قرآن میں رسول اللہۖ کی تمنا پرالقائے شیطانی سے کیا مراد ہے؟، اسکا جواب بہت آسان ہے۔

قرآن میں رسول اللہۖ کی تمنا پرالقائے شیطانی سے کیا مراد ہے؟، اسکا جواب بہت آسان ہے لیکن علماء اور مذہبی طبقے خود ہی اسکے بری طرح شکار تھے اسلئے قرآن وسنت کا اسلام ان کی نظروں سے ثریا ستاروں تک پہنچنے کے مانند غائب ہوا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

لعان پر غیرت کا معاملہ ہو یا تین طلاق کے پڑجانے کا مسئلہ ، طلاق سے رجوع کا مسئلہ ہویا خلیفہ بنانے کی بات ہو، حضرت علی واہلبیت کی تعریف ہویا اپنے بعد آپس کے قتل پر تنبیہ ہو۔

اسلام کی اجنبیت کا بہت ہی جلد آغاز ہوگیا تھا اور اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ دجال کا کردار ادا کرنے والے سے وہ حکمران اور علماء بدتر ہیں جو اسلام کے نام پر کھیل رہے ہیں!

مفتی اعظم پاکستان ابن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” دجال سے زیادہ خطرناک حکمران اور لیڈرہیں”۔ ( علامات قیامت اور نزول مسیح: تصنیف مفتی محمد رفیع عثمانی)
مفتی رفیع عثمانی نے لیڈر سے سیاسی رہنما مراد لئے ہیں ،حالانکہ لیڈر ہی تو حکمران بنتے ہیں اسلئے لیڈر سے مراد مذہبی علماء ہیں۔ مولانا یوسف لدھیانوی کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” بہت کچھ موجود ہے۔ نوازشریف ، زرداری، جرنلوں کے بعد عمران خان کو بھی دیکھ لیا ہے۔ اس کتاب میں سبھی کو اپنا چہرہ صاف دکھائی دے گا اسلئے اس کو بہت عام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس میں احادیث کے ترجمے اور تشریحات میں کچھ غلطیاں بھی ہیں اور معاملات پہلے سے زیادہ اب واضح بھی ہوگئے ہیں۔ اگرموقع مل گیا تو غلطیوں کی وضاحت کیساتھ اس کی مختصر شرح لکھ دوں گا۔انشاء اللہ العزیز
رسول اللہۖ کا وصال ہوا تو انصار سردار سعد بن عبادہ نے مسندِ خلافت سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت ابوبکر وعمر نے موقع پر پہنچ کر قابو پالیا لیکن ہنگامی خلافت کی وجہ سے اُمت کو بنیاد ی دھچکا پہنچا۔ لعان کی آیت نازل ہوئی توسعد بن عبادہ نے کہا تھا کہ میں لعان کے بجائے بیوی اور اسکے ساتھ ملوث شخص کو قتل کردوںگا۔ نبیۖ نے انصار سے شکایت کی تو انصار نے عرض کیا کہ یہ بہت غیرت والے ہیں، آج تک ہمیشہ کنواری ہی سے شادی کی،کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے نکاح نہیں کیا اور جس کو طلاق دی تو اس سے کسی اور کو نکاح نہیں کرنے دیا۔اس پر نبیۖ نے فرمایا :میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اوراللہ مجھ سے زیادہ ہے۔
نبیۖ کی یہ تمنا تھی کہ امت اللہ کے قرآن پر عمل کرے مگر فقہاء نے اس تمنا کی غلط تشریح کرتے ہوئے لکھ دیا کہ نبیۖ نے حضرت سعد کی غیرت کی تائید فرمائی۔ حالانکہ نبیۖ نے اس کی غیرت کو بالکل غلط قرار دیا ۔نبیۖ کا حضرت خدیجہ اور دوسری طلاق شدہ وبیوہ خواتین سے نکاح غیرت کے منافی نہ تھا۔ جب رسول اللہۖ کو شک ہوا تھا تو حدیث میں آتاہے کہ حضرت علی سے فرمایا کہ حضرت ماریہ قبطیہ کے ہم زبان کو قتل کردو، حضرت علی نے اس کو کنویں سے نکالا تو وہ مقطوع الذکر تھا اسلئے چھوڑ دیا۔ فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہاتھا لیکن رسول اللہۖ نے روک دیا تھا۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو دورِ جاہلیت میں بعض بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور دنیا کے مختلف مذاہب میں طلاق کا تصور بھی ناجائز تھا اور کہیں طلاق کے بعد عورت کو دوسری جگہ نکاح سے روکا جاتا تھا۔ یہود ،نصاریٰ اورمشرکین مکہ خود کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے تھے لیکن طلاق اور اس سے رجوع کے حوالے سے بہت افراط اور تفریط کا شکار تھے۔ ہندوستان میں حضرت نوح کی اولاد آباد ہوگئی لیکن برہمن اسرائیلیوں نے ہندو، بدھ مت اور دوسرے مذاہب کی طرح اسلام بھی قبول کیا ہوگا۔ البتہ جس طرح فتح مکہ کے بعد مشرکین مکہ نے مجبوری کا نام شکریہ کے طور پر اسلام قبول کیا تھا جس کی وجہ سے بنوامیہ ،بنوعباس نے بعد میں مسندِ خلافت پر خاندانی قبضہ بھی کیا ، یہ وہی تھے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد ہی اسلام قبول کیا تھا۔ اگر ہندوستان کے برہمن بھی اسی طرح اسلام کو قبول کرتے تو پھر خاندانی بنیادوں پر مغل سے زیادہ خودہی بادشاہت کرتے۔
حضرت مولانا سیدضیاء اللہ شاہ بخاری درست کہتے ہیں کہ قرآن میں فتح سے پہلے اور فتح کے بعد میں مسلمان ہونے والوں کے درمیان فرق کیا گیاہے ۔ اس سے بڑا فرق اور کیا ہوسکتا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہونے والوں نے خلافت راشدہ کا نظام قائم کیا اور بعد والوں نے خاندانی بادشاہت قائم کرلی؟۔ سعودی عرب کو حضرت معاویہ سے پیار اور یزید سے سروکار نہیں بلکہ بادشاہت کو سپورٹ کرنے کی فکرمیں اپنا خیال رکھ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کتا مالک کیلئے بھی بھونکتا ہے اور اپنے لئے بھی لیکن کچھ کتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف اپنے ہی لئے بھونکتے ہیں۔ سعودی شاہی خاندان اور انکے پالتو اہلحدیث بھی یزید سے زیادہ ہل من مزید کی جہنم بھر رہے ہیں ۔ شیعوں سے نہیں حضرت حسین کے کردار سے ان کو خطرہ ہے اسلئے بھارتی فوج سے معاہدے کررہے ہیں۔
رسول اللہۖ نے حضرت علی کی نامزدگی چاہی بھی تو حدیث قرطاس نے اس تمنا کو عملی جامہ نہیں پہنانے دیا۔ اگر نبیۖ اس کو اسلام اور کفر کا مسئلہ سمجھتے تو غدیر خم کے بجائے آخری خطبے میں حضرت علی کو نامزد کردیتے ، حضرت علینامزد ہوئے اور نہ قریش کو اپنے بعد امام مقرر کرنیکاا علان ہوا تھا۔ ورنہ انصار وقریش اور اہلبیت کے درمیان خلافت کے مسئلے پر اختلاف کی نوبت نہ آتی۔ حضرت علی ہی کو مقرر کرنا ہوتا تو پھر نبیۖ اس کیلئے باقاعدہ بیعت لیتے جس طرح حضرت عثمان کی شہادت پر صلح حدیبیہ سے پہلے صحابہبیعت ہوگئے اورصلح حدیبیہ کے بعد خواتین سے اصلاح کیلئے بیعت لینے کی اللہ نے وضاحت فرمائی ہے۔
رسول اللہۖ نے اہلبیت اور اپنی عترت کو قرآن کیساتھ دوسری بھاری چیز بھی قرار دیا اور اپنے اہل بیت کو کشتی نوح کے مانند بھی قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خلافت راشدہ سے لیکر بنوامیہ وبنوعباس کے ادوار تک اہلبیت پر بہت مظالم بھی ہوئے ہیں لیکن اگر اقتدار سے محروم کرنے کو بنیاد بنایا جائے توپھر یہ دین کیلئے درست کردار ادا کرنے کے بجائے محض خاندانی جھگڑے کا معاملہ ہی باقی رہ جاتا ہے۔ بعض معاملات کا بالکل انکار کرنا بھی درست نہیں کہ حضرت موسیٰ نے بھائی حضرت ہارون کو کیسے داڑھی اور سرکے بالوں سے پکڑا ہوگا؟، مگر اس کی وجہ سے اتنی کہانیاں گھڑنا بھی درست نہیں کہ انسانیت دم بخود رہ جائے۔
نبیۖ کی تمنا حضرت علی اور قریش کے حوالے سے امامت کی تھی مگر اس میں شیطان نے جو القا کیا ہے اس کی گلوکاری پر بھی بہت ہی بڑی حیرت ہے۔ رسول اللہۖ نے لعان کے بعد ایک ساتھ تین طلاق پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا اور ایک ساتھ تین طلاق اور حیض میں طلاق دینے پر غضبناک بھی ہوئے مگر اُمت جس طرح رسول اللہۖ کی معتدل تمنا سے ہٹ کر افراط وتفریط کا بری طرح شکار ہوگئی ہے اس القائے شیطانی پر بھی کوئی لانگ مارچ کرے گا؟۔
