پاک سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوچکا مگر علماء وعوام آمادہ ہوں

140
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بعدباہمی اصلاح اورمعروف طریقے سے عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے لیکن باہمی اصلاح کے بغیر طلاق کے بعد عدت کے اندر بھی شوہر کو رجوع کی اجازت نہیں دی ہے اور ایسی صورت میں جب میاں بیوی طلاق کے بعد باہمی رضامندی سے اصلاح پر آمادہ نہ ہوں تو چونکہ شوہر کی غیرت کا تقاضہ ہوتاہے کہ طلاق کے بعد بھی عورت اپنی مرضی سے کہیں شادی نہ کرلے ،اسلئے اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا ہے کہ” طلاق کے بعد اس کیلئے حلال نہیںیہاں تک کہ وہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے ”۔جس طرح برطانیہ کے شہزادہ چارلس نے لیڈی ڈیانا کو طلاق دی اور پھر کسی اور سے اس کا تعلق برداشت نہ ہوسکا اور فرانس کے شہر پیرس میں قتل کردی گئی، جس کا کیس عدالت میں چل رہا ہے۔
افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مدارس کے علماء ومفتیان قرآن وسنت کے صریح احکام کے برعکس باہمی رضامندی کے باوجود بھی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دیتے ہیں۔جس طرح آج سودی نظام کو اسلامی نظام کے نام سے جائز قرار دیا گیاہے۔ آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے فقہ کی کتابوں میں حلالہ کی لعنت کو سندِ جواز بلکہ کارِ ثواب قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے عورت کی جان چھڑانے کیلئے جو کارنامہ انجام دیا تھا جو قرآن کی آیات اور حضرت عمر کے فیصلے اور ائمہ اربعہ کے فتوے سے ثابت ہے وہ علماء ومفتیان نے بالکل خلافِ فطرت وبال جان اور زوالِ اسلام بنادیا ہے۔اسلام نے مسلمانوں کو جس جہالت سے نکالا تھا، فقہاء نے مسلمانوں کو پھر بدترین قسم کی جہالتوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ شادی شدہ عورتوں کی اسلام کے نام پرحلالہ کی لعنت کے عنوان سے مدارس میں عصمت دری سے بڑی غضبناک بات کیا ہوسکتی ہے؟۔معاشرے میں عصمت دری کے واقعات کی روک تھام کیلئے گمراہی کے قلعوں مدارس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔حلالہ کی لعنت میں منہ پر کالک ملنے والے مذہبی لبادوں میں ملبوس شیاطین الانس بچوں اور بچیوں کیساتھ درندگی سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔جب تک اسلام کا درست تصور پیش نہ کیا جائے تو بدکردار قسم کے لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے اسلام کے نام پر معاشرے کی شرافت کو اپنی بداخلاقی کی بھینٹ چڑھاتے رہیںگے ۔
پاکستان کی حکومت ، ریاست ، صحافت اور اپوزیشن بندگلی میںبری طرح پھنس چکے ہیں۔دن دیہاڑے مجید اچکزئی نے کیمرے کے سامنے ٹریفک کے غریب سارجنٹ کو کچل دیا، تمام میڈیا چینلوں نے دکھا دیا۔ مجیداچکزئی کے پیچھے ریاست نہیں کھڑی تھی لیکن عدالت نے عدمِ ثبوت کی بناء پر رہا کردیا۔ کیا ہزارہ برادری کے10مقتولین کے قاتلوں کو سزا ملے گی؟ جس کی ایف آئی آر بھی30گھنٹے تک اسلئے درج نہیں ہوسکی کہ پولیس اور لیویز کے ایریا کا تنازعہ تھا۔ میاں نوازشریف پر1995,96ء میں لندن فلیٹ کا کیس بن گیا۔ پرویزمشرف کے دور میں عدالت نے سزا سنائی۔ پھر عدالت نے جلاوطنی کے بعد بری کردیا۔ پھر میاں نوازشریف نے پارلیمنٹ میں خطاب کیا کہ الحمدللہ 2005ء میں سعودیہ مل کی وسیع اراضی اور دبئی مل بیچ کر 2006ء میں یہ لندن فلیٹ خرید لئے جسکے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو عدالت میں پیش کرسکتا ہوں پھر پانامہ لیکس کی وجہ سے عدالت نے طلب کیا تو وہ دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے بجائے قطری خط لکھ دیا پھر قطری خط سے مکر گیامگر عدالت نے اقامہ پر نااہل قرار دیا۔ سزا کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے عدالت کے ڈر سے چھوڑ دیا کیونکہ ایمرجنسی عدالت نے باہر جانے کا حکم دیا اور وزیراعظم کو یہ سمجھ نہیں آیاکہ عدالت نے چھوڑا یا خود چھوڑنے کا فیصلہ کیا ؟ ،ایک دن اتوار کو اسلئے چھٹی بھی منالی تھی۔ ریاست کے اس نظام سے کسی عام آدمی کو انصاف کی توقع نہیں ،البتہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے سب کی جان نکل رہی ہے۔ اگر ملاؤںنے آذانیں دینااور ہارن بجانے سے احتجاج کیا تو بھی حکومت چھٹی کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