اگر رحمت للعالمینۖ کا یہ اسلام پیش کیا ہوتا تو سیاسی اور اسلامی انقلاب آچکا ہوتا۔

جاگیردارانہ نظام غربت، غلامی اور انسانی حقوق کی پامالی کیلئے بنیادی نرسری ہے اسلام کاشتکار کو زمین دینے کا حکم دیتا ہے اور مزارعت کو سود قرار دیتاہے

سیاستدان، جرنیل، جج اور جاگیردار طبقہ مزارعین کو مفت میں زمین کاشت کیلئے دیں یا پھر خود ہی کاشت کرنا شروع کریں تو غریب امیر کا فرق ختم ہوگا

اسلام میں غریب امیر کی خواتین پر بہتان لگانے کی ایک سزا ہے، سورۂ نور کی آیات سے دنیامیں رحمة للعالمینۖ کا دین پھیل کر انقلاب آجائے گا۔

انسانی حقوق کی علمبردار طلبہ تنظیموں تک ہماری کتاب ”عورت کے حقوق ” پہنچائی جائے تو مدارس کی جان حلالہ کی لعنت سے چھڑائی جائے۔ مدارس رشد وہدایت کی جگہ گمراہی کے قلعے بن چکے ہیں۔ اسلام بنیادی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اسلامی جذبہ ہے تو اپوزیشن کی ساری قیادت مولانا فضل الرحمن کے پیچھے کھڑی ہیں۔ درست اسلامی تعلیم کے کچھ نکات بھی منبر و محراب سے اُٹھنے شروع ہوگئے تو لیفٹ اور رائٹ ایک صف میں کھڑے ہونگے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے اگر سورۂ نور کی آیات سے اپنی قوم کی رہنمائی کردی ہوتی تو بہت آسانی کیساتھ انقلاب آسکتا تھا۔ حضرت عائشہ پر بہتان کی سزا قرآن وسنت میں80کوڑے تھے اور عام غریب خاتون پر بھی بہتان لگانے کی سزا80کوڑے ہیں۔ اگر محمود خان اچکزئی نے ہماری بات مانی ہوتی اور مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد دھرنے میں رحمت للعالمینۖ کا یہ اسلام پیش کیا ہوتا تو سیاسی اور اسلامی انقلاب آچکا ہوتا۔ لیکن نعرۂ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے عوام کو دھوکا دینے کیلئے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ کبھی بھی عوام کی عزت وناموس کو اپنے برابر تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ عمار علی جان اور منظور پشتین جیسے جوانوں کو چاہیے کہ زرخرید صحافیوں کو متنبہ کریں کہ اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ حکومتوں کے مزے اڑانے والے اشرافیہ کا بھی آلۂ کار نہ بنیں۔ ہرقسم کی طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہوکر قوم کے مسائل کا اجتماعی حل نکالیںگے تو غریب کے مسائل حل ہونگے۔ اسلام کا زرعی نظام غربت کی لیکر سے نکالے گا۔

Leave a Reply

Back to top button