قوم ،ملک، سلطنت پائندہ باد، تابندہ باد

320
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قوم مضبوط نہ ہو تو ملک اور سلطنت کی مضبوطی کا تصور نہیں ہوسکتا۔ مسلمان کمزور تھے تو اللہ تعالیٰ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ انصار اور مہاجرین نے استحکام حاصل کیا تو دنیا کی سپر طاقتیں ایران و روم ڈھیر ہوگئے۔ خلافتِ راشدہ، بنو امیہ، بنو عباس، عثمانی سلطنت کا وجود1924ء تک رہاہے۔ جس کو ختم ہوئے ابھی سوسال بھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔
برصغیرپاک وہند میں ہندوستانی قوم کمزور تھی تو انگریز نے قبضہ کرلیا۔ ہندو مسلمانوں کے شانہ بشانہ تھے مگراماں بولی بیٹا جان خلافت پر دینا کے باوجود بحالی تحریک کامیاب نہ ہوسکی۔ اگر نبیۖ کی بعثت سے پہلے مشرکینِ مکہ میں حلف الفضول کی تحریک کامیاب ہوتی تو حجاز و عرب کے لوگ اسلام کے بغیر بھی دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دے سکتے تھے۔ ہندوستان کی مسلم قومیت نے پاکستان بنایا لیکن مشرقی پاکستان الگ ہوگیا۔ اب مزارعت، سودی نظام اور باطل منافقانہ سیاسی نظام کی موجودگی میں قوم، ملک اور سلطنت کے پائندہ تابندہ باد کا خواب کبھی پورانہیں ہوسکتا ہے۔ جب مدینہ کے لوگ اوس اور خزرج رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بجائے رسول اللہۖ کے گرد جمع ہوگئے تو انصار و مہاجرین کی بہت کم تعداد نے منافقین اور یہود سمیت پوری دنیا کی باطل قوتوں کوشکست دیدی۔ حکمران کے کرتوت ریاست مدینہ کے یہود سے بھی بڑھ کر ہوں اور علماء ومفتیاں نے یہود کے علماء کو بھی اپنے کردار اور فتوؤں سے مات دیدی ہو تو پھر ریاستِ مدینہ ، اسلامی انقلاب اور تبدیلی کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔
مزارعین کو مفت زمینیں اور تاجروں کو سود کے بغیر نظام دیا جائے تو محنت کش عوام کی خوشحالی سے ملک اور سلطنت کی خوشحالی کا تصور سب کو سامنے نظر آجائیگا، ورنہ ہم DO MORE کے چکر میں اغیار کی چاکری کرتے کرتے قوم اور سلطنت سب کچھ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