پاکستان اور افغانستان سے اسلامی نظام کی ابتداء ہوگی

170
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

افغانستان اور پاکستان کی حکومت ملاؤں کے سامنے اسلام کی درست تعبیر سامنے رکھ دیں تو شریعت کے نفاذ میں دیر نہیں لگے گی۔ اللہ نے قرآن میں شراب ومیسر کو حرام قرار دیا ہے۔ شراب کی حرمت سمجھنا مشکل نہیں لیکن میسر کو جوا کہا گیا ہے اور جوئے کو میسر اسلئے قرار دیا ہے کہ اس میں آسانی ہے ، مشکل سے مال نہیں کماتے ہیں۔ ایک ہندوستانی سکالر نے عورتوں کے جہیز کو بھی شوہروں کیلئے میسر قرار دیاہے اور اس میں شک نہیں کہ جوئے سے جہیز کی برائیاں کم نہیں زیادہ ہیں۔ مجاہدین نے بھی مشکل طریقے سے محنت مزدوری چھوڑ کر میسر کے ذریعے مال کمانا شروع کیا تھا جس کے نتائج آج بھی مجاہدین اور عوام بھگت رہے ہیں۔ علماء ومشائخ نے بھی میسر کے ذریعے سے مال کمانے کے راستے نکالے ہیں۔ ایک عالم دین، مدرسے کے مہتمم کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ ایک بڑے افسر کے برابر ہوسکتی ہے لیکن چندوں کے ذریعے سے بڑے درجے کاسرمایہ داربننے کا مال میسر کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے کہ مجاہدین محنت مزدوری کریں، کھیتی باڑی کریں، نوکری کریں، دکانداری اور تجارت وغیرہ کے واضح ایڈرس رکھیں۔ پھر کوئی بھی اپنی پشت میں بارود چھپانے اور دھماکے کرنے کیلئے فارغ نہیں ہوگا۔ بہادری یہ نہیں کہ کسی کے چندوں اور امداد پر ایسی جگہ پالتو بن جاؤ، جہاں کسی کی دسترس بھی نہ ہو۔بہادر وہ لوگ ہوتے ہیں جو گھر بار، کاروبار اور ٹھکانوں کی شناخت ظاہر کرکے اپنی بہادری کا مظاہر کرنے کی جرأت کریں۔ بغیر ماں باپ کی فوج ظفر موج چھپ کر حملہ کریں تو وہ حرام کی اولاد ہوسکتے ہیں حلال زادے یہ کام کبھی نہیں کرسکتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے نام بچے کھو دئیے ہیں ان کی شناخت دنیا کے سامنے ظاہر کریں اور ایک فئیر عدالتی نظام کی بنیاد پر انصاف کے کٹہرے قائم کئے جائیں تو سب بے چینی ختم ہوجائے گی۔
سب سے زیادہ وزیرستان میں محسود قوم مشکلات کا شکار ہوئی ہے اسلئے کہ بار بار فوجی آپریشن کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا۔ راہ راست، راہ نجات، ضرب عضب، ردالفساد لیکن دہشت گردی کا خاتمہ اسلئے ممکن نہیں ہوسکا کہ ساتھ میں وزیر علاقے میں آپریشن نہیں ہوا ہے۔ طالبان بھاگ کر قریبی علاقے میں جاتے جہاں آپریشن نہیں ہوتا تھا۔ فوج عوام کو تنگ کرتی لیکن دہشت گردوں سے نمٹنے میں ناکام رہتی۔ منظور پشتین کا تعلق اسی علاقہ اور قوم سے ہے لیکن شاید منظور پشتین نے وہ وقت بھی نہیں دیکھا تھا جب پوری قوم طالبان کیساتھ بالکل ناجائز کھڑی تھی۔ قوم اتنی ہمت کرسکتی تھی کہ طالبان کا اجتماعی خاتمہ کردیتی لیکن یہ کام نہیں کیا اور اسی کا بدلہ مل گیا۔
قوم جان ومال کے نقصان سے نہیں بگڑتی ہے بلکہ عیاشیوں سے بگڑ تی ہے اور اس عیاشی سے اللہ نے وزیرستان کے لوگوں کو دور رکھا ہے ، مصیبت اور آزمائش کا شکار ہونا کم بختی نہیں خوش بختی کی علامت ہے۔ مسلمان قریشِ مکہ کے ہاتھوں کبھی مشکلات اور ہجرت کا شکار ہوئے لیکن ان سے اللہ نے دنیا کی امامت کا کام لیا تھا۔ مکہ کے جاہلوں میں جہاں بہت خوبیاں تھیں وہاں بہت خامیاں بھی تھیں۔ مشکلات کی چکی میں ریزہ ریزہ ہوکر نابود نہیں ہوئے بلکہ شاندار بن گئے۔ خامیاں بھی دُور ہوگئیں۔ رونے دھونے میں وقت گزارنے سے کچھ نہیں ملتا ہے اور یہ بہت اچھا کیا کہ دھرنے کے ابتدائی دنوں کا گانا بدل دیا گیا ہے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جذباتی ماحول سے قوم کے نوجوان طبقے کو مزید مشکلات سے دوچار نہیں کیا جائے۔ فوج کے افسر اور سپاہی بدلتے رہتے ہیں۔ اگر ان کی مجبوری نہ ہو تو گڈوبیڈ طالبان کا قصہ بھی ختم کردیںگے۔ اسلام خیر خواہی کا دین ہے۔ بدلہ لینے کی پوزیشن مل جائے تو بھی معاف کرنے پر زور دیتا ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کے پاس تعلیم یافتہ جوانوں کی زبردست ٹیم ہے۔ اسلام کے فطری احکام سے اپنی قوم اور دنیا کو آگاہ کریں گے تو امامت کے قابل بن جائیںگے۔ پختون قوم نے ہمیشہ ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے۔ اب اپنی مشکلات دیکھ کر سبق حاصل کریں کہ دوسروں پر حملے اور لوٹ مار سے انسانیت کتنی تباہ ہوتی ہے؟۔
فتح مکہ کے وقت پٹھان قوم نے خالد بن ولید کی ہدایت پر بڑا کارنامہ انجام دیا لیکن ظلم کی داستان بھی رقم کردی۔ نبیۖ نے خالدبن ولید سے اسی لئے 3بار اپنی برا ء ت ظاہر کردی۔ نبیۖ سے عورت بھی اختلاف کرسکتی تھی اور حضرت عمر نے بھی حدیث قرطاس میں کہا تھا کہ ہمارے لئے آپۖ کی تحریر کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ کا قرآن کافی ہے۔ نبیۖ نے زبردستی کسی سے زکوٰة نہیں لی تھی۔ پشتون وہ قوم ہے جس میں جبر کا کوئی نظام نہیں ہے۔ صرف اسلام کی طرف صحیح معنوں میں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔حضرت ابوبکر نے زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال کیا تھا۔ پھر حضرت عمر کی نامزدگی پر کسی کو اعتراض کا حق بھی حاصل نہیں تھا اور جب حضرت عمر کی مختصر شوریٰ نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا تو آخر کار نتیجہ یہ نکل گیا کہ خلیفۂ وقت کاچالیس دنوں تک محاصرہ کرکے شہید کیا گیا۔ پھر حضرت علی کو مدینہ چھوڑ کر دارالخلافہ کوفہ منتقل کرنا پڑا، وہاں بھی خلیفہ چہارم کو شہید کیا گیا تھا۔
دہشت گردی کے ذریعے سے خلافت راشدہ کے خلفاء سے لیکر موجودہ دور تک اچھے لوگ شہید ہوسکتے ہیں لیکن اسلام نہیں آسکتا ہے۔ رسول اللہۖ صرف آخری پیغمبر نہیں بلکہ رحمة للعالمین بھی ہیں۔ حضرت عائشہ پر بہتانِ عظیم لگایا گیا تھا تو بہتان لگانے والوں کو وہی سزا دی گئی جو عام عورت پر بہتان لگانے کی ہے۔ اس بہتان کیلئے اللہ نے فرمایا کہ اس کو شر مت سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے۔ سورۂ نور کی ان آیات سے ثابت ہے کہ رسولۖ کی حرم پر حملے کو اللہ نے خیر اسلئے قرار دیا تھا کہ آئندہ دنیا کی غریب عورتوں کی بہتان سے اسی طرح حفاظت ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی قربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات پر بہتان لگانے کی سزا سے عام خواتین کی عزتوں کو محفوظ بنانے کا ساماں کردیا۔ البتہ آمریت اور بادشاہت کی وجہ سے قرآن وسنت کا قانون دنیا کے سامنے نہیں آسکا ہے جس کے سب سے زیادہ ذمہ دار درباری علماء ہیں جن کو حکومتوں کے بل بوتے پر پذیرائی مل جاتی ہے۔
آزاد قبائل اور عام پشتونوں کے علاوہ بلوچ، پنجابی ، سرائیکی، سندھی اور کسی بھی پاکستانی طبقے کے نزدیک پاکستان کے اشرافیہ کا یہ قانون قابل قبول نہیں ہے کہ امیر کو عدالت میں اربوں اور کھربوں کی ہتک عزت کا دعویٰ پیسوں کی بنیاد مل جائے اور غریب کی عزت ٹکے کی بھی نہیں ہو۔ جو غریب کرایہ پر نکلتے ہیں وہ اپنی دھاڑی وصول کرتے ہیں کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی کارکن نہیں ہوسکتے۔ لیڈروں کے گزر اوقات سیاسی لوٹوں پر ہوتے ہیں اور لیڈروں کو کسی آمروں کی اشیر باد سے ہی لیڈر بنایا جاتا ہے۔ اسلام میں مفاد عامہ کے قوانین اور عوام کو جو حیثیت دی گئی ہے اس کا انقلاب بہت مثبت ہوگا۔ انتقام نہیں اعتدال پر قائم ہوگا۔ ظلم نہیں انصاف پر مبنی ہوگا اور عدمِ استحکام نہیں استحکام کا مظہر ہوگا۔ افراتفری سے غلط قسم کے لوگ ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک ایسے عوامی انقلاب کی ضرورت ہے جس میں عجز وانکساری کے مظاہرے ہوں ، دوسروں سے زیادہ اپنی خامیوں پر توجہ دی جائے اور ظلم کا نظام بالکل واشگاف انداز میں بیان کیا جائے۔ روشنی سے اندھیرا اور حق کی آواز سے ظلم کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں اب اس کی بہت سخت ضرورت ہے۔