اگر دنیا دیکھے کہ سورۂ نور میں حضرت عائشہ پر بہتان کی وہی سزا ہے جو عام خاتون کی ہے تو گنبد خضراء کو سجدہ اسلئے نہیں کرینگے کہ نبیۖ نے فرمایا” اے اللہ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا” عمران خان بھی پاکپتن کی طرح کلٹی ہوجاتا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کے عادلانہ نظام کیلئے اقتدار میں آنا ضروری نہیں ہے ، مولانا عبدالشکور بیٹنی قومی اسمبلی میں کسی من گھرٹ یا ضعیف حدیث کو قرآن کہنے کے بجائے سورۂ نور کی آیات پیش کریں

نبیۖ نے نبوت کے دعویدار گستاخ ابن صائد دجال کے قتل کی اجازت نہ دی جبکہ یہاں اسلام کو جاہل بلیک میلنگ کیلئے استعمال کرتے ہیںاورارباب اختیاربھی پشت پناہی کرتے ہیں

علامہ اقبال نے اپناکہا تھاکہ ” مجموعۂ اضداد ہوں اقبال نہیںہوں”۔ ہمارا حال بھی ” مجموعۂ اضداد” سے مختلف نہیں ۔” فرقہ بندی ہے اور کئی ذاتیں ہیں”۔ سنجیدگی سے مسائل کا حل نہ نکالا تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ جس قائدا عظم کے پاکستان کی بات وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف و جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالشکور بیٹنی کے مقابلے میں کی تو اس کا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی ، وزیر قانون ہندو، پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے جو اپنے وقت پر ریٹائرڈ ہوگئے ، پہلا مسلمان آرمی چیف جنرل ایوب خان تھا جس نے صدر پاکستان سکندر مرزا سے اقتدار چھین کر پاکستان پر قبضہ کیا، مادرملت فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہراکر غدار قرار دیا اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو وزیرخارجہ بناکر سیاست کی پہلی نئی جنم بھومی کا آغاز کیا اور پھرجنرل یحییٰ خان قزلباش جیسا عیاش آرمی چیف آیا۔ قائداعظم کا پاکستان دولخت ہوا، حقیقی جمہوریت میں شیخ مجیب نے اقتدار سنبھالنا تھا لیکن بھٹو نے ادھر ہم اُدھر تم سے یہ پاکستان دولخت کردیا اور فوج نے ہتھیار ڈال کر مشرقی پاکستان بھارت کے حوالہ کردیا۔ پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جمہوری اسلامی آئین (1973) ء میں بن گیا لیکن بھٹو مارشل لاء کا پالتو تھا اسلئے بدترین قسم کی ڈکٹیٹر شپ کی ذہنیت بھی رکھتا تھا۔ لاڑکانہ میں اپنے خلاف الیکشن لڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی، حالانکہ اس کی جیت یقینی تھی، کراچی سے جماعت اسلامی کے رہنما نے الیکشن کیلئے کاغذات جمع کرانے چاہے تو کمشنر کے ذریعے اغواء کیا۔ جمہوری قیادت کو جیل میں ڈال کر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دیدیا۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء وقتی طور پر قبول کیا مگر سیاسی جماعتوں نے ایم آر ڈی (MRD)کے نام پر جدوجہد شروع کی ۔ نوازشریف کو تحریک استقلال سے اٹھاکر ضیاء الحق نے گودی بچہ ، الطاف بھائی کو قوم پرست بچہ، جماعت اسلامی کو جہادی بچہ بنایا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر جنرل ضیاء کے باقیات کو (1990) میں حکومت دلائی گئی تو جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفور احمدتک سے معاملہ خفیہ رہا۔ (93) الیکشن میںجماعت اسلامی نے ”قاضی آرہا ہے” کی مہم چلائی مگربینظیراقتدار میں آگئی اور مولانا فضل الرحمن اتحادی تھے۔ نواز شریف پرلندن فلیٹ کا مقدمہ بن گیا۔ مرتضیٰ بھٹو کو مارنے کے بعد بینظیر کی حکومت ختم کی گئی اورنوازشریف کو اقتدار دیا گیا توسیاسی قائدین کو اسمبلی سے باہر رکھا گیا۔ نوازشریف نے فوج کے آرمی چیف پرویز مشرف پر پیٹھ پیچھے وار کیا لیکن فوج نے اس کو ناکام بناکر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جنرل ایوب کی ڈکٹیٹر شپ سے ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء کی ڈکٹیٹر شپ سے نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ سے عمران خان پروان چڑھا ۔ جب پرویز مشرف کے ریفرینڈم کی حمایت عمران خان کررہاتھا تو تحریک انصاف کا جنرل سیکرٹری معراج محمد خان مخالفت کررہا تھا۔ پرویزمشرف کے دور میں متحدہ مجلس عمل اور ق لیگ اقتدار اور اپوزیشن میں تھے۔ پھر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں میں مولانا فضل الرحمن بھی شریکِ اقتدار تھا۔ نوازشریف دور میں ختم نبوت کا مسئلہ آیا تو قومی اسمبلی نے بل پاس کیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مجھے خوف تھا کہ کہیں میری صدارت میں بل سینیٹ سے پاس نہ ہوجائے۔ چیئرمین سینیٹ کی غیر حاضری میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے مجھے مرزائی نواز بل پر دستخط کرنے پڑتے، یہ شکر ہے کہ بل پاس نہیں ہوا۔ پھر حکومت نے قومی اسمبلی و سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل پیش کیا تو شیخ رشید نے جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں کو پکارا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو تم جواب کیا دوگے؟۔ شیخ رشید نے قائداعظم کا نام نہیں لیا بلکہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہی نے ختم نبوت کیلئے قربانی دی تھی۔ پھر تحریک لبیک والوں نے فیض آباد چوک پر قربانی دی توعمران خان نے بھی ان کا ساتھ دیا، مسلم لیگ ن کو اپنے ذمہ دار وزیر کو فارغ کرنا پڑگیاتھا۔
آئین پاکستان میں قرآن وسنت کی بالادستی ہے لیکن قرآن کے جو احکام نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ پوری دنیا کو بھی اندھیر نگری سے نکال سکتے ہیں تو ان پر کوئی سیاسی ، مذہبی جماعت یاشخصیت اور صحافی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مفتی محمدتقی عثمانی کے شاگرد مفتی زبیر نے بول نیوز پر کہا کہ اسلام نے تمام انبیاء کی گستاخی پر سزائے موت رکھی، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور جہالت ہے۔ یہود عیسیٰ علیہ السلام پرولد الزنا اور حضرت مریم پرزنا کا بہتان لگاتے تھے ۔جب گستاخانہ اعتقاد رکھنے والی یہودن سے اسلام نے نکاح کی اجازت دیدی تو قتل وغارت ، تشدد اور شدت پسندی کے خاتمے کا اصل سبب دنیا میں اسلام بنا تھا۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگا۔ حضرت حسانبن ثابت، حضرت حمنا بنت جحش اور حضرت مسطح شامل تھے تو ان کو قتل کا حکم نہیں دیا بلکہ جو سزا ایک عام خاتون پر بہتان لگانے کی اسّی (80) کوڑے ہیں وہی سزا ان کیلئے بھی تھی۔ گستاخ کفار کوپتہ چلے تو گنبد خضراء کو سجدہ کرینگے لیکن ہمارے نبیۖ نے فرمایا کہ ” اے اللہ ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہیں بنانا”۔یہ دعا نہ ہوتی تو وزیراعظم عمران خان بشریٰ بی بی کی ہدایت پربابافریدپاکپتن کی راہداری کی طرح گنبدخضراء پر کلٹی ہوسکتاتھا۔
ڈرامہ باز وںکی بیگمات پر زنا کا بہتان لگے تو قتل یا اربوں کی ہتکِ عزت کا دعویٰ کرینگے مگر نبیۖ کی توہین پر جھوٹ بولیں گے کہ ناموس پرہم قربان لیکن فرانس کا سفیر نہیں نکال سکتے۔ حکومت وریاست اور سیاسی ومذہبی رہنماؤں کو بروقت سچ بولنے کی ضرورت ہے ورنہ فتنہ وفساد سے سب تباہ ہوسکتے ہیں۔ آج عاشق رسول اپنے قیدی چھڑانے کی فکر میں ہیں اور سیاستدان حالات سے فائدہ اٹھاکر عشق رسول کے جذبات کا دورہ پڑنے کی ڈرامہ بازی کررہے ہیں۔
جنرل باجوہ کی صحافیوں سے ملاقات مسائل کا حل نہیں۔ صحافیوں نے جنکا کھانا ہے انکا گن گانا ہے۔ ریاست مدینہ کیلئے سورۂ نور کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ اندھیرے کو لاٹھی گولی کی سرکار نہیں روشنی ہی بھگاسکتی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ستائیس (27) رمضان کوسورۂ نور قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کی جائیگی۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button