پاکستان کے اہل اقتدار کوخوش فہمی اور خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اسلامی مزارعت کا آغاز کرنا چاہیے

اگر برصغیرپاک وہند کے علماء ومفتیان نے قرآن وسنت میں موجود طلاق وخلع اور حلالہ کی لعنت کے بغیر رجوع کی طرف توجہ نہیں دی تو ہندوستانی فوج پاکستان کو فتح کرکے غزوہ ہند کا خواب پورا کرکے اسلام کوبھی نافذ کرسکتی ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پنجاب کے دل سے جہنمیوں کو نکالنے اور دریائے اٹک کو خون سے بھرنے کی شاہ نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی افغانی،ایرانی اورہندو برہمن پوری کرینگے یامذہبی طبقے کو منافقت چھوڑنا ہوگی؟

پاکستان کے اہل اقتدار کوخوش فہمی اور خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اسلامی مزارعت کا آغاز کرنا چاہیے اور قرآن وسنت کے مسائل نافذ کرکے پاکستان کوپوری دنیا کیلئے پاکستان بنانا چاہیے

امریکی ٹرمپ نے جاتے جاتے فساد پھیلانا چاہا تھا مگر امریکی قوم بچ گئی۔ نوازشریف کے گلوبٹ ،عمران خان کے غنڈے، جماعت اسلامی کے ٹھاہ اور مولانا فضل الرحمن کے طالبان صف بندی سے ریاست کو بلیک میل کرسکتے ہیں، عربی شاعر نے کہاکہ من لایظلم الناس یظلم ”جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتا ،اس پر ظلم ہوتا ہے”۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو ہابیل نے کہا کہ میں بھی قدرت رکھتا ہوں مگر میں اپنے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا تو قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا۔ اگر ہابیل کہتے کہ میں تجھے اپنے قتل سے پہلے جہنم رسید کردوں گا تو قابیل کو قتل کرنے کی ہمت بہت سوچ سمجھ کر مشکل سے ہوتی۔
یہود نے تاریخ کے ہرموڑ پر مظالم کا بازار گرم کیا پھر ظلم کا شکار بھی بنے۔ نصاریٰ نے ہابیل کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے دین میں مظالم کو برداشت کرنے کا درس دیا لیکن پھر اس پر قائم نہیں رہ سکے۔ اسلام نے اعتدال کا درس دیا۔ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کا رسول اللہۖ نے فرمایا۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد کرنے کا ہمیں علم ہے لیکن ظالم کی کس طرح سے مدد کریں؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ظالم کو ظلم سے روکنا ہی اسکی مدد کرنا ہے۔ سیاستدان اور فوج کے متحارب صحافیوں نے اپنے ظالم مؤکلوں کی وکالت جس طرح سے کی یہ انکی مدد نہیں بلکہ ان کو مزید اندھیرنگری کی طرف دھکیل دیا ہے۔
رسول ۖ نے فرمایاکہ : خوشامد کرنیوالے کے منہ میںمٹی ڈال دو۔ ہمارا بڑا المیہ ہے کہ کرایہ کے خوشامدیوں نے عوامی قیادت کو بھی فرعونیت کا شکار کیا۔ جب اپنے اوپر تنقید کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں تو اصلاح کی اُمید نہیں ہوسکتی ہے۔ رسول ۖ سے غزوہ بدرکے قیدیوں پر فدیہ لینے، غزوہ اُحد شہر سے باہر لڑنے، صلح حدیبیہ کے معاملے اور سورۂ مجادلہ میں ظہارپر اختلاف کیا گیااور اللہ نے ہرمعاملے میںرسول ۖ کو وحی سے رہنمائی فراہم کی تھی۔ اُسوۂ رسولۖ میں جمہوریت اور حریت کی روح انسانیت کیلئے قابلِ فخر اعزاز ہے۔حدیث قرطاس میں حضرت عمر کا نبیۖ سے یہ عرض کردینا کہ ہمارے لئے وصیت کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ کی کتاب کافی ہے اُسوۂ حسنہ کا روشن پہلو ہے۔
