بقول اقبال مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے

128
0

اداریہ، پہلا کالم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علامہ اقبال نے طلوع اسلام کی خبر دی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی لعنت اللہ علیہ کو علامہ اقبال نے مجذوب فرنگی قرار دیتے ہوئے کہاکہ جانِ فرنگ پنجۂ یہود میں ہے اور اس بات کو دنیا اچھی طرح سے سمجھ رہی ہے کہ جس طرح یہود کیساتھ عیسائیوں کی نہیں بنتی ،اسی طرح سے مسلمانوں کی مرزائیوں کیساتھ نہیں بنتی۔ البتہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی جان فوج میں ہے ،عالم اسلام کی جان پاکستان میں ہے ، پاک فوج کی جان پنجاب میں ہے اور پنجاب کی جان مرزائیت میں ہے۔
پرویزمشرف کے دور میں ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی و چوہدری شجاعت سیاست کے محور تھے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن اپوزیشن لیڈر تھے جس کو ن لیگ اور عمران خان نے بھی سپورٹ کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کے دل کے وال چوہدری برادران نے امریکن پاکستانی نژاد قادیانی ڈاکٹر مبشر سے تبدیل کروائے۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھ کر اپنی غیرت ایمانی پر مٹی ڈال کر قادیانی ڈاکٹر سے علاج کرنے میں عافیت سمجھی ہو کیونکہ مولوی سمجھتاہے کہ ”جان ہے تو ایمان ہے” اور اس کی ساری زندگی ایمان بنانے پر نہیں جان بنانے پر ہی لگتی ہے۔ ہر ملک ، ہر فرقے ، ہر مسلک اور ہر ماحول میں مولوی زندگی کی معمولی آسائش کے بدلے ایمان کی قربانی دیتا رہتا ہے۔ جس سود کو قرآن نے اللہ و رسول کے ساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا ہے ، علماء کے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان اس پر معاوضہ لیکر اسلام بیچ رہے ہیں۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اکبر بادشاہ کے سامنے تعظیمی سجدہ سے انکار کرکے خود کو تاریخ میں امر کردیا تھا۔ دوسرے مولوی اس بحث میں پڑگئے تھے کہ سجدہ تعظیمی کفر ہے یا حرام ہے۔جو کفر قرار دے رہے تھے تو ان پر حرام والوں کا علمی وزن بھاری تھا اسلئے کہ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں اور حضرت یوسف علیہ السلام ، بھائیوں اور والدین کے سجدوں کا ذکرہے۔
مشکل یہ ہے کہ بریلوی دیوبندی مکاتبِ فکر کے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن وشیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی سود کو جواز فراہم کررہے ہیں جن کو منصب سے علماء اتارتے بھی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے باپ مفتی محمود کہتے تھے کہ امریکی کیپٹل ازم کے مقابلے میں کمیونزم اسلام کے زیادہ قریب ہے اور مولانا مودودی کہتے تھے کہ کمیونزم کے مقابلے میں کیپٹل ازم اسلام کے زیادہ قریب ہے۔ مفتی محمود اور اس کی جماعت پر اسی وجہ سے علماء دیوبند نے کفر وگمراہی کے فتوے لگائے تھے۔ اس فتوے کا سرغنہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی و شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع تھا جس کی روحِ رواں جماعت اسلامی تھی۔ پھر مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی نے سودی زکوٰة پر ہاتھ مارالیکن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود اور اسکے بیٹے مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کی۔ اب تو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدرفیع عثمانی وشیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے سودی نظام کو جواز عطاء کرکے جب عالمی کفر کے نظام میں چاروں شانے چت ہوگئے تو مولانا فضل الرحمن نے اس کو اپنا براق سمجھ کر سوار ہوگئے اورترقی وعروج کے اس سفر میں معراج پرپہنچ گئے ہیں۔
