سنی شیعہ اختلاف کا ایسا حل جو شدت پسنداور گمراہ طبقے کیلئے بھی روح وجان اوردل ودماغ سے قابل قبول ہو

57
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا طارق جمیل اور بلال شہید اور علامہ سید جواد حسین نقوی اور ان کی مخالفت میں شیعہ شدت پسندوں کی ویڈیوزدیکھ لیں۔

اتحاد کی کوشش اور مخالفین کے خلوص میں شبہ نہیں لگتالیکن خلفاء راشدینکے دور میں شدت پسندوں کا اندازہ یہاں لگائیں!

شیعہ سنی میں دو نام علامہ سید جواد نقوی اور مولانا طارق جمیل بہت معروف ہیں۔ علامہ سید جواد حسین نقوی کے ہاں دیوبند کے امام مولانا سرفراز خان صفدر کے فرزند علامہ زاہد الراشدی کی امامت میں اہل تشیع اور اہل سنت کی نماز باجماعت یو ٹیوب پر موجود ہے لیکن غلطی سے شاید علامہ راشدی کو اہلحدیث سمجھا گیا ہے کیونکہ سعودی عرب سے کوئی راشدی اہلحدیث پاکستانی کی بہت شہرت ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ و جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد خان شیرانی بھی علامہ جواد نقوی کے پاس گئے۔ ہم بھی علامہ جوادنقوی کے پاس گئے تھے ۔ ان کی دعوت بھی کھائی اور ایک رات وہاں رہے بھی تھے۔ اہلسنت کے بہت علماء کرام کو مختلف مواقع پر علامہ نقوی بلاتے ہیں اور ہمارا کوئی تعارف بھی نہیں تھا لیکن ہم از خود پہنچ گئے تھے۔
شیعہ سنی اتحاد کی وجہ سے علامہ جواد نقوی کو شاید اپنوں سے خطرات بھی لاحق ہوں، ان کی مخالفت میں بہت مواد موجود ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔جب مولانا طارق جمیل کی ویڈیو کا کسی نے بتایا کہ بلال شہید نے انکو بہت خراب کیا ہے تو بلال شہید کی کافی ویڈیوز دیکھ لیں اور مجھے مولانا طارق جمیل کی حالت دیکھ کر ان پربہت رحم آیا۔ بڑی عمر کے بڑے عالم دین سے واقعی جس لہجے میں بات کی گئی ،بلال شہید نے غالباً کہہ بھی دیا کہ اگر میں سامنے ہوتا تو ہوسکتا ہے میں اس لہجے میں بات نہ کرسکتا۔
جس لہجے میں حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی ابن ابی طالب سے اپنے دور کے جذباتی نوجوانوں نے بات کی ہوگی، مولانا طارق جمیل اور علامہ سید جواد نقوی کی مخالفت میں انکے اپنے ہم مسلکوں کا بالکل وہی لہجہ نظر آتا ہے۔ قارئین یوٹیوب سے متعلقہ وڈیوز فیس بک پر بھی اگر ڈال دیں تو بہت اچھا ہوگا۔ مولانا طارق جمیل کا ایک بہت خیرخواہ اپنی ویڈیو میں منت سماجت کرتا ہے کہ اس کوڈیلیٹ کردو، لیکن ڈیلیٹ کرنے کی کسی نے بات نہیں مانی ہے۔
علماء دیوبند کے اچھے لوگ اپنے اکابرین پر گئے ہیں، ان میں منافقت نہیں ہے۔مولانا احمدرضا خان بریلوی کی طرف سے ان پر گستاخ، قادیانیت وغیرہ کا فتویٰ لگا لیکن انہوں نے اعلیٰ حضرت کو مخلص قرار دیا۔ مولانا طارق جمیل کا علم پختہ نہیں مگر اکابر کی راہ پرخلوص سے گامزن ہیں۔
اہل تشیع اس وجہ سے صحابہ کرام پر کفر کے فتوے نہیں لگاتے کہ یہود اور ایران کے مجوسیوں کے ایجنٹ ہیں بلکہ ان کے دل ودماغ میں یہ بات چھائی ہوئی ہے کہ منافقوں اور مرتدوں کے جس کردار کا ذکر قرآن واحادیث میں ہے وہ چند صحابہ کرام کے سوا سب پر صادق آتا ہے۔ جس طرح مولانااحمدرضا خان بریلوی سے علماء دیوبند کے اکابر نے نفرت نہیںکی۔ مولانا یوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے مسلک حنفی کی بقا ء کا ذریعہ امام بریلوی ہی کو قرار دیا تھا۔ سنی مکتبۂ فکر میں پروفیسر حمید اللہ ایک امام کی حیثیت رکھتے تھے۔ بہاولپور یونیورسٹی میں پڑھایا تھا اور فرانس میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی ایک کتاب ”حدیث قرطاس” سے متعلق ہے ،جس میں پورا پورا زور لگایا گیا ہے کہ اس کا کسی طرح انکار کیا جائے کہ حضرت عمر کے مزاج سے کسی قسم کی مناسبت بھی اس میں نہیں ہے کہ حضرت عمر نے اتنی بڑی گستاخی کا ارتکاب کیا ہو۔ لیکن اگر ان کو یقین آجاتا کہ حضرت عمر نے یہ کیا ہے تو پھر کیا وہ شیعہ بن جاتے؟۔ اس میں شک نہیں ہے کہ وہ ضرور شیعہ بن جاتے۔ نبیۖ کی مخالفت میں کوئی بھی شخص نظر آئے اور اس کی کوئی تأویل بھی دل ودماغ میں نہ آئے اور نبیۖ پر اس کو ترجیح دی جائے تو ایسا بے ایمان بننے سے شیعہ بننا بہت بہتر ہے۔
