سورۂ واقعہ میں قیامت اور دنیا میں تین اقسام کے لوگ واضح ہیں:السابقون، اصحاب الیمین، اصحاب الشمال

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

صحابہ کرام میں السابقون بہت تھے۔ آخر میں بہت کم ہونگے۔ اصحاب الیمین پہلے بھی بہت تھے اور آخر میں بھی بہت ہونگے

مجرموں کو پہلے بھی مغلوب ہونے کی سزا مل گئی اور اب بھی مجرموں کی دنیاوی سزا الگ ہوگی اور آخرت کی سزا الگ ہوگی

سورۂ واقعہ سے پہلے سورۂ رحمن ہے۔ اللہ نے فرمایا:
( الرحمن O عّلم القراٰن Oخلق الانسان Oعلمہ البیانO) ” رحمن ،جس نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا، اس کو بیان سکھایا”۔ سورۂ رحمن میں سمندرمیں پہاڑوں کی طرح جہاز وں کا ذکر ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تھا تو کسی کے دل ودماغ میں پہاڑوں کی طرح جہازوں کاکوئی تصور نہیں تھا۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ اللہ خود قرآن کیسے سکھاتا ہے؟۔ ویعلمھم الکتٰب ”اوران کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے”۔ نبیۖ کی نبوت کا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سکھانے کی نسبت کیسے کردی ہے؟۔
قرآن میں کچھ محکمات تھے اور کچھ متشابہات۔ جب دنیا نے ترقی نہیں کی تھی تو اس وقت سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز کا تصور متشابہات میں سے تھا۔ جس پر بحث مباحثہ کی ضروت مسلمان محسوس نہیں کرتے تھے۔ لیکن آج یہ آیت متشابہات سے نکل کر محکمات میں شامل ہوگئی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے جسطرح سکھانے کی نسبت اپنی طرف کردی ہے کہ اللہ قرآن سکھاتا ہے تو کوئی شخص بھی پہاڑ جیسے جہازوں اور قرآن کی آیت کو زبردست طریقے سے خود سمجھ سکتا ہے۔
سورۂ رحمن میں بھی تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیاہے اور سب سے پہلے مجرموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا و آخرت میں اپنے اپنے حساب سے مجرموں کو سزا ملے گی۔ دوسری قسم کے لوگ السابقین ہیں جن کو دوطرح کی جنت ملنے کا ذکر ہے۔ ایک دنیا کی جنت اور ایک آخرت کی جنت۔ یہ وہ ہیں جن کو احسان کا بدلہ احسان ملے گا۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے دور میں جن فتوحات کا دور شروع ہوا تھا، وہ بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ تک کس کامیابی کیساتھ جاری رہاہے۔ مدینہ ومکہ کے درمیان کوئی دریا اور نہروں کا تصور نہیں ہے لیکن مسلمانوں کو اللہ نے سپر طاقتوں کا فاتح بناکر ہمیشہ کیلئے باغات اور بہتی ہوئی نہروں کا مالک بنادیا۔ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر ہم دنیا میں جنت کے مالک بن گئے ہیں یہ پہلے کی قربانیوں کا صدقہ ہے جس سے ہم استفادہ کررہے ہیں۔
جب اسلام کی نشاة ثانیہ ہوجائے گی تو پھر نئی فتوحات کے دراوزے کھل جائیں گے۔ جب مکہ ومدینہ کے مختصر علاقے اور آبادی نے پوری دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دی تھی تو کیا آج پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمان متحد اور متفق ہوکر قرآن کی بنیاد پر دنیا میں فتحیاب ہونے کا خواب نہیں دیکھ سکتے ہیں؟۔ پاکستان کا پیسہ باہر لے جانے سے مٹی بننے سے بھی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتا ہے لیکن باہر کے پیسے پاکستان میں لگانے سے سونا بن جاتا ہے۔
ہمارے مقتدر طبقات اپنی مٹی اور اپنے ملک میں بڑا لینڈ لارڈ ہونے کو بھی پسند نہیں کرتے لیکن باہر جھاڑو کشی کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ایک کنواری لینڈ لارڈ جمائما خان سے شادی کی تھی لیکن پھر ایک جوان بچوں کی ماںریحام خان اورپھر بشریٰ بی بی سے شادی کرنے میں زیادہ بہتر لگا۔ جس ملک کی بیواؤں و طلاق شدہ کو دیار غیر کی کنواریوں سے زیادہ بہتر سمجھا جائے،اس کی مٹی کتنی زرخیز ہے؟۔ کشمالہ طارق جوان بیٹے کی ماں ہے اور پھر بھی یہاں کے بڑے امیرکبیر شخص نے شادی کرلی۔ جن سرگوشیوں کو قرآن میں بہت سختی کیساتھ اللہ نے منع کیا وہ سرگوشیاں ہمارے معاشرے کی اجتماعیت کو تباہ کررہی ہیں۔
سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کی سزا بھی زنا سے بیس (20)کوڑے کم مقرر کی ۔ زناکی سو (100)کوڑے اور بہتان کی اسی (80)کوڑے ہے۔ حضرت عائشہ پر بہتان سے نبیۖ اور حضرت ابوبکر نے کتنی تکلیف اُٹھائی ۔ اللہ نے ام المؤمنین اور ایک عام غریب خاتون پر بہتان لگانے کی ایک سزا مقرر کرکے دنیا کو ایسا عدل وانصاف سکھادیا ہے کہ پوری دنیا میں کوئی نظام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ اللہ نے سورۂ نور میں یہ بھی فرمایا کہ فحاشی کی باتوں کو پھیلایا مت کرو۔ اسلئے یہ بھی فرمایا کہ اس افک عظیم کے دلخراش واقعہ کو اپنے لئے برا مت سمجھو۔ بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے۔ سورۂ نور کی آیات میں مشرقی اور مغربی اثرات کا شائبہ تک بھی نہیں ہے۔ بہتان لگانے والے مسلمانوں کو کافر یا واجب القتل نہیں قرار دیا بلکہ سزا اور تنبیہ کردی۔
سورۂ واقعہ میں سابقون کا زبردست تصور دیا گیا ہے جن کا کام دنیامیں صرف اہلیت کی بنیاد پر اقتدار کا ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا۔ امانتوں کو ا نکے اہل کی طرف لوٹانے سے پاکستان، عالم اسلام اور پوری دنیا میں زبردست انقلاب آجائیگا۔ سورہ ٔ واقعہ میں السابقون اور اصحاب الیمین کے بعد اصحاب الشمال کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
واصحاب الشمال ما اصحاب الشمالO
(فی سموم وحمیمO وظل من یحمومO لابارد ولاکریمO انھم قبل ذٰلک مترفینO وکانوایصرون علی الحنث العظیمO)
” اور اصحاب الشمال !اور کیا ہیں اصحاب الشمال؟۔ بادِ سموم گرم ہواؤں میں ہوں گے اورموسم کی گرمی کھائیں گے۔ کالے دھویں کے سائے میں ہونگے، جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ ہوگا۔ بیشک یہ وہ لوگ تھے جو پہلے بہت دولتمند تھے۔ اور بڑی بڑی کرپشن پر ہاتھ مار کر مسلسل اصرار کررہے تھے”۔
پاکستان اور دنیا بھر کے کرپٹ عناصر کی تصویربہت زبردست انداز میں اللہ نے ان آیات میں دکھائی ہے۔ جس طرح سمندر میں پہلے پہاڑوں جیسے جہاز نہیں تھے اور موجودہ دور میں اس کاواضح تصور ہے۔ اسی طرح موجودہ دور میں فیکٹریوں اور ملوں کا بھی تصور ہے جنکا سیاہ دھواں سایہ کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن وہ نہ تو ٹھنڈا ہوتا ہے اور نہ ہی فرحت بخش ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری، نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن سمیت جب مسلسل بڑی بڑی کرپشن میں ملوث سیاسی ومذہبی رہنما ؤں اور فوجی جرنیلوں اور سول بیوروکریٹوں سے حرام کمائی کا دھندہ رُک جائیگا تو یہ خود اور ان کی نالائق اولادیں اپنا پیٹ پالنے اور روزگار کیلئے ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے لگ جائیں گے۔
عیش وعشرت اور آرام وسکون کی زندگی گزارنے کے عادی دنیا میںاپنے روزگارکو اپنے لئے جہنم سمجھیںگے۔ انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہی دنیا ہے ، اگر آخرت کی فکر ہوتی تو یہ کرتوت انکے کبھی نہ ہوتے۔ کسی قوم و ملک سے وفا دار رہنے والے بھی ایسی حرکتیں نہیں کرسکتے ہیں پارلیمنٹ میں گھوڑا ، گدھا اور طوطا بننے والوں کو عزت اور آخرت سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ شرم وحیاء کی دہلیز سے اترکر کہاں سے کہاں یہ لوگ پہنچ چکے ہیں۔ قوم کی ایسی سیاست کرنے اور ملک کی ایسی رکھوالی کرنے سے بہتر ہے ڈھول باجے اٹھاکر عوام کے سامنے میراثیوں کا کردار ادا کریں۔
سورہ ٔ واقعہ کی مندرجہ بالا آیات (41)تا (46)پھر اگلی آیات(50)تا(57) میں قیامت کے عذاب کا الگ سے ذکر کیا ہے جس میں شجرة زقوم وغیرہ کی وضاحت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

جواب دیں

Back to top button