مدارس اب گمراہی کے قلعے بن چکے ہیں اور ان کی اصلاح اب ضروری ہوچکی ہے۔

رعایا اور حکمران کے درمیان اعتماد، تعلقات ، حقوق وفرائض اور الفت ومحبت کی درست حقیقت سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے حوالے سے قرآن وسنت اور معاشرے میں اسلام کے مسخ شدہ تصورات کے علمی حقائق کو سمجھیں

مدارس قرآن وسنت کو سمجھنے کیلئے رشد وہدایت کی پہلی اور آخری منزل ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب گمراہی کے قلعے بن چکے ہیںاور ان کی اصلاح اب ضروری ہوچکی ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور مغرب مدارس کے دشمن ہیں لیکن وہ دشمنی سے اتنا نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں جتنا مدارس کے اپنے ارباب اختیاراور اہتما م وفتویٰ اپنی غلطیوں سے پہنچا رہے ہیں!

بریلوی دیوبندی مدارس میں درسِ نظامی کی تعلیم کا نصاب ایک ہی ہے۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کے آخری پارہ عم کی اپنی تفسیر ”المقام المحمود” میں سورة القدر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تب بھی ہم اس خطے سے دست بردار نہیں ہونگے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ اب عجم سے ہوگی اور اس کا مرکزی علاقہ یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے مسلک کے سواء یہاں کے لوگ کوئی دوسرا مسلک قبول نہیں کرینگے۔ امام ابوحنیفہ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے اسلئے شیعہ اور ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلیںگے”۔

پاکستان کی آزادی سے پہلے مولانا سندھی وفات پاگئے ۔مولانانے لکھاہے کہ ”قرآن کا معجزہ عربی الفاظ نہیں بلکہ وہ مفہوم ہے جس کی وجہ سے مردہ قوموں میں زندگی پیدا ہوتی ہے”۔ امام ابوحنیفہ نے عربی پر عبور رکھنے کے باوجود نماز کو فارسی زبان میں پڑھنے کی اجازت دی۔ حنفی مکتب نے درسِ نظامی میں اس کی یہ توجیہ پیش کردی ہے کہ ” امام ابوحنیفہ بڑے اللہ والے تھے۔ قرآن کی عربی تلاوت میں حسنِ قرأت کی سجاوٹ بندے اور اللہ کے درمیان پردہ حائل کرتی ہے اسلئے فارسی میں نماز کو جائز قرار دیا۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہۖ نے بعض فارسی الفاظ پر تلفظ فرمایاتھا اسلئے فارسی میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا تھا” ۔ (نورالانوار : ملاجیون ۔ نصاب درس نظامی )

مجلس احرار کے چوہدری افضل الحق نے پولیس کی نوکری چھوڑ کر حکومت مخالف تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ چوہدری افضل الحق نے اپنی کتاب ” دین اسلام ” میں مذہب ، قومی، مادری، علاقی اور سرکاری اعتبار سے زبان کے مسئلے پر علماء کے نصاب سے زیادہ بہتر باتیں لکھی ہیںکہ” ہماری مادری زبان کچھ ہے، رابطے کی زبان کچھ ہے، مذہبی زبان کچھ ہے اور سرکاری زبان کچھ ہے جس کی وجہ سے یہ قوم ترقی نہیں کرسکتی ہے”۔

بنگلہ دیش نے اردو کے بجائے بنگالی زبان کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے پر زور دیا لیکن قائداعظم نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا تھا،البتہ بنگال کیلئے قومی زبان بنگالی قرار دینے کی اجازت دی تھی۔ تحریکِ پاکستان کا آغاز بنگال سے ہوا۔ سندھ اسمبلی سے بھی پاکستان بنانے کی قراراداد پاس ہوئی تھی اور سندھ میں سرکاری زبان بھی سندھی ہے۔ پنجابی، پشتو اوربلو چی پہلے سے عام ہوتی تو سندھ کی طرح پنجاب، پختونخواہ ، بلوچستان کی علاقائی زبان بھی سرکاری ہوتی، سندھ کے شہری علاقوں میں مہاجرین کی وجہ سے اردو بالکل عام ہوگئی اور اب میڈیا چینلوں کی وجہ سے پاکستان میں اردو عام ہوئی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کو خود بھی اُردو نہیں آتی تھی۔ مادری زبان کی اپنی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ” اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان سے ، تاکہ پیغام انکے سامنے واضح کردے”۔ یہ ہماری تاریخ کا المیہ ہے کہ ایک طرف حنفی درسِ نظامی میں پڑھارہے تھے کہ عربی پر قدرت کے باجود نماز فارسی میں پڑھنا جائز بلکہ بہتربھی ہے اور دوسری طرف جب حضرت شاہ ولی اللہ نے فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا تو ان کو علماء نے واجب القتل قرار دیا جس کی وجہ سے دوسال تک روپوش رہنا پڑا تھا۔ پھر ان کے بیٹوں نے اردو کا لفظی اور بامحاورہ ترجمہ کیا ۔ دوسری زبانوں میں بھی قرآن کے ترجمے ہوگئے اور جب پنجابی اور پٹھانوں کے ملے جلے علاقہ سے ایک عالم دین نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کیا تو اُن پر کفرکا فتوی لگا دیا گیا۔ سندھی میں تو شاہ ولی اللہ سے بھی بہت پہلے قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا اور سندھ میں جمعہ کا خطبہ بھی عربی میں نہیں سندھی میں پڑھا جاتا ہے۔

عورت زبان دراز ہوتی ہے مرد ہاتھ چھوڑ ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں زبان دراز اور پاک فوج ہاتھ چھوڑ ہے۔ پنجاب کی عوام زبان کی تیز اور پٹھان کا ہاتھ اُٹھ جاتا ہے۔ پختونخواہ سے زیادہ فرقہ وارانہ اور جہادی تنظیمیں پنجاب میں تھیں لیکن پختونوں نے ایکدوسرے کا کباڑہ کرلیا۔ مریم نواز نے عمران خان اور پاک فوج کو زبان درازی سے آڑے ہاتھوں بہت لیا لیکن محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن عمل سے انقلابی بن رہے ہیں۔

اگر نکاح وطلاق پر حقوق وفرائض کی آیات سے عوام کو آگاہ کیا گیا توپھر گھریلو تشدد، نا انصافی اور ناچاقی کا خاتمہ ہوگا اور طلاق سے رجوع کا رحجان معاشرے میں پروان چڑھے گا۔حکمرانوں اور باغی قوتوں کے درمیان بھی سمجھوتہ ہوسکے گا۔ جب دل ٹوٹتا ہے تو آنسو پھوٹتا ہے اور تعلق چھوٹتا ہے پھر شوہر بیوی کو ، حکمران رعایا کو کوٹتاہے، نصیب روٹھتا ہے اور طاقتور لوٹتا ہے ،اپنے معاشرے میں گھریلو حالات سے ریاستی معاملات تک بگاڑ آچکا ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ کسی طرح اصلاحِ احوال کی طرف قوم متوجہ ہوجائے اور پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔

علماء ومفتیان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیںکہ سب کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہو؟۔ ریاستی اور سیاسی نادانوں کو بھی شاید یہی گلہ ہو لیکن ہم نے کس کو چھوڑا ہے؟۔ تنقید کرنے میں اپنی ذات، خاندان ، شہر، علاقہ ، صوبے اور ملک سے لیکر پوری دنیا تک بہت فراخ دِلی سے کام لیا ہے۔ ہمیں کسی اور سے نفرت اسلئے نہیں ہوسکتی ہے کہ خود بہت ہی کمزور اور بیکار انسان ہیں۔

علماء کرام و مفتیانِ عظام میں سب سے زیادہ خوبیاں ہیں۔ دل وجان سے علمائِ حق کے پیروں کی خاک کو اپنی آنکھوں کی پلکوں پر اٹھانے کو بہت بڑی سعادت اپنے لئے سمجھتے ہیں۔ قرآن کا تلفظ ، قرآن کا ترجمہ اور اسلام کی تعلیمات ان کی قربانیوں کی بدولت دنیا میں زندہ اور تابندہ ہیں۔ غلطیاں کس طبقے میں نہیں ہیں؟۔ جب علماء ومفتیان کا وجود نہیں تھا تب بھی حضرت عثمان اور حضرت علی اپنے وقت کے مسلمانوں کے ہاتھوں سے شہید ہوگئے تھے؟۔ جب حکمرانوں نے باجماعت نماز کی قرأت میں بسم اللہ پر پابندی لگادی تھی تو مالکی فقہاء نے ہمت ہارکر کہا کہ فرض نماز میں بسم اللہ کوپڑھنا جائز نہیں کیونکہ بسم اللہ قرآن کا حصہ نہیںہے۔ شافعی فقہاء نے کہا کہ بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا بھی حصہ ہے اسلئے جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھنا فرض ہے۔ حنفی فقہاء نے کہاکہ درست بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے لیکن اس کے انکار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ اس میں شبہ ہے اور شبہ اتنا قوی ہے کہ اس سے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بنتا ہے۔ حالانکہ عام آیت کے انکار سے آدمی کافر بن جاتا ہے۔ نورالانوار اور توضیح تلویح میںیہ بریلوی دیوبندی علماء کے درسِ نظامی کے نصابِ تعلیم کا حصہ ہے۔

