مولانا فضل الرحمن نوازشریف کی چال سے ہوشیار کیوں نہیں ؟: عتیق گیلانی

192
0

نوازشریف نے شاہدخاقان عباسی کے ذریعے عمران خان کو اپنی مدت پوری کرنے کا سودا کرلیا ہے۔ نائی صحافی سید عمران شفقت نے بہت پہلے خبر بریک کی تھی اور اب راشد مراد مولانا فضل الرحمن کو مزید چونا لگانا چاہتا ہے۔

  پنجاب میں پرویز الٰہی سے زیادہ عثمان بزدار ن لیگ کے فائدے میں ہے۔ مریم نواز اور نوازشریف نے مزید فائدہ اُٹھانے کیلئے مولانا فضل الرحمن کیساتھ پی ڈی ایم (PDM)میں رہنے کا فیصلہ کیا

  تحریک انصاف اورپی ڈی ایم (PDM)میں ٹوٹ پھوٹ ایک بڑے انقلاب کا زبردست پیش خیمہ لگتا ہے۔ نوازشریف کے زرخرید صحافیوں کا ٹولہ پوری طاقت کیساتھ اپنا نمک حلال کررہاہے

 ہم نے پچھلے شمارے میں لکھ دیا تھا کہ ”سید عمران شفقت نے راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ڈیل کے تحت لندن گیا ہے۔ صرف ٹائم پاس کرنے کی حد تک سیاست رہے گی۔ عمران خان کو مدت پوری کرنے دی جائے گی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہلکے پھلکے بیانات دئیے جائیں گے”۔

اس مرتبہ ہم نے اپنے کاغذ اور چھپائی کے خرچے کو بچانے کیلئے سیاست پر نہیں لکھا ہے اسلئے سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق پہنچارہے ہیں۔ جب مریم نواز نے کہاہے کہ پنجاب حکومت کو ہم نہیں گرنے دیںگے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کے کردار سے ن لیگ کو زیادہ خطرہ ہے۔ دھرنوں کے ذریعے حکومت کے گرانے کا معاملہ ہو تو تحریک لبیک ، تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی میں زیادہ افراد جمع کرنے کی صلاحیت ہے۔ پیپلزپارٹی لانگ مارچ پر صرف احتجاج کی سیاست پر درست یقین رکھتی ہے اور دھرنے کی سیاست جماعت اسلامی، ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان نے امپائر کی انگلیوں پر اب تک کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کی سیاست کرنے والوں کو دھرنوں کی سیاست راست نہیں آ سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بڑی قوتوں کے پیچھے ہونے کا اشارہ دیکر عوام کومغالطہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ کھریاں کھریاں کے دروغ گو مرغے نے بعض فوجی افسران کے معطل کرنے ، جبری ریٹائرڈ منٹ اور نظر بندی کی آذانیں بھی دینا شروع کردی تھیں۔ راشد مراد آر ایم ٹی وی (RM.tv) نے جو ویڈیوز بنائی تھیں ،ان کا سارا ریکارڈ دیکھا جاسکتا ہے۔ فوج کو چاہیے کہ نوازشریف کو کھل کر بڑا پیغام دے کہ ان جھوٹے کتوں کو بھونکنے کیلئے ہم پر کیوں چھوڑا ہے؟۔ اسد درانی را کا ایجنٹ ہرگز نہیں ہے لیکن نوازشریف نے اسکے خلاف کیس سننے والے ارشد ملک کو جس طرح سے خریدا تھا تو کیا اسد درانی ایک مناسب قیمت کے تحت نہیں بول سکتا ہے؟۔ فوجی بیچارے تو بہت بھوکے ہوتے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کو بھی لندن میں جائیداد کس نے دی ہے؟۔ ارشد ملک کا کسی جج یا صحافی نے کیوں نوٹس نہیں لیا؟۔ جسٹس شوقت صدیقی بتائے کہ پارلیمنٹ میں نوازشریف نے اپنے اثاثہ جات کی لکھی ہوئی تفصیل کسی جرنیل کے خوف سے پیش کی تھی؟۔ انصار عباسی، نجم سیٹھی اور دیگر اسلام پسند اور کامریڈ صحافی بتائیں کہ قطری خط کا مسئلہ کیا تھا؟۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ان لوگوں کا ضمیر نہیں بولتا بلکہ مسئلہ کچھ اور ہے اور ان سب کی صلاحتیں مول لی گئیں ہیں۔ جب نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ زرداری کے خلاف تھے تو انصار عباسی کہتا تھا کہ اسلام میں صدر کو استثنیٰ نہیں مل سکتا ہے ،ہمارا آئین اسلامی ہے اور صدر زرداری کا استثنیٰ غلط ہے۔ لیکن جب فوج پر تنقید کی بات آتی تھی تو انصار عباسی کہتا تھا کہ آئین میں فوج پر تنقیدنہیں ہوسکتی ۔ ہم نے اس وقت بھی انصار عباسی کی طرف سے اس بے ایمانی کو اسلام کے نام پر کھلواڑ قرار دیا تھا۔