اگر میاں بیوی میں کھلی ہوئی فحاشی کے الزام کی طرح کوئی ناچاقی ہوتو پھر قرآن اچانک جدائی وتفریق کی واضح الفاظ میں اجازت دیتا ہے۔ سورۂ طلاق کی پہلی آیت میں اس کی بھرپور وضاحت ہے۔ اگر بلاوجہ ایک ساتھ تین طلاق سے فارغ کیا جائے تو نبیۖ کی طرف سے غضبناک ہونے کی وجہ صرف یہ تھی کہ قرآن میں عدت کے اندر مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کی جس طرح وضاحت ہے اسکے ہوتے ہوئے جاہلانہ طرزِ عمل کو اپنانا بہت بڑی کوتاہی کا پیش خیمہ تھا۔
رسول اللہ ۖ کی تمناؤں کا شیطانی القا سے خون کرنے والے مذہبی طبقے نے عجیب روش اپنالی ہے۔ جب شوہر اور بیوی جدا ہونا چاہتے ہوں تو پھر طلاق میں بھی حرج نہیں ہے۔ خلع کی صورت میں رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ایک ہی حیض کی عدت کافی ہے۔ جمہور فقہاء اور سعودی عرب میں اس پر عمل ہوتا ہے۔ جب شوہر تین طلاق دے اور عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو توپھر شوہر کو اللہ نے رجوع کا حق نہیں دیا ہے۔ تین طلاق ہی نہیں ایک طلاق پر بھی رجوع کا حق نہیں دیا ہے اور ایک طلاق ہی کیا؟، اگر ایک مرتبہ ناراضگی شروع ہوئی تو پھر جب تک باہمی رضامندی سے دونوں راضی نہ ہوں تو شوہر کیلئے رجوع کرنا حرام ہے۔
قرآن میں ایک ایک بات کی زبردست وضاحت ہے لیکن شیطان نے اپنے القا سے جس طرح مذہبی طبقات کے مسالک کوبھر دیا ہے تو اس کا انجام یہ نکلا ہے کہ امت قرآن سے بالکل دور ہٹ گئی ۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اوررسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔(القرآن)
یمین کا مفہوم بہت وسیع اور واضح ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں فتویٰ لکھاہے کہ شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق اور بیوی نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد ہے۔ اگر دونوں کھڑے ہوں تو مرد کی طلاق ہوگئی ،عورت بری ہوگئی ۔ دونوں بیٹھے ہوں تو مرد کی طلاق نہیں ہوئی اور عورت کی لونڈی آزاد ہوگئی اسلئے کہ کھڑے ہونے والی حالت میںعورت کی زیادہ خوبصورت ہوتی ہے اور بیٹھنے کی حالت میں مرد کا زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔ اور اگر عورت کھڑی ہو اور مرد بیٹھا ہو تومجھے بھی نہیں پتہ کہ کیاہوگا؟۔امام ابوبکر بن فضل نے کہا ہے کہ مناسب ہے کہ دونوں حانث ہوں کیونکہ دونوں نے اپنے یمین میں اپنی شرمگاہ کے زیادہ خوبصورت ہونے کی شرط لگائی ہے جبکہ اسکے برعکس میں حانث ہونگے اور باقی اللہ صحیح بات جانتا ہے۔ یہ فتویٰ سلطنت عثمانیہ کے ”فتاویٰ تاتار خانیہ” میں چھپ گیا ۔ پھر ہندوستان کے شاہی مدرسہ مراد آباد سے مزید قرآن وحدیث کی تخریج وتالیق سے علماء دیوبند نے آراستہ کرکے شائع کیا تھا اور پھر کوئٹہ سے یہ فتاویٰ تاتارخانیہ شائع ہوا ہے۔ اگر صادق سنجرانی نے مولانا عبدالغفور حیدری اور مولانا عطاء الرحمن سے پوچھ لیا ہوتا کہ پی ڈی ایم (PDM)کے مولانافضل الرحمن نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر ، نوازشریف اور بیگم کلثوم کو مسئلے کا کیا جواب دینا تھا؟۔ تو پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اسلامی آئین سازی کا آغاز ہوسکتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے القائے شیطانی کے دریامردار میں غرق علماء ومفتیان کو بہت واضح انداز میں قرآنی آیات سے رہنمائی فراہم کی ہے لیکن ایک طرف درباری علماء نے قرآن وسنت کے مقابلے میں انتہائی گھٹیا قسم کا کردار ادا کیا ہے تو دوسری طرف حکمرانوں نے بھی استنجے کے ڈھیلوں کی طرح ان کو استعمال کرکے پھینکا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے طالبان دہشت گردوں پر خراسان کے دجال والی روایت بالکل درست فٹ کی تھی مگر ان جاہلوں کو سیدھی راہ نہ دکھانے والے علماء اور انکو غلط راہ پر ڈالنے والے حکمران دجال سے زیادہ بدتر اور خطرناک ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ جو طالبان مولانا فضل الرحمن پر بھی خود کش حملے کررہے تھے تو پھر وہ پیپلزپارٹی کے دور میں میاں نواز شریف اور عمران خان نیازی کو اپنی طرف سے نمائندہ نامزد کررہے تھے۔ اگر پیپلزپارٹی، ن لیگ، تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام کے حکمران اور لیڈر ، پاکستان کی مذہبی اور سیاسی قیادت اُمت مسلمہ کو قرآن کی طرف رجوع کرنے پر راغب کرتے تو ایکدوسرے سے لوٹ مار میں اضافے اور سبقت لے جانے کے بجائے انسان جیسے انسان بن کر رہتے۔
دورِ جاہلیت میں ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ کی لعنت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں عورت کو زندگی بھر انتظار کرنا پڑتا تھا مگر قرآن نے ایک ایک مسئلے کو کچھ اس انداز سے حل کردیا ہے کہ جب عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو پھر ایک مرتبہ نہیں دس مرتبہ حلالہ کرانے کے بعد بھی وہ حلال نہیں ہوسکتی ہے، کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر بنوں کے اندر زبردستی سے حلالے کی لعنت والے کیس پر عدالت نے مولوی اور ملوث شخص کو جیل بھیج دیا تھا۔
جب عورت راضی ہو تو پھر حلالہ کی لعنت کا کوئی تصور اسلام میں نہیں تھا لیکن شروع میں عورت کو قرآن کے مطابق تحفظ دیکر حضرت عمر نے طلاق کا فیصلہ کردیا اور صحابہ کرام اہل زبان تھے اسلئے عدت میں رجوع کرلیا کرتے تھے اور تنازع کی صورت میں حرام کے لفظ پر تین طلاق کا فتویٰ دیتے تھے۔ صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ نے تنازعہ کی صورت میں بالکل ٹھیک فتویٰ دیا لیکن جب امت نے قرآن کو چھوڑ دیا اور میاں بیوی صلح پر راضی ہونے کے باوجود بھی فقہاء سے فتویٰ طلب کرنے لگے تو پھر بہت بڑا فاصلہ کھڑا ہوگیا۔ اس فاصلے کی بنیاد اس طرح بن گئی کہ بادشاہ سے عورت جان چھڑانا چاہتی تھی اور جب بادشاہ مشروط طلاق دیدیتا تھاتو مولوی فجر کی آذان کا مغالطہ دیکر تہجد کے وقت میں آذان دیتا تھا۔ پھر فتویٰ دیا جاتا تھا کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔ پہلے دنیا میں عورت کے حقوق نہیں تھے اسلئے لعان کا قرآنی قانون لوگوں نے مسترد کردیا تھا۔ یہاں تک کہ تعزیرات ہند میں انگریز نے بھی غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دی تھی ۔ اب حلالہ کی لعنت سے جان چھڑانے کیلئے قرآن کی آیات میں بہت وضاحت ہے جس سے شیطانی القا کا نہ صرف خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ اسلام کوبرصغیر پاک وہندکے غیرتمندلوگوں اور دنیا بھر کے مسلمان،کافر سمیت سب قبول کرینگے۔دجال سے بدتر حکمران اور علماء ومفتیان کو اپنی روش بدلنا پڑے گی اور خلافت کا نظام دنیا میں قائم ہوگا۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button