مغرب کے اعتراض اور مثبت اقدام کی ضرورت ہے. تحریر: عتیق گیلانی

204
0

مغرب اس بات پر حیران ہے کہ مسلمان اتنا حساس کیوں ہے کہ انبیاء کرام کی تصاویر، خاکے اور کارٹون پر مرنے مارنے پر اُتر آتا ہے؟۔ مغرب کو اس پر حیرانی کا سامنا ہے کہ نبیۖ نے6 سالہ بچی سے منگنی ، 9سالہ بچی سے شادی کیسے کی؟۔ مغرب اس بات پر حیران ہے کہ قرآن جنگ میں قید ہونے والوں کو لونڈی اور غلام بنانے کی اجازت کیسے دیتا ہے؟۔جب یورپ وامریکہ کے مسلمانوں کو قرآنی آیت اور احادیث کا حوالہ دیا جاتا ہے تو ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوتا ہے۔ پھر مغرب ان تصورات کو کارٹونوں کے ذریعے سے اجاگر کرتے ہیں تو مسلمان بہت پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان باتوں کا کیا جواب دیا جائے۔ بعض مسلمان مشتعل ہوکر ردِ عمل دیتے ہیں تو مغرب اس کو چوری اور سینہ زوری سمجھنے لگتاہے۔ عرب میں اقامہ مشکل سے ملتا ہے مگر مغربی ممالک میں نیشنلٹی بھی آسانی سے مل جاتی ہے۔شامی پناہ گزینوں کو پناہ دیدی ۔ہمارے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کے باوجودان بنگالیوں اور برمیوں کو شہریت نہیں دی ہے جن کی کئی نسلیں یہاں پیدا ہوئی ہیں۔
ہم نے یہود ونصاریٰ کو درست جواب دینے کیلئے قرآن وسنت کی طرف ہی رجوع کرنا ہوگا۔ آج مسلمان جس طرح اپنے دین،ایمان اور علم سے نابلد ہیں آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہودونصاریٰ اسی طرح اپنے اصل دین سے نابلد تھے۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ ذہنیت رکھتے تھے کہ وہ ولد الزنا ہیں، نعوذباللہ۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور حضرت مریم کو خدا کی بیوی سمجھتے تھے، ایکدوسرے پرمظالم کی انتہاء کرتے تھے۔ کوئی شک نہیں کہ کارٹون بنانے سے بھی زیادہ یہ گستاخانہ عقائد تھے۔
اسلام نے کسی ایک کے خلاف بھی مہم جوئی کی دعوت نہیں دی۔ دلیل برہان سے بات کی۔ دونوں کو اہل کتاب قرار دیا۔ دونوں مذاہب کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی۔ ایک مسلمان کی ایک بیوی یہودن اور دوسری عیسائی ہو۔ ایک کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اولادالزنا اور دوسری کا عقیدہ خدا کے بیٹے ہونے کا ہو اور مسلمان بچے اپنی ان ماؤں کے قدموں میں جنت سمجھتے ہوں تو اس سے زیادہ تحمل وبردباری کا درس کیا ہوسکتا ہے؟۔ اسلام نے دنیا کو جس طرح کا تحمل سکھایا ہے اور اسلامی تعلیمات میں جو مساوات ہے اسی نے دنیا کو انسانیت سکھا د ی ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے مسلمانوں کو یہودونصاریٰ کے انبیاء کرام پر تو تحمل کا سبق سکھایا ہے لیکن اپنے نبیۖ کے بارے میں بہت حساسیت کا درس دیا ہے؟۔ اسلئے تو مسلمان اپنے نبیۖ کیلئے برداشت کا قطعی طور پر مادہ نہیں رکھتے۔
جواب یہ ہے کہ قرآن کی سورۂ نور میں بہتان عظیم کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ پر بہتان سے بڑھ کر نبیۖاور مسلمانوں کیلئے کوئی اذیت ہوسکتی ہے؟۔ کسی کا کارٹون بنایا جائے ،اس سے زیادہ اذیت ہوگی ؟،یا کسی کی محترمہ پر بہتان لگایا جائے تو اس سے زیادہ اذیت ہوگی؟۔ ظاہر ہے کہ کارٹون کے مقابلے میں جس پاکباز انسان کی پاکباز بیگم پر بہتان لگایا جائے اس سے بہت زیادہ اذیت ہوگی۔
رسول اللہۖ اور جلیل القدر صحابہ کرام چاہتے تو بہتان لگانے والوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بہتان عظیم پر بھی 80،80کوڑوں کی سزا کا حکم دیدیا۔ اوریہ سزا صرف اُم المؤمنین پربہتان لگانے کیساتھ خاص نہیں تھی بلکہ قیامت تک آنے والی ادنیٰ سے ادنیٰ عورت پر بہتان کی یہی سزا ہے۔ رسول اللہۖ نے اپنی زوجہ محترمہ پر بہتان کی سزا میں جذبات سے کام نہیں لیا اور نہ مسلمانوں کو انتقام پر اُبھارا تھا اور نہ نکاح ٹوٹنے کے فتوے جاری کئے۔ تو آج مسلمان قرآن وسنت کی تعلیمات پر نہیں چل رہے ہیں۔ یہود کے احبار ،نصاریٰ کے رہبان کے نقشِ قدم پر چلنے والے علماء ومشائخ کو رب بنالیا ہے، جن کے پاس تعصبات کے چولہوں کو ہواد ینے کے علاوہ دین، ایمان اور علم کی روشنی نہیں ہے۔ اپنوں کے خلاف بھی تعصبات کے ایندھن پر یہ زندگی بسر کرتے ہیں۔