ذوالخویصرہ کاکہنا کہ آپۖ نے انصاف نہیں کیا اور نبیۖ کافرمانا کہ اگر میں انصاف نہیں کرتا تو کون کریگا؟۔ اُسوۂ حسنہ کا روشن ترین پہلو ہے۔ اپنے ساتھیوں اور خیر خواہوں کے علاوہ دشمنوں کو بھی اختلافِ رائے کا حق دینا اُسوۂ حسنہ کا سب سے زیادہ وہ روشن ترین پہلو ہے جس سے دنیا میں اسلامی اورانسانی انقلاب کی توقع ہے۔ مشہور ہے کہ ہندو برہمن اورپٹھان بنی اسرائیلی قبیلے ہیں۔پٹھانوں نے اسلام کو قبول کیا لیکن پٹھان اور سکھ دو ایسی قومیں ہیں جو پہلے قدم اٹھاتے ہیں پھر سوچتے ہیں ۔ بنی اسرائیل میں پٹھان قبیلہ نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کیا لیکن پھر پتہ چلا کہ اسلام میں غیرت کے نام پر قتل نہیں ہے بلکہ لعان کرنے کا حکم ہے اور یہ پٹھانوں نے قبول نہیں کیا اسلئے کہا جاتا ہے کہ پشتو ن کلچر آدھا کفر ہے اور یہی معاملہ بنی اسرائیل کا بھی تھا ،اللہ نے فرمایا: أفتؤمنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض الکتاب ”کیا تم بعض کتاب پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو”۔ برصغیرپر انگریز کا قبضہ ہوا تب بھی تعزیرات ہند میں عوام کو غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دی گئی۔ برصغیر میں برہمن یہود کی طرح نسلی امتیاز کا شکار تھے ،وہ خود کو ابراہیمی سمجھ کر دوسروں کو اچھوت سمجھتے تھے۔ اچھوت نے نسلی امتیاز کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔ مذہبی طبقے نے یہ مسئلہ بتایا کہ تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں تو اچھوت نسل کے لوگوں نے حلالہ کی لعنت کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ شرم محسوس نہیں کی ۔ پٹھانوں کو بے غیرتی میں اپنا مفاد لگا تو انہوں نے بھی حلالہ کی لعنت کو چوری چھپے قبول کرلیا کہ ساری زندگی بچے خوار ہونے یا بیوی چھوٹ جانے سے اچھوت کی طرح بے غیرت بننا بھی زیادہ بڑا مسئلہ نہیں۔ اچھوت نسل کے لوگ بھی بڑے پیمانے پر مذہبی، سیاسی ، سول وملٹری بیوروکریسی کی لیڈر شپ میں موجود ہیں۔
پاکستان اپنے بنیادی نظرئیے اورجمہوری، نسلی، انسانی اور اخلاقی بنیادوں پراس قابل ہے کہ سندھی، بلوچ، پشتون ، پنجابی ، سرائیکی،کشمیری اور ہندوستانی مہاجر یہاں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عملی جامہ پہنائیں۔ غیرت کے نام پر جس اسلام کو قبول کرنے سے انکار کیا گیا ،اب حلالہ کی بے غیرتی سے جان نہ چھڑائی گئی تو ایرانی ، افغانی اور ہندوستانی دریائے سندھ کو خون سے بھرسکتے ہیں۔ دنیا کی طاقتیں پاکستان کو مٹانے میں بڑی دلچسپی رکھتی ہیں۔ ہندوستان کے برہمن بھی حلالہ کی بے غیرتی کو سمجھ چکے ہیں ۔ لتا حیا جیسی شاعرہ مسلمانوں کو تحفظ دیتی ہیں اوراچھوت ہندو بھارت میں مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ ہماری فوج کو اپنے ہاں سیاستدانوں کی مخالفت اور سرپرستی سے فرصت نہیں ملتی ہے تو اسلام کو نافذکرنے میں کیا دلچسپی لے گی؟۔ پھر ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کیلئے کوئی اقدام کرنا مشکل نہیںبلکہ ناممکن لگتا ہے۔ اگر ہمارے اپنے ہاں اسلام نافذ ہوگا تو پھر بھارت اور دوسرے ممالک میں بھی اسلام کو پذیرائی مل سکے گی۔
مذہبی طبقہ قرآن وسنت میں بہت ساری آیات اوراحادیث کو رجوع کیلئے نہیں مان رہا مگر شیطانی القا کی وجہ سے باعزت لوگوں کی عزتوں کو حلالہ کے نام پر لوٹ رہاہے۔ مغرب میں کم سود کو غیر اسلامی اور اپنے ہاں زیادہ سود کو اسلامی قرار دینے کی منافقت سے اسلام نہیں کھلم کھلا کفر پھیلا رہاہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں سود اور ریاستِ مدینہ میں شراب خانہ مذہبی ، سیاسی اور صحافتی طبقات میں منافقت کی انتہاء ہے۔اگر اسلام نافذ نہ کیا توبرہمن اسلام قبول کرکے معرکہ ہند لڑنے والی حدیث پر عمل کرینگے۔ شاہ نعمت اللہ ولی نے پنجاب کے دل سے دوزخی خارج ہونے اور اٹک کے دریا کے خون آلود ہونے کی پیش گوئی کی ہے جمنا،گنگا کی نہیں۔ غلط اعداد وشمارکا تخمینہ لگانے کے بجائے ن لیگ کیلئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ٹانگ اُٹھاکر ٹیٹ ماریں۔ پورا ملک سول وملٹری بیوروکریسی کیساتھ مل کر سیاستدانوں نے دیوالیہ بنادیا ہے مگر اب تک پیٹ نہیں بھرتا ۔ اس کا علاج اسلامی معیشت اور مزارعین کومفت کی زمینیں دینے کی شریعت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

جواب دیں

Back to top button