علماء ومفتیان کا کام دینِ حق کی پاسداری تھی لیکن کبھی پاسبان ملتے تھے بت خانے سے اور اب عالمی سودی اور یہودی نظام کو پاکستان سے سواری اورشہسوار مل گئے ہیں۔ جب اسلام نازل ہوا تھا تو کافر سے نفرت نہیں تھی بلکہ کفر سے نفرت تھی۔ یہود سے نفرت نہیں تھی بلکہ یہود کے مسخ شدہ مذہب اور سودی نظام سے نفرت تھی۔ آج ہمیں یہود کے مسخ شدہ مذہب اور سودی نظام سے نفرت نہیں بلکہ یہودیوں سے نفرت ہے، مرزائیوں کے نظام سے نہیں بلکہ مرزائیوں کی ذات سے نفرت ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور PDMکے چیئرمین مولانا فضل الرحمن دونوں مفتی محمد تقی عثمانی کے آستانے سے عقیدت ومحبت رکھتے ہیں جو زیب وزینت کیلئے خواتین کیلئے تھوڑے سے بال کاٹنے کو بھی جائز نہیں سمجھتا لیکن اپنے بدنمادانت نمائش کیلئے نکال باہر کئے ہیں۔ حالانکہ حج وعمرے میں خواتین تھوڑے سے بال کاٹتی ہیں، حضرت عائشہ نے نبیۖ کے وصال کے بعد اپنے بال اسلئے کاٹ دئیے تھے کہ نبیۖ کے بعد زینت کی ضرورت نہیں ۔ قرآن میں نابینا ،لنگڑے اور مریض کیلئے حرج نہیں کہ اس کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں کھانا کھلایا جائے، اسی طرح ماں، باپ، بھائی اور بہن کے علاوہ چاچا، ماما، پھوپھی، خالہ اور دوست کے گھر میں بھی کھانا کھانے کی اللہ نے اجازت دی ہے، چاہے الگ الگ کھائیں یا اکٹھے کھانا کھائیں۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ نبیۖ اور صحابہ کرام کی دعوت ولیمہ میں دلہے اور دلہن نے خدمت کی تھی۔ قرآن وحدیث میں شرعی پردے کا وہی تصور ہے جو پختون، پنجابی، سندھی اور بلوچ کلچر کے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں میں پہلے سے موجود تھا۔
نالائق علماء طبقے نے پہلے شاہ ولی اللہ پر کفر کے فتوے لگائے کہ قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیوں کیا ہے؟۔ واجب القتل کے فتوؤں نے دو سال تک روپوش ہونے پر مجبور کیا۔ حالانکہ سندھی زبان میں اس سے بہت پہلے قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ سندھی علماء مساجد میں جمعہ کے خطبات بھی عربی کے بجائے سندھی میں پڑھتے تھے اور یہ روایت سندھ میں اب بھی موجود ہے۔ پھر شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے اردو میں قرآن کا ترجمہ کیا تو فقہی مسالک میں الجھاؤ کی وجہ سے قرآن کی تفسیر بھی بالکل غلط لکھ ڈالی اسلئے کہ قرآن میں اجنبی اور نامحرم نابینا، لنگڑے اور مریض کو گھروں میں کھلانے کی اجازت کی وضاحت تھی مگراس کی تفسیر یہ لکھ دی کہ ” جمعہ کی نماز اور جہاد میں رخصت مراد ہے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تُک نہیں بنتا ہے۔ اسلام کا بالکل حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اقدام نہیں کیا تو مغرب سے نکلنے والا طوفان ہمیں مسلمان ہونے پر مجبور کردے گا۔ اسٹیج پر مسلم لیگ کی عابدہ اور تہمینہ کی مخالفت کرنے والی جمعیت علماء اسلام مریم نواز کی حمزہ شہباز سے جھپی اور پپی کو درست قرار دے دیگی اسلئے کہ خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں۔
جب مسلم لیگ کی حکومت کیساتھ مولانا فضل الرحمن شریک اقتدار تھے تو پھر مذہب کے خانے میں حکومتی سطح پر سازش کرنے والوں کے خلاف شیخ رشید نے آواز اٹھائی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرف سے ختم نبوت کیلئے قربانی کی یاد دلاکر اس سازش کے خلاف جمعیت علماء اسلام کو اٹھنے کی دعوت دی گئی۔ شیخ رشید کہتا ہے کہ ”علماء نے دو دفعہ مجھے مارنے کی کوشش کی ”۔ جب فیض آباد دھرنے کی وجہ سے کسی وزیر کو سازش کا مرتکب قرار دیکر فارغ کیا گیا تھا تو یہ پرانی بات نہیں ہے۔ حکومت ہی نے پاک فوج سے کہا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی سے مذاکرات کرکے دھرنا ختم کیا جائے۔ جب مذاکرات کی کامیابی کے بعد دھرنا ختم ہوگیا تو پاک فوج کے اہلکار نے ایک ایک ہزار کے لفافے کارکنوں میں واپسی کے کرایہ کیلئے دئیے۔ اب عدالتی سطح پر یہ تأثر دیا جارہاہے کہ یہ فوج کی سازش تھی ، دھرنے والوں کو پیسہ دیا گیا لیکن دوسری طرف حامدمیر کہتا ہے کہ موجودہ حکومت میں قادیانیوں کو بہت سپورٹ مل رہی ہے۔ ترکی اور ایران کے خلاف عرب ممالک اسرائیل کی سپورٹ لینے پر مجبور ہیں اور اسرائیل کی فوج میں پاک فوج کے لوگ بھرتی ہیں۔ اسرائیل کی پشت پر امریکہ ہے اور امریکہ کی گود میں ہماری فوج اور سیاستدان کھل کر کھیلتے ہیں۔ اب اس طوفان مغرب سے کیا ہم مسلمان بننے کیلئے تیار ہیں یا نہیں ہیں؟۔

www.zarbehaq.com