قرون اولیٰ کی تاریخ دہرانے کا یہ دور ہے

896
0

شاہ اسماعیل شہیدؒ ، مولاناآزادؒ ، مولانا مودودیؒ ،ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوانؒ وغیرہ کا اتفاق تھا

موجودہ دور میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی، حدیث کی روشنی میں پاکستان مرکز!

دنیا بھر کے مسلم ممالک میں اتنی مذہبی اور سیاسی آزادی نہیں جتنی پاک سرزمین شاد باد میں!

قوم ملک سلطنت ،پائندہ تابندہ باد،مرکزیقین ،نشانِ عزم عالیشان،سایہ خدائے ذوالجلال

یہ ارض پاکستان ہے، جو لیلۃ القدر کی رات کو آزاد ہوا، رات کی تاریکی میں اس کاپرچم ستارہ و ہلال رہبرِ ترقی و کمال قرار دیا گیا۔ 14اگست کی انتہاء اور 15اگست کی ابتداء اپنی جگہ مگر 27رمضان المبارک کولیلۃ القدر میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ برصغیر پاک وہند کی آزادی کے وقت معنوی اعتبار سے بھی گھپ اندھیرے والی رات تھی، مذہب کے نام وجود میں آنے والی سیاسی جماعت ’’جمعیت علماء ہند ‘‘ متحدہ ہندوستان سیکولر ملک کی تشکیل کے حق میں تھی، سیکولر ذہنیت رکھنے والے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال مذہب کے نام پاکستان کو وجود بخشنے کے حامی تھے جن پر کفر کے فتوے بھی لگادئیے گئے تھے۔یہ اختلاف بڑا رحمت تھا، اگر مذہبی طبقات کی بالادستی میں یہ پاکستان بنتا تو ہمارے تعلیمی اداروں سمیت ترقی یافتہ دور میں بھی یہاں تصویر پر پابندی ہوتی اور ترقی کی ساری راہیں رُک جاتیں، ریاست نے اللہ کی توفیق سے بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کرنسی پر لگادی۔ کرنسی کے آگے ملاصاحبان کا اسلام زیرو بن جاتا ہے۔ غریب بچوں کیلئے مفت کی دوائی پر تصویر کا خاکہ بھی ہو تو طالبان پابندی لگادیتے تھے مگر کرنسی میں جناح کی تصویر کیا ڈالر پر بھی تصویر قابل قبول تھی اور یہ کوئی طعنہ نہیں بلکہ اصل حقائق کی طرف علماء و طلبہ اور مذہبی طبقات کی توجہ مبذول کرانا مقصدہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’ اسلام اور اقتدار دو جڑواں بھائی ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر درست نہیں ہوسکتے، اسلام بنیاد ہے اور اقتدار اس کی عمارت، اسلام اصول کا درجہ رکھتا ہے اور اقتدار محافظ و نگران کا ‘‘۔ جب نبیﷺ کو مکہ میں اقتدار حاصل نہ تھا تو اللہ نے ریاست کے قیام کیلئے سچائی کیساتھ داخل ہونے کا (مدینہ میں) اورسچائی کیساتھ (مکہ سے) نکلنے اور اقتدار کو اپنا مددگار بنانے کا حکم دیا۔ مدینہ کی ریاست سے اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا، پاکستان دنیا میں واحد ریاست ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے وجود میں آئی ہے۔مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے حدیث لکھی ہے ’’ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں مَیں ہوں، درمیان میں مہدی اور آخر میں عیسیٰ مگر درمیانہ زمانہ میں کج رو جماعت ہوگی، میں اسکے راستے پر نہیں وہ میرے راستے پر نہیں‘‘ اور حدیث کا جزء بھی لکھاہے ’’ پھر میرے اہلبیت میں سے ایک نیک شخص نکلے گا جو اس امت کا آخری امیر ہوگا‘‘ یہی جزء ڈاکٹرطاہرالقادری نے بھی نقل کیا، حالانکہ پوری حدیث یہ ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ مہدی کے بعد قحطانی امیر ہوگا، جس کے دونوں کان سوراخدار ہوں گے، وہ چالیس سال تک رہیگا، پھر امت کے آخری امیر کا ذکرہے، مفتی رفیع عثمانی نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ ’’ دجال سے زیادہ خطرناک حکمران اور رہنما ہونگے‘‘۔ علاماتِ قیامت اور نزول مسیحؑ ۔ ’’عصرِ حاضر حدیثِ نبویﷺ کے آئینہ میں: مولانا یوسف لدھیانوی‘‘ کو دیکھ لیجئے، جس میں حکمرانوں، رہنماؤں اور علماء ومفتیان کے حالات کا تذکرہ ہے۔
علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں مہدی، امام، شاخ ہاشمی کے برگ وبار، فطرت کے مقاصد کا ترجمان مردِ کوہستانی، شکوہ ترکمانی،ذہن ہندی،نطق اعرابی اور طلوعِ اسلام کے خدوخال بیان کئے ہیں۔ جنرل راحیل کو اگر پاکستان ، امت مسلمہ اور عالمِ انسانیت میں اچھے کردار ادا کرنے کی نعمت کا موقع مل رہا ہے تو سودی قرضہ پر نوازشریف کی دہشت گردی کا نوٹس لیں، مدارس کے کفریہ اور گمرانہ نصاب کو میڈیا پر پیش کریں اور علماء ومفتیان کو صفائی اور دفاع کا موقع دیں۔ مفتی رفیع عثمانی نے مجیب الرحمن شامی کے پروگرام میں بتایا :’’ باہر کا فنڈدوفیصد بلکہ ایک فیصد بلکہ آدھا فیصد ہے‘‘۔ فنڈز کے اعداد وشمار بتانے کی بجائے کہا کہ ’’جب بھی طلبہ اور اساتذہ کی تنخواہ اور سہولت میں اضافہ کیا، اللہ نے مجھے اور نوازا، اور زیادہ دیا‘‘۔ کیا مدرسہ کسی کے باپ کی فیکٹری ہے کہ جو چندہ بڑھ جائے، اس کو اپنی ذات کو نوازنے سے تعبیر کیا جائے؟۔ حکمرانوں نے حکومتوں کو اور علماء نے مدارس کو ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے ، ان کے احتساب سے پاکستان کی عوام اور غریب غرباء کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