نوازشریف کی سیاست کتے کی دُم کی طرح کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی, تحریک انصاف اور ن لیگ کا ڈی این اے DNA بالکل ایک ہے

نوازشریف کی سیاست کتے کی دُم کی طرح کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی، پرویزمشرف سے معاہدہ، لندن فلیٹ کے دستاویزی ثبوت اوراسٹیبلیشمنٹ کے خلاف کھلم کھلا جنگ سب فراڈ تھا،میڈیا اورمولانا فضل الرحمن بھی اس پر خول چڑھانے کے بدترین مجرم ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ن لیگ کو یہ پتہ نہیں تھا کہ حفیظ شیخ کوسید یوسف رضا گیلانی سے شکست ہوگی، چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ن لیگ نے دغا کیا اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ میں دغا بازی کی حدیں پار کیں

حفیظ شیخ کو آصف زرداری نے رکھا تھا، جب تحریکِ انصاف نے اس کو رکھا تو بلاول بھٹو زرداری نے اس کو اپنی کامیابی قرار دیا اور اب اس کو ہٹایا توبھی اپنی پی ڈی ایم (PDM)کی کامیابی قرار دیا

تعبیر الرویاابن سرین کی مشہور کتاب ہے جس میں خوابوں کی تعبیر کا علم ہے۔ خواب میں کتے کو دیکھنا وہ دشمن ہے جو بعد میں فرمانبردار ہوسکتا ہے۔ جب کتا کسی انسان پر بھونکتا ہے تو بعد میں اسکے ساتھ عہدِ وفاداری بھی نبھاتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک خواب وہ ہوتا ہے جو نیند کی حالت میں دیکھا جاتا ہے اور ایک خواب وہ ہوتا ہے جو جیتے جاگتے کسی انسان کا نصب العین ہوتا ہے اور دونوں پر اردو اور عربی اصطلاحات میں خوابوں ہی کا اطلاق ہوتا ہے۔
جب نوازشریف نے پی ڈی ایم (PDM) کے جلسوںگوجرانوالہ اور کوئٹہ میں پاک فوج پر بہت بڑے پیمانے پر بھونکنا شروع کردیا تو پاکستان کی عوام میں ملا جلا ردِ عمل تھا کہ ایک وفادار کتے کا اس طرح بھونکنا کیسا ہے؟۔ آرمی چیف ، آئی ایس آئی کا نام اس طرح سے لیا کہ پی ڈی ایم (PDM) میں موجود جماعتیں بھی ہوئیں پریشان اے قائد مریم تیرا احسان ہے تیرا احسان ۔ پطرس بخاری نے لکھا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو کتا بھونکتا ہے وہ کاٹتا نہیں ہے ، لیکن کچھ پتہ نہیں کہ کب بھونکنا بند کردے اور کاٹنا شروع کردے۔ اور کوئی کتا تو بہت ہی کتا ہوتا ہے۔
نوازشریف کے بھونکنے نے ایک کمال کردیا کہ پنجابی لوگ صرف پنجاب کی مٹی کو ریاست اور وطن کا وفادار سمجھتے تھے، چوں فضل الٰہی میسر شودخواندہ و ناخواندہ برابر شود۔مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی اس سیاست کو ماننا پڑے گا۔ پیپلزپارٹی کو مؤمن نہیں منافقت کی سیاست سے بدنام کیا گیا ہے اور سیاست میں منافرت کی منافقت ہوتی ہے۔ جس طرح کی منافرت دکھائی جاتی ہے ویسی منافرت ہوتی نہیں ہے اور جس طرح کی وفاداری دکھائی جاتی ہے تو ویسی وفاداری ہوتی نہیں ہے۔ اسلئے کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بات بھی حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ دوستی اوردشمنی بدلنے سے عوامی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک بالکل پروفیشنل سیاسی تجزیہ نگار صحافی مظہرعباس نے بالکل سچ کہا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کا ڈی این اے (DNA) الگ الگ ہے۔ تحریک انصاف اور ن لیگ کا ڈی این اے (DNA) ملتا ہے۔ یہ دونوں اسٹیبلیشمنٹ کیساتھ سازباز کرکے چل سکتی ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا یہ ڈی این اے (DNA) بالکل نہیں۔ پیپلزپارٹی نے پرویزمشرف کو نکالنے کیلئے یہ قربانی دی تھی کہ پرویز الٰہی کیساتھ پنجاب میں مل کر پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں بنائی بلکہ ن لیگ کیساتھ مل کر مرکز اور پنجاب میںحکومت بنائی۔ جب ن لیگ نے پنجاب اور مرکز میں دھوکہ دیا تو پھر مجبوری میں ق لیگ کا مرکز میں سہارا لیا تھا۔ آج اگر پرویزالٰہی کیساتھ مل کر پنجاب اور مرکز میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے تو اس کیلئے ن لیگ تیار نہیں ہے۔صحافی حامد میر سیاست کے بھی پیچ وخم نہ صرف جانتے ہیں بلکہ کسی حدتک استعمال بھی کرتے ہیں اسلئے کہا کہ اصل لڑائی پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں اس بات سے شروع ہوئی ہے کہ پرویز الٰہی کو عثمان بزدار کی جگہ لانا اسٹیبلیشمنٹ کی خواہش ہے اور نواز شریف اس کیلئے تیار نہیں۔حالانکہ جس طرح یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف نے پنج سالہ مدت پوری نہیں کی اسی طرح عمران خان کو بھی ہٹایا جاسکتا ہے لیکن نوازشریف کا سمجھوتہ ہوا ہے کہ عمران خان کو مدت پوری کرنے دینی ہے۔ عثمان بزدار کو بھی ن لیگ پرویز الٰہی کے مقابلے میں اپنے حق میں بہتر سمجھ رہی ہے۔
تحریک انصاف اور ن لیگ کا ڈی این اے (DNA) بالکل ایک ہے۔ پیپلزپارٹی کبھی تو سنجرانی کی حمایت کرکے اس ڈی این اے (DNA) میں دراڑ ڈالتی ہے ، کبھی ن لیگ کو ساتھ ملاکر پرویزمشرف اور ق لیگ کو شکست دیتی ہے اور کبھی ق لیگ کو ساتھ ملاکر اسٹیبلیشمنٹ اور ن لیگ کا مقابلہ کرتی ہے۔ اب ن لیگ اور ق لیگ کو ساتھ ملاکر تحریک انصاف کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے لیکن ن لیگ منہ میں دُم دبائے گول گول ناچ رہی ہے۔ ن لیگی ریلے میں پی ڈی ایم (PDM)کے ہرنوع اور ہرقسم کے سیاسی بل ڈاگ موجود ہیں اور انکو لانگ مارچ اور دھرنوں کی بھی ضرورت نہیں پڑیگی لیکن ن لیگ یہ کھل کر کہہ رہی ہے کہ ایک ریلے میں دس گیارہ کتے تو ہوسکتے ہیں لیکن دو کتیا نہیں ہوسکتی ہیں۔ ق لیگ کی رقابت کسی طرح بھی ن لیگ کو برداشت نہیں ہے۔ کتوں کے بھونکنے پرنہ جاؤ بلکہ ان کی دُم کے انداز سے حقیقت کا پتہ لگاؤ۔
نوازشریف نے پورے پاکستان میں موٹروے اور کوہاٹ میں ٹنل بنائے تھے۔ شہباز شریف کے مقابلے میں بہتر ہیں ،اس سے پہلے پہلے کہ عمران خان، شہباز شریف، پیپلزپارٹی ، ق لیگ، ایم کیوایم ، باپ کے ہاتھوں سیاسی شہید ہوجائیں تو ن لیگ کھل کر اعلان کردے کہ مرکز اور پنجاب میں ہم نے عمران خان کو پورا پورا سپورٹ کرنا ہے تاکہ بقیہ مدت کسی سیاسی بلیک میلنگ اور دباؤ کے بغیر پوری کرلے۔ ایم کیوایم ق لیگ کو بلیک میل کرتی تھی تو اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت سے کہا تھا کہ اسمبلیوں اور حکومت کو ہم نہیں گرنے دیںگے ۔ کسی سے بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارا اصل ہدف موجودہ سیاسی سیٹ اپ نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی ہے اور نظام کی تبدیلی کیلئے نصابِ تعلیم کی تبدیلی ضروری ہے۔ میاں نوازشریف بہت کم عقل انسان ہے۔پہلے محمود خان اچکزئی، عمران خان اور قاضی حسین احمد سے اے آر ڈی (ARD) کے نام پر اتحاد کرکے (2008) کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ پھر پیپلز پارٹی کیساتھ مل کر اپنے اتحادیوں پر پدو مار کر چھوڑ دیا۔ اب بھی وہ مولانا فضل الرحمن ، محمود خان اچکزئی ، اے این پی (ANP) ، اختر مینگل اورپی ٹی ایم (PTM) کی مزاحمتی سیاست چھوڑ کر درحقیقت پیپلزپارٹی کی مفاہمتی سیاست پر گامزن ہوچکے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہتا تھا کہ بلوچستان کی عوام کیساتھ سوئی گیس کے معاملے میں ظلم ہوا ہے ۔ ڈیرہ بگٹی کی عوام سے مکران تک پورا بلوچستان پسماندہ ہے انکو گیس تک سے بھی محروم رکھا گیا ہے لیکن جب سی پیک کا معاملہ آیا تو زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے گوادر سے چین تک کے راستے کیلئے مغربی روٹ کا تعین کیا جو چین کیلئے بھی فائدہ مند تھا اور پاکستان کیلئے بھی اور بلوچستان کیلئے بھی لیکن نوازشریف نے وہ روٹ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور سے چھین کر پنجاب کے دارالحکومت لاہور منتقل کردیا۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے باغی علاقے آواران سے موٹر وے گزارنے کیلئے گاؤں کے گاؤں مسمار کردئیے اور مزاحمت والوں یا مزاحمت کاروں کے بدلے میں پرامن لوگوں کو اجتماعی قبروں میں ڈال دیا گیا۔ میڈیا کی وہاں رسائی نہ تھی ،پھر اجتماعی قبریں نکل آئی تھیں۔ یہ سب نوازشریف کی منافقانہ ، احمقانہ اور مفاد پرستانہ سیاست کا شاخسانہ تھا۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی چاہیں تو نوازشریف کے ٹٹوں کو بھی مالش کریں لیکن پاکستان کی عوام کو مزید بیوقوف بنانے سے پرہیز کریں۔ ہمارا مقصد تحریک انصاف اور عمران خان کو سپورٹ کرنا ہرگز نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر انقلابی حکومت ہوتی تو سریا گرم کرکے عمران خان کے چوتڑوں کو داغا جاتا کہ بتاؤ ، جب تیل سستا تھا اور پاکستان میں پٹرول پمپوں پر پٹرول غائب تھاتو اس وقت کوکین کا نشہ کیا ہواتھا یا پٹرول کے غبن میں عوام اور پاکستان کی ریاست کا بیڑہ غرق کررہے تھے؟۔
اس وقت بھارت نے سستا تیل خرید کر اپنے تیل کے ذخائر بھردئیے اور ہمارے والے گدھے کے بچے بھیک مانگنے ، عوام کو لوٹنے اور اپنی ریاست کوبڑا نقصان پہنچانے کے پیچھے پڑے تھے۔ اگر اس وقت خلوص سے کام لیا جاتا توپھر آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی اور گیس کی قیمت اتنی مہنگی کرکے عوام پر بوجھ ڈالنے کی نوبت بھی نہیں آسکتی تھی۔ سائیکل اور بھینس چور وں سے بڑا ریمانڈ حکومت ، اپوزیشن، ججوں ، بیوروکریٹوںاور جرنیلوں کا لینا چاہیے۔پولیس کے ادنیٰ سپاہی سے لیکر وزیراعظم تک سب کرپشن میں مبتلا ہوں تو بڑے بڑوں پر ہاتھ ڈالنا زیادہ ضروری ہے جو بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر اصرار کرتے ہیں۔ عمران خان تو صرف یہی بھونکتا چلا جارہاہے کہ ” میں چھوڑوں گا نہیں سب کو جیل میں ڈالوں گا” لیکن نوازشریف اور مریم نواز پہلے سے جیل میں ڈالے جاچکے تھے ان کو بھی چھوڑ دیا اور ابھی تک جیلوں میں ڈالوں گا کی بھونک بھی بند نہیں کی ہے۔ ایک اچھے ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹر سے پہلے وزیراعظم عمران خان کا بہتر علاج کروایا جائے ،پھر اس کو بقیہ مدت وزیراعظم کے طور پر نوازوشہباز شریف کی مہربانیوں سے پوری کرنے دی جائے۔ قومی میڈیا کے بکاؤ مال صحافی بھی اپنا وقت اور قوم کا وقت ضائع کرنے کے بجائے کسی مثبت کام پر لگائیں اور چھوٹی بچیوں کا ریپ کرکے قتل کرنے کے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی زبردست قسم کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ ایک تاریک مستقبل کی طرف گئے تو پھر کسی کی بھی خیر نہیں ہوگی۔ اسٹیبلیشمنٹ انگریز کے زمانے سے یہی ہے لیکن ہمارا سیاسی طبقہ نااہل ہے اور اس نااہلی کی وجہ سے ہماری حالت بد سے بدتر ہے۔
