اللہ نے طالوت کو اسلئے منتخب کیا ہے کہ علم اور جسمانی اہلیت اسکی زیادہ ہے۔

بنی اسرائیل نے پہلے اپنا بادشاہ مانگا جب طالوت کو بنادیا گیا تو کہنے لگے کہ اس کو کیوں بنایا گیا؟،ہم زیادہ حقدار تھے، اسکے پاس مال کی وسعت نہیں، کہا کہ اس کو اللہ نے اسلئے منتخب کیا ہے کہ علم اور جسمانی اہلیت اسکی زیادہ ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفسی فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امینOقال اجعلنی علی خزآئن الارض انی حفیظ علیمOیوسف

بادشاہ نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ،تاکہ اپنے لئے خاص کروں، جب اُس سے بات کرلی تو کہا کہ آج آپ ہمارے پاس مقیم امین ہیں، کہا کہ مجھے وزیر خزانہ بنادو،نگران عالم ہوں

یوسف علیہ السلام مصر میں غلام اور مظلوم قیدی بن گئے لیکن خواب کی تعبیر اور مظلومیت نے اقتدار تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا۔ بنی اسرائیل کی حیثیت اہل مصر کے ہاں ایسی تھی جیسے تختِ لاہور کے مقابلے میں پختون کی ہے۔ انگریز سے پہلے راجہ رنجیت سنگھ کا اقتدار تھا اور اب جمہوری عوام اور فوجی افسران کی وجہ سے پنجاب ہی کا اقتدار ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح وفاطمہ جناح، لیاقت علی خان ،بیگم راعنا لیاقت ،بنگالی سکندر مرزاکی ناہید ایرانی سے لیکر ذولفقارعلی بھٹو،نصرت بھٹو سے ہوتے ہوئے بات عمران خان اور بی بی بشریٰ تک جاپہنچی ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویزمشرف نے اپنا براہِ راست اقتدار کیا اور پاک فوج نے کٹھ پتلیوں کے ذریعے بھی حکومت کی ہے۔
جنرل راحیل نے کہا تھا کہ وہ ملازمت میں توسیع نہیں لیںگے۔ فوج میں کرپشن پر زبردست ایکشن لیا تھا اور نوازشریف کو کرپشن سے بچانے میں کردار ادا کرنے سے بالکل معذرت کی تھی تو ان پر ملازمت میں توسیع کی بھیک مانگنے کا ناجائز الزام لگادیا گیا۔ جب عدالت میں آرمی چیف کی توسیع کا پنڈورا بکس کھل گیا تو پتہ چل گیا کہ آج تک آرمی چیف کی توسیع کا آئین میں ذکر اور گنجائش تک نہیں ۔ جس شق کے تحت توسیع کا عمل ہوتا تھا تو اس کا تعلق کرائم کے باب سے تھا۔ فوجی کو سزا دینی ہوتی تھی تو ریٹائر منٹ کے بعد اس شق کے تحت بحال کرکے فوجی کورٹ میں سزا دی جاتی تھی۔ جس پر ان صحافیوں کے چہروں سے بھی نقاب اُٹھ گیا جو نوازشریف کو نظریاتی شاہین ثابت کررہے تھے ۔ جس کی زندگی کوئے کے گھونسلے میں گزری ہو تو اس کو شاہین ثابت کرنا شاہین نہیں کوئے کیساتھ بھی بڑی زیادتی ہے۔ نوازشریف کی جھوٹی بیماری کی کہانی کے چرچے ابھی ختم نہیں کہ مریم نواز کو چھوٹے آپریشن کیلئے لندن جانا پڑرہاہے جسکا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا۔ کالے کوئے کا بچہ سفید ہو تب بھی شاہین نہیں بن سکتا بلکہ کواہی ہوگا۔ وکیل سے زیادہ صحافی آرٹسٹ اپنا کمال رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بدتمیزی اور گالیوں کی گنجائش ترقی یافتہ ممالک میں نہیں اور فیس بک وغیرہ کے بھی قوانین ہیں۔ جب ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے بدتمیزی کی سوشل میڈیا پر انتہاء کردی توچندصحافیوں نے اس پر ایک پروگرام رکھا۔ حامد میر نے کہا کہ انگریزی میں نیٹ کے ذریعے جب اردو اور پنجابی کی گالیوں کا ترجمہ ہوتا ہے تو لفظی ترجمہ کی وجہ سے ان تک بات صحیح پہنچتی نہیں۔ مثلاً علامہ خادم حسین رضوی کی معروف گالی کہ تیری پھینڑ دی سری کا انگریزی کا یہ ترجمہ ہوگا کہ (Your head of sistar) ان کو اس سے گالی کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ ویسے یہ مقولہ ہے کہ ”پنجابی گالی کی زبان ہے”۔ اور ہم نے چیچہ وطنی میں انتہائی مخلص اور اچھے انسان صدیق استاذ کی زبان پر گالی کی بہتات دیکھ لی تھی۔ اسکے بجلی کامیٹر لگانے کا کام بھائی ایس ڈی واپڈا نے کیا تھا اور کلرک رکاوٹ ڈال رہاتھا تو اس نے کہا تھا کہ کلرک کے شروع اور آخر میں کتے کے دو کاف ہوتے ہیں اسلئے ڈبل کتے کی خاصیت رکھتا ہے۔ خلوص اورگالیوں کی وجہ سے وہ استاذ طلبہ کیلئے سکول میں ہردلعزیز تھے۔ عمران خان کی زبان پر جب چور، ڈکیت، ڈیزل اور سیاسی رہنماؤں اور پاک فوج کے خلاف ہرقسم کی بے باکی تھی تووہ پنجاب بلکہ پاکستان کے ہردلعزیز لیڈر بن گئے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے خلوص کے ساتھ گالیوں کی بوچھاڑ کردی تو ان کا تاریخی جنازہ ہوا۔ گالیوں سے خلوص کی تاثیرِ مسیحائی سرکے بالوں سے پیروں کے ناخن تک پہنچ جاتی ہے اسلئے کہ یہ پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کا اب آرٹ ہے۔ کلام کی بلاغت کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ بات صحیح پہنچ جائے۔
الٰہ اور معبود کا ترجمہ ہرزبان ، مذہب اور کلچر میں مختلف ہے۔ عربی میں ال کا اضافہ ہوتا ہے جیسے حمد سے الحمد اور حسین سے الحسین ، الٰہ کے شروع میں ال لگانے سے اللہ بن گیا ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ” ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زباں سے”۔ جب لوگ خدا خدا کرتے تھے تو اس کی تاثیر مسیحائی رگِ جان میں اترجاتی تھی اور جب خدا پر قدغن لگنا شروع ہوا کہ اللہ ہی اسم ذات ہے تو لوگوں کا تعلق کمزور ہوا۔حالانکہ اگر اللہ اسم ذات ہوتا تو سنکسرت، عبرانی، انگلش ، ہندی اور فارسی میں بھی اللہ ہی ہوتا۔
سات (7)سال سے ستر (70)سال تک باقاعدگی سے نماز پڑھنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ سے کیا مانگتے ہیں؟۔ ہدایت اور صراط مستقیم مانگی جائے تو ضرور مل جائے ۔ نماز پڑھنے والوں کے دل وذہن روشن وکشادہ ہونے کے بجائے تاریک وتنگ اسلئے ہیں کہ مسلسل بہت کچھ مانگنے اور ذکر کرنے کے باوجود بھی طوطوں کی طرح بولتے اور بندر کی طرح حرکت کرتے ہیں۔ اللہ نے سابقہ قوموں کو بندر بنانے کی جو سزا دی تھی اس کی عکاسی ہمارے یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔ جو اخلاقی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے ہماری حالت ہے کسی اور میں نظر نہیں آتی ہے ۔ مولانا عبیداللہ سندھی اور علامہ اقبال کو یورپ میں اسلام نظر آتا تھا کیونکہ مسلمان ہونے کیلئے جانور سے پہلے ایک انسان بننا بھی بہت ضروری ہے۔
اگر پاک فوج اور پاکستان کے اصحاب حل وعقد کسی تجربہ کار ،عالم فاضل ، قربانی اور جہاندیدہ امانتدار پٹھان کو اقتدار سونپ دیں تو سب سے پہلے پٹھان کہیں گے کہ ہمارے اندر مالی لحاظ سے یہ کمزور تھا اس کی جگہ ہمارا حق تھا کہ اقتدار سپرد کردیتے۔ سورۂ بقرہ میں آیت(242)سے(254) تک میں زبردست رہنمائی ہے۔ کوئٹہ سے سوات تک ہمارے چند پختون ساتھی ہیںجن کا طالوت کے ایماندارساتھیوں کی طرح ایمان ہے کہ کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ ” کتنے ایسے کم تعداد والے گروہ ہیں جو زیادہ تعداد والے گروہ پر اللہ کے حکم سے غالب آئے ہیں۔ اگر حجاز کے لوگ انصار ومہاجرین ، قریش واہلبیت کی بنیاد پر اختلافات اور بنی امیہ وبنی عباس کے خاندانی قبضے کے باوجود بھی دنیا میں اپنی طاقت منواسکتے تھے تو آج پاکستانی قوم اسلام اور عالم اسلام کی بنیاد پر کامیابی سے ہم کنار کیوں نہیں ہوسکتی ؟خالی ایمان اور کردار درست کرنیکی ضرورت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button