پہلے تو علماء کے ظرف کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ بسم اللہ قرآن میں ہے ۔ اجتہادی مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ایکدوسرے کو برداشت کررہے ہیں بلکہ ایکدوسرے کا دل سے احترام کرتے بھی ہیں اور نصاب میں اس کو جگہ بھی دیتے ہیں ۔ دوسرا یہ ہے کہ اس جہالت کا تدارک کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر امریکہ واسرائیل نے لوگوں کو بتانا شروع کردیا کہ علماء کے نصاب میں یہ خرابی ہے تو کسی کو منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہیںگے، مشکل وقت سے پہلے سدھرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ نے قرآن میں فرمایا: ”ہم نے قرآن اور سات بار بار دوہرائی جانے والی عطاء کی ہیں”۔ سات دوہرائی جانے والی سے مراد قرآن کا مقدمہ سورۂ فاتحہ ہے۔ بسم اللہ کیساتھ سات آیات بنتی ہیں۔ آیات کیلئے گول دائرہ نشانی ہے۔ قرآن کے بعض نسخوں میں سورۂ فاتحہ پر آیات کے نمبر نہیں ہیں۔ بعض میں بسم اللہ کو پہلی آیت اور بعض میں الحمد للہ کو پہلی آیت لکھا ہے لیکن پھر اس میں آخری آیت میں دو آیات کے نمبر(6)اور( 7)لگائے گئے ہیں۔

یہ قرآن کی حفاظت کیلئے بہت بڑی دلیل ہے کہ کسی نے آیت کے گول دائرے کا اضافہ کرنے کی بھی جرأت نہیں کی۔جس طرح ایک سو چودہ (114) سورتوں میں ایک سورت کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں تو کسی نے لکھنے کی جرأت نہیں کی ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ تفاسیر میں لکھا ہے کہ آخری دو سورتوں کو حضرت عبداللہ بن مسعود نے اپنے مصحف میں نہیں لکھا تھا اسلئے کہ ان کے قرآن ہونے کے قائل نہیں تھے۔ حالانکہ قرآن کی سورة کا منکر مسلمان نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بات غلط ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے انکے قرآنیت سے انکار کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بہت لوگوں نے قرآن پڑھنا سیکھ لیا تھا جس کی وجہ سے پہلا اور آخری صفحہ پھٹ گیا ۔ ابن مسعود کے مصحف کی زیارت کرنے والے راوی نے یہ بات کہی کہ اس میں سورۂ فاتحہ اور آخری دو سورتین نہیں تھیں اور اس بات کا بتنگڑ بناکر کہانیاں گھڑی گئیں۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور علامہ شبیراحمد عثمانی کی تفسیر عثمانی ،مولانا سید مودودی کی تفہیم القرآن اور علامہ غلام رسول سعیدی کی تبیان القرآن میں شیطان کا یہ حملہ کامیاب ہوا ہے کہ قرآن کی آخری سورتوں پر زبردست وار کیا گیا ہے۔ اللہ نے شیطان سے قرآن کے آگے پیچھے سے حفاظت کا ذمہ لیا۔ بریلوی، دیوبندی اور جماعت اسلامی والے اکٹھے ہوکر شیطان کی سازش کو ناکام بنائیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ ”پہلے قرآن پر اجماع نہیں ہوا تھا اسلئے عبداللہ ابن مسعود پر آخری سورتوں سے انکار کے باوجود بھی کفر کا فتویٰ نہیں لگتا ہے لیکن اب اجماع ہوچکا ہے ،اگر اب کوئی انکار کریگا تو اس پر کفر کا فتویٰ لگے گا”۔ (تبیان القرآن جلد12) جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اجماع قرآن سے کوئی زیادہ معتبر چیز ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ

بھیڑ چال میں مبتلاء علماء ومفتیان و مذہبی دانشوروں کو چاہیے کہ قرآن کے شروع اور آخر سے گمراہی اور ضلالت کی باتیں نکال دیں اور زور دار انداز میں حقائق عوام کے سامنے لائیں تاکہ آنے والے وقت میں مشکلات سے بچ سکیں۔ جب ضمیر پر غبار پڑا ہو تو عمل کی دنیا سے انسان دور ہوجاتا ہے۔

انجینئرمحمد علی مرزا نے نہ صرف محنت کرکے عربی کے تلفظ کو پڑھنا سیکھا ہے بلکہ مختلف موضوعات پر تعصبات کے بغیر ایک خلاصہ بھی نکالا ہے۔ اُنیس (19)گریڈ کے افسر ہیں اور مسائل عوام کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تھوڑی بہت غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیںگے کہ قرآن میں اضافہ کردیا تو رجم کا حکم قرآن میں لکھ دیتا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ”رجم کی آیت اور رضاعت کبیر کی آیات نبیۖ کے وصال تک پڑھی جاتی تھیں۔ بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں۔ یہ امام ابوحنیفہ جیسے لوگوں کا کمال تھا کہ اس طرح کے متضاد اعتقادات کا رستہ روک دیا تھا۔ مسلم علمی کتابوں کو وہابی اور بابی کا پتہ ہے لیکن روایات میں جو گل کھلائے گئے ہیں ان حقائق تک مرزا صاحب نہیں پہنچے ۔

علماء کرام کو میدان میں نکلنا ہوگا اور افہام وتفہیم کے ذریعے سے اچھا ماحول بنانا ہوگا۔ ہم مرزا صاحب کی بھی خدمت میں پہنچے لیکن وہ خود کو زیادہ اونچی چیز سمجھے ہیں۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

Leave a Reply

Back to top button