بعد میں پتہ چلا کہ انصار عباسی کے گھر تک شہباز شریف نے کروڑوں روپے کا روڈ بناکر دیا ہے۔ شہبازشریف کی طرف سے صدر زرداری پر جسٹس خواجہ شریف کے خلاف قتل کی سازش کا افتراء کرنے میں بھی انصار عباسی نے کردار ادا کیا تھا اور نذیر ناجی نے اپنے خلاف سازش میں انصار عباسی کو کتے کا بچہ قرار دیا تھا۔

اسلام کے نام پر دہشت گردی اور سود کو جائز قرار دینے والے مفتی صاحبان بھی کم دھبہ نہیں کہ انصار عباسی بھی اپنا بوجھ اسلام کے کھاتے ڈال دے۔ رؤوف کلاسرا وغیرہ اچھے صحافیوں کو پیشکش کیوں نہیں ہوتی ہے؟۔

مولانا طیب طاہری نے کہاہے کہ مولانا فضل الرحمن کو مشکل وقت میں ساتھیوں نے چھوڑا۔جب انگریز نے خدائی خدمتگاروں کی لسٹ بناکر پٹائی شروع کردی تو ایک شخص نے کہا کہ مجھے بھی مارو۔ پولیس نے کہا کہ تمہارا نام لسٹ میں نہیں ہے ۔ اس نے کہا کہ لسٹ میں نہیں مگر میں ان کا ساتھی ہوں۔ جب پولیس نے مارا تو اس نے کہا کہ پہلے تو نہیں تھا مگر اب ان کا ساتھی بن گیا ہوں۔ سیاست سے مجھے دلچسپی نہیں ہے لیکن اگر میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھی ہوتا تو ان کو تنہاء نہیں چھوڑ تا۔

مولانا طیب طاہری کا بھائی میجر عامر نوازشریف سے کچھ مراعات لیکر مولانا طیب طاہری سے یہ بیان دلوارہاہوگا۔ مولانا طیب طاہری نے طالبان کا ساتھی ہوکر بھی طالبان کیلئے مشکل وقت میں کونسی قربانی دی ہے؟۔ وہاں قربانی دیتا تو یہاں بھی امید اور توقع کرنے میں کوئی حرج نہیں تھی۔

مولانا فضل الرحمن ایک انسان ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو موقع دیتا ہے۔ پہلے تو نوازشریف اور شہباز شریف نے لاہور میں ملاقات تک گوارہ نہیں کی تھی۔ پھر فائدہ اُٹھاکر ملک سے باہر گئے ۔ نوازشریف کے زر خرید صحافی سارا ملبہ زرداری پر ڈالتے ہیں لیکن نوازشریف، مریم نواز ، شہبازشریف یہ سب ایک ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری بھی ان سے بدرجہا بہتر ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے ذریعے یہ سودا کرچکے تھے اور اب پرویزالٰہی کے خوف سے پنجاب میں بھی تبدیلی نہیں لانا چاہتے ہیں۔ فوج سے مراعات لینے کے چکر میں ایک مرتبہ پھر ن لیگ مولانا فضل الرحمن کو استعمال کررہی ہے۔ اگر ان سے کوئی پیسے وغیرہ نہیں لئے ہیں تو ان کو ازخود پھینک دیں۔

جمعیت علماء اسلام کی ساری تنظیم توڑ کر مولانا شیرانی کو مرکز یا بلوچستان میں ایک مرضی کی امارت دیدیں۔ امید ہے کہ وہ اس مرتبہ مرکز کی امارت آپ کیلئے چھوڑ دیں گے اور بلوچستان میں ان کو بلامقابلہ منتخب ہونا چاہیے۔ جنرل سیکرٹری کیلئے حافظ حسین احمد اور مرکزی وزیراطلاعات مولانا شجاع الملک اور پختونخواہ کا امیر مولانا گل نصیب کو بنادیں۔ جمعیت میں توڑ بالکل ہر قیمت پر ختم کردیں۔

پھر معاشرتی اور اقتصادی نظام کی تشکیل کیلئے جید علماء کرام کی کانفرنس کرنے کی مہم شروع کریں۔ جب انتخابات کا وقت قریب ہوگا تو جمعیت علماء پاکستان سمیت سارے دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونگے اور ملک میں جمہوری بنیادوں پر ایک انقلاب کا آغاز ہوجائے گا۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت میں وہی کچھ ملے گا جو عمران خان کو حکومت میں بھی دھکے کھانے پڑرہے ہیں۔ آئندہ انتخابات کی مہم چلانے میں سیاسی جماعتیں پیچھے پیچھے اور انقلابی اسلامی سیاست آگے آگے ہوگی۔ قوم پرست بھی پورا پورا ساتھ دیں گے اور اسٹیبلشمنٹ بھی پکار اُٹھے گی کہ یہ ملک بچانے نکلے ہیں، آؤ انکے ساتھ چلیں۔ ملک کی لوٹی ہوئی دولت لانے میں سارے کرپٹ مافیاز کے دل بھی خدا کے خوف سے پسیج جائیں گے اور ملک کی تعمیر وترقی میں پوری دنیا بھی زبردست ساتھ دیگی۔

 

NAWISHTA E DIWAR Feburary Breaking News 2021

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

#breaking_news #BreakingNews