سلیم صافی نے بتایا کہ ”پشاور دھماکہ جس مدرسے میں ہوا ، وہ طالبان کے حامی ہیں، طالبان نے کھل کر اس کی مذمت بھی کی ہے۔ داعش خاموش ہے، داعش نے کیا ہے”۔ مدرسہ مہتمم نے تکفیری گروپ داعش کا نام لیا اور جماعت اسلامی کے سراج الحق اور مشتاق بھی ساتھ تھے لیکن اسکے باوجودسینٹ میں سراج الحق اور مولانا عطاء الرحمن نے پاک فوج کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے، جو افسوسناک بات ہے۔
میں نے اپنی کتاب” عورت کے حقوق” میں حضرت عائشہ کی عمر اور لونڈی و غلام کے تصور کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔حضرت عائشہ کی عمر منگنی کے وقت16سال اور رخصتی کے وقت 19سال تھی۔ اگرجمعیت علماء اسلام ،جماعت اسلامی و دیگر مذہبی طبقے اپنی روایتی منافقانہ روش کو چھوڑ کر حقائق کی تبلیغ کریں توبات بن جائے گی۔
اسلام نے مزارعت کو سودی نظام قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے خاندان و افراد غلامی ولونڈی بننے کا شکار ہوتے تھے۔ احادیث صحیحہ اور فقہی اماموں کا مسلک چھوڑ کر علماء وفقہاء مزارعت کو جائز نہ قرار دیتے تو کمیونزم کا نظام دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ جب شریعت کے برعکس جاگیردارانہ نظام سے مسلمانوں نے دنیا میں غلام ولونڈی کے نظام کو دوام بخشا تو نام نہاد اسلامی خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ آج سودی نظام سے ریاستوں کو غلام بنایا جارہاہے تو پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے کے باجود اپنی آزادی کھو بیٹھا ۔ اس میں سیاستدانوں اور ریاستی اداروں کے علاوہ شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کہلانے والے دیوبندی بریلوی بھی شریک ہوگئے ہیں۔
سودی قرضے سیاستدان اور جرنیل مل بیٹھ کر کھا جاتے ہیں اور مہنگائی و ٹیکس کی صورت میں بھگتتے عوام ہیں۔ وسائل پر لڑنے والے مقتدر طبقات مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ فرانس کے حکمران دانستہ یا نادانستہ مسلمان عوام کے جذبات بھڑکا کر انسانیت کو ملیامیٹ کرنے کے چکر میں ہیں۔ کرکٹ کے کھلاڑی عمران خان نے سیاستدانوں کو کوڑا کرکٹ بنادیا مگر اب وہ خود بھی اسی نہج پر پہنچ گیا۔ افغانستان میں طالبان و القاعدہ کے بعد داعش و طالبان کا کھیل پاکستان میں کھیلنے کی تیاری ہے۔ سندھی، مہاجر،بلوچ، پشتون کے بعد فوج سے پنجاب کا یقین بھی متزلزل ہے۔ پاکستان کے ہر ادارے میں رشوت اور بھتہ عام ہے۔ افغانستان اور ایران کی اسمگلنگ میں اداروں کے افسران واہلکار ملوث ہیں۔ پنجاب میں بھتہ نہ دینے پر فوجی اہلکار کی طرف سے گولی مارنے کا واقعہ پیش آیا یا پہلی مرتبہ سوشل میڈیا کی مہم جوئی کا محور بنادیا گیا؟۔ اگر فوج کو پنجاب کی عوام کے جذبات کا اندازہ نہیں تو قائدآباد خوشاب میں بینک منیجر کا قتل تازہ واقعہ ہے۔ جس میں تحقیق کے بغیر لوگ تھانے پر چڑھ گئے۔’علامہ اقبال نے ” پنجابی مسلمان” کے عنوان سے لکھا ہے کہ
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندہ کوئی صیاد لگادے یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
پاکستان سیاسی و مذہبی ہلڑ بازی کا متحمل نہیں اور عوام آخری حد تک تنگ آمد بہ جنگ آمد تک پہنچ چکے ہیں۔ مذہب اور سیاست کی ہلکی سی چنگاری کا تماشہ دنیا دیکھ لے گی۔ نظریات اور عقائد سے رشتہ ٹوٹ چکاہے۔ جذبات کا خوفناک منظر ہے۔