قرون اولیٰ کے ادوار کی زبردست تاریخ

906
0

سورۂ واقعہ، سورۂ جمعہ، سورۂ محمداور دیگر سورتوں میں صحابہ کرامؓ اور آخری جماعت کا ذکر ہے۔

السٰبقون السٰبقون اولئک المقربون.. ثلۃ من الاوّلین و قلیل من الآخرین

سبقت لے جانے والے…مقرب ہیں…پہلوں میں سے بڑی جماعت ، آخر میں تھوڑے

سبقت لے جانے میں اولین مہاجر و انصار میں سے اور جو ان کی اتباع احسان کیساتھ کریں

نبی کریم ﷺ نے تعلیم وتربیت اور تزکیہ و حکمت سکھاتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی جو جماعت تیار کی، اس کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے، دنیا کی تاریخی شہادت بھی رد کرنا ممکن نہیں ہے، سورۂ جمعہ میں ان لوگوں کا بھی ذکر ہے کہ جو آخر میں ہیں اور پہلے والوں سے مل جائیں گے۔ احادیث میں وضاحت ہے کہ اس سے فارس کے لوگ مراد ہیں، بعض نے امام ابوحنیفہؒ اورآپ کی جماعت کوقرار دیا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے پارہ عم کی تفسیر میں سورۃ القدر کے ذیل میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ’’سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹئیراورافغانستان کے خطہ میں جس قدر قومیں ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ یہیں سے ہوگی، اگر ہندو پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلہ میں لائیں تو اس سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے، یہاں حنفی مسلک رائج ہے، اہل تشیع بھی اس کو قبول کریں گے‘‘۔ مولانا سندھیؒ قرآنی انقلاب کے داعی تھے، انہوں نے وضاحت کی ہے کہ قرآن کا اصل معجزہ اللہ کی آیات کا وہ مفہوم ہے جس کا کسی بھی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو اس کے ذریعہ سے کوئی بھی پستی اور زوال کی شکار قوم عروج وترقی کی منزل پائے، عربوں کو اسی معجزے نے عروج وکمال تک پہنچایا تھا، اسکے اولین مخاطب بھی عرب ہی تھے لیکن قرآن کا ایک خطاب عالمگیر انقلاب اور پوری انسانیت کیلئے بھی ہے، جب اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا تو عربوں کی اچھائیوں کو برقرار رکھا گیا اور ان کے اندر موجود برائیوں کا خاتمہ کیا گیا، پھر نشاۃ ثانیہ ہوگی تو قرآن کا خطاب پوری انسانیت سے ہوگا، پھر دنیا بھر کے انسانوں کی اچھائی برقرار اور برائی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ مولانا سندھیؒ نے حنفی مسلک کو قرآن کی بنیادپر قانون سازی کی وجہ سے ترجیح دی ہے۔
جب تک صحابہ کرامؓ سے حسنِ عقیدت نہ رکھی جائے تو قرآن کی بنیاد پر انقلاب کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔ جب ہم خو د ہی اس بات کی نفی کریں گے کہ صحابہؓ کی بڑی جما عت ثلۃ من اولینکی کوئی حیثیت نہ تھی تو قلیل من الاٰخرین کی جماعت کیسے بن سکیں گے؟۔ جب ہم السابقون اولون من المہاجرین و الانصار ہی کو نہیں مانیں گے تو والذین اتبعوھم باحسان کے مصداق بننے کی کوشش کیسے کریں گے؟۔جب تک عربوں نے اسلام کی خدمت کی ، نبوت، خلافت، امارت کے ادوار میں دنیا پر چھائے رہے، ترک کی خلافت عثمانیہ کے بادشاہ غیر عرب تھے، وہ اگر اسلام قبول نہ کرتے تو ان کی حکومت چل بھی نہیں سکتی تھی۔ پھر ترکی خلافت کے خلاف بغاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ، اور امت مسلمہ برطانوی سامراج کے زیرنگیں ٹکڑیوں میں بٹ گئی۔ اقوام متحدہ میں قطرہ قطرہ دریا بنا مگر ہم سمندر ہوکر بھی چلو چلو بن گئے ہیں۔
سورۂ محمد میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ عربوں کے موجودہ افرادکو مخاطب کرکے کہا گیاہے کہ اگر تم نے اسلام کا کام نہ کیا تو کوئی اور قوم اُٹھے گی جو ثم لایکون امثالکم ’’پھر تم جیسی نہ ہوگی‘‘۔اس کا مطلب یہی ہے کہ نشاۃ ثانیہ کے وقت دوسری قوم کی کنڈیشن عربوں سے بہتر ہوگی۔ ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی اگر اپنے ساتھیوں کو صحابہؓ سے بہتر بلکہ صحابہ کرامؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بناتے اور امامیہ کے فقہی مسلک کی بجائے قرآن کو بنیاد قرار دیتے تو آج امت مسلمہ کی حالت بہتر ہوتی۔ اہل تشیع ہونے کے ناطے ایرانی انقلاب کے بانیوں کو صحابہ کرامؓ اور قرآن سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، افغانستان کے طالبان سنی ہونے کے ناطے صحابہؓ سے عقیدت رکھتے تھے مگر محض عقیدت بھی کافی نہ تھی، قرآن کو سمجھ کر اسکے مطابق قوانین بنائے جاتے تو دنیا کیلئے افغانستان کے طالبان کا انقلاب بھی بڑی تبدیلی کا باعث بنتا۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے ادوار میں بتدریج کمال سے زوال کا سفر شروع ہوا، پہلی، دوسری، تیسری صدی ہجری میں شخصی تقلید کا کوئی نام ونشان نہ تھا،محدثینؒ اور فقہاء میں بھی فرضی مسائل گھڑنے پر اختلاف تھا، پھر چوتھی صدی ہجری میں شخصی تقلید کا تصور وجود میں آیا، ساتویں صدی ہجری علم وعرفاں کے زوال کا سال تھا، ہمارے درسِ نظامی میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں وہ زوال کے دور کی یادگار ہیں،اس نصاب سے فارغ التحصیل ہونے والا طبقہ بہت کوڑھ دماغ ہوتاہے، مفتی محمد شفیعؒ نے مدارس کو بانجھ قرار دیا تھا،مولاناسندھیؒ ،مولاناآزادؒ ،علامہ انورشاہ کشمیریؒ اوراستاذالاساتذہ شیخ الہندؒ کی آخرمیں یہی رائے تھی۔