مولانا فضل الرحمن نے پتہ نہیں ن لیگ میں کونسی لیلیٰ دیکھی ہے جس نے دل مجنون بنادیا ہے

سیاست کا رہنمادماغ اور عشق کا بادشاہ دل ہوتا ہے، مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ دماغ سے سیاست کی ہے لیکن اب پتہ نہیں ن لیگ میں کونسی لیلیٰ دیکھی ہے جس نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو دماغ سے نکال کر دل کا مجنون بنایا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلان

جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے بعد نوازشریف کے دل ودماغ پر کونسا جادو چڑھا کہ اچانک پی ڈی ایم (PDM) گوجرانوالہ کے جلسے میں بھونکنا شروع کیا، یہ آدمی ہے یا پاجا مہ؟ اب رُخ مڑ گیا!

صحافیوں کا مضبوط ٹولہ ن لیگ اور ش لیگ کی کمزوریوں پر مسلسل پردہ ڈال کر مجرمامہ کردار ادا کررہا ہے،شہباز شریف نے تازہ بیان میں نوازشریف اور مریم نوازکے منہ پر زوردارطمانچہ مارا

درست ہے کہ ” بہترین ڈکٹیٹر شپ سے بدترین جمہوریت بہتر ہے”۔ قبائلی علاقہ میںفوجی ڈکٹیٹر شپ کے مقابلے میں سیٹل علاقہ میں جمہوریت بہت بڑی غنیمت ہے۔سیاستدان کے بچوں کو بھی فوج میں بھرتی کرنا ہوگا،تاکہ وہ بھی دہشتگردی کے مقابلے میں پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کوئی قربانی دے سکیں۔ بیوروکریٹ اور صحافی کے بچوں کو بھی میدان میں لانا ہوگا تاکہ ڈنگ اورڈینگ مارنے والے منافقوں کے چہروں سے بالکل اچھی طرح نقاب اُترجائے۔
آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف کو وطن آکرپی ڈی ایم (PDM) کی تحریک میں عملی طور پر شریک ہونا چاہیے تو مریم نواز باجی نے کہا کہ میرے ابا نوازشریف نے سب سے زیادہ جیل کاٹی ہے، جس نے بات کرنی ہے مجھ سے کرے۔ حالانکہ آصف زرداری ، مولانا فضل الرحمن وغیرہ نے نوازشریف سے زیادہ جیل کاٹی ہے۔مریم باجی نے نانی بننے کے بعد سیاست میں قدم رکھا جبکہ نوازشریف نے ساری زندگی ڈکٹیٹر شپ کی خدمت میں گزاردی۔ اب تو اس کا حافظہ اتنا کمزور ہے کہ (90)کی دہائی کی سیاست ختم ہونے کی بات کرنے والے نواز شریف کو (2010) کی دہائی والی سیاست بھی یاد نہ رہی ، جب سعودیہ سے جلاوطنی کے بعد سید یوسف رضاگیلانی کو وزارت عظمیٰ سے نکالنے میں کردار ادا کیا اور زرداری کی لاش کو بازار میں گھسیٹنے اور چوک پر لٹکانے کی بات ہوتی تھی۔ اگر مولانا فضل الرحمن اور مولانا غفور حیدری ن لیگ کے دودھ پیتے بچے بننے کے بجائے بالغ حق رائے دہی کا استعمال کرتے کہ زرداری نے درست کہا ہے کہ نوازشریف، اسکے بیٹوں اور اسحاق ڈار کو وطن واپس آکر حکومت کی گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور لگانا چاہیے ، استعفوں سے زیادہ موثر جھٹکا یہ ثابت ہوگا تو اس سے پی ڈی ایم (PDM)کی قیادت میں مولانا کا پلہ بھاری ہوجانا تھا۔
مولانا فضل الرحمن جب تنِ تنہاء وزیراعظم عمران سے استعفیٰ لینے گیا تھا تو بھی ساری ڈیڈ لائن عبور کرکے واپس آگیا تھا اور اس وقت محمود خان اچکزئی نے بہت کہا کہ فیصل مسجد تک چلو ،مگر مولانا نے اپنے کارکنوں کو قمیض کی پچھاڑی جھاڑ کر واپس ہونے کا حکم دیا تھا، پیپلزپارٹی نے اس وقت بھی کہا تھا کہ لانگ مارچ کی ہم حمایت کرتے ہیں لیکن دھرنے میں ساتھ نہیں۔ مریم باجی کیلئے ایک کنٹینر کا اسٹیج تیار تھا مگر وہاں نہیں پہنچی تھی۔ اس وقت پیپلزپارٹی کا کردار ن لیگ سے بہتر تھا ،اسلئے کہ نوازشریف ، مریم باجی اور شہباز شریف نے لاہور میں مولانا کو ملاقات کا وقت تک بھی نہ دیا اور جب شہباز شریف بڑی مشکلوں سے اسٹیج پر خطاب کرنے آگیا تو مولانا ہٹ گئے تھے اور شہبازشریف نے اسی اسٹیج سے پاک فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جتنی سپورٹ عمران خان کو ہے اس کی دس فیصد بھی ہمیں مل جائے تو بہتر نتائج دکھاؤں گا۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن پہلے نواز و شہباز کوایک کشتی کا سوار بنائیں۔ اگر نوازشریف نے انقلابی ناؤ میں قدم رکھا ہے اور شہباز شریف نے اپنا قدم انقلابی کشتی سے باہر رکھا ہے تو عوام اور کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے کہ ن لیگ کا ایک چوتڑ ننگا اور دوسرا ڈھکا ہوا ہے۔ زر خریدمیڈیا کے صحافی سمندر کی طرف سے کیمرہ لگاکر دکھا رہے ہیں کہ نوازشریف نے انقلاب کیلئے ازار بند سے پانچے تک ایک سائڈ کی شلوار اتار دی ہے لیکن عوام کو شہبازشریف کا سائڈ نظر آرہاہے جس نے پوری ٹانگ اوپر سے نیچے تک چوتڑ سمیت ابھی تک ڈھک کے رکھی ہے۔
شہباز شریف نے حال میں بیان دیا کہ میں (70) سال کا بوڑھا ہوں،پہلے بھی علاج کیلئے بیرون ملک گیا اور واپس آگیا، حمزہ شہباز کی طرح مجھے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ شہباز شریف نے نوازشریف کے منہ پر طمانچہ مارا ہے کہ بیماری کا جھوٹا بہانہ کرکے واپسی سے مکر جانے والا بڈھا دغا باز نہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم (PDM)کی تمام جماعتیں ن لیگ کی دورنگی ختم کرکے یا تو پوری طرح ننگا کریں یا پھر پوری طرح سے ڈھک دیں۔ ن لیگپی ڈی ایم (PDM)کا دھڑ اوردل ہے اور مولانا اس کا سراور دماغ ہے۔ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتیں اس کے دو پر ہیں اور مولانا اویس نورانی اس کی دم ہے ۔ جب دماغ دل کے تابع ہوجائے تو عاشقی ہوسکتی ہے سیاست نہیں۔ سیاست میں دل کو دماغ کے تابع کرنا پڑتا ہے جس کا پی ڈی ایم (PDM)کی سیاست میں فقدان ہے۔مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ اپنے دماغ سے بہترین سیاست کھیلی ہے لیکن اب ن لیگ میں پتہ نہیں کہ کس لیلیٰ کی چمک دیکھی ہے جس نے جمعیت کو مجنوں بناکر رکھ دیا ہے؟۔ اس کو ولایتی بلی کے خوبصورت ملائم جسم میں مختلف رنگوں کا بدنما آئینہ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ن لیگ اور ش لیگ ایک ہیں جس کی واضح تصویر حمزہ شہباز و مریم باجی کا آپس میں بغل گیر ہونا تھا جس سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ عاشق نامراد ہمیشہ اندھا اور عقل سے پیدل ہوتا ہے۔ شعراء کی طرح سیاسی کارکن بھی ہر وادی میں مارے مارے پھرتے ہوں تو سیاست پر اس سے زیادہ زوال نہیں آسکتا ۔
صحافیوں کا بہت بڑا اور مؤثر ٹولہ ن لیگ کو بالکل ناجائز سپورٹ کرتا ہے۔ سوشل میڈیا میں ن لیگ کے صحافی سید عمران شفقت نے یہ انکشاف کیاتھا کہ ”نوازشریف نے عمران خان کی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا خفیہ معاہدہ کرلیا ہے، اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کیخلاف سیاست کی حد تک تھوڑی بہت ڈرامہ بازی چلتی رہے گی۔ پنجاب میں پرویز الٰہی کیساتھ مل کر عثمان بزدار کی حکومت گرانا ن لیگ کے مفاد میں نہیں ہے”۔صحافی شاکر سولنگی نے بھی اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ”آئندہ نوازشریف نے جنرل باجوہ اورآئی ایس آئی کا نام نہیں لیناہے”۔ مریم نواز نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی توپوں کا رُخ پاک فوج سے پیپلزپارٹی کی طرف موڑ دیا ۔ یوسف گیلانی اور حفیظ شیخ میں نمبروں کا واضح فرق تھا۔اگر ن لیگ کو یقین ہوتا کہ حفیظ شیخ ہا رجائیگا تو پھر اسی کا ساتھ دینا تھا۔ استعفیٰ دینے کا فیصلہ سینیٹ الیکشن روکنے کیلئے ہوا تھا اور اس کیلئے پیپلزپارٹی نے سندھ حکومت کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا مگرجب پتہ چلا کہ سینیٹ الیکشن نہیں رُک سکتا تو استعفیٰ کا آپشن متفقہ طور پر چھوڑ دیا۔ یہ کریڈٹ پیپلزپارٹی کے جمہوری دماغ کو جاتا ہے۔ آرمی چیف کیلئے قانون سازی کی بات آئی تو بھی پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے آرمی چیف کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ۔جب پی ڈی ایم (PDM) کے پلیٹ فارم سے ن لیگ نے گوجرانوالہ میں پہلا جلسہ کیا تو ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کیلئے پی ٹی ایم (PTM) کو نہیں بلایا جو پی ڈی ایم (PDM) کا حصہ تھی اور دوسری طرف جنرل باجوہ کے خلاف بھونکنا شروع کردیاجس کو توسیع دئیے ہوئے کچھ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا۔ جیو ٹی وی اور ن لیگی صحافیوں میں ہمت ہوتی تو نوازشریف کاکہتے کہ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ کو خوش کرنے کیلئے پی ٹی ایم (PTM) کو پی ڈی ایم (PDM) سے فارغ کیا اگر پنجاب میں عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنادیا جاتا تو مرکز میں بھی عمران خان کی حکومت فارغ ہوجاتی لیکن مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ کی وجہ سے پرویزالٰہی اور پیپلزپارٹی دونوں سے پھڈہ کیا۔ اگر دھرنے سے حکومت ختم ہوگئی تو پھر آئندہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکے گا۔ پیپلزپارٹی نے آپشن کی حد تک استعفوں کا درست معاملہ رکھا ہے اور کوئی صورتحال ایسی ہوبھی جائے کہ حکومت کمزور ہو اور استعفیٰ سے حکومت چلی جائے تو یہ غیر قانونی اقدام نہ ہوگا۔ پی ڈی ایم (PDM) نے سیاسی انتخاب کیا ہوتاتو اے این پی (ANP) بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہ ہوتی اور مولانا عطاء الرحمن بھی اے این پی (ANP) کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی نوشہرہ میں حمایت نہ کرتے۔ پی ڈی ایم (PDM) نے سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا الیکشن لڑنے کیلئے نامزد کردیا تو جمعیت علماء اسلام کے مولانا غفور حیدری کو تحریک انصاف نے ڈپٹی چیئرمین کی پیشکش کردی اور پھرجمعیت نے از خود اپوزیشن کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا جس کی بعد میں پی ڈی ایم (PDM) نے حمایت کردی لیکن لگتا ہے کہ ن لیگ نے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں کچھ نہ کچھ ووٹ دئیے اور کچھ نہ کچھ ضائع کئے مگر مولانا عبدالغفور حیدری کو کچھ نہ کچھ ووٹ بھی نہیں دئیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اپنے زخم چاٹنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو پی ڈی ایم (PDM) میں مریم نواز کی طرف جھکاؤ اورجانبداری بھی غلط ہے۔
مریم نواز کی پیشی کے موقع پر مولانا فضل الرحمن کی طرف سے کارکنوں کے پیش ہونے کا اعلان پی ڈی ایم (PDM)کی مشاورت کے بغیر غلط تھا، ن لیگ و پیپلزپارٹی نے سیاسی مخاصمت کے عروج کے بعد مفاہمت کا راستہ اپناکر دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔اگر اپوزیشن کے نمائندے مشترکہ لائحہ عمل کا فیصلہ کریں کہ وہ کاشف عباسی کے شو میں نہیں جائیں گے، جہاں وہ دوسروں کو اپنی بات نہیں کرنے دیتا ہے بلکہ اپنی باتیں ٹھونستا ہے تو زرد صحافت کو عبرتناک سبق مل جائیگا اور کاشف عباسی کی بیگم مہر بخاری بھی اپنے شوہر کے نامناسب روئیے پر افسوس کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ اچھی صحافت کا فروغ ہماری قوم کی تقدیر بدلے گا اور بے غیرت اور بے ضمیر قسم کے صحافیوں کو مسترد کرنا بہت ضروری ہے۔
ملک کے اچھے صحافی اور مخلص سیاسی کارکن ، رہنما اور قائدین سب سے بڑا اثاثہ ہیں لیکن جب تک ایک اچھے ماحول کی فضاء نہیں بنے گی ان جوہرِ نایاب قسم کے لوگوں کو عوام سرِ عام دیکھنے کے بجائے لفافوں میں ملفوف موتیوں کی طرح پہچاننے سے محروم رہے گی۔ جب اچھے مواقع پیدا ہوجائیںگے تو پھر پتہ چل جائیگا کہ یہ وہ چھپے ہوئے موتی تھے جو عوام کی نظروں سے پوشیدہ رہے ہیں جن کی مثال پوری دنیا کے کسی ملک میں بھی نہیں ہے۔ جب بولنے کیلئے کچھ نہیں ملتا ہو تو پھر رؤف کلاسرا کو بھی بینظیر بھٹو کے قتل میں زرداری اور رحمن ملک کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے اور یہ نظروں سے پوشیدہ ہوجاتا ہے کہ ایان علی کو پکڑوانے والے اہلکار مروائے جاسکتے تھے تو بینظیر کے قاتلوں میں طاقتور حلقوں کو شامل کرنے کے کیا نتائج نکل سکتے تھے؟۔اب گھر کو ہرسطح پر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر پی ڈی ایم (PDM) کے یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ اور غفور حیدری اسکے ڈپٹی بن جاتے تو سینیٹ میںاپوزیشن لیڈر ن لیگ اورپی ڈی ایم (PDM) کا کیسے بن سکتا تھا؟۔ پھر تو تحریک انصاف اپوزیشن میں ہوتی؟۔ ن لیگ نے سینیٹ میں عمران خان کی مدد سے اپوزیشن لیڈر بن کر مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کو استحکام بخشنے کا پروگرام بنایا تھا؟ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ اور شہبازشریف وزیراعظم ہوں پھر بھی مریم بی بی اور نوازشریف کو قبول نہیں اسلئے کہ ان کو آریا پار میں صرف اپناہی کٹھ پتلی بننا قبول ہے یا پھر عمران خان۔ اپنا بھائی اورکزن بھی قبول نہیں ہے۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

جواب دیں

Back to top button