مولانا شبلی نعمانی نے علماء سے اپنے وقت میں کہا تھا کہ بہتر ہے کہ اس حدیث کا انکار کیا جائے لیکن ان سے کہا گیا کہ حدیث کے منکر بننے سے کافر بن جائیں گے لیکن جب کسی روایت کا انکار کرنے سے کوئی کافر بنتا ہو تو سامنے سامنے نبیۖ کی بات کا انکار کرنے سے کیسے مسلمان کا تصور ہوسکتا ہے؟۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا داماد سید زعیم قادری اس حدیث کی وجہ سے نہ صرف کٹر شیعہ بنا تھا بلکہ ایسی گستاخانہ زبان لکھ دی تھی کہ حکومت پاکستان نے اس کی اشاعت پر بھی پابندی لگائی تھی۔ وہ کتاب میں نے بھی پڑھی ہے۔ شیعہ میں ایسی گستاخی کرنے کا تصور آج سوشل میڈیا پر بھی نظر نہیں آتا ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے پوتوں اور نواسوں کو بٹھاکر معاملہ دیکھا جاسکتا ہے۔
مجھے حضرت ابوبکر و عمر سے اسلئے عقیدت نہیں کہ سنی ماحول سے میرا تعلق ہے بلکہ قرآن وحدیث کے آئینے میں دونوں کا کردار شفاف آئینے کی طرح زبردست لگتا ہے۔
شیعہ سنی دونوں مکتبۂ فکر قرآن وحدیث سے بہرہ مند نہیںبلکہ اپنے اپنے ماحول کی وجہ سے سنی یا شیعہ ہیں۔ اگر حقائق کی نشاندہی کردی جائے تو پھر بہت ممکن ہے کہ شیعہ اپنی شیعیت چھوڑ کر پکے سنی بن جائیں اور سنی اپنی سنیت چھوڑکر پکے شیعہ بن جائیں اور ایسا بہت ہوا بھی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کا ایک طرف عقیدہ یہ تھا کہ اتنے معجزات کیساتھ خدا اور خدا کا بیٹا تھا اور دوسری طرف یہود نے ان پر ولدالزنا کا الزام بھی لگایا تھا۔ عیسائی کی آج بھی مسلمانوں سے زیادہ تعداد ہے اور ان کا یہ عقیدہ کسی کیلئے قابلِ قبول نہیں تھا کہ ایک طرف حضرت عیسیٰ خدا ہوں اور دوسری طرف مظلوم۔ اہل تشیع کی تعداد بھی اچھی خاصی رہی ہے لیکن انکے اس متضاد عقیدے کو کسی دور میں بھی پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔ جو لوگ حضرت علی سے گستاخانہ بغض رکھتے ہیں وہ بھی یہود پر گئے ہیں اور جن اہل تشیع کے اعتقاد ات میں انتہائی درجے کاتضاد ہے وہ بھی عیسائیوں کی طرح ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت علی نے خلافت کو اپنا حق سمجھ رکھا تھا اور ان کی بہت کرامات بھی تھیں اور کسی قدر آپ خود کو مظلوم بھی سمجھتے تھے لیکن اس میں غلو کرنے والوں نے حضرت علی کی شخصیت کو بھی چار چاند نہیں لگائے بلکہ خراب کرکے رکھ دیا ہے۔
اگر کوئی علامہ شبلی نعمانی کی طرح سمجھدار شیعہ ہوتا تو یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان خرافات کو حضرت علی کی شخصیت پر بڑا دھبہ قرار دیکر مسترد کرتاجو مختلف روایات میں موجود ہیں۔ جب کوئی علامہ شہریار عابدی کی طرح کھینچ تان کر حضرت علی کی ذات کو آخری حد تک تقیہ کی انتہاء تک پہنچانے والا اس انداز میں ثابت کریگا تو انسان کا دل بھی نہیں مانے گا کہ وہ پھر حضرت علی کے پیروکار کی حیثیت سے شیعہ بنارہے۔یہ وہ روش ہے جس نے بعض شیعوں کو شیعہ مذہب چھوڑنے پر مجبور کرکے شدت پسند سنی بنادیا تھا۔ لیہ پنجاب میں ایک بہت نیک اور اچھا انسان تھا جوشیعہ سے سنی بن گیا تھا اور شیعہ مذہب سے آخری حدتک نفرت کرتا تھا۔ بھائی واپڈا میں ایکسین اور سنی ہونے والے شخص لائن مین تھے۔ مجھے شیعہ سنی سب سے ہمدردی ہے ۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ الدین النصیحة ”دین خیرخواہی ہے”۔ آج دین کی شکل بگڑ کر بہت بدخواہی بن کر رہ گئی ہے۔ العیاذ باللہ

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana