردار کی حمایت کی تھی اور نہ آج کررہے ہیں لیکن جب ملک کی فضاء مخدوش بن جائے اور ہرطرف سے مقبول نعرہ فوج کی مخالفت بن جائے اور تو اور جماعت اسلامی بھی…………