عوام چڑھتے سورج کی پچاری ہے۔ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف اور عمران خان کے پجاری اب سمجھ گئے ہیں کہ سارا سونا کھوٹہ نکل چکا اور تو اور جماعت اسلامی کے سراج الحق بھی سمجھ گئے ہیں۔
جماعت اسلامی کے سراج الحق نے کہا کہ ”اگر پاکستان میں شریعت کا نفاذ نہ ہو تو پھر متحدہ ہندوستان ہی بہتر تھا۔73سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا کہ ہم انگریز کے نظام کو بچارہے ہیں”۔ سراج الحق نے بجا فرمایا ہے اور اسی وجہ سے حکومت اور مولانا فضل الرحمن کی قیادت والی پی ڈی ایم (PDM) کی جگہ پیپلزپارٹی اور اے این پی (ANP) کو سینیٹ میں اپنا ووٹ دیا ہے۔ لیکن سراج الحق کو دیکھنا چاہیے کہ قرآن اور سنت کی جو تعبیر مذہبی طبقات نے کی ہے جس کی مولانا مودودی نے بھی اپنی تفسیر ”تفہیم القرآن” میں ترجمانی کی ہے وہ درست ہے یا غلط؟۔
اگر وہ غلط ہے اور اس قدر غلط ہے کہ انگریز کا نظام بھی اس سے بہتر ہے تو پھر پاکستانی قوم اس شریعت کو کس طرح قبول کریگی اور پاکستان کا ریاستی نظام اس کو کس طرح سے نافذ کرنے کی کوشش میں پیش پیش ہوسکتا ہے؟۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ مفتی محمود پر الزام تھا کہ وہ صدر ایوب خان کیساتھ پاکستان کے عائلی قوانین میں شریکِ جرم تھے۔ پیسوں کے لین دین کا الزام بھی تھا لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ خلع اور طلاق میں مذہبی طبقے کا اسلام قرآن وسنت کے مطابق ہے یا ریاست کے عائلی قوانین قرآن وسنت کے مطابق ہیں؟۔ اگر مذہبی طبقات کے عقائد اور مسالک قرآن وسنت کے بالکل منافی ہوں تو پھر یہ فرض بنتا ہے کہ سب سے پہلے مذہبی طبقات مل بیٹھ کر اپنی اصلاح کریں۔ سراج الحق جماعت کے امیر ہیں وہ منصورہ میں سب سے پہلے اپنی جماعت کاایک اجلاس بلالیں۔ مجھے بھی طلب کرلیں تو اصلاح کی طرف پیش رفت ہوگی اور بڑا انقلاب بھی آجائیگا۔ کشمیر کی آزادی تو دور کی بات کہیں بھارت اٹھ کر یہ فیصلہ نہ کرلے کہ بنگلہ دیش کی طرح سے اب مغربی پاکستان کو بھی اس ریاستی اور سیاسی مافیا سے آزاد کرانا ہے جو اپنی بھی دشمن ہے، اس قوم کی بھی دشمن ہے، اسلام کی بھی دشمن ہے، اس خطے کی بھی دشمن ہے اور پوری دنیا کی بھی دشمن ہے اور بنگالیوں سے زیادہ پنجابی، سندھی ، پختون اور بلوچ اسکا خیرمقدم نہ کریں۔
شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی میں دواہم باتیں ہیں ایک یہ کہ پنجاب کے دل سے دوزخی نکال دئیے جائیں گے۔ اس سے مراد پنجابی اسٹیبلیشمنٹ ہے یا قادیانی ہیں یا دونوں ہیں یا ان کے کٹھ پتلی ہیں۔ بہر حال سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے اور تعبیر کا معاملہ ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اٹک کا دریا خون سے بھریگا اور اس میں یہ واضح ہے کہ دریائے سندھ مراد ہے۔ گنگا اور جمنا نہیں۔ سندھی ، بلوچ ،پختون اور مہاجر کے دل ودماغ میں جو آبلے پڑے ہیں وہ پنجاب اور اس کی فوج کے خلاف ہیں تختِ لاہور کے خلاف ہیں۔ روس کی جنگ اسلام کے نام پر لڑی گئی اور امریکہ سے ڈالر وصول کرکے افغانستان کا تیاپانچہ کردیا گیا اور پھر بھی پاک ،پاکیزہ ،شہباز اور پاکباز بنے پھرتے ہیں۔ہارون الرشید اور اوریا مقبول جان کے اسلام کو کون مانتا ہے؟ پنجاب کو بھروسہ تھا توسن پینسٹھ(65)کی جنگ جیت لی تھی، اب سن اڑتالیس (48) میں لڑنے والے پٹھان بھی نہیں رہے۔ ذرا سوچئے تو سہی!